تازہ تر ین

مشرق وسطیٰ کی سنگین صورتحال

سنم سنگز….مہمان کالم

مشرق وسطیٰ کے حالات وہ نہیں رہے جو کہ آج سے چند روز قبل تھے۔ خلاف معمول پیشرفت نے ماہرین کو بھی مشکل میں ڈال دیا ہے۔ بعض جاننے کی کوشش میں ہیں کہ آخر ہو کیا رہا ہے‘ باقی سازشی کہانیوں میں جواب تلاش کر رہے ہیں۔ خلیج میں سفارتی بحران سے شروع ہونے والے دن کا خاتمہ کمرشل فلائٹس کیلئے فضائی حدود کے استعمال پر پابندی سے ہوا۔ خلیج کی چھوٹی سی ریاست پر دہشت گردوں‘ فرقہ واریت میں ملوث گروپوں کو پناہ دینے یا حمایت کرنے کا الزام ہے جو خطے کو عدم استحکام سے دوچار کرنا چاہتے ہیں۔ ان میں اخوان المسلمون‘ داعش اور القاعدہ شامل ہیں۔ قطر نے تمام الزامات کی سختی سے تردید کی ہے۔ کئی عشروں کے بعد عرب ریاستوں کے درمیان یہ بدترین بحران ہے۔ علاقائی اور عالمی قوتیں بشمول ترکی اور کویت ثالثی کیلئے اپنی اپنی کوششیں کر رہے ہیں۔
ترک صدر طیب اردوان نے اپنے بیان میں کہا کہ انہیں شبہ ہے کہ یہ بحران مذموم کھیل کا نتیجہ ہے مگر وہ نہیں جانتے کہ اس کے پیچھے کون ہے۔ امریکی حکام کو یقین ہے کہ قطری امیر کے جعلی ریمارکس جن کا ذکر خبررساں ایجنسیوں نے کیا اور جو سعودی ردعمل کی آخری وجہ بنے‘ روسی ہیکروں کی کارستانی ہیں۔ اس بحران کے دوران ترک پارلیمنٹ نے دو معاہدوں کی توثیق کی۔ ایک معاہدہ قطر میں فوجی دستوں کی تعیناتی‘ دوسرا شاہی دستوں کی تربیت سے متعلق ہے۔ دونوں معاہدوں کی وجہ سے کئی قیاس آرائیاں ہو رہی ہیں۔ کہا جا رہا ہے کہ انقرہ فوجی مداخلت کے خلاف قطر کا دفاع کرنے کیلئے تیار ہیں۔ اگرچہ قطر میں ترک فوج کی موجودگی نئی بات نہیں۔ انقرہ نے قطر میں فوجی بیس 2014ءکے ایک معاہدے کے تحت قائم کی اور تب سے 150ترک فوجی قطر میں تعینات ہیں۔
گزشتہ ہفتے کا دوسرا بڑا واقعہ تہران میں ایرانی پارلیمنٹ اور سپریم لیڈر آیت اللہ خمینی کے مزار پر حملے ہیں‘ جن میں 12افراد ہلاک اور 43زخمی ہوئے۔ ان حملوں کی ذمہ داری داعش نے قبول کی ہے‘ جس سے صورتحال زیادہ سنگین ہوجاتی ہے۔ ایران کے دارالحکومت میں پہلی مرتبہ کسی گروپ نے اس پیمانے پر حملے کئے ہیں۔ حملوں کا الزام تہران نے سعودی عرب پر لگایا ہے جو کہ حیران کن نہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ ان حملوں کا ایران کیسے جواب دے گا۔
دونوں واقعات کے علاوہ ایک اور بڑی پیش رفت گزشتہ ہفتے ہوئی جب عراقی کردستان کی مقامی حکومت نے اعلان کیا کہ کردستان کی مکمل خودمختاری کیلئے 25 ستمبر کو ریفرنڈم کرایا جائے گا۔ اس اعلان کی بغداد کی مرکزی حکومت کے ساتھ علاقائی ملک بھی مخالفت کریں گے۔ ایران اور ترکی نے خودمختاری کیلئے کردوں کے ہر اقدام کی ہمیشہ سے مخالفت کی ہے‘ جس کی وجہ سے یہ خطرہ ہے کہ دونوں ملکوں کی مقامی کرد آبادی کی جانب سے اسی قسم کے مطالبے سامنے آئیں گے۔ اس تمام واقعات سے قبل امریکی اتحاد نے شام کے شہر الرقہ کا قبضہ داعش سے چھڑانے کیلئے فوجی آپریشن شروع کر رکھا ہے جو کہ واشنگٹن اور انقرہ کے مابین سنگین کشیدگی کا باعث بن چکا ہے۔ کشیدگی کی وجہ امریکہ کا کردوں کی مسلح تنظیم پیپلز پروفیکشن فورسز کو سپورٹ کرنا ہے۔ یہ تنظیم ترکی میں سرگرم دہشت گرد کردستان ورکرز پارٹی کی شاخ ہے۔ اسی اثنا میں روس ترکی اور ایران نے شام سے متعلق قازقستان بات چیت کا مجوزہ پروگرام ملتوی کردیا ہے۔ یہ بات چیت ماسکو کی تجویز پر 12 اور 13جون کو ہونا تھی۔ الرقہ میں جاری آپریشن کی وجہ سے بات چیت کا ملتوی ہونا اچھی خبر نہیں ہے۔ اس آپریشن کے باعث میں شام پناہ گزینوں کا بحران سنگین تر ہورہا ہے۔ یہ معصوم لوگ خطے میں جاری خانہ جنگی کی بھاری قیمت ادا کررہے ہیں۔مشرق وسطیٰ میں بے یقینی کی صورتحال جس طرح سنگین ہورہی ہے‘ اس میں امید پروری کی گنجائش پیدا ہونے کا کہیں کوئی امکان نظر نہیں آرہا۔ غالب امکان یہی ہے کہ آئندہ چند ہفتوں میں خطے کی صورتحال مزید تشویشناک ہوجائے گی۔
(بشکریہ ڈیلی عرب نیوز)
٭….٭….٭

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved