حکمرانوں نے تعاون نہ کی تو کیا ہوگا؟, اپوزیشن لیڈر نے خبردار کردیا


لاہور، کراچی، اسلام آباد (نمائندگان خبریں) قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ نے کہا ہے کہ پانامہ کا من پسند فیصلہ حاصل کرنے کیلئے جے آئی ٹی کے ارکان کو ڈرایا دھمکایا جارہا ہے اور ان کو متنازعہ بنانے کی کوشش کی گئی ، حکومت شفاف تحقیقات کیلئے تعاون کی پالیسی اپنائے ورنہ ہٹ دھرمی کا خمیازہ پوری قوم کو بھگتنا پڑے گا ۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار ہفتے کو یہاں میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو میں کیا ۔سید خورشید شاہ نے کہا کہ عدالت عظمیٰ کے دو ججوں نے پانامہ کیس کے دستیاب معلومات کا جائزہ لینے پر نواز شریف کو نااہل کرنے کا واضح موقف اپنایا لیکن دیگر تین ججوں کے مشورے سے مکمل حقائق تک پہنچنے کلئے جے آئی ٹی بنائی گئی جس پر نواز لیگ نے خوشیاں منائی کہ عدالت عظمیٰ نے وزیراعظم کو نااہل نہیں کیا لیکن افسوس کی بات ہے کہ آج اقتدار بچانے کیلئے اس جے آئی ٹی کے ارکان کو ڈرا دھمکا کر اسے حقائق سے بچنے اور اس کیس کا من پسند فیصلہ چاہتے ہیں اپوزیشن لیڈر نے کہا کہ اداروں کو ڈرا دھمکا کر من مانے فیصلے حاصل کرنا نواز لیگ کی تاریخ ہے لیکن آج پاکستان اس غلط پالیسی کا متحمل نہیں ہوسکتا لہذا حکومت کو چاہیے کہ پانامہ کے حقائق تک پہنچنے کی غرض سے عدالت عظمیٰ کی ثبوت کیلئے بنائی جانے والی جے آئی ٹی کو آزادانہ کام کرنے دینے سمیت اس کے ساتھ مکمل تعاون کیا جائے تاکہ انصاف کا بول بالا وہ اگر روایتی پالیسی اپنائی گئی تو اس کا نقصان پورے ملک کو اٹھانا پڑے گا۔ پاکستان پیپلزپارٹی پارلیمنٹرین کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات مولا بخش چانڈیو نے کہا ہے کہ پاناما اسکینڈل پر مختلف ممالک کے حکمرانوں نے استعفیٰ دیئے ہیں لیکن میاں صاحبان جے آئی ٹی میں پیش ہونے پر بھی رو رہے ہیں ۔چھوٹے میاں صاحب کو رونے کی بجائے حقیقت تسلیم کریںاور دوسروں پر الزامات لگانے کی بجائے خود کو احتساب کے لیے قوم کے سامنے پیش کریں ۔ وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف کی جے آئی ٹی میں پیشی کے بعد میڈیا سے بات چیت پر ردعمل دیتے ہوئے مولا بخش چانڈیو نے کہا کہ شہباز شریف کو جے آئی ٹی سے باہر نکل کر میڈیا کو یہ بتانا چاہیے تھا کہ ان سے کیا سوالات پوچھے گئے ہیں ۔چھوٹے میاں صاحب نے جے آئی ٹی کو جو جوابات دیئے وہ بھی میڈیا کو بتانے چاہیے تھے ۔انہوںنے کہا کہ شہید ذوالفقار علی بھٹو نے پورے ملک کے کارخانوں کو ایک پالیسی کے تحت نیشنلائز کیا تھا ۔اس زمانے کی بات کو سیاسی انتقام یا احتساب کہنا قوم سے غلط بیانی ہے ۔میاں صاحبان قوم سے غلط بیانی کرنا بند کریں ۔پوری قوم اب ان سے اچھی طرح واقف ہوچکی ہے ۔بھٹو صاحب کے زمانے میں تو ان کا نا م و نشان بھی نہیں تھا ۔شہید ذوالفقار علی بھٹو کے بعد میاں صاحبان کے سیاسی پیر و مرشد ضیاءالحق نے ان کو سارے کارخانے سود سمیت واپس کردیئے تھے ۔انہوںنے کہا کہ پاناما اسکینڈل پر مختلف ممالک کے حکمرانوں نے استعفیٰ دیئے ہیں لیکن میاں صاحباب جے آئی ٹی میں پیش ہونے پر بھی رو رہے ہیں ۔چھوٹے میاں صاحب کو رونے کی بجائے حقیقت تسلیم کریںاور دوسروں پر الزامات لگانے کی بجائے خود کو احتساب کے لیے قوم کے سامنے پیش کریں ۔مولا بخش چانڈیو نے کہا کہ میاں صاحبان نے شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کے ملک کی تمام عدالتوں کے چکر لگوائے ۔آصف علی زراری کو طویل قید میں رکھ کر شریف برادران خوش ہورہے تھے ۔انہوںنے کہ کہ مشرف کے دور میں بھی ان کو اپنی خواہش پر ملک سے باہر بھیجا گیا تھا اور یہ لوگ جہازوں میں پیٹیاں بھر بھر کر باہر لے گئے تھے ۔

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں


دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved