تازہ تر ین

ہمارے عدنان خشوگی

رضی الدین رضی ….سخنور کی باتیں
ارب پتی ہونا اب تو کوئی غیرمعمولی بات ہی نہیں کہ پاکستان میں بھی ایسے بہت سے لوگ موجودہیں کہ جن کے پاس بے تحاشہ دولت ہے۔جوآف شور کمپنیوں کے مالک ہیں۔جن کے بیرون ملک خفیہ اکاﺅنٹ ہیں۔جو کالا دھن سفید کرتے ہیں اور جو سٹاک مارکیٹ کے اتارچڑھاﺅ میں کردار ادا کرتے ہیں۔ ہم جب ان کا تذکرہ کرتے ہیں یا ان کی کرپشن کی کہانیاں بیان کرتے ہیں تو بہت سہولت کے ساتھ کہہ دیتے ہیں کہ ان کا شمار ارب پتی لوگوں میں ہوتا ہے لیکن اگر آپ 1960ءکے عشرے میں جائیں تواس دور میں ایسے لوگوں کی تعداد بہت زیادہ نہیں تھی لیکن ایک کردار اس زمانے میں ایسا تھا جس نے دیکھتے ہی دیکھتے اپنے شاہانہ طرز زندگی اوردولت کے ذریعے عالمی سطح پر اپنا نام بنالیا۔یہ نام 1960ءسے 1990ءکے عشرے تک بہت سی عالمی سازشوں اورکہانیوں میں تواترکے ساتھ لیا جاتارہا۔کبھی اسلحے کی غیرقانونی فراہمی میں اس کا ذکرآتاتھا۔کبھی وہ عالمی رہنماﺅں کے ساتھ روابط کے باعث خبروں کا موضوع بنتاتھا۔کبھی خوبصورت لڑکیاں، اداکارائیں، اس کی بہت سی شادیاں اور رنگین زندگی اخبارات کے صفحوں پر اس کی تصویر کے ساتھ نمایاں ہوتی۔تو کبھی اس کے محلات اور ان محلات میں ہونے والی رقص وسرودکی محفلوں کا ذکر حسرت وحسد کی ملی جلی کیفیت کے ساتھ کیاجاتا۔
یہ نام اسلحہ کے ارب پتی سمگلر عدنان خشوگی کا تھا۔ 6جون 2017ءکو عدنان خشوگی 82سال کی عمر میں لندن میں انتقال کرگیا۔وہ طویل عرصہ سے پارکنسن کا شکارتھا۔خشوگی کاتعلق سعودی عرب سے تھا۔وہ مکہ المکرمہ میں پیدا ہوا۔اس کے والد محمد خشوگی شاہ عبدالعزیز السعود کے ذاتی معالج تھے۔عدنان خشوگی کی بہن سمیرا خشوگی کی الفائد خاندان میں شادی ہوئی۔وہ ڈوڈی الفائد کی والدہ تھیں۔ڈوڈی الفائد کا نام پہلی مرتبہ اس وقت منظرعام پرآیا۔جب وہ 3اگست 1997ءکو پیرس میں برطانوی شہزادی لیڈی ڈیانا کے ہمراہ کارحادثے میں ہلاک ہوا۔
عدنان خشوگی نے مصر،امریکہ اوردیگر ممالک میں تعلیم حاصل کی۔وہ حصول تعلیم کے بعد سعودی عرب واپس آیا اور20سال کی عمر میں اس نے اپنا کاروبار شروع کرلیا۔ابتدا میں ہی عدنان خشوگی کوشدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا اوراس کی فرم دیوالیہ ہوگئی۔اس مالی بحران سے نکلنے کےلئے عدنان خشوگی نے امریکہ کی مختلف فرموں کے سعودی حکومت کے ساتھ اسلحہ کی فراہمی کے خفیہ معاہدے کرانا شروع کردیئے۔اسلحے کی پہلی ڈیل اس نے 1956ءمیں کرائی۔یہ خفیہ معاہدے 1960ءاور 1970ءکے عشرے میںتواتر کے ساتھ کئے گئے جن میں سے ایک معاہدے کو بہت شہرت حاصل ہوئی جو یمن میں 1963ءمیں کرایا گیا تھا۔ عرب اسرائیل جنگ کے دوران عدنان خشوگی نے 30لاکھ پونڈ مالیت کے اسلحہ کے ٹرک مصر سمگل کئے اوراس کے عوض اسے ڈیڑھ لاکھ پونڈ کمیشن ملا۔ان سودوں نے عدنان خشوگی کو اسلحہ کے عالمی سمگلر بنادیا۔ عدنان خشوگی کی مہارت یہ تھی کہ وہ اسلحہ کی فراہمی اپنے ذمے لیتاتھا۔اسلحہ لینے والوں کو اس بارے میں وصولی کاطریقہ کار خود بتاتاتھااور مختلف معاملات میں انہیں مشورے بھی دیتاتھا۔1970ءسے 1975ءکے دوران خشوگی نے صرف کمیشن کی مد میں 10کروڑ 60لاکھ پونڈ حاصل کئے۔اس کاکمیشن ڈھائی فیصد سے شروع ہوا اور 15فیصد تک پہنچ گیا۔اس نے سوئٹزر لینڈ سمیت مختلف ممالک میں اپنی کمپنیاں بنائیں اور اکاﺅنٹ کھولے۔ایران میں امریکی سفارت خانے کے یرغمالیوں کی رہائی میں بھی عدنان خشوگی نے مڈل مین کاکردارادا کیا اوراس نے اس رہائی کے عوض ایران کے ایک سمگلر کو بھاری مقدار میں اسلحہ فراہم کیا۔بی سی سی آئی جب دیوالیہ ہوا تو معلوم ہوا کہ یہ بینک بھی عدنان خشوگی کو غیرقانونی قرضے دینے کے نتیجے میں اس انجام کو پہنچا ہے۔اسی طرح منی لانڈرنگ سمیت مختلف دھندوں میں تواتر کے ساتھ عدنان خشوگی کا نام لیا جاتا رہا۔ 1988ءمیں عدنان خشوگی کو سوئٹزر لینڈ سے گرفتار کرلیاگیا۔اس پر الزام تھا کہ اس نے فلپائن کے صدر مارکوس کی بیوہ امیلڈا مارکوس کوغیرقانونی طورپر رقوم فراہم کیں۔لیکن تین ماہ بعد ہی امریکی عدالت نے خشوگی کو اس الزام سے بری کردیا۔70ءکے عشرے میں عدنان خشوگی کی محل نما کشتی ”نبیلہ “دنیا کی سب سے بڑی کشتی کہلاتی تھی اس کشتی کا نام اس نے اپنی بیٹی کے نام پر رکھا تھا اور اس میں موجود آسائشوں کی طلسماتی کہانیاں اخبارات کی زینت بنتی تھیں۔یہ کشتی جیمز بانڈ کی ایک فلم میں بھی استعمال کی گئی۔پھرجب خشوگی مالی مشکلات کاشکارہوا تو اس نے یہی کشتی برونائی کے سلطان کوفروخت کردی۔بعدازاں یہی کشتی سلطان آف برونائی نے دوکروڑ90لاکھ ڈالر میں امریکہ کے موجودہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو فروخت کی۔ٹرمپ کا جواخانہ ”تاج محل کیسینو“جب دیوالیہ ہونے لگا تو اس نے یہی کشتی شہزادہ ولید بن طلال کو دوکروڑ پونڈ میں بیچ دی۔اب یہی کشتی دوبارہ ڈونلڈ ٹرمپ کی ملکیت ہے۔ عدنان خشوگی نے اگرچہ دوشادیاں کیں لیکن ان کی بیویوں کی تعداد گیارہ بتائی جاتی ہے۔1960ءمیں عدنان خشوگی نے 20سالہ انگریز لڑکی ساندرا سے شادی کی جس نے بعد ازاں اسلام قبول کرلیا اوراپنا نام بھی تبدیل کرکے ثریا رکھ لیا۔اس کی دوسری بیوی اطالوی تھی جس نے شادی کے بعد اپنا نام لامیہ خشوگی رکھا۔
عدنان خشوگی کی ذاتی زندگی کے بارے میں ایک کتاب ”عدنان خشوگی، دنیا کاامیر ترین آدمی“کے نام سے 1986ءمیں منظرعام پرآئی۔یہ کتاب معروف امریکی صحافی رونالڈکیسلرنے تحریر کی۔کیسلر واشنگٹن پوسٹ کے ساتھ وابستہ تھے۔کیسلر نے اس کتاب میں نہ صرف یہ کہ سنسنی خیز انکشافات کیے بلکہ ان مشکلات کابھی ذکر کیا جو اس کتاب کی تیاری کے دوران انہیں پیش آئےں۔عدنان خشوگی،ان کے عزیز واقارب،ان کے کلاس فیلوز اوردوستوں کے انٹرویوز کی مدد سے تیارکی جانے والی اس کتاب کے مصنف کو بارہا اس کام سے روکا گیا، اسے دھمکیوں اور دباﺅ کاسامنا بھی کرناپڑا۔وہ بہت سی ایسی دعوتوں میں بھی شریک ہوئے جو عدنان خشوگی کی طرف سے اہم شخصیات کے اعزاز میں دی گئیں۔خاص طورپر خشوگی نے اپنی 50ویں سالگرہ کے موقع پر 1985ءمیں جس ضیافت کا اہتمام کیا اس کاتذکرہ بھی اس کتاب میں موجودہے۔پانچ روز تک جاری رہنے والی اس محفل میں عدنان خشوگی اور ہالی وڈ اداکارہ بروک شیلڈکی نشستیں ایک ساتھ تھیں۔کیسلر کے مطابق خشوگی نے جب ثریا کو طلاق دی تو اس نے اس کے خلاف لندن کی عدالت میں دعویٰ کردیا۔1979ءمیں اس مقدمے نے بہت شہرت حاصل کی۔ثریا نے عدالت میں الزام لگائے کہ عدنان خشوگی سعودی شہزادوں کے ساتھ اسلحہ کی سودے بازی میں کال گرلز کی خدمات بھی حاصل کرتاہے۔ اس نے یہ بھی بتایا کہ امریکی صدر رچرڈ نکسن کی بیٹی کو عدنان خشوگی نے 60ہزار پونڈ مالیت کا طلائی ہار تحفے میں دیا۔اسی ٹرائل کے دوران ڈی این اے ٹیسٹ سے یہ بھی ثابت ہوا کہ ثریا کے ایک برطانوی سیاست دان کے ساتھ تعلقات تھے اورعدنان کی بیٹی نبیلہ اور بیٹادر حقیقت اسی سیاست دان کے بچے ہیں۔یہ خبریں منظرعام پر آنے کے بعد خشوگی کی بیٹی نبیلہ نے خواب آور گولیاں کھا کرخودکشی کی کوشش کی۔ اس کے بعد بیٹی اور بیٹے کے دباﺅ پرعدنان خشوگی کو ثریا کے ساتھ صلح پر مجبور ہو گیا۔1982ءمیں یہ عدالتی تنازعہ ختم ہوا اورثریا نے 30لاکھ پونڈ کے عوض خاموشی اختیارکرلی۔
یہ تو تھی عدنان خشوگی کی کہانی۔ لیکن ایسے بہت سے کردار ہمارے ارد گرد بھی تو موجود ہیں۔ اس غریب ملک میں جہاں بہت سے لوگوں کو دو وقت کی روٹی بھی میسر نہیں ایسے کئی ارب پتی ہیں جن کے ذاتی جہاز ہیں، جن کے عالی شان محل ہیں، بادشاہوں سے روابط ہیں اور شاہا نہ زندگی ہے۔ وہ عدنا ن خشوگی کی طرح کئی کئی علانیہ اور غیر علانیہ شادیاں کرتے ہیں۔ ڈی این اے ٹیسٹ کے بغیر بھی ان کی اولادوں کا حسب نسب سب کو معلوم ہوتا ہے۔ لیکن ان کی خفیہ زندگی ان کے جیتے جی تو خفیہ ہی رہتی ہے۔ ہم اپنے عدنان خشوگیوں کو پلے بوائے کہنے کی کبھی جرات نہیں کرتے۔ ہمارے کل، آج اور آنےولے کل کے حکمرانوں میں ایسے بہت سے کردار موجود ہیں۔ آپ خود غور کیجئے کہ ان میں سے کون کون عدنان خشوگی ہے۔ ہم بھلا کسی کا نام کیوں لیں ؟
(ملتان کے ادیب اور قلمکار ہیں)
٭….٭….٭


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں




دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved