پاکستان کے خلاف سازش

صوفیہ بیدار……..امروز
دو قومی نظریہ پیش کرنے کا سب سے بڑا مقصد چھوٹے چھوٹے آپسی اختلاف و فرقہ واریت کو پس پشت ڈال کر ایک ایسی الگ قوم ثابت کرنا تھا جو ہندو سکھ سے ثقافت زبان و رہن سہن (رہتل) میں بالکل ہی مختلف ہے مگر دو قومی نظریہ کو نقصان پہنچانے والوں کے مقاصد پاکستان کو ایک قوم بننے سے روکنے تک ہی محدود نہ تھے، بلکہ پاکستان کو زبان و نسل کی بنیاد پر توڑنے کے تھے….
کتاب ” پاکستان کے خلاف سازش“ کی تقریب رونمائی رائل پام میں ہو رہی تھی، مصنف جناب ضیاشاہد نے کھل کر برصغیر کی تاریخ کے سیاہ ابواب صفحہ قرطاس پر بکھیر رکھے تھے، تحریک پاکستان و موثر طبقے کی جید شخصیات اس موضوع پر بولنے کےلئے تڑپ رہی تھیں۔ ایس ایم ظفر نے کہا کہ ڈکشنری سے ”غدار“ کا لفظ نکال دینا چاہیے جب تک عدلیہ کسی کو غدار قرار نہ دے، محض آپسی بیانات میں اہم شخصیات کو ”غدار“ قرار دے دینا عالمی جگ ہنسائی کا باعث ہے۔ گریٹر پنجاب و بلوچستان کی بات بھی ہوئی جس پر بعدازاں امتنان شاہد نے خوب نکتہ آفرینی کی جو طویل بحث میں تبدیل ہوگئی۔ مجیب الرحمن شامی صاحب نے نہایت استدلال سے گفتگو کی جو پاکستان کی محبت میں شرابور تھی انہوں نے کہا کہ پاکستان ”ون یونٹ“ تھا صوبوں کی باتیں کہاں سے شروع ہو گئیں؟ پاکستان کے قیام کے وقت کونسے صوبے تھے، گلگت کا علاقہ گوادر بھی بعد میں حکومت نے خریدے یا حاصل کیے صوبوں کے طلبگار اور خود کو بلوچی کہنے والے اس کی تاریخ پر بھی نظر ڈال لیں۔ ضیاصاحب نے گزشتہ دنوں شائع ہونے والی کتاب ”پاکستان کے خلاف سازش“ میں زبان و نسل کو بنیاد بنا کر علیحدگی کی سازشوں کو بے نقاب کیا جس میں تحریر ہے کہ باچا خان، عبدالغفار خان جنہیں سرحدی گاندھی کہا جاتا تھا کے پوتے اسفندیارولی نے کہا کہ وہ افغانی پیدا ہوئے اور افغانی ہی رہیں گے۔ اس سے قبل بلوچی گاندھی عبدالصمد اچکزئی کے صاحبزادے محمود اچکزئی بھی اس قسم کی فضولیات فرما چکے ہیں کہ کے پی کے (سرحد) افغانستان کا حصہ ہے یہ باتیں یہ لوگ پاکستان کی سرزمین پر کرتے ہیں اور ہم دیگر اختلافات و موضوعات کو موضوع بحث بنائے رکھتے ہیں، ایسے بیانات دینے والوں کا تسلسل الطاف حسین قائد ایم کیو ایم تک پہنچ کر غداری کا آخری نعرہ بن جاتا ہے جسے دہرانا بھی کسی محب وطن پاکستانی کے بس کا کام نہیں۔ بھارتی خفیہ ایجنسی را سے مدد مانگنا حتیٰ کہ خان آف قلات مودی سے بلوچستان کی آزادی کیلئے مدد مانگ رہے ہیں۔
مقام حیرت یہ کہ یہ سب ہو رہا تھا اور ہو رہا ہے پاکستان کے تمام اینکرز اور میڈیا پرسنز ایسے خوفناک موضوعات کو نظرانداز کرکے عدالتوں میں چھوٹی چھوٹی پیشیوں اور تصویروں کے سی سی ٹی وی کیمروں سے لیک ہو جانے پر تن من دھن سے پروگرام کر رہے ہیں اگر حکومتی ترجیحات پر تنقید کی جاتی ہے تو عوامی ترجیحات اس سے بھی بدتر ہیں۔ عوام و عوام کی ترجمانی کرنے والے چینلز کو قطعی احساس نہیں کہ دراصل قومی موضوعات میں کیا اور پاکستانی تاریخ و ادب میں اسے کیا مقام دینا چاہئے، مجموعی و اجتماعی بے حسی سے الگ ہماری قومی ذمہ داریوں کو اولیت نہ دینا نہایت افسوسناک ہے۔ میں نے اپنی دانست میں یہی کہا کہ یہ محض ایک کتاب نہیں یہ تاریخ پاکستان کے وہ ابواب ہیں جو بڑی قسمت سے ہمارے ایسے سنجیدہ طالب علموں کو میسر آتے ہیں میری دانست میں تاریخ کی حقیقت پر مفاہمت مصلحت اور غرض مندی کے پردے پڑے رہتے ہیں، محض صحافی، ادیب اور مصور ہی حقیقی تصویر کوپیش کرنے کی طاقت رکھتے ہیں۔
تاریخ کے حقائق مسخ نہ ہو اس کےلئے مخصوص بے ساختگی چاہیے جو صرف تخلیق کار کے ہاں ہوتی ہے۔ جب اپنے زمانے کا حق ادا کرنے کےلئے صحافت کی اصناف پر تصرف کیا جاتا ہے تو ادب کی ہمراہی بین السطور سچائی کو کیفیت کے ساتھ بھر دیتی ہے۔ ضیاصاحب نے عبدالغفار خان کے بیٹے غنی خان کی کافرانہ نظموں کا بھی حوالہ دیکر ان لوگوں کے حقیقی تصورات کو بھی عیاں کیا ہے۔
تاریخ، صحافت و ادب کے طالب علموں کیلئے یہ کتاب کسی نعمت سے کم نہیں جس کی عمدہ تقریب و انتظام نے کتاب کی رونمائی کو چارچاند لگا دیئے۔ تقریب کے آخر میں سیفما میں ہونے والے مکالمے (میاں نواز شریف و سکھ وفد کے درمیان) پر خوب دلچسپ مکالمہ ہوا اور دو قومی نظریے کو کسی بھی سطح پر رد کرنے پر تنقید ہوئی۔
شہر میں ہونے والی بے شمار تقاریب میں یہ تقریب اس لیے بھی ممتاز و منفرد تھی کہ موضوع کے اعتبار سے سنجیدہ ترین اور وجود پاکستان کےلئے ضروری ترین تھی۔ ملک کے ممتاز سیاستدانوں، جرنیلوں، صحافیوں، دانشوروں اور اینکرز کی شرکت نے تقریب کو سجا دیا…. یہ کتاب اہل فکر و دانش کے لیے نہ صرف لمحہ فکریہ ہے بلکہ یہ ایک راہ تقلید بھی ہے جس کو سب دانشوروں و لکھاریوں کو اپنانے کی ضرورت ہے اور شاہراہ عزم پر اپنے نقش قدم ثبت کرنے کی ضرورت ہے۔
(معروف شاعرہ اور تجربہ کار کالم نگار)
٭….٭….٭

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved