تیزاب گردی ،اذیت ناک تشدد


ملیحہ سید …….. زینہ
جب سے میں نے ریگولر بنیادوں پر معاشرتی مسائل اور مشکلات کے حوالے سے لکھنا شروع کیا ہے ایسا ایسا موضوع سامنے آیا ہے کہ روح کانپ اٹھی ہے کہ ہم کیا سے کیا ہوتے جا رہے ہیں۔دین سے دوری ہمیں ان اخلاقی پستوں کی جانب لے گئی ہے کہ ہم انسانیت ہی بھول بیٹھے ہیں۔ ہم یہ بھی بھول بیٹھے ہیں کہ خواتین وہ مبارک ہستیاں ہیں جن کی گود میں قومیں پلتی بڑھتی اور ارتقاءکی منازل طے کرتی ہیں۔ دنیا کی رونق عورت کے دم سے ہے زندگی کی ساری خوشیاں عورت کی ذات سے وابستہ ہیں۔ عورت کے ہزار روپ ہیں جن کی مثال ماں، بہن، بیٹی اور بیوی ہے۔ عورت قدرت کا تخلیقی شاہکار ہے شبنم کی ٹھنڈک، پنکھڑیوں کی نزاکت، گہری جھیل کے پانی کاصبر و سکون، موم کاپگھلنا، سیماب کی سبک لطافت،شہد کی مٹھاس، ممتا کی گرمی اور نامعلوم کتنے رنگین تصورات نازک احساسات اور اوصاف جمال کا مجموعہ یہ عورت ہے۔ سکندر اور پورس، نیپولین جن کا لوہا دنیا نے مانا ان کو عورت کی کوکھ نے جنم دیا۔ سقراط افلاطون اور ارسطوجن کی دانشمندی کے آج تک چرچے ہیں عورت کے بطن سے پیدا ہوئے تھے لیکن اس کے باوجود عورت سدا مظلوم رہی اور اسے ہر دور میں ذلیل سمجھا اور منحوس گردانا گیا۔
مردوں نے اپنی غلطیوں کی سزائیں بھی عورتیں کو دیں، ایک رپورٹ کے مطابق عورتوں کے مقابلے میں مرد بانجھ پن کا شکار زیادہ ہوتے ہیں مگر یہاں بھی شوہر کی عزت کی خاطر پستی اور قربانی دیتی ہے تو بنت حوا، اپنے جرموں کی سزا بھی عورت کی دی جا رہی ہے جبکہ عورت پر کئے جانے والے بد ترین تشدد میںتیزاب گردی سب سے زیادہ بڑا ظلم ہے ۔انسانی وجود کو بگاڑ دینا ، اللہ کی تخلیق کو یوں داغ دار کرنا ،اللہ سے دوری اور انسانیت کی تذلیل کے سوا کچھ نہیں۔
اس سے پہلے کہ میں اس مسئلے پر بات کروں ،ایک رپورٹ ملاحظہ کیجئے جس کے مطابق ملک بھر میں سال 2016کے دوران مجموعی طور پر 14ہزار 212 انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے واقعات رپورٹ ہوئے۔ پنجاب میں 7313،سندھ میں 2817، بلوچستان میں612،خیبرپختونخوا میں 3247 اور وفاق میں 223واقعات رونما ہوئے۔صرف پنجاب اور سندھ میں ریپ کے 3390، غیرت کے نام پر قتل کے 322، خواتین کے اغواءکے1680،تیزاب گردی اور جلانے کے 56، بچوں کے اغواءاور انکو جنسی طور پر حراساں کرنے کے 125 اور قتل کے 882واقعات رپورٹ ہوے۔ دستاویزات کے مطابق گزشتہ سال 2016میں پنجاب میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے 7ہزار 313 واقعات رپورٹ ہوئے،جن میں قتل کے 688،مارپیٹ کے 539واقعات شامل ہیں۔
دستاویزات کے مطابق 2016میں پنجاب میں غیرت کے نام پر 222افراد کو قتل کیا گیا جبکہ تیزاب گردی اور جلانے کے 49اور ونی کیے جانے کے 7 واقعات رونما ہوئے۔دستاویزات کے مطابق پنجاب میں 2938 ریپ کے،گینگ ریپ کے 222 واقعات رپورٹ ہوئے جبکہ دیگر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے 2423واقعات رونما ہوئے۔دستاویزات کے مطابق سندھ میں2016کے دوران غیرت کے نام پر 100، اغوا کے 369،خواتین کے اغوا کے 1680،قتل کے 194،مارپیٹ کے 59،زبردستی شادی کے 6،کم عمر میں شادی کے 2،تیزاب گردی اور جلانے کے 7،ریپ کے 165،گینگ ریپ کے 13،نوکری کے دوران دفاتر میں ہراساں کرنے کے 26،بچوں کے اغوا کے 94،بچوں سے زیادتی کے 53،بچوں کو جنسی ہراساں کرنے کے 31 واقعات رپورٹ ہوئے جبکہ سندھ میں مجموعی طور پر 2829واقعات رونما ہوئے،ملک بھر میں سال 2016 کے دوران مجموعی طور پر 14ہزار 212 انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے واقعات رپورٹ ہوئے۔پنجاب میں 313،سندھ میں 2817،بلوچستان میں 612، خیبرپختونخوا میں 3247 اور وفاق میں 223واقعات رونما ہوئے۔یہ تو مجموعی رپورٹ ہے جبکہ معاشرے کی اس کمزور صنف نازک پر ہونے والے تشدد میں سب سے زیادہ اذیت ناک تشدد تیزاب سے جلائے جانے کا ہے،’نیویارک ٹائمز‘ کی ایک رپورٹ کے مطابق، پاکستان میں ہر سال تیزاب سے جلانے کے واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ پاکستان کے انسانی حقوق کمیشن کے اعداد و شمار کے مطابق، 2004 میں 46، جبکہ2007 میں 33 واقعات پیش آئے۔ تحقیق کے مطابق، تیزاب گردی کے واقعات سنہ 2009ءمیں 43، سنہ 2010ءمیں 55 اور2011ءمیں سب سے زیادہ، یعنی 115 واقعات ہوئے۔ ایک تنظیم ’ایسڈ سروائیور فاونڈیشن‘ کے مطابق، 2014 میں لگ بھگ150 جبکہ 2015 میں 69رپورٹ کئے گئے ہیں جن میں اکثریت خواتین کی تھی۔پاکستان میں ہر سال تیزاب سے جلنے کے تقریباً 150 سے 400 واقعات ہوتے ہیں۔ پچھلے سال2016 میں 96 مقدمات درج ہوئے، جن کا ابھی تک فیصلہ نہیں ہوا۔تحقیق کے مطابق، خواتین کے ساتھ غیر انسانی سلوک کے محض ایک تہائی واقعات رجسٹرڈ ہوتے ہیں، جس کے ساتھ ساتھ اکثر مجرم کو سزا نہیں ملتی۔اف خدیا، میری آنکھیں تھک گئیں یہ تفصیل پڑھتے ہوئے ،آنسو و¿ں کی جھڑی لگ گئی ، میرے لفظ بھیگ رہے ہیں اور لیب ٹاپ پر ٹائپنگ کی رفتار کم ہوتی جا رہی ہے ، یہ میرے گرد کیا ہو رہا ہے اور کیوں ہو رہا ہے ؟میرے ملک اسلامی جمہوریہ پاکستان کی عورت اور بچوں کے لیے میرا معاشرہ اتنا حبس زدہ کیوں ہو گیا ہے کہ ان کے لیے آزاد فضاو¿ں میں سانس لینا جرم بن گیا ہے جبکہ جنسی خواہشات کی تسکین اور ضرورت اتنی توانا ہو گئی ہے کہ ہم احترام آدم ہی کھو بیٹھے ہیں۔عام طور پر تیزاب پھینکے کی وجوہات میں تعصب،عشق میں ناکامی،نسلی امیتاز اورمذہبی منافرت ہو سکتی ہے مگر تیزاب گردی کے متاثرین میںنوے فیصد خواتین شامل ہیں اور افسوسناک بات تو یہ ہے کہ جرم ہونے کے باوجود جرم کے مرتکب افراد کو سزا کا نہ ملنا ہے، جس کی بنیا دی وجہ پولیس کی ناقص تحقیقات ،نا مناسب ثبوت اور گواہ کا عدم تحفظ کا شکار ہونا ہے ۔دوسری جانب پارلیمنٹ کا کام قانون بنانا اور کسی بھی جرم کے لئے سزا مقرر کرنا ہے۔لیکن پیش رفت کا حصول طریقہ کار پر منحصر ہے کہ پولیس کس طرح ان کی چھان بین کرتی ہے۔ مگر بدقسمتی سے پاکستان میں تفتیش کا جو طریقہ ہے وہ صحیح نہیں۔ پاکستان میں عدالتوں پر بہت بوجھ ہے مگر اسکے بوجود بھی جب کیس عدالت میں پیش کیا جاتا ہے تو ان کا فیصلہ شہادتوں کی بنیاد پر ہوتا ہے۔
انسان اللہ کی بہت ہی خوب صورت مخلوق ہے مگر انسانوں کے بدصورت رویوں نے نہ صرف انسان بلکہ اس دنیا کو معصوم لوگوں کے لیے زندہ جہنم بنا دیا ہے ۔پاکستانی معاشرے جہاں تعلیم کی کمی اور شعور کا فقدان ہے وہاں ایسے انسانیت سوز واقعات کا ہونا بظاہر تو کوئی بڑی بات نہیں تاہم ہم جس مذہب کے پیروکار ہیں اس کے نکتہ ہائے نظر سے یہ انتہائی افسوس کا مقام ہے ۔ حکومت اور تمام مذہبی اداروں اور علماءکرام ، تعلیمی اداروں اور ہر شعبہ زندگی میں آگاہی دینے کی ضرورت ہے تا کہ ان انسانیت سوز واقعات کو ختم کیا جا سکے اور سب سے پہلے تو کھلے بندوں تیزاب کی فروخت کو نا قابل ضمانت جرم قرار دیا جائے تاکہ یہ جنونی افراد کی پہنچ سے دور ہو سکے۔
(کالم نگار عوامی مسائل پر لکھتی ہیں)
٭….٭….٭

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں


دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved