پاکستان کیخلاف سازش

قیوم نظامی….مہمان کالم
قیام پاکستان سے پہلے انگریز، ہندو اور کانگرسی مسلمان پاکستان کی آزادی کی مخالفت کرتے رہے۔ قائداعظم نے ڈٹ کر قیام پاکستان کے مخالفین کا مقابلہ کیا اور ان کی بے مثال اور ولولہ انگیز قیادت میں پاکستان وجود میں آگیا۔ انہوں نے مسلمانوں کا مقدمہ دو قومی نظریہ کی بنیاد پر لڑا۔ قائداعظم وژنری لیڈر تھے ان کو اندازہ تھا کہ پاکستان کے مخالف عناصر آزادی کے بعد بھی چین سے نہیں بیٹھیں گے اور بھارت کی سرپرستی میں پاکستان کو توڑنے کی سازشیں کریں گے۔ قائداعظم نے قیام پاکستان کے بعد پوری کوشش کی کہ ایک قوم کی شناخت قائم رہے اس کی ایک مشترکہ قومی زبان ا±ردو ہو اور صوبوں کو خود مختاری دی جائے تاکہ پاکستان کے مخالفین زبان، نسل اور صوبائی خودمختاری کو اپنے مذموم مقاصد کے لیے بطور ”ہتھیار“ استعمال نہ کرسکیں۔ قائداعظم کے خدشات درست ثابت ہوئے اور 1971ءمیں پاکستان دو لخت ہوگیا۔ ڈاکٹر مجید نظامی زندگی بھر دو قومی نظریے، کشمیر اور جمہوریت کے علمبردار اور پاسبان رہے۔ ہر حکمران ان سے خوفزدہ رہتا۔ پاکستان کی سیاست اور صحافت میں ڈاکٹر مجید نظامی کی کمی شدت سے محسوس ہوتی ہے کیوں کہ پاکستان کے ساتھ ٹوٹ کر محبت کرنے والی آوازیں کم اور کمزور ہوتی جارہی ہیں۔ محترمہ رمیزہ نظامی ثابت قدمی اور جانفشانی کے ساتھ ڈاکٹر مجید نظامی کے مقدس مشن کو آگے بڑھا رہی ہیں۔
ڈاکٹر مجید نظامی کے مقلد نامور صحافی، مصنف اور محقق برادرم ضیاشاہد نے پاکستان کی سلامتی اور یک جہتی کو لاحق خطرات کے بارے میں کتاب لکھ کر ”فرزند پاکستان“ ہونے کا حق ادا کردیا ہے۔ ان کی کتاب ”پاکستان کے خلاف سازش“ مستند اور معتبر حوالوں پر مبنی ہے۔ پاکستان کے بہت کم محقق ایسے ہیں جن کی تحقیق کو معتبر سمجھا جاتا ہے بلاشک برادرم ضیا شاہد معیاری تحقیق پر مبنی کتاب تخلیق کرنے کے بعد پاکستان کے چند نامور محققین میں شامل ہوگئے ہیں۔ جو بھی اس کتاب کا مطالعہ کرے گا وہ میری رائے سے اتفاق کرے گا۔ اپنی نوعیت کی اس منفرد کتاب میں پاکستان کے ان مخالفین کو بے نقاب کیا گیا ہے جو زبان اور نسل کے نام پر پاکستان کو توڑنے کی خفیہ اور اعلانیہ کوششیں کررہے ہیں۔ حربیار مری، موجودہ خان آف قلات اور براہمداغ بگٹی پاکستان کے کھلے دشمن ہیں اور ”آزاد بلوچستان“ کے لیے گوریلا جدوجہد کی سرپرستی کررہے ہیں جبکہ الطاف حسین، بلوچی گاندھی عبدالصمد اچکزئی کے صاحبزادے محمود خان اچکزئی اور سرحدی گاندھی عبدالغفار خان کے پوتے اسفند یار ولی بظاہر تو پاکستان کے آئین کے تابع سیاست کرتے ہیں۔ قومی اسمبلی اور سینیٹ کے لیے رکنیت فارم میں آئین کا تقاضہ پورا کرنے کے لیے اپنی قومیت ”پاکستانی“ لکھتے ہیں اور منصب کی خاطر پاکستان سے وفاداری کا حلف بھی ا±ٹھالیتے ہیں مگر اعلانیہ اپنے آپ کو ”افغانی“ کہتے ہیں۔ دونوں پختون لیڈر آج بھی ڈیورنڈ لائین کو تسلیم نہیں کرتے اور افغان مہاجرین کو مہاجر سمجھنے کی بجائے انہیں اپنے ”وطن“ کا باشندہ تصور کرتے ہیں۔ اسے منافقت نہیں تو اور کیا کہا جائے۔
برادرم ضیاءشاہد نے اپنی کتاب میں کئی انکشافات کیے ہیں انہوں نے گاندھی کے پرائیویٹ سیکریٹری پیارے لال کی کتاب ”مہاتما گاندھی لاسٹ فیز صفحہ171“ کا حوالہ اپنی کتاب میں شامل کیا ہے۔ ”غفار خان کی طبیعت ناساز تھی انہیں شدید بخار تھا لیکن انہوں نے اصرار کیا کہ وہ پہلے کی طرح حسب معمول گاندھی جی کے پاﺅں ضرور دھوئیں گے۔ غفار خان نے کہا آج یہاں میرا آخری دن ہے یہ خواہش پوری کرنے دیں اس سے میری طبیعت بحال ہوجائے گی اس پر گاندھی جی نے انہیں اپنے پاﺅں دھونے دئیے“۔[صفحہ 20]
برادرم ضیا شاہد نے پاکستان کا مقدمہ ناقابل تردید دلائل، شواہد، حوالہ جات اور دستاویزات کے ساتھ پیش کردیا ہے۔ ان کی کتاب قیام پاکستان سے لے کر آج تک ہونے والی سازشوں کی چشم کشا اور تشویشناک داستان ہے۔ انہوں نے اپنی کتاب میں کے ایل گابا کی کتاب ”مجبور آوازیں“ کے حوالے سے بتایا ہے کہ بھارت کے مسلمان آج بھی اپنے سیاسی سماجی اور معاشی حقوق سے محروم ہیں جس سے دو قومی نظریے کی صداقت ثابت ہوتی ہے۔
برادرم ضیاشاہد نے اپنی کتاب میں 1946ءمیں نہرو کے دورہ صوبہ سرحد (خیبرپختونخواہ) کا احوال بیان کیا کہ سرحدی گاندھی عبدالغفار خان نے کانگرس کی قیادت کو یقین دہانی کرارکھی تھی کہ صوبہ سرحد میں مسلم لیگ کا کوئی وجود نہیں ہے مگر جب نہرو پشاور ریلوے سٹیشن پر پہنچے تو مسلم لیگ کے حامیوں نے ان کا سیاہ جھنڈیوں اور جوتیوں سے استقبال کیا۔ اس وقت کے وزیراعلیٰ ڈاکٹر خان صاحب پولیس کے حصار میں تھے۔ مشتعل عوام نے پتھراﺅ کیا تو ایک پتھر نہرو کی پیشانی پر جالگا اور قیام پاکستان سے قبل ہی عبدالغفار خان کی جماعت ”خدائی خدمت گار“ کی مقبولیت کا پول کھل گیا۔ پاکستان میں علیحدگی پسند زبان اور نسل کے نام پر آج بھی سازشوں میں مصروف ہیں لہٰذا برادرم ضیا شاہد نے حکومت کو آئینی تجویز پیش کی ہے ”موجودہ حکمرانوں کو غور کرنا چاہیئے کہ ذوالفقار علی بھٹو نے اس ٹولے (علیحدگی پسند) کے خلاف جو اقدامات ا±ٹھائے تھے کیا آج کی وفاقی حکومت پر یہ لازم نہیں ہے کہ وہ خان آف قلات ہوں، الطاف حسین ہوں، اچکزئی ہوں یا ولی خان کے صاحبزادے اسفند یار ولی ان کے خلاف سپریم کورٹ میں ریفرنس دائر کرے تاکہ پاکستان کی جغرافیائی سرحدوں کے خلاف بغاوت کے ان اعلانات کا نوٹس لیا جاسکے“۔[صفحہ 64]
پاکستان کی بدقسمت تاریخ میں اکثر آمر اور سول حکمرانوں نے اقتدار کی مصلحتوں کے تحت علیحدگی پسندوں سے سیاسی اتحاد کرکے ان کو مضبوط کیا چنانچہ وہ سیاسی اور معاشی طور پر مستحکم ہوتے رہے جبکہ عوام غربت کا شکار رہے اور علیحدگی پسند عناصر غریب اور جاہل عوام کو زبان اور نسل کے نام پر بیوقوف بناتے رہے۔ جب حکمران ہی سیاست اور اقتدار کی مصلحتوں کی خاطر علیحدگی پسندوں کے سرپرست اور سہولت کار بننے لگیں تو قومی سلامتی اور یک جہتی کو خطرات کیوں لاحق نہیں ہوں گے۔
پاکستان کی آزادی کے لیے لاکھوں خاندانوں نے جان اور مال کی قربانی دے کر بھارت اور پاکستان کے درمیان آزادی کی خونیں لکیر کھینچی تھی جسے آج بعض لیڈرکچی پنسل سے کھینچی لکیر کہتے ہیں۔ افسوس کا مقام ہے محب الوطن لیڈر شہید ہوتے رہے اور پاکستان کے مخالفین کو اعزازات، مراعات اور مناصب سے نوازا گیا۔ علیحدگی پسند طویل عرصے تک صوبائی خودمختاری کا کارڈ استعمال کرتے رہے۔
اٹھارہویں ترمیم کے بعد صوبائی خودمختاری کا مسئلہ حل ہوچکا ہے۔ افسوس آج پاکستان میں کوئی قومی اور وفاقی لیڈر نہیں ہے جو اٹھارہویں ترمیم کے بعد پاکستان کے مقدمے کی ڈٹ کر وکالت کرسکے اور عوام کو باور کرائے کہ ان کے اصل دشمن علیحدگی پسند لیڈر ہیں جو صوبائی مالیاتی وسائل خوردبرد کرلیتے ہیں اور ان کی کرپشن اور اقربا پروری کی وجہ سے عوام اپنے بنیادی حقوق سے محروم ہیں۔ پاکستان میں چوں کہ ترقی غیر مساوی ہورہی ہے۔کچھ شہروں پرغیر معمولی وسائل خرچ کیے جارہے ہیں۔ اس نظر آنے والے فرق اور امتیاز سے صوبوں کے درمیان نفرتیں بڑھیں گی اور دوریاں پیدا ہوں گی جس سے علیحدگی پسند اور ان کے بیرونی سرپرست فائدہ ا±ٹھانے کی کوشش کریں گے۔ علیحدگی پسند معاشی محرومیوں اور امیر و غریب کے درمیان بڑھتے ہوئے فرق اور خلیج سے فائدہ ا±ٹھاسکتے ہیں لہٰذا لازم ہے کہ سیاسی خاندانوں کی بجائے براہ راست عوام پر سرمایہ کاری کی جائے۔
منتخب ضلعی حکومتوں کو آئین کے مطابق سیاسی انتظامی مالیاتی اختیارات دئیے جائیں اور ہر یونین کونسل کو ترقی و خوشحالی کا بنیادی یونٹ قرار دیا جائے۔ عوام اپنی ترجیحات اور اخراجات کا فیصلہ خود کریں۔ علیحدگی پسندوں کی بلیک میلنگ سے بچنے اور ان کے ہاتھ سے معاشی محرومی اور نا انصافی کا کارڈ چھین لینے کا یہی بہترین قابل عمل آئینی طریقہ ہے۔ برادرم ضیا شاہد نے اپنی کتاب میں انتظامی بنیادوں پر زیادہ صوبے بنانے کی تجویز پیش کی ہے جس پر عمل کرنے سے علیحدگی پسندوں اور ان کے بیرونی آقاﺅں کی زبان اور نسل کے نام پر پاکستان کے خلاف سازشیں دم توڑ جائیں گی۔صوبوں کی تعداد میں اضافے کے بارے میں قومی اتفاق رائے پایا جاتا ہے۔ کئی صوبوں کی اسمبلیاں اس سلسلے میں قراردادیں بھی منظور کرچکی ہیں مگر افسوس منتخب حکمران علیحدگی پسند خاندانوں سے مسلسل بلیک میل ہورہے ہیں۔ پاکستان سے محبت کرنے والے برادرم ضیا شاہد کی شاہکار کتاب کا مطالعہ کریں۔
(بشکریہ: نوائے وقت)
٭….٭….٭

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں


دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved