تازہ تر ین

سندھ میں اختیارات کی تقسیم

مختار عاقل …. دوٹوک
ایم کیو ایم کے بانی کی 22اگست 2016ءوالی متنازع تقریر سے قبل تک کراچی اور حیدرآباد کے عوام کا بھاری مینڈیٹ پارٹی کی میراث تھا لیکن اب صورتحال یہ ہے کہ ان دونوں شہروں میں ایم کیو ایم کی دھڑے بندی سے پیدا ہونے والے چار گروپوں نے اپنی اپنی جگہ بنالی ہے۔ مہاجر قومی موومنٹ کے چیئرمین آفاق احمد صحافیوں کے ساتھ افطار میں اس بات پر دلگرفتہ تھے کہ 2018ءکے انتخابات میں ”مہاجر گروپ“ آپس میں ٹکرائیں گے جس کا فائدہ دوسرے لسانی گروہ اٹھائیں گے اور”مہاجر امیدوار“ ایک دوسرے کےخلاف صف آرا ہوں گے۔ ایم کیو ایم کے بطن سے ہی پھوٹنے والی نئی جماعت پاک سر زمین پارٹی نے اس ممکنہ انتخابی سیاسی نقشہ کو سامنے رکھتے ہوئے لفظ ”مہاجر“ کو متروک کردیا ہے۔ حیدرآباد کے سابق رکن سندھ اسمبلی نواب راشد علی خان نے حال ہی میں پی ایس پی میں شمولیت اختیار کی ہے ان کے والد مرحوم نواب مظفر حسین خان نے سندھ میں سب سے پہلے ”مہاجر‘پنجابی‘ پٹھان متحدہ محاذ“ کے نام سے پارٹی تشکیل دی جس کا ایک نوجوان ونگ ”مہاجرپنجابی پٹھان طلبہ محاذ“ بھی ان ہی کے ذہن رسا کی تخلیق تھی۔ نواب مظفر حسین خان نے حیدرآباد سے 1970ءکے عام انتخابات میں حصہ لیا اور رکن سندھ اسمبلی منتخب ہوئے تھے۔
1972ءمیں لسانی فسادات ہوئے جس میں سندھ اور مہاجر کے نام پر خوب خونریزی ہوئی۔ اندرون سندھ کئی شہروں سے مہاجر آبادی نے کراچی اور حیدرآباد کی طرف نقل مکانی کی۔ اپنے گھر اور زمینیں چھوڑ کر ایک بار پھر ہجرت کی اور کراچی وحیدرآباد میں سکونت اختیار کرلی۔ وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو اور نواب مظفر حسین خان میںمذاکرات ہوئے۔ فسادات کو روکنے کےلئے ایک معاہدہ بھی طے پایا جس کے تحت صوبے کے شہری علاقوں اور بالخصوص کراچی‘ حیدرآباد اور سکھر کا ملازمتوں اور تعلیمی اداروں میں 40فیصد حصہ تسلیم کیا گیا۔ یہ وسائل کی وہی تقسیم تھی جو 1947ءکی نقل مکانی سے قبل سندھ میں آبادہندوو¿ں اور مسلمانوں کے درمیان تھی۔ حتیٰ کہ سندھ اسمبلی میں بھی 40فیصد حصہ ہندوو¿ں اور غیر مسلم آبادی کےلئے مقرر تھا۔ ”بھٹو نواب مظفر“ معاہدے کی رو سے مختلف اضلاع میں کمشنر سندھی تو ڈپٹی کمشنر مہاجر اور آئی جی یا ایس ایس پی سندھی تو ڈی آئی جی اور ڈی ایس پی مہاجر مقرر ہونا تھا۔ اس معاہدے کے بعد سندھی مہاجر فسادات “ تو ختم ہوگئے لیکن بتدریج معاہدے پر عملدرآمد سست پڑتا چلا گیا۔بھٹو دور کے مشہور وزیر اعلیٰ غلام مصطفی جتوئی نے جمعیت علماءپاکستان کے ایم پی اے پروفیسر شاہ فرید الحق کے سوال کے جواب میں سندھ اسمبلی کے فلور پر جواب دیا کہ انہوں نے اپنے دور میں 36ہزار ملازمتیں دیں جن میں مہاجر برائے نام تھے۔ 1947ءمیں قیام پاکستان کے بعد بیورو کریسی میں 87فیصد تعداد بھارت سے نقل مکانی کرنے والے”مہاجر افسروں“ کی تھی جو آئی سی ایس اور اعلیٰ تعلیم یافتہ تھے۔ لاہور کے ڈپٹی کمشنر ایس ایس جعفری ”مہاجر“ تھے جو بعد ازاں سابق گورنر سندھ بیرسٹر کمال اظفر کے سسر بنے۔ پھر یہ ہوا کہ وقت کے ساتھ بیورو کریسی اور سرکاری ملازمتوں میں ”مہاجروں“ کی تعداد کم ہوتی چلی گئی۔ اس سے تباہ کن احساس محرومی نے جنم لیا اور 1984ءمیں ایم کیو ایم جیسی طاقتور اور فائر برانڈ تنظیم وجود میں آئی۔ لیکن مہاجر نام سے سیاست کا آغاز کرنے والے نواب مظفر حسین خان کے صاحبزادے نواب راشد علی خان کی رہائش گاہ پر پی ایس پی کے قائد مصطفی کمال نے بالکل ہی کمال کردیا‘ الٹی گنگا بہادی‘ تاریخ پلٹ دی۔ انہوں نے کہا کہ مہاجر سیاست کرنے والا مہاجروں کا سب سے بڑا دشمن ہے۔ نواب مظفر حسین مرحوم کی روح کو اس جملے سے جو اذیت پہنچی ہوگی‘ اس کا اظہار مہاجر قومی جرگہ کے بانی اور معروف دانشور سہیل ہاشمی نے مصطفی کما ل کے نام اپنے کھلے خط میں کیا ہے۔ وہ بھی مصطفی کمال کے بدلے ہوئے لہجے اور تیوروں پر سخت تکلیف میں ہیں۔ پی ایس پی کے چیئرمین مصطفیٰ کمال کہتے ہیں کہ ایم کیو ایم پاکستان حق پرست اور ایم کیو ایم لندن وفا پرست کے القاب استعمال کریں لیکن قوم وطن پرست بن چکی ہے جبکہ ڈاکٹر فاروق ستار بھی متحدہ کے بانی کا کھلونا ہیں۔ مصطفی کمال کے لہجے کی تلخی یہ بتا رہی ہے کہ وہ مہاجر سیاست کی بے ثمری سے سخت نالاں ہیں۔ سندھ میں مہاجر سیاست کا بیشتر فائدہ پاکستان پیپلز پارٹی کو پہنچا ہے اس نے سندھ کو کھنڈر بنا کر بھی ”مہاجروں“ کے خوف سے سندھی ووٹرز کو اپنے ساتھ یکجا رکھا ہے۔ برائے نام کام کرکے بھی ”جئے بھٹو“ کے نعرے لگوائے ہیں۔ سرکاری فنڈز کی بڑے پیمانے پر خورد برد اور کرپشن کے باوجود سندھی ووٹرز کا مینڈیٹ حاصل کیا ہے۔ دوسری طرف مہاجر نوجوان گزشتہ تین دہائیوں کی سیاست کے دوران بڑے پیمانے پر بیروزگار اور اچھی تعلیم سے محروم ہوئے ہیں۔ وہ مقابلے کی دوڑ میں بہت پیچھے رہ گئے ہیں۔ مصطفی کمال‘ انیس قائم خانی اور ان کے ساتھی اب اس سیاست کو ترک کرنے کی باتیں کررہے ہیں تاکہ سندھی مہاجر عوام کی آنکھیں کھلیں اور وہ ایک دوسرے کی ضد میں غلط فیصلوں کے بجائے صوبے کے مفاد میں فیصلے کریں۔ تنگ نظر قوم پرستی ہمیشہ نقصان دہ ہوتی ہے۔ اس کا فائدہ مفاد پرست طبقات کو ہی پہنچتا ہے۔ پاکستان میں سب سے زیادہ ترقی کرنے والا صوبہ پنجاب ہے جہاں قوم پرستی کو تعمیر و ترقی کےلئے استعمال کیا جاتا ہے۔ ممکن ہے کہ مصطفی کمال ان باتوں کو مد نظر رکھتے ہوئے قوم پرستی کے دائرے سے نکل کر وطن پرستی کی راہ پر چل پڑے ہوں کہ پنجاب نے بھی اسی راستے پر چل کر ترقی کی ہے البتہ سندھ میں ایک مختلف روش اور رجحان ”قبضہ گیری“ کا ہے۔ وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے گزشتہ دنوں ایک تقریب میں کہا کہ ہم نے کراچی کا کام دوسروں کو دے رکھا تھا لیکن اب یہ کام ہم خود کریں گے گویا کراچی کے بلدیاتی اور سیاسی اداروں کا کام بھی سندھ حکومت کرے گی جس میں اندرون سندھ کی اکثریت ہے اور قوت نافذہ بھی ان ہی کے پاس ہے۔ یہ صورتحال کراچی اور حیدرآباد کی تین کروڑ سے زائدآبادی کو جن میں بیشتر اردو بولنے والی ہے۔ ایک مرتبہ پھر اسی احساس محرومی کی طرف لے جائے گا جو مہاجر‘ پنجابی‘ پٹھان متحدہ محاذ اور ایم کیو ایم جیسی جماعتوں کی بنیاد بنے تھے۔ سندھ حکومت اگر صوبے میں آبادہر لسانی اکائی کے مفادات کا خیال رکھے۔ کرپشن اور بد عنوانیوں کا سدباب کرے‘ اربوں روپے کے سرکاری فنڈز کو قوم کی امانت تصور کرے‘ عوام کے مسائل حل کرنے پر توجہ دے تو فکری مغالطوں اور تضادات کا خاتمہ ہوسکتا ہے جس کے آثار بظاہر کم نظر آتے ہیں۔ سندھ اسمبلی کا حالیہ بجٹ اجلاس اور کراچی کےلئے مختص اونٹ کے منہ میں زیرہ جیسی رقم سے اتحاد ویگانگت کا خواب پورا ہوتا نظرنہیں آتا۔ ماضی میں بیرون وطن ورلڈ سندھی کانگریس نامی تنظیم وجود میں آئی تھی اور اب شنید ہے کہ ورلڈ مہاجر کانگریس بھی تشکیل پا چکی ہے جس کی آرگنائزنگ کمیٹی میںایم کیو ایم کے بانی کے تین معتمد ندیم نصرت محمد انور اور واسع جلیل بھی شامل بتائے جاتے ہیں۔ محرومیاں بغاوت کو جنم دیتی ہیں۔ بلوچستان میں 1974سے مزاحمتی تحریک جاری ہے جس کا اتار چڑھاو¿ وقت کے ساتھ ہوتا رہتا ہے۔ بھارت کی راجیہ سبھا میں ہر صوبے کی نمائندگی اس کی آبادی کے تناسب سے ہے۔ ملائیشیاءمیں ”قبائلی بادشاہت“ کادستور نافذ ہے۔ ہر قبیلے سے چار سال کےلئے بادشاہ مقرر ہوتا ہے۔ دنیا کے بیشتر ملکوں میں آبادی کے تناسب سے وسائل اور اختیارات کی تقسیم ہوتی ہے کیا سندھ میں ایسا ممکن ہے؟
آخر میں قارئین کےلئے یہ اطلاع بھی حیران کن ہوگی کہ آصف علی زرداری کے شدید ترین مخالف ڈاکٹر ذوالفقار مرزا بھی قطار لگا کر پیپلز پارٹی میں شمولیت اختیار کرنے والوں میں شامل ہونے والے ہیں۔
(روزنامہ جرا¿ت کراچی کے ایڈیٹر
اور معروف صحافی ہیں)
٭….٭….٭

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved