پانامہ کیس ، ایک رخ یہ بھی ہے

اسرار ایوب….قوسِ قزح
جے آئی ٹی ارکان کہتے ہیں کہ ہمارے سوشل میڈیا اکاﺅنٹس ہیک کر دیے گئے ہیں،گھروں کے باہر خفیہ اہلکار پھر رہے ہیں، اہلِ خانہ کو دھمکیاں دی جا رہی ہیں، چودھری شوگر ملز اور شریف خاندان کے خلاف انکوائریوں کا ریکارڈ طلب کیا تو بتایا گیا کہ کوئی انکوائری نہیں ہو رہی، ریکارڈ کی تاریخیں تبدیل کی جا رہی ہیں،لوگ وزیر اعظم ہاﺅس سے ہدایت لے کر بیان ریکارڈ کروا رہے ہیں، وغیرہ وغیرہ۔ قصہ مختصریہ کہ سپریم کورٹ میں داخل کروائی گئی جے آئی ٹی کی درخواست کا لبِ لباب یہ ہے کہ حکمران سرکاری حیثیت کے بل بوتے پر انصاف کے راستے میں طرح طرح کی رکاوٹیں کھڑی کر رہے ہیں،اگر ایسا ہے تو ظاہر ہے کہ یہ ایک انتہائی سنگین جرم ہے اور اس سے عمران خان کی کہی یہ بات بھی حرف بہ حرف سچ ثابت ہوتی دکھائی دے رہی ہے کہ میاں صاحب کے وزیر اعظم ہوتے ہوئے یہ ممکن ہی نہیں کہ ان کے خلاف جے آئی ٹی کی تحقیقات درست طریقے سے ہو سکیں، وہ بھی ان حالات میں کہ جب سپریم کورٹ پہلے ہی نیب اور دیگر سرکاری اداروں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان لگا چکی ہے؟
جے آئی ٹی کی درخواست پر کارروائی باقی ہے لیکن کون نہیں جانتا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب، وزیرقانون پنجاب اور وزیر اعظم کے ”بے قاعدہ“ترجمان طلال چودھری اور دانیال عزیز جے آئی ٹی کے خلاف کیسی زبان استعمال کر چکے ہیں، یہی نہیں بلکہ نہال ہاشمی تو جے آئی ٹی ممبران اور ان کے بچوں پر پاکستان کی زمین تنگ کرنے کا ”اعلان شریف“بھی فرما چکے ہیں۔ سیدھی سی بات ہے کہ حکمران اور ان کے حواری جے آئی ٹی کے خلاف ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت سرگرمِ عمل ہیں ورنہ یکے بعد دیگرے ایسے واقعات کیوں رونما ہوتے جنہیں جھٹلانے کے لئے وزیر اعظم کے ” باقاعدہ “ترجمان ڈاکٹر مصدق کے پاس جب کوئی دلیل باقی نہ بچی تو انہوں نے اس گھسے پٹے ڈائیلاگ سے کام چلانے کی کوشش کی کہ پاکستان کوئی” بنانا ری پبلک “ ہے جو یہاں وزیر اعظم کے ساتھ ایسا کیا جا رہا ہے؟ موصوف کی اطلاع کے لئے عرض ہے کہ ”بنانا ری پبلک“کی اصطلاح پہلے پہل کیریبین اور جنوبی امریکہ کے ایسے ممالک کے لئے استعمال کی گئی جہاں فروٹ بنانے والی کمپنیوں نے محض کیلے بیچ بیچ کر اتنا پیسہ بنا لیااور اتنی طاقت حاصل کر لی کہ حکومتیں بنانے اور گرانے لگ گئیں تاکہ ان کی تجارت کو کسی قسم کا کوئی نقصان نہ پہنچ سکے۔جن علاقوں سے کیلا لے جایا جاتا تھا وہاں بھی جمہوری سوچ کو پروان چڑھنے سے روکنے کے لیے کرپٹ اور بکاﺅ سیاستدان پیدا کیے گئے جو اپنے ذاتی مفاد کو قومی مفادکا نام دے کر ملک کی آبرو نیلام کرتے تھے ،فروٹ کمپنیوں نے جہاں کا کیلا فروخت کر کر کے پورے پورے ملکوں جتنی دولت و قوت اکٹھی کر لی وہاں کے لوگ اپنے بے غیرت حکمرانوں کے باعث غربت کی چکی میں اس طرح پِستے رہے کہ زندگی موت سے بدتر ہو گئی۔ان فروٹ کمپنیوں نے (اور تو اور) مفرور ڈاکوﺅں اور لٹیروں کو اپنی پناہ میں لینا شروع کر دیا تاکہ ٹیڑھی انگلیوں کے ذریعے وہ گھی بھی نکالا جا سکے جو سیدھی انگلیوں سے نہیں نکلتا تھا۔
اس کے بعد ”بنانا ری پبلک“ کی اصطلاح ایسے تمام ممالک کے لیے استعمال کی جانے لگی جہاں قومی وسائل کو غیر قومیں لوٹ کر لے جائیں اور قوم کو صدائے احتجاج بلند کرنے کی اجازت بھی نہ ہو، قومی تجارت سے فائدہ حکمرانوں کو ہواور نقصان عوام کو ،حکمرانوں کے کتے اور گھوڑے پھلوں کے مربے کھائیں اور عوام کے بچوں کو روکھی سوکھی روٹی بھی میسر نہ ہو،ایک طبقہ کچھ نہ کر کے بھی عیش و آرام کی زندگی بسر کرے اور دوسرا خون پسینہ ایک کر کے بھی دکھ و تکلیف کی چکی میں پِستا رہے،احتساب نام کی کوئی چیز اگر ہو تو وہ عوام کے لیے ہوجبکہ حکمران قانون سے بالاتر ہوں،قومی اسمبلی میں بیٹھنے والے بکاﺅ ہوں اور انکی حیثیت ربڑ کی مہر جیسی ہو،اہم ملکی امور کے فیصلے دوسرے ممالک میں ہوا کریں البتہ انکی توثیق(ربڑ سٹمپ)کے ذریعے ملک میں ہی ہوتی ہو،ملکی معیشت غیر ملکوں اور غیر ملکی کمپنیوں کے ہاتھوں میں ہو اور اپنی آنے والی نسلیں بھی قرض کے بوجھ تلے دبی ہوں،پیسے والے لوگ بینکاری نظام کی دھجیاں اڑائیں،ارب پتی اربوں روپے کے قرض لے کر معاف کر وا لیا کریں اور انہیں پوچھنے والا کوئی نہ ہووغیرہ وغیرہ۔
گوئٹے مالا کودولت کی غیرمنصفانہ تقسیم اور ترقی کی غیرمساوی ترویج کے باعث ”بنانا ری پبلک“کہا گیا جہاں کسی کے پاس زمین ہے ہی نہیں اور کسی کے پاس بے حساب ہے۔ارجنٹینا کو منتخب حکومتوں پر فوجی آمریتوں کی جانب سے پے درپے شب خون مارنے کی بدولت ”بنانا ری پبلک“کے نام سے پکاراگیا۔اور مونٹےنگرو کے لیے یہ اصطلاح اس لیے استعمال کی گئی کہ یوگوسلاویہ کی شکست و ریخت کے بعد مسلسل بیس برس ایک ہی شخص Milo Djukanovic اس کا حکمران رہا جو منظم جرائم،تمباکو کی سمگلنگ اورمنی لانڈرنگ میں اپنا ثانی نہیں رکھتاتھا ، یہی نہیں بلکہ اٹلی کی انڈر ورلڈ کے ساتھ اس کے دیرینہ تعلقات بھی کسی سے پوشیدہ نہیں تھے ۔
آمدن برسرِ مطلب اس بات کا فیصلہ کرنا کچھ مشکل نہیں پاکستان ”بنانا ری پبلک “ہے یا نہیں ؟ باقی سب باتیں ایک طرف ،ہمیں بنانا ری پبلک ثابت کرنے کے لئے کیایہی ایک حقیقت کافی نہیں کہ ہمارے یہاں کا حکمران آصف زرداری ہو یا نواز شریف، قانون سے بالاتر ہوتا ہے چاہے اس نے کتنی ہی قانون شکنی، کرپشن اور منی لانڈرنگ کیوں نہ کی ہو؟
(معروف شاعر ، ڈزاسٹر مینجمنٹ کنسلٹنٹ
اور کئی کتابوں کے مصنف ہیں)
٭….٭….٭

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں


دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved