یورک ایسڈ


ڈاکٹر نوشین عمران
جسم میں یورک ایسڈ بڑھ جائے تو جسم کے جوڑوں میں درد شروع ہوجاتا ہے۔ اسے گاﺅٹ کا مرض کہا جاتا ہے۔ یورک ایسڈ کیا ہے؟ جسم کے اندر پروٹین یا پیورین کے توڑ پھوڑ اور استعمال کئے جانے کے عمل کے بعد جو مرکب بچ جاتا ہے وہ یورک ایسڈ ہے۔ عموماً اسے ایک فالتو مادہ ہی تصور کیا جاتا ہے جس کا پیشاب کے راستے جسم سے خارج ہونا ضروری ہے اگر ایسا نہ ہو تو جسم میں مقدار بڑھتی جائے گی اور یورک ایسڈ سوڈیم یوریٹ کرسٹل کی شکل میں جوڑوں کے گرد جمع ہونے لگتا ہے۔ یورک ایسڈ جسم میں جمع ہونے کی دو وجوہات ہیں پہلی اگر اس کے بننے کی مقدار بڑھ جائے‘ دوسری اگر اس کے خارج ہونے کی مقدار کم ہوجائے۔
یورک ایسڈ بڑھ جانے کی کیا وجہ ہوسکتی ہے؟ خوراک میں پروٹین پیورین کی زیادہ مقدار جو گوشت میں پائی جاتی ہے خوراک میں چینی فرکٹوز کی زیادہ مقدار جو کئی سوفٹ ڈرنکس‘ پھلوں کے جوس ،خاص کر سیب‘ آڑو ‘ ناشپاتی میں ہوتی ہے جس میں آئرن کی مقدار بڑھ جانے اور کاپر کی مقدار کم ہونے سے بھی یورک ایسڈ بڑھ جاتا ہے۔ مردوں میں 45 کی عمر کے بعد عموماً ہارمون ٹیسٹوز ٹیرون کی مقدار کم اور فیرائن آئرن بڑھ جاتی ہے جس سے یورک ایسڈ بڑھتا ہے اس لئے اگر یورک ایسڈ کی کوئی اور وجہ نہ مل رہی ہو تو خون میں ان دونوں کی مقدار چیک کروالیں اگر آئرن کی مقدار زیادہ ہو تو خون کا عطیہ دیں۔
یورک ایسڈ زیادہ ہوجانے سے کیونکہ جوڑوں میں اکٹھا ہوتا ہے اس لئے سب سے پہلی علامت جوڑوں میں درد ہی ہے۔ 76 فیصد مریضوں میں پیر کا انگوٹھا سب سے پہلے متاثر ہوتا ہے۔ 50 فیصد میں ٹخنہ‘ 32 فیصد میں گھٹنا‘ 25 فیصد میں ہاتھوں کے جوڑ اور 10 فیصد میں کلائی یا کہنی کا درد پہلی علامت ہے۔ جیسے جیسے یورک ایسڈ بڑھے گا ایک سے زائد جوڑ متاثر ہوں گے۔ عام طور پر ہلکا درد ہر وقت رہتا ہے لیکن کبھی کبھار اس کی نوعیت شدید ہوسکتی ہے۔ جوڑ میں سوزش ہوجاتی ہے‘ رنگت گلابی یا سرخی مائل ہوجاتی ہے‘ جوڑ پر ہاتھ لگانے سے گرم محسوس ہوتا ہے‘ حرکت کرنے یا ہاتھ لگنے پر شدید درد ہوتا ہے۔ ایسی حالت کچھ دن سے کچھ ہفتے تک رہ سکتی ہے۔
یورک ایسڈ کے علاج کے لئے صرف درد کی ادویات نہیں بلکہ ایسی دوا بھی لینا پڑتی ہے جو اس کی مقدار کو کم کرے۔ البتہ درد کے دورے کے درمیان درد ختم کرنے والی ادویات ہی ضروری ہیں جیسا کہ NSAID انڈومیتھاسین‘ نیپراکسن‘ جن افراد کو معدے کی تکلیف ہو انہیں اس کے ساتھ اینٹی السر دوا بھی لینا چاہئے۔ درد اور سوزش اگر بہت شدید ہو تو چند دن کےلئے کال پی سین ادویات بھی لی جاسکتی ہیں اگر ان سے آرام نہ آئے تو ڈاکٹرز کی ہدایت کے مطابق سٹیرائیڈ پریڈ نیسولون کا استعمال کیا جاتا ہے تاکہ سوزش کو فوری کم کیا جائے۔ شدید دورہ ختم ہونے کے بعد ”زائلورک“ یا ”پروبیناسڈ تین سے چھ ماہ کےلئے لینا ضروری ہے۔
٭٭٭

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں


دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved