تازہ تر ین

طبی سہولتوں کا فقدان

ڈاکٹر اویس فاروقی ..فوکس پاکستان
انسانی جان کو مقدم سمجھنے والے معاشروں میں صحت کا کیا مقام ہے اس کا اندازہ وہاں طب پر ہونے والی جدید تحقیق سے لگایا جاسکتا ہے جہاں ہر لمحہ لمحہ بدلنے والی صورت حال اور تبدیلوں پر بھی غور و فکر کیا جاتا ہے، انسانی جان کی اہمیت اوراس کے بچاﺅ کا سب سے پہلا ذریعہ درست تشخیص اور پھر بروقت علاج ہے جن معاشروں نے اس اصول کو اپنے ہاں لاگو کر لیا ہے وہاں آپ کو بیمار اورمضروب ایڑیاں رگڑتے مرتے نہیں ملیں گے۔لیکن جن معاشروں میں انسان کو ہی سرے سے اہمیت نہیں دی جاتی وہاں جان کی حرمت اور بچاﺅ کی کوششیں بھی نظر نہیں آتیں۔ بد قسمتی سے پاکستان کا شمار بھی ایسے ہی ملکوں میں ہوتا ہے جہاں اپنے فرائض سے پہلو تہی کرتے ہوئے بیماری کی حالت میں ہر موت اور حادثے کو قدرت کے کھاتے میں ڈال کر خود بری الذمہ ہو جاتے ہیں، حالانکہ ہر حادثے اور بیماری کی حالت میں ہونے والے موت ہمیں یہ سبق سکھاتی ہے کہ اگر اپنے ملکی نظام کو درست کر لیا جائے بروقت طبی امداد مہیا کی جاسکے یا مرض کی درست تشخیص ہو جائے تو قیمتی جانوں کو بچایا جاسکتا ہے۔
صوبہ پنجاب اس حوالے سے کچھ خوش قسمت ثابت ہوا ہے کہ یہاں اس معاملے میں کچھ ہل جل تو دکھائی دیتی ہے شہباز شریف کے طرز حکومت سے لاکھ اختلاف سہی مگر ان کی ذاتی کوششوں کی بددولت کام ہوتا دکھائی دیتا ہے اگر وہ ”نظام“ کو درست کر لیں تو انہیں بہت زیادہ بھاگ دوڑ کرنے کی شاید ضرورت پیش نہ آئے۔ اسی حوالے سے تازہ ترین کوششوں کا کچھ ذکر اور صحت عامہ کی عمومی صورتحال پر بات کریں گے۔
محکمہ صحت پنجاب کی جانب سے حاملہ خواتین کیلئے خادم اعلیٰ دیہی ایمبولینس سروس کا آغاز کیا گیا ہے جسے خوش آئند قرار دیا جانا چاہیے۔ پنجاب کے 36 اضلاع میں 1034 پر کال کر کے ایمبولینس منگوائی جا سکے گی۔ ابتدائی طور پر 193 فری ایمبولینسز چلائی جا رہی ہیں جبکہ 207 گاڑیاں جلد پروگرام میں شامل ہو جائیں گی۔ جبکہ دوسری جانب پنجاب کے بڑے شہروں میں بڑھتی ہوئی آبادی کی وجہ سے سڑکوں پر بروقت ایمبولینس کی آمدورفت میں بے شمار مشکلات پیش آتی ہیں۔ مریضوں کو ہسپتال تک لے جانا بڑا مسئلہ بن جاتا ہے۔ حکومت پنجاب کی طرف سے عوام کو صحت کی سہولتوں کی فراہمی کے لئے موٹرسائیکل ایمبولینس سروس کی فراہمی سے کم از کم بروقت طبی امداد کی فراہمی ممکن ہو جائے گی۔ کیونکہ موٹرسائیکل سوار طبی عملہ ٹریفک کے ہجوم میں سے ایمبولینس گاڑی کی نسبت باآسانی راستہ نکال سکے گا۔ صحت کے حوالے سے حکومت پنجاب کے مثبت اقدامات کے باوجود مریضوں کی بڑھتی ہوئی تعداد اور ہسپتالوں کی کمی کے لئے بہت کچھ کر ناابھی باقی ہے۔ خاص طور پر دیہات اور قصبات میں طبی مراکز کا قیام اور وہاں کوالیفائیڈ عملے کی تعیناتی اشد ضروری ہے۔ صرف پنجاب ہی نہیں تمام صوبوں میں صحت کے حوالے سے بہت سے مسائل موجود ہیں۔ جن پر قابو پانے کے لئے مرکزی حکومت کو اپنا کردار ادا کرنا چاہئے تاکہ ملک کی عوام کو طبی سہولتوں کی باآسانی فراہمی ممکن ہو۔ اس کام میں صوبوں کی معاونت کر کے مرکزی حکومت بہت جلد اچھے نتائج حاصل کر سکتی ہے۔ عوام کو صحت کی سہولتوں کی فراہمی صوبائی اور مرکزی حکومتوں دونوں کی اہم ذمہ داری ہے۔
سرکاری ہسپتالوں کی حالت زار اور مریضوں کی بد حالی کی خبریں روزانہ اخبارات کی زینت بنتی ہیں اعداد و شمار کے مطابق(جو یقینا حتمی نہیں ہیں اندازئے ہیں) لاہور میں 6 بڑے سرکاری ٹیچنگ ہسپتالوں میں روزانہ 26 ہزار مریض علاج کے لئے آتے ہیں جبکہ ان ہسپتالوں میں ایکسرے کے لئے صرف 26 مشینیں موجود ہیں۔ غیر سرکاری اداروں کے سروے کے مطابق اٹھارہ سو انسانوں کو صحت کی سہولیات فراہم کرنے کیلئے صرف ایک ڈاکٹر موجود ہے جس کی اہلیت کے بارے میں اندازہ لگانا مشکل ہے جبکہ وزارت اطلاعات کی ویب سائٹ پر جاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان بھر میں 916 ہسپتال ہیں جن میں شہری علاقوں کے ہسپتال ایک سو سے 5سو بستروں پر مشتمل ہیں، دیہی علاقوں کی صورتحال کا اندازہ لگانا مشکل ہے، 4600 ڈسپنسریاں، 5301 بنیادی مراکز صحت، 552 دیہی مراکز صحت ہیں جبکہ ٹی بی مراکز کی تعداد 289 ہے۔ تمام پاکستانی ہسپتالوں میں مریضوں کے علاج معالجے کیلئے لگائے گئے بستروں کی تعداد 99908 ہے۔ اسی ویب سائٹ کے اعداد و شمار کے مطابق حکومت کی جانب سے عوام کو صحت کی سہولتیں مہیا کرنے کیلئے متعین کردہ ڈاکٹروں کی تعداد 113206 ہے۔ ماہر امراض دندان 6127، نرسیں 48446، دیگر ملازمین صحت 23559 اور لیڈی ہیلتھ ورکرز 6741 ہیں۔ درج بالا اعداد و شمار یہ واضح کرتے ہیں کہ 20کروڑ کی آبادی کو ریاست کی جانب سے دستیاب صحت کی سہولیات کی صورتحال کس قدر گھمبیر ہے۔ حکومت کی جانب سے صحت کی سہولیات کی فراہمی کیلئے انفراسٹرکچر کی تعمیر میں کوئی دلچسپی ظاہر نہیں کی گئی جس کی وجہ سے صحت کی سہولتیں فراہم کرنے کا عمل ایک منافع بخش صنعت کا درجہ حاصل کر چکا ہے۔ ہر ایک سرکاری ہسپتال کے اردگرد سینکڑوں نجی ہسپتال قائم ہیں جن کے معیار کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل سے رجسٹرڈ نجی ہسپتالوں کا تناسب کل ہسپتالوں کا تقریباًپانچ فیصد سے بھی کم ہے۔
ریاست جہاں اپنے شہریوں کا ایک بھی بنیادی مسئلہ حل کرنے میں مکمل طور پر ناکام رہی ہے وہاں صحت کی سہولتوں کی مخدوش حالت نے 80 فیصد پاکستانی عوام کو غیر سائنسی علاج پر مجبور کر رکھا ہے مختلف رپورٹ اور اندازوں کے مطابق تقریباً 80 سے 85 فیصد پاکستانی مختلف نوعیت کے نفسیاتی مسائل کا شکار ہیں۔ اسکے ساتھ ساتھ حکیموں، عطائیوں، پیروں، عاملوں جو تعویز گھنڈے سے علاج کے نام پر لوگوں کو بیوقوف بناتے ہیں کی بڑی تعداد موجود ہے۔ دیہی علاقوں میں تو ان عناصر کا غلبہ ہے اور وہاں اکثر ہسپتال ڈاکٹر اور دوا سے محروم آثار قدیمہ کے مناظر پیش کر رہے ہیں۔منافع کی ہوس ادویات کی قیمتوں میں اضافے اورنجی ہسپتالوں کی مسلسل تعمیر کا باعث ہونے کے ساتھ ساتھ گزشتہ 5سال سے میڈیکل کالجوں کی بیش بہا تعمیرات ہورہی ہے، جہاں صحت کی سہولتوں سے جڑا ہر شعبہ ایک منافع بخش صنعت کا درجہ اختیار کرتا جا رہا ہے۔ایک میڈیکل کالج کو پی ایم ڈی سی میں رجسٹرڈ کرنے کیلئے مخصوص احاطے میں پھیلی عمارت کے علاوہ ایک ٹیچنگ ہسپتال جس میں تمام بڑے شعبہ جات، ایمرجنسی کا شعبہ، تصریح کردہ لیبارٹریز سمیت دیگر لوازمات مکمل کرنا ضروری ہوتا ہے۔ 50 طلبہ کے کالج کیلئے اڑھائی سو جبکہ ایک سو طلبہ کے کالج کیلئے 5 سو بستروں پر مشتمل ہسپتال ضروری ہے اور اسکے علاوہ اس ہسپتال میں 50 فیصد مریضوں کا مفت علاج کیا جانا بھی ضروری قرار دیا گیا ہے۔
ہمیں سنجیدگی سے صحت کے مسائل زمینی حقائق کو مد نظر رکھتے ہوئے حل کرنی کی طرف توجہ دینی ہوگی اور یقیناً یہ حکومت کی ہی ذمہ داری ہے اس کے لئے یہ بھی ضروری ہے کہ ہمارئے ہاں مختلف نوعیت کی بیماریوں کے درست اعداد و شمار بھی موجود ہوں تاکہ درست علاج کی طرف بڑھا اور قیمتی جانیں بچائی جاسکیں۔
(عوامی و سیاسی امور پر لکھتے ہیں )
٭….٭….٭

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved