پانامہ فیصلے کے بعد سیاسی منظر نامہ تبدیل …. ”استعفیٰ دو “

لاہور (خصوصی رپورٹ) وزیراعظم نوازشریف نے پانامہ لیکس کے فیصلہ کے بعد مستقبل کے بارے میں بڑے فیصلے کرلئے۔ وزیراعظم آئندہ چند دنوں میں مسلم لیگ ن پنجاب اور مسلم لیگ ن بلوچستان کے اجلاس بلائیں گے۔ ان دونوں صوبوں میں مسلم لیگ ن کی کارکردگی کا جائزہ لیا جائے گا اور کارکردگی بہتر بنانے کی حکمت عملی طے کی جائے گی۔ وزیراعظم نے گزشتہ روز شہبازشریف‘ پرویز رشید‘ مریم نواز‘ محمد زبیر اور دیگر سے مشاورت کی۔ ذرائع کے مطابق مسلم لیگ ن ایک بار پھر پیپلزپارٹی سے مفاہمت کی کوشش کرے گی اور اس حوالے سے گورنر سندھ محمد زبیر کردار ادا کریں گے۔ زرداری کی جارحانہ سیاست کو مفاہمت میں تبدیل کرنے کے لئے ان کے مطالبات پر سنجیدگی سے غور کیا جائے گا اور اس حوالے سے ہر ممکن راستہ تلاش کرکے آصف علی زرداری کو رام کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ اسی طرح یہ کوشش بھی کی جائے گی کہ حکومت کے خلاف کوئی مو¿ثر سیاسی اتحاد قائم نہ۔ ضرورت کے مطابق جماعت اسلامی سے بھی رابطہ کیا جائے گا اور اسے کسی بڑے اتحاد میں شمولیت سے روکنے کی کوشش کی جائے گی۔ دوسری طرف جمعیت علماءاسلام (ف) مولانا فضل الرحمن کو راضی رکھا جائے گا اور اس حوالے سے خیبر پختونخوا کے گورنر اقبال ظفر جھگڑا کردار ادا کریں گے۔ ذرائع کے مطابق وزیراعظم نوازشریف کی کوشش ہے کہ حکومت عوام دوست بجٹ پیش کرے کیونکہ اس بجٹ کے براہ راست اثرات انتخابات پر پڑیں گے۔ اس لئے بجٹ متوازن انداز میں تیار کیا جائے گا۔ وزیراعظم وفاقی وزراءکی کارکردگی کا بھی جائزہ لیں گے۔ توانائی کے بحران پر قابو پانے کے لئے وزیراعظم وقفہ وقفہ سے بریفنگ لیں گے۔ حکومت ترقیاتی منصوبوں کی جلد تکمیل کے لئے آخری سال فرض شناس اور ذمہ دار اعلیٰ افسران کو اہم نشستوں پر تعینات کرے گی۔ بجٹ کے بعد اعلیٰ افسران کے تبادلوں کا عمل شروع ہوجائے گا جو بتدریج جاری رہے گا۔ دریں اثنا پاکستان تحریک انصاف نے وزیراعظم کے استعفی کے لیے تحریک چلانے پر غور شروع کردیا، پارٹی کی ہارڈ لائن قیادت کی تجویز ہے کہ وزیراعظم کو استعفے کے لیے تحریک چلانی چاہیے۔ سینئر پارٹی ذرائع کے مطابق پانامہ کیس پرسپریم کورٹ کا جے آئی ٹی بنانے کے فیصلے کے بعد پارٹی رہنماﺅں کے حوالے سے بتایا کہ انہوں نے اعلیٰ پارٹی قیادت کو مشورہ دیا ہے کہ وزیراعظم کے استعفے کے لیے تحریک چلائے جانے کا پروگرام فوری تشکیل دیا جائے۔ پنجاب کو ہدف بناکر تحریک لانچ کی جانی چاہیے اور اسے بیکوقت تمام ڈویژن اور اضلاع سے شروع کیا جاناچاہیے۔ لاہور اس کا بیس کیمپ ہو جہاں پارٹی چیئرمین عمران خان خود توجہ دیں۔ دیگر اپوزیشن جماعتوں سے بھی رابطہ کرنا چاہیے۔ پی پی پی سے رابطہ کرناچاہیے تاکہ تحریک کو سندھ میں بھی شروع کیا جا سکے، تجویز دینے والے پی ٹی آئی رہنماﺅں کا کہنا ہے پارٹی ہائی کمان کو لچک کا مظاہرہ کرناچاہیے اور اپوزیشن جماعتیں جن کے بارے میں ان کے تحفظات رہے ہیں ان سے کھلی بات چیت کرکے ان کو ساتھ ملانا چاہیے۔ کچھ پارٹی رہنماﺅں کا خیال ہے کہ ان کی جماعت کو جے آئی ٹی کی سپریم کورٹ میں پہلی پیشی تک انتظار کرنا چاہیے۔ لاہور کو بیس بنا کر تحریک لانچ کرنے کیلئے بھرپور تیاری اور جامع مشاورت بھی ضرورت ہوگی۔جبکہ پانامہ کیس کے فیصلے کے بعد ملک بھرمیں سیاسی جوڑ توڑ اور فوری نئی صف بندیوں کا قومی امکان ہے اور سڑکوں سے شروع ہو کر سپریم کورٹ میں ختم ہونے والی تحریک ایک بار پھر وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کے استعفی کا مطالبہ لیکر سڑکوں پر شروع ہوسکتی ہے۔ گزشتہ روز کے سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعداپوزیشن عملی طور پر وزیراعظم میاں نواز شریف کے استعفے کے مطالبے پر متحد ہوگئی ہے۔ قبل ازیں پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان اکیلے وزیراعظم کیخلاف سڑکوں پر تھے اب پانامہ کیس کے فیصلے کے بعد پاکستان پپیلزپارٹی، مسلم لیگ (ق) اور جماعت اسلامی پاکستان نے بھی وزیراعظم نواز شریف کے استعفے کا مطالبہ کردیا ہے۔ اس لیے ان چاروں سیاسی پارٹیوں کو وزیراعظم کے استعفے کے مطالبے کی آڑ میں آئندہ الیکشن کی تیاری کیلئے سڑکوں پر آ کر وارم اپ کا بھرپور موقع مل جائے گا۔ وفاقی وزیر خواجہ محمد آصف نے کہا ہے کہ اللہ تعالی کے فضل سے وزیر اعظم محمد نواز شریف 2018ءکے انتخابات تک وزیر اعظم پاکستان رہیں گے۔ پاناما کیس کے فیصلے کے بعد سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ عدالت عظمی کی جانب سے تین اور دو ججز کی رائے کے تحت فیصلہ سنایا گیا ہے ہم اللہ تعالی کا جتنا بھی شکر ادا کریں کم ہے۔ وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق نے کہا ہے کہ عدالت عظمی نے فیصلہ سنا کر ہمارے موقف کی تائید کی ہے۔ پاناما پیپرز کیس کے فیصلہ کے بعد سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عمران خان الیکشن کمیشن میں منٹین ایبلیٹی پر بات کر سکتے تھے تاہم ہم نے ایسا نہیں کیا کیوں کہ ہم عدالتوں کا احترام کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عدالت عظمی نے فیصلہ سنا کر ہمارے موقف کی تائید کی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ عدالت کی جانب سے جو فیصلہ کیا گیا ہے اس سے یہ بات ثابت ہو گئی ہے کہ وزیر اعظم صادق بھی ہیں اور امین بھی۔ خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ ہمارا قافلہ وزیر اعظم کی قیادت میں عوام کی خدمت کا سلسلہ جاری و ساری رکھے گا۔وزیر مملکت برائے اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب نے کہاہے کہ مسلم لیگ (ن)ایک بار پھر سرخرو ہوئی ¾ جھوٹے الزامات لگانے والی پارٹی عدالت سے شرمندہ ہو کر نکلی ¾ عدالتی فیصلہ نے وزیراعظم کے اپریل 2016کے خط کی تائید کی ہے۔جمعرات کو سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے مریم اور نگزیب نے کہاکہ مسلم لیگ (ن) ایک بار پھر سرخرو ہوئی اور جھوٹے الزامات لگانے والی پارٹی عدالت سے شرمندہ ہو کر نکلی۔ انہوںنے کہاکہ ہمارے مخالفین نے جھوٹے الزامات کا سہارا لیا جسے عدالت نے مسترد کر دیا۔سپریم کورٹ کے فیصلے نے وزیراعظم کے اپریل 2016 کے خط کی تائید کی ہے جس میں انہوں نے تحقیقات کےلئے کمیشن بنانے کا کہا تھا۔انہوںنے کہاکہ وزیراعظم نے جھوٹے الزامات کا سامنا تحمل،صبر اور بردباری سے کیا، وزیراعظم نے ان کی منفی سیاست کا جواب پاکستان کیلئے دن رات کام کرکے دیاانہوںنے کہاکہ پاناما کے زریعے وزیر اعظم اور ان کے بچوں کی تضحیک کی گئی ان کے رفقا پر جھوٹے الزام لگا کر انہیں بدنام کیا گیا امید ہے کہ اب پی ٹی آئی مزید تحقیقات پر صبر کرے۔ وزیر اعظم کے معاون خصوصی آصف کرمانی نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ نہ ماننے والوں کو شرم آنی چاہیے آصف زرداری نے اعلٰی عدلیہ کا فیصلہ نہ مان کر توہین عدالت کی ہے عمران خان کو ن لیگ نے سیاسی میدان میں بار بار شکست دی اب قانون کی جنگ میں بھی شکست دے دیہے اسلام آباد میں ریلی سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایک مرتبہ پھر اللہ کی ذات نے آپ کے محبوب قائد کو سرخرو کیا آج ہمارے محبوب قائد میاں محمد نواز شریف عوام کی عدالت میں بھی سرخرو ہوئے ایک دفعہ پھر ثابت ہو گیا کہ نواز شریف صادق بھی ہیں اور امین بھی ہیں خیبر سے لیکر کراچی تک مسلم لیگ ن کے کارکن اللہ کا شکر ادا کر رہے ہیں۔ وزیر قانون پنجاب رانا ثناءاللہ خان نے کہا ہے کہ پانامہ کیس کا فیصلہ آنے کے بعد دھرنا سیاست کا جنازہ نکل گیاہے، عمران خان کو اپنی شاگردی میں لینے کےلئے تیار ہوں۔ وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی انوشہ رحمن نے کہا ہے کہ عمران خان چور دروازے سے اقتدار میں آنا چاہتے تھے۔ پانامہ فیصلے کے بعد سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عمران خان کا اصل چہرہ عوام کے سامنے آ گیا ہے۔ وزیراعظم کے مشیر انجینئر امیر مقام نے کہا ہے کہ آج یہ فتح پاکستان مسلم لیگ (ن) یا وزیراعظم محمد نواز شریف کو نہیں بلکہ پوری پاکستانی قوم کی فتح ہے اور یہ فتح پاکستان کی ترقی و خوشحالی کی بھی فتح ہے کیونکہ وزیراعظم محمد نواز شریف ملک بھر کی ترقی و خوشحالی کےلئے کوشاں ہیں اور وہ دن دور نہیں جب ملک سے اندھیروں کا خاتمہ یقینی بنا دیا جائے گا۔ وزیر مملکت برائے پانی و بجلی عابد شیر علی نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ میں اخباری تراشے پیش کرنے والوں اور قوم سے جھوٹ بولنے والوں کو آج منہ کی کھانی پڑی ہے‘ ان کا جھوٹ دفن ہو چکا ہے۔ جمعرات کو یہاں سپریم کورٹ کے باہر میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ قوم سے جھوٹ بولنے والوں کا جھوٹ دفن ہو چکا ہے، قوم کے سامنے ان کے جھوٹے چہرے کو بے نقاب کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم محمد نواز شریف حق اور سچ پر تھے، جیت بھی حق اور سچ کی ہوئی ہے اور وزیراعظم محمد نواز شریف اور ان کا خاندان سرخرو ہوئے ہیں۔ وزیر مملکت کا کہنا تھا کہ وزیراعظم محمد نواز شریف کی دیانت داری کا ثبوت عوام نے چکوال میں ہونے والے ضمنی انتخاب میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کے حق میں ووٹ دیکر دے دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ”جا عمران خان اپنی حسرتوں پہ آنسو بہا کے سو جا، عمران خان تو اپنی نئی شیروانی سلا کے سو جا“ کیونکہ پاکستانی قوم وزیراعظم محمد نواز شریف سے محبت کرنے والی قوم ہے جو 2018ءکے انتخابات میں بھی انہیں ہی کامیاب کرے گی اور وہ پھر سے عوامی خدمت کے سفر کو جاری رکھیں گے۔ پاناما کیس کا فیصلہ سننے کے لیے سپریم کورٹ پہنچنے والے مسلم لیگ ن کے رہنما طلال چوہدری اور دانیال عزیز نے ایک بار پھر عمران خان کو تنقید کا نشانہ بنا یا اور ان کی ہرز ہ سرائی کی۔سپریم کورٹ کے باہر میڈ یا سے گفتگو کرتے ہوئے جب طلال چوہدری نے کہا کہ اگر آج دو بجے کے بعد بھی نواز شریف وزیر اعظم رہے تو۔۔۔،ابھی طلال چوہدری کا جملہ مکمل بھی نہ ہوا تھا کہ دانیا ل عزیز نے فوری طور پر کہا کہ ”فیر عمران خان دا واجا وج گیا جے “،یہ بات کہہ کر دانیا ل عزیز نے بلند آواز نے قہقہ بھی لگا یا تاہم حاضرین اس بات سے لطف اندوز نہ ہوئے۔ وزیرمملکت برائے آئی ٹی انوشہ رحمان نے کہا ہے کہ تحریک انصاف صرف جھوٹ کا ملغوبہ ہے، عمران خان قوم کو بے وقوف نہیں بناسکتے، عمران خان نے قوم کا بہت وقت ضائع کیا۔ جمعرات کو سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انوشہ رحمان نے کہا کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ وہی ہے جو نوازشریف نے سپریم کورٹ کو خط لکھا تھا،تحریک انصاف صرف جھوٹ کا ملغوبہ ہے،عمران خان قوم کو بے وقوف نہیں بناسکتے۔ وفاقی وزیر امور کشمیر و گلگت بلتستان چوہدری محمدبرجیس طاہر نے پانامہ کیس سے متعلق اعلیٰ عدلیہ کے تاریخی فیصلے پر مسُرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ سپریم کورٹ کے فیصلے سے حق و انصاف کے ساتھ ساتھ پورے پاکستان کے عوام اورجمہوریت کی فتح ہوئی ہے جس سے بلاشبہ پاکستان کے روشن مستقبل کے امکانات واضح ہو گئے ہیں۔کراچی (خصوصی رپورٹ) تحریک انصاف کو پانامہ کیس فیصلے کے بعد مایوسی کا شکار ہونے سے بچانے کیلئے پارٹی کے سینئر رہنماﺅں نے عمران خان کو اسمبلیوں سے مستعفی ہونے کا مشورہ دے دیا۔ جے آئی ٹی تحقیقات کا انتظار کرنے کی بجائے وزیراعظم کے استعفیٰ کیلئے فیصلہ کن تحریک شروع کرنے کا اصرار بڑھ گیا۔ پی ٹی آئی کے معتمدترین ذرائع نے بتایا ہے کہ اسمبلیوں سے مستعفی ہونے کی تجویز تحریک انصاف سندھ اور خیبر پختونخوا نے پیش کی۔ پی ٹی آئی رہنماﺅں کا کہنا ہے کہ عمران خان نے اسمبلیوں سے مستعفی ہونے اور حکومت مخالف تحریک کیلئے 23اور 24اپریل کو اہم مشاورت کا فیصلہ کیا ہے۔ مستعفی‘ مشورہاسلام آباد (خصوصی رپورٹ)معلوم ہوا ہے کہ مسلم لیگ (ن) کے صدر و وزیراعظم میاںنوازشریف ملک بھرمیں جلسے کریں گے ۔ مسلم لیگ (ن) دفاعی نہیں جارحانہ پالیسی اپنائے گی وزیراعظم استعفیٰ کسی صورت میں بھی نہیں دیں گے۔ پیپلزپارٹی اور تحریک انصاف کی تنقید کا بھرپور جواب دیا جا ئیگا ۔ ذرائع کے مطابق مسلم لیگ (ن) کی مرکزی قیادت کا اجلاس جمرات کو وزیراعظم ہاﺅس میں وزیراعظم میاںنوازشریف کی صدارت میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں وزیراعلیٰ شہبازشریف ،چودھری نثار، خواجہ آصف، خواجہ سعدرفیق ، دانیال عزیز، مریم نواز، امیر مقام سمیت مرکزی رہنما بھی موجود تھے۔ اجلاس میں سپریم کورٹ کے فیصلے سے بعد کی صورتحال کا جائزہ لیا گیا اور فیصلہ کیا گیا کہ وزیراعظم میاںنوازشریف ملک بھر کادورہ کریں گے اور تمام صوبوں کے دارالحکومتوں میں جلسہ عام سے خطاب کریں گے اور اپنی حکومت کی چار سالہ کارکردگی اور میگاپراجیکٹس اور آئندہ لائحہ عمل سے عوام کو آگاہ کریں گے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعظم میاںنوازشریف کو تجویز دی گئی کہ وہ اپنا سب سے پہلا جلسہ پشاور میں کریں اور اس کے بعد کراچی میں ہوتاکہ پیپلزپارٹی اور تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی تنقید کا موثر جواب دیاجائے اور اپنی پارٹی کے کارکنوں کا مورال بلند کیا جائے۔

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں


دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved