تازہ تر ین

خون میں ڈوبی یادیں

علی سخن ور….فل سٹاپ کے بعد
اپنی یادداشت کا امتحان لینے کےلئے، ماضی کے واقعات کو کبھی کبھی دہرا لینا اچھا ہوتا ہے۔آپ کو یاد ہے کوئٹہ کی ایک مسجد میں4جولائی 2003کو جمعہ کی نماز کے دوران ایک خودکش دھماکہ ہوا تھاجس میں پچاس سے زائد نمازی شہید ہوگئے اور اتنے ہی زخمی بھی ہوئے۔یہ پاکستان میں باقاعدہ دہشت گردی کے ابتدائی واقعات میں سے ایک واقعہ تھا، لوگ سہم گئے،خوفزدہ ہو گئے۔پھر بلوچستان کے ہی ایک اور علاقے جھل مگسی کے گاﺅں فتح پور کی ایک درگاہ پر19مارچ 2005ءکوایک خود کش دھماکہ ہوا جس میں 60کے لگ بھگ زائرین زندگی سے محروم ہوگئے۔اگلے برس 11اپریل کو کراچی کے نشتر پارک میں ایک اور خون کی ہولی کھیلی گئی جس میں60کے قریب علمائے کرام شہید ہوئے اور اتنی ہی تعداد زخمی ہونے والوں کی بھی تھی۔ بے گناہوں کے خون سے ہاتھ رنگنے کا یہ سلسلہ یونہی جاری رہا۔لاہور کی مون مارکیٹ میں7دسمبر2009ءکو تیس سیکنڈکے وقفے سے دو خوفناک دھماکے ہوئے تھے، ان دھماکوں میں ساٹھ سے زائد بے گناہ اپنی جان سے گئے اور سینکڑوں زخمی بھی ہوئے، مون مارکیٹ میں کچھ بیوٹی پارلر بھی تھے جہاں چند دلہنیں سجنے بننے کے مراحل سے گزر رہی تھیں، وہ بےچاری بھی اپنے عروسی لباس میں بھسم ہوگئیں۔آپ کو 10جنوری 2013ءکو علمدار روڈ کوئٹہ پر یکے بعد دیگرے ہونے والے د و دھماکے بھی یاد ہوں گے جن میں 130 سے زائد لوگ اللہ کو پیارے ہوئے اور 2 سو کے قریب شدید زخمی۔ آپ کو 16دسمبر 2014ءکا وہ خون آشام دن بھی یاد ہوگا جب آرمی پبلک سکول پشاور میں150کے قریب معصوم طلباءاور اساتذہ کو بے دردی کے ساتھ موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔اور اگر آپ کو یہ سب کچھ یاد ہے تو پھر آپ کو 27 مارچ2016کی وہ سہ پہر بھی یاد ہوگی جب گلشن اقبال پارک لاہور میں ایک انتہائی خوفناک دھماکہ ہوا جس میں چند ہی لمحوں میں 80کے قریب معصوم شہری لاشوں میں بدل گئے اور زخمی ہونے والوں کی تعداد یہاں بھی سینکڑوں میں تھی۔یادداشت کا امتحان لینے کے لیے بس اتنے واقعات ہی کافی ہیں، میں نے آپ کو گنتی کے چند واقعات یاد دلائے ہیں، جن میں 600کے لگ بھگ انسانوں کا خون مٹی میں ملادیا گیا، اگر تمام واقعات کی فہرست بنانا شروع کر دیں تو واقعات کی تعداد سینکڑوں میں چلی جائے گی اور مرنے والوں کی تعداد ہزاروں میں۔ اور یہ بھی بتاتا چلوں کہ ان واقعات میں ان ہزاروں سکیورٹی اہلکاروں کا تذکرہ نہیں ہے جنہوں نے کبھی فوج اور کبھی پولیس کی وردی میں اس ملک کو اپنے خون کا نذرانہ پیش کیا اور نہ ہی ان بے نام جانثاروں کا کوئی حوالہ ہے جنہیں ہم آپ انٹیلی جنس والے کہہ کر یاد کرتے ہیںلیکن آج 2017میں حالات بڑی حد تک مختلف ہیں۔خوف اور دہشت کی فضا اعتماد اور تحفظ کے ماحول میں بدل چکی ہے۔مقام شکر ہے کہ ہماری قربانیاں رنگ لائیں، آپریشن ضرب عضب سے لے کر آپریشن ردالفساد تک ایک طویل جدوجہد کے بعد ہم اپنی سرزمین پاک سے د ہشت گردوں کا بوجھ کم کرنے میں بڑی حد تک کامیاب ہوچکے ہیں۔اصلاح احوال کا سلسلہ ابھی جاری ہے، گنتی کے کچھ دہشت گرد ابھی موسم بدلنے کے انتظار میں ہیں لیکن انہیں اس بات کی خبر نہیں کہ کچھ موسم امر ہوتے ہیں، بدلتے نہیں۔
یہاں قابل ذکر بات یہ بھی ہے کہ 2003سے 2016تک کے اس سارے عرصے میںہم سے اظہار ہمدردی کرنے اور ہماری مدد کرنے کی بجائے ہمارے مغربی خیر خواہ ڈو مور ڈومور کا شور مچاتے رہے۔بعض دفعہ تو یوں محسوس ہوتا تھا کہ یہ ڈو مور کا مطالبہ پاکستان سے نہیں بلکہ دہشت گردوں سے ہورہا ہے کہ پاکستان کا اور نقصان کرو۔رہ گئی بات ہمارے نزدیک ترین ہمسائے بھارت کی تو اس نے اس سارے عرصے میں پاکستان کو ایک دہشت گرد ریاست کے طور پر بدنام کرنے کے علاوہ اور کوئی کام نہیں کیا۔ دلچسپ بات یہ کہ بھارتی پراپیگنڈے نے کسی اور پر اثر کیا یا نہیں کیا افغانستان کا دل ضرور موہ لیا۔ دونوں ممالک یک جان دو قالب ہوگئے۔افغانستان کے منہ میں بھارت کی زبان آگئی۔محترم اشرف غنی کے اقتدار سنبھالتے ہی یہ محبت جانثاری کے قالب میں ڈھل گئی۔شاید اشرف غنی صاحب یہ سمجھتے تھے کہ بھارت کا دامن تھام لینے سے وہ سیاسی طور پر مزید مقبول اور قد آور ہو جائیں گے لیکن ایسا بالکل بھی نہیں ہو سکا۔آج افغانستان میں تقریبا ً وہی حالات ہیں جو آج سے سات آٹھ برس پہلے پاکستان میں ہوا کرتے تھے۔ ہر روز کے بم دھماکے، ہر روز کے خودکش حملے، سینکڑوں جانیں ضائع ہورہی ہیں۔لوگ اشرف غنی حکومت سے تنگ آچکے ہیں اور ان سے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ اشرف غنی صاحب عوامی احتجاج کو روکنے کےلئے سرکاری سکیورٹی اداروں کا استعمال کر رہے ہیں۔جون کی پہلی تاریخ کو ایک ایسے ہی احتجاجی مظاہرے میں سینکڑوں کی تعداد میں لوگ شریک تھے کہ سیکیورٹی فورسز نے ان نہتے لوگوں پر اندھا دھند گولیاں برسانا شروع کردیں۔5افراد موقع پر ہی جاں بحق ہوگئے اور10 سے زائد شدید زخمی۔ مرنے والوں میں سینٹ کے ڈپٹی ہیڈ سلیم ایزدیار کا ایک جواں سال بیٹا بھی شامل تھا۔فائرنگ کے بعد ہجوم میں بھگدڑ مچ گئی جس سے مزید افراد زخمی ہوگئے۔ اشرف غنی حکومت نے اس سارے واقعے کی ذمے داری پاکستا ن ا ور آئی ایس آئی پر عائدکرتے ہوئے فوری تحقیقات کا حکم جاری کردیا۔3 جون کو جب اس مرحوم نوجوان کا جنازہ ہورہا تھا تو نامعلوم خودکش بمباروں نے اس جنازے پر حملہ کردیا۔ اس حملے کے نتیجے میں 18 افراد جاں بحق ہوئے اور سو کے قریب شدید زخمی۔اشرف غنی صاحب نے اس واقعے کی بھی ساری ذمہ داری پاکستان اور آئی ایس آئی پر ڈال دی۔قصہ مختصر یہ کہ اشرف غنی کی ہزار کوشش کے باوجود افغانستان کے لوگ اس بات پر قائل نہیں ہوئے کہ جنازے پر حملے کی سازش پاکستان اور آئی ایس آئی نے تیار کی تھی۔ دہشت گردی کا ایک اور خوفناک واقعہ 31مئی کو کابل کے ڈپلومیٹک اینکلیو میں بھارتی سفارت خانے کے بالکل قریب ہوا جس میں بارود بھری ایگ گاڑی ایک عمارت سے ٹکرادی گئی۔ اس واقعے میں 80سے زائد لوگ مارے گئے اور 350سے زائد زخمی ہوئے۔ اس واقعے نے اشرف غنی حکومت اور بھارت کی کمانڈ میں کام کرنے والے افغان انٹیلی جنس اداروں کی رہی سہی ساکھ بھی مٹی میں ملا دی۔تاہم اپنے سکیورٹی اداروں کی کارکردگی پر آنسو بہانے کے بجائے اشرف غنی صاحب نے اس واقعے کا مورد الزام بھی آئی ایس آئی اور حقانی گروپ کو ٹھہرا دیا۔ محترم اشرف غنی کی یہی ہٹ دھرمی اور ڈھٹائی افغانستان کو جہنم کا روپ دے رہی ہے۔بہر حال پاکستان نے تو سرحد پار سے آنے والے دہشت گردوں میں سے اکثر کو مار دیا، جو بچ گئے وہ سرحد پار کر کے واپس اپنے گھر چلے گئے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ اشرف غنی صاحب گھر لوٹنے والے ان دہشت گردوں کے ساتھ کیا سلوک کرتے ہیں۔محترمہ ہیلری کلنٹن نے ایک بار بڑا تاریخی جملہ کہا تھا، ”اپنے گھر کے پچھلے صحن میں سانپ پال کر ہم یہ سمجھیں کہ یہ سانپ ہمسایوں کو ہی کاٹیں گے، یہ ایک غلط فہمی ہے۔“ امید ہے اشرف غنی صاحب گھر لوٹ کر آنے والے دہشت گردوں کے بارے میں فیصلہ کرتے ہوئے ہیلری کلنٹن صاحبہ کا یہ تاریخی جملہ ضرور ذہن میں رکھیں گے۔
(کالم نگار قومی اور بین الاقوامی امور پر
انگریزی و اردو میں لکھتے ہیں)
٭….٭….٭

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved