تازہ تر ین

سرائیکی صوبہ،پیپلزپارٹی اور ن لیگ کا ڈرامہ

نادر مظہر کھوکھر….بحث ونظر
آپ کے اخبار میں تو خبر نہیں آئی البتہ دنیا نیوزمیں آئی ہے کہ ملتان میں سب سول سیکرٹریٹ کا منصوبہ ختم کر دیا گیا ہے۔ اس پر ہم نوجوانوں کو بہت مایوسی ہوئی ہے۔ کہا جا رہا تھا کہ سب سول سیکرٹریٹ بنے گا تو افسران کے ساتھ کلیریکل سٹاف اور درجہ چہارم کے ملازمین اس علاقے سے لئے جائیں گے مگر اس خبر کے بعد بہت زیادہ مایوسی ہوئی ہے ۔ ہمارے علاقے میں ایک ایشو جمشید دستی کا چل رہا ہے ۔ وسیب کے جاگیردار سیاستدانوں کو چھوڑ کر غریب سیاستدانوں کو ” خبریں“ اخبار نے اوپر اٹھایا تھا ، مختاراں مائی کے ایشو کو بھی ” خبریں“ اخبار نے پوری دنیا تک پہنچایا تھا ۔ جمشید دستی کے ساتھ ظلم ہو رہا ہے۔ ان کو رہا نہیں کیا جا رہا ۔ سننے میں آیا ہے کہ ان پر بہت تشدد ہو رہا ہے ۔ اس کی ضعیف والدہ نے اخباروں میں بیان دیا ہے کہ میرے بیٹے کی جان کو بھی خطرہ ہے ۔ ہم کہتے ہیں کہ ہم نوجوانوں کے وہ پسندیدہ لیڈر ہیں ، ان سے امید ہے کہ وہ ہمارے خطے کو حقوق دلوائیں گے اور ہمیں نوکریاں ملیں گی ۔ ان کو فوری رہا کیا جانا چاہئے ۔
”خبریں“ کے قارئین کی نظر سوشل میڈیا سے میں ایک پوسٹ شیئر کر رہا ہوں جو کہ سرائیکی جماعتوں کی طرف سے بطور احتجاج شائع کی گئی ہے ۔سرائیکی رہنماو¿ں نے شدید احتجاج کرتے ہوئے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی نے سرائیکی صوبے کے مسئلے پر لولی پاپ دیا اور ن لیگ نے ڈبل ڈرامہ کر دیا کہ اس نے خود دو صوبوں کی قرارداد پنجاب اسمبلی سے منظور کرائی ۔ صوبہ کمیشن بنانے کے نعرے پر الیکشن جیتا اور واضح طور پر کہا کہ پیپلز پارٹی نے لولی پاپ دیا تھا ، ہم صوبہ بنا کر دکھائیں گے مگر کامیابی کے بعد ن لیگ نے بھی لولی پاپ دینا شروع کر دیئے اور پھر سب سول سیکرٹریٹ کیلئے ملک رفیق رجوانہ کی صدارت میں 67 رکنی کمیٹی بنا دی اور اعلان کیا کہ صوبے کے قیام کیلئے پہلے قدم کے طور پر سب سول سیکرٹریٹ بنانے جا رہے ہیں ۔ کئی سالوں کے دوران چودہ سب کمیٹیاں تشکیل دی گئیں ، 38 اجلاس ہوئے ، آخر کار نتیجہ یہ نکلا ہے کہ وزیراعلیٰ نے سب سول سیکرٹریٹ کی سمری مسترد کر دی ہے ۔ یہ فیصلہ حکومت کے اپنے اعلانات اور اقدامات کے برعکس ہے ۔ حکومت اگر ہماری بات نہیں مان رہی تو کم از کم اسے اپنی بات کا تو بھرم رکھنا چاہئے ۔
سرائیکی وسیب کے ساتھ بد ترین مذاق ہو رہا ہے ‘ سرائیکی وسیب کو مفتوحہ علاقہ جان کر محض بے گار کیمپ کی حیثیت دے دی گئی ہے اور سرائیکی وسیب سے منتخب ہونے والے جاگیردار سیاستدان تو ہمیشہ سے بد تر ہی تھے مگر وسیب سے جو آباد کار و مہاجر سیاستدان اسمبلی میں پہنچے ہیں وہ ان سے بھی ازاں بد تر ثابت ہوئے ہیں ۔ ان کے بھی دل تخت لاہور کے ساتھ دھڑکتے ہیں ۔ یہ کمیٹی گورنر پنجاب ملک رفیق رجوانہ جو اس وقت سینیٹر تھے کی سربراہی میں بنی تھی اور وسیب کے بہت سے ارکان اسمبلی اس کے ممبر تھے ‘ ان لوگوں کو اپنے عہدوں اور اپنی اسمبلی رکنیت سے استعفیٰ دے دینا چاہئے ۔ ہمارا مطالبہ سول سیکرٹریٹ کا نہیں بلکہ صوبے کا ہے ۔ لیکن ہمیں معلوم تھا کہ سول سیکرٹریٹ کا نعرے کی اہمیت بھی لولی پاپ سے زیادہ نہیں لیکن کمیٹی کے سربراہ ملک رفیق رجوانہ اور کمیٹی کے دوسرے ارکان نے جب یقین سے کہا کہ یہ صوبے کے لئے ابتدائی قدم ہے تو ہم بادل نخواستہ خاموش رہے کہ سرائیکی تحریک پر یہ الزام نہ آئے کہ یہ کوئی کام نہیں ہونے دیتے ۔
اب ہم کمیٹی کے ارکان کے ساتھ ساتھ اپنے وسیب کے لوگوں کو بھی باور کراتے ہیں کہ وہ اپنے صوبے اور اپنے حقوق کے لئے خوابِ غفلت سے بیدار ہوں ، خیرات کے طور پر کبھی بھی حق نہیں ملے گا ، حقوق ہمیشہ چھیننے سے ملتے ہیں ۔ رنجیت سنگھ نے 1818ءکو صوبہ ملتان پر قبضہ کیا تھا ، 200 سال کا عرصہ بیت رہا ہے ‘ اگر وسیب کے لوگ اب بھی خوابِ غفلت سے بیدار نہ ہوئے تو ایک صفر کا اضافہ ہو کر غلامی کا عرصہ 2000 سال تک ہو سکتا ہے اور اس دوران سرائیکی قوم کا ذکر صرف کتابوں میں ملے گا ۔
(نوجوان قلم کار سرائیکی امور پر لکھتے ہیں)
٭….٭….٭

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved