حکمران، عوام اور گرانفروشی

اقبال گیلانی….اظہار خیال
ناجائز منافع خوری اور گراں فروشی بڑی ظلمتیں ہیں جو نظروں سے تو اوجھل ہیں مگر ان کی نمو سے شکستہ حالیاں اور غربت سے جنم لینے والے جرائم پیدا ہوتے ہیں جس معاشرے میں منافع خوری کے رواجات عمومی ہوں اور گراں فروشوں پر کوئی قدغن نہ ہو وہاں زوال و انحطاط کی صورت میں سب کچھ منہدم ہونے کا امکان لاحق ہوتا ہے۔ عالمی طور پر ملکوں کی تجارت اور عوام کے لئے غذا اور اشیاءسے متعلق ادراک سے تقابل کریں تو مختلف ممالک کی متعدد خوبیوں کا پتہ چلتا ہے اور یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ وہ عوام کو گرانی اور نرخوں کی روانی سے کیسے محفوظ کئے ہوئے ہیں جبکہ اس کے برعکس کچھ ممالک ایسے ہیں جہاں گرانی کے اسباب کو خوامخواہ کے محرکات میں رکھا جارہا ہے۔
پاکستانی معاشرہ پاک معاشرہ ہونا چاہئے کہ اس کی بنیاد اور اس کے قیام میں معاشرتی و معاشی آلودگیوں سے مبرا نظریئے کو اہمیت دی گئی ہے۔ قائداعظم محمد علی جناح ؒ کے بعد سب کچھ سمٹ کر رہ گیا اور مہنگائی کے کربناک سائے نے آزاد ہونے والوں کو بے نوائی میں جکڑے رکھا۔ سیاستدان ”حاکم“ بننے کی چاہ میں عوام سے دور رہے اور اس قدر دور رہے کہ آج عوام اور ان کے مابین فاصلے کو بغور دیکھا جاسکتا ہے۔ ہر حکمران نے عوام کو زبوں حال کیا اور گرانی کی وسعت میں قطعی سکوت اختیار کئے رکھا۔ چین‘ جاپان‘ اٹلی‘ فرانس کی مثال ہمارے سامنے ہے۔ ان ممالک میں قواعد و ضوابط سے پوری معاشرتی زیست منضبط ہے اور نرخوں کا بے لگام ہونا اور گراں فروشی کا تصور جرم مقصود ہوتا ہے مگر ہمارے ہاں گراں فروش اتنے طاقتور ہیں کہ صبح کچھ اور شام کچھ نرخنامے اپنائے ہوئے ہیں بلکہ بے لگام دکانداری سے نرخوں کے رواجات کی نفی کئے ہوئے ہیں اور وہ اسے ہی نرخ مانے ہوئے ہیں جو منافع در منافع سے مقدور منافع کی جہتیں لئے ہوئے ہے۔
اب ہمارے ہاں میئروں کا دور ہے۔ شہری سطح پر میئر باز پرس نہیں کرتے کہ وہ عوامی میئر ہونے کے بجائے وزیراعلیٰ کے صوابدیدی رویوں میں پیوست ہوتے ہیں۔ یورپ میں میئرز ہر طرح سے شہریوں کے ہی خواہاں ہوکر انہیں نرخوں کی عجلت سے محفوظ کئے ہوئے ہیں۔ یہاں کچھ بھی ادراک نہیں اور ظلمت کے رواجات نمایاں ہیں۔ پچھلے دنوں بلکہ رمضان المبارک کے مقدس ایام میں فروٹ اس قدر مہنگے کردیئے گئے کہ دولتمند بھی متعجب ہوئے کہ سو روپے کلو والی شے پانچ سو روپے کلو کیونکر ہوگئی۔ دولتمندوں کو کوئی نہیں روک سکتا کہ وہ گرانی اور انتہائی قیمتوں کی پروا کئے بغیر سب کچھ خرید سکتے ہیں۔ اگر وہ اس بارے میں تدبر کرتے ہیں اور مہنگے داموں کو غلط گردانتے ہیں تو پھر بھلا ہو ایسے دولتمندوں کا کہ جو گرانی کی جبریت میں غربت ماروںکا ساتھ دیتے ہیں۔ حکومتی ادارے ناکام ہیں یا ان کی خودساختہ ناکامی کے موجب منافع خور مافیا سے چشم پوشی کرلی گئی ہے اور اس مافیا نے حالیہ طور پر پھلوں کی صورت میں اس طرح کی گرانی کو ہوا دیدی ہے جو غریب افراد کے لئے دشوار زندگی کا پیغام ہے۔ ویسے بھی حالات و واقعات گواہ ہیں کہ منافع خور مافیا پر دسترس حاصل نہیں کی گئی اور یہی سبب ہے کہ بتدریج مہنگائی بڑھی اور ہر روز نرخ متجاوز ہوئے مگر اس بار عوام بے تاب ہو کہ بول اٹھے کہ کوئی بھی مافیا ان کے لئے قابل قبول نہیں ہے۔ عوام کو لوٹنے والے ”مافیوں“ کی تعداد عددی لحاظ سے چار سے پانچ تک ہے مگر منافع خور مافیا مذکورہ مافیوں سے منفرد و بالا ہے کہ اس نے مہنگائی کی ظلمت کو چاروں سمت وسعت دیدی ہے اور پھلوں کے بلند نرخوں کی صورت صارفین کو لوٹنے کی ٹھان لی ہے مگر اللہ بھلا کرے شہریوں کا کہ انہوں نے دانائی اختیار کی اور پھلوں کی آمرانہ قیمتوں کے خلاف متحد ہوگئے۔
اگرچہ پھل نہ خریدنے کے لئے تین دنوں پر محیط ٹریلر کا اجرا کیا گیا مگر تقضائے تدارک ظلمت یہ تھا کہ تین دنوں سے زیادہ کا انعقاد کیا جانا قطعی کامیابی کا محور ہوتا۔ بعض شہریوں نے پھل خریدے اور بعض نے ایمانداری سے مذکورہ ظلمت کے خلاف جہاد کیا۔ اس موجب تیس سے پچاس روپے تک نرخ بھی گرے مگر اس نوعیت کے نرخوں سے اجتناب کیا گیا جو دین اور دنیا دونوں میں سرخرو ہونے کے لئے ضروری تھی۔ پرائس کنٹرول کمیٹیوں اور ان کے سربراہوں نے ان نرخوں کا نفوذ و احیا نہیں کیا جو ہر صورت ہونے چاہئیں تھے۔ کہتے ہیں کہ ٹیرف اتھارٹیز اور بے رحم تجار کی ملی بھگت سے بہت کچھ ہورہا ہے اور آئندہ بھی ہوتا رہے گا مگر اک امید سی ہے کہ عوام اگر اچھائیوں کی جستجو کے لئے کھڑے ہوگئے تو ناجائز منافع خور مافیا سمیت سبھی بے رحم گروہ دم توڑ جائیں گے اور پاکستان میں عوام کو اعتماد میں لئے بغیر ایک روپیہ بڑھانے کی بھی جسارت نہیں ہوگی۔ اس بارے عوام کے محرک بننے سے پہلے سیاستدانوں کو بھی ادراک کر لینا چاہئے کہ پھلوں کے خلاف بائیکاٹ میں کچھ کچھ انقلابی صورتیں ہویدا ہیں اور یہ بھی عیاں ہے کہ رعایا اور ہجوم جیسے الفاظ اب عوام کے لئے نہیں ہیں کہ عوام نے عوام ہونے کی ٹھان لی ہے۔ رمضان المبارک اور عید سے پہلے گرانی کے طوفان کھڑے کردینا شیوہ ¿ مسلمانی نہیں ہے۔ اغیار ان دنوں قیمتیں کم کر دیتے ہیں اور اپنے تہواروں پر اصل قیمت کو نصف سطح پر لے آتے ہیں مگر ہم مال و زر بنانے میں مقدس دنوں میں قیمتوں کو مزید گراں کریں تو یہ ابلیسی امور کی سمت جانے کا شاخسانہ ہے اور حقیقی زیست سے منحرف ہونے کے مترادف امر ہے۔ اس بارے حکمرانوں کو سوچنا ہوگا اورعوام کو جاگنا ہوگا کہ لوٹنے والے لٹیروں کے خلاف کیسے نبرد آزما ہونا ہے اور کس طرح عوام کو عوام ہوکر عوامی جذبوں کی قدر کرانی ہے اور فروٹ مافیا کو بھی سمجھ آجانی چاہئے کہ مہنگے داموں تقدیس تجارت نہیں کی جاسکتی اور رمضان و روزے میں فروٹ کی انتہائی گرانی انگشت نمائی کا باعث ہے۔ روزہ داروں کو بھی سوچنا چاہئے کہ روزہ بھوک‘ پیاس کے لئے رکھا جاتا ہے اور بھوک پیاس کی سختیوں کو برداشت کرنے کا نام روزہ ہے۔ زیادہ کھانا اور پھل فروٹ سے اپنے شکم کو لبریز کرنا مذکورہ سختیوں اور سختیوں کی علامتوں کی نفی ہے۔ کم کھانا اور بے کسوں کو کھلانا روزے کی بنیاد ہے اور لبالب کھانے کے بجائے روزہ نیت سے وابستہ ہے اور روزہ داروں کو گراں قیمتوں پر لوٹنا انتہائی قبیح فعل ہے اور اس فعل والوں کے خلاف کسی نہ کسی سمت سے تادیبی کارروائی ضروری ہے۔ یہ عوام کریں یا حکمران دونوں کی نیکی تاریخ میں مندرج ہوگی۔ انسان کا قبیل انسانیت ہے۔ اسی قبیل سے معاشرے رنگ و روپ اور قدر و منزلت پاتے ہیں۔ انسان کی خوبی یہ ہے کہ وہ تمدن کے احیاءسے انبساط کی سخنوریاں بکھیرتا ہے۔ آج یہ پہلو کہاں ہے اور ڈھونڈنے والے ڈھونڈنا چاہتے ہیں کہ مہذب تصویریں کیونکر دھندلی ہیں اور مادیت کا عفریت کیوں پھیلنے لگا ہے۔ یہ مادہ پرستی ہی ہے کہ اخلاقیات و مہذب افعال گم ہیں اور ظلمت کی متعدد صورتیں ہویدا ہیں۔ ان صورتوں میں ایک صورت مادہ پرستی کی ہے اور یہی صورت انسان کو قبیل انسانیت سے دور کر دیتی ہے اور اس قبیل میں لے جاتی ہے جہاں ابلیسی عوامل کا کچھ ادراک نہیں رہتا اور لوٹ مار کے عوامل عمومی ہونے لگتے ہیں۔ حضرت امام غزالی ؓ اور مولانا جلال الدین رومی ؒ کا مطالعہ کریں تو پتہ چلتا ہے کہ دوسروں کو خوشی دینے میں سب کچھ لٹ بھی جائے تو کم ہے اور دوسروں کو طمانیت دے کر سکون قلب حاصل ہوجائے تو وہ مال و متاع سے بلند تر ہے۔ پیٹ اور جیب بھرنے کے لئے گرانی کرنا اور ظالمانہ نرخوں کا اجرا کرنا اعمال مذموم ہیں اور اعمال محمودیہ ہیں کہ قلیل اور جائز منافع میں دوسروں کو خوشی دی جائے اور اس معاشرت کو رواج دیا جائے جس میں فرد کی خوشیاں اور معاشی اقدار دونوں نمو پاتے ہیں۔
(عوامی ، سماجی امور پر لکھتے ہیں)
٭….٭….٭

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں


دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved