بے مہار میڈیا

منصور احمد باجوہ/کنارے کنارے
پنجابی کا ایک محاورہ ہے:
”بھکے جٹ کٹورا لبھا، پانی پی پی آپھریا“
(بھوکے جاٹ کے ہاتھ کٹورا جو آ گیا تو پانی پی پی کر ہی اپھارا کرالیا۔)
ایک عرصے سے پابند، آزادی کو ترستے،زبان کھولنے سے ڈرتے، فلم چلانے سے پہلے دس بار سوچتے اور ہر لمحے حکم حاکم کو بجالانے والے میڈیا کو آزادی جوملی ہے تو اس نے اسے اس بے دردی سے استعمال کیا ہے کہ اب اپھارے کی سی کیفیت پیدا ہو رہی ہے۔ اس کی سب سے بڑ ی وجہ تو یہ ہے کہ میڈیا نے آزادی کومادرپدرآزادی سمجھ لیا۔ صحافت کی آزادی کی حدود کا تعین تو بہت پہلے ایک دانشور نے کر دیا تھا کہ جہاں دوسرے کی ناک شروع ہو جاتی ہے، وہاں آپ کی چھڑی گھمانے کی آزادی ختم ہو جاتی ہے۔ مگر ہمارے میڈیا نے آزادی کے دائرے کو گھمانے کی آزادی کو شروع ہی وہاں سے کیا جہاں جہاں سے کسی نہ کسی کی ناک شروع ہوتی تھی۔ چنانچہ اس آزادی سے فوج بچی نہ عدلیہ، حاکم بچے نہ محکوم، تاجر بچے نہ صنعتکار، سیاسی لیڈر بچے نہ سیاسی رہنما اور سو باتوں کی ایک بات کہ ملک بچا نہ ملک والے۔
جب بات ریٹنگ کی آ جاتی ہے تو پھر کوئی یہ بھی نہیں دیکھتا کہ نشانے پر دوست ہے یا دشمن، بات جائز ہے یا ناجائز، کسی کو نفع پہنچے گا یا نقصان، کسی کی جان خطرے میں پڑے گی یا کسی کا ایمان۔ آخر کار ہمیں یوں محسوس ہونے لگا جیسے اس ملک میں اینکر حضرات کے علاوہ سبھی شیطان، چور اچکے، ڈاکو اور لٹیرے بستے ہوں۔ فلموںمیں تو ہم نے ڈبل اور ٹرپل رول دیکھے ہیں،اینکر حضرات اس سے بھی آگے نکل گئے اور ایک ایک، بیک وقت پانچ پانچ، چھ چھ رول ادا کرنے لگا۔ کبھی وہ ہمیں نیوز ریڈر لگتا ہے، کبھی تجزیہ نگار، کبھی محتسب تو کبھی کوتوال، کبھی مدعی تو کبھی منصف، ایک چینل پر خبریں پڑھتا ہے، دوسرے پر، ماہرانہ تبصرے کرتا ہے، تیسرے پر کسی کے لتے لیتا ہے، چوتھے پر کسی گوشہ دے رہا ہوتا ہے اور پانچویں پر تماشائی بنا مرغوں کی لڑائی دیکھ دیکھ کرمحظوظ ہو رہا ہوتا ہے۔ چینل چلے اور بے تحاشا چلے تو کالم نگاروں کی بھی بن آئی۔ وہ جو پہلے صرف قلم چلاتے تھے اب الیکٹرانک میڈیا پر آ کر حکم چلانے، فیصلے سنانے، ٹھٹھااڑانے اور (اپنی اوقات بھول کر) ہر سرخ و سفید کو اس کی اوقات یاد دلانے میں لگ گئے۔بعض صاحبان تو ایسے ہیں کہ ٹی وی پر چھتربکف آتے ہیں۔ جو سامنے بات بعد میں، پہلے اس کے سر پر ایک چھتر رسید کردیا۔ اب جواب دے گا بھی تو سوچ سمجھ کر دے گا۔ چھتر پریڈ سے ہمیں یاد آیا کہ ایک بزرگ اتفاق سے نوجوانوں کی کسی رنگین محفل میں جا نکلے۔ نوجوانوں نے مذاق اڑانا شروع کردیا۔ لو بڑے میاں بھی آ گئے، بڑے میاؒں دیوانے کب سے بنے؟ بزرگو! کس نے بتایا تھا کہ مسجد ادھر ہے وغیرہ وغیرہ۔ بزرگ کچھ دیر تو سنتا رہا پھر کہنے لگا میں فقیر آدمی ہوں، مجھے تنگ نہ کرو، پچھتاﺅ گے، مگر جوانی دیوانی کہاں چین سے بیٹھنے دیتی تھی۔ پھر یہ ہوا کہ ایک دم تمام نوجوانوں کو نظر آنا بند ہوگیا۔ سب ہکے بکے رہ گئے، سمجھ گئے کہ بزرگ تو واقعی کوئی پہنچا ہوا ہے، سب ٹٹولتے ہوئے بزرگ کے قدموں میں گر کر معافیاں مانگنے لگے۔ بزرگ نے جوتا اتار لیا۔ جو پاﺅں چھونے کے لیے آتا رکھ کر ایک دیتا۔ جب سب اپنی اپنی ڈوز (doze) لے چکے تو کہنے لگا، ارے خبیثو! بجلی چلی گئی ہے، نظر مجھے بھی کچھ نہیں آ رہا، کوئی جا کر جنریٹر چلاﺅ۔ یہ بزرگ تو خیر شریف آدمی تھا کہ اعتراف کرلیا کہ میں بھی تمہاری طرح ہی اندھا ہوں، ہمارے چھتر پریڈ کرانے والے چھتر تو لگاتے جاتے ہیں اس کے بعد بھی اعتراف نہیں کرتے کہ وہ بھی باقی سب کی طرح ٹامک ٹوئیاں ہی مار رہے ہیں۔ ٹاک شوز تو ہوتے ہی، بے عزتی پروگرام ہیں کہ جن میں ہمارے چھوٹے بڑے ، سیاسی و مذہبی رہنما، عزت و احترام کی پگڑی سر پر رکھے، ذوق و شوق سے آتے ہیں پھر ساری عزت ، وقار ، آن بان کسی اینکر یا اینکری (یہ ہم نے خود اینکر کی مونث بنائی ہے) کے قدموں پر نچھاور کرکے اس طرح رخصت ہوتے ہیں جیسے کسی تھانے سے عزت کروا کر آئے ہوں۔ ہمیں حیرت اس بات پر ہے کہ ایسے بے عزتی پروگراموں میں ہمارے ان رہنماﺅں کی دلچسپی کی آخر وجہ کیا ہے؟ اگرحجامت ہی کرانی مقصود ہے تو اس کے لیے اپنا گھر اور اپنی بیوی کیا بری ہیں کہ گھر کی بات گھر ہی میں رہ جاتی ہے اور آدمی فخر سے احباب کو یہ بھی بتا سکتے ہیں کہ آج میری بیوی گھٹنوں کے بل چلتی ہوئی میرے پاس آئی اور کہنے لگی سرتاج اب چارپائی کے نیچے سے نکل آﺅ میں تمہیں کچھ نہیں کہوں گی۔ ڈرائنگ روم میں ٹی وی والے ہماری کامیاب ازدواجی زندگی کا راز جاننا چاہتے ہیں۔ ایک فائدہ البتہ اس کا ضرور ہوا ہے کہ عوام کو اپنے بڑے بڑے لیڈروں کے بارے میں پتہ چل گیا ہے کہ اتنے بڑے بڑے، معزز، محترم اور مخدوم نظر آنے والے اندر سے ہماری طرح کتنے چھوٹے، کتنے کمزور اور کتنے کم ظرف ہیں۔ ایک عدالت میں مقدمہ شروع ہونے سے پہلے وکیل آپس میں جھگڑنے لگے۔ ایک نے دوسرے کے بارے میں گوہر افشانی کی، تم نہایت جھوٹے، بے ایمان اور دغاباز ہو۔ دوسرے نے ترکی بہ ترکی جواب دیا تم نہایت کمینے، مکار اور فریبی ہو۔ جج نے کہا آرڈر! آرڈر! اب جبکہ ہر دو وکلاءکی شناخت ہو چکی ہے، مقدمے کی کارروائی شروع کی جائے۔ سواب ٹاک شوز کے ذریعے تقریباً تمام سیاسی، سماجی اور مذہبی رہنما ایک دوسرے کا بھرپور تعارف کرا چکے ہیں۔ کچھ کمی جو رہ گئی تھی وہ فیس بک نے پوری کردی ہے کہ مہمان اور میزبان (آف دی ایئر، جو گوہر افشانیاں کرتے ہیں وہ بھی ہمیں دکھا دیتا ہے۔ اداکاری کا کمال یہ ہے کہ آف دی ایئر، ایک بے ہودہ، بے ادب اور جاہل مطلق، آن لائن ہوتے ہی، ایک دم چولابدل کر مہذب، مودب عالم اور فاضل کے روپ میں نظر آتا ہے۔)
صبح، دوپہر، شام، رات، تبصرے، ماہرانہ آرائ، بھانت بھانت کی بولیاں، توںتکار، گرما گرمی اور ساتھ ساتھ کہیں ناچنا گانا، کہیں لچکتے مٹکتے جسم، کہیں عشوہ و نازو ادا کہیں تاریخ کے ساتھ مذاق ، کہیں بے ہودہ ذومعنی جملے اور ان سب کے درمیان کہیں سمٹا سمٹایا، چھوٹا موٹا، دینی پروگرام، وہ بھی کسی فرنچ کٹ ہٹے کٹے اور دوپٹے اور آستینوں سے بے نیاز لباس اور بھرپور میک اپ کے ساتھ کسی اداکارہ کے ہاتھوں میں کھلونے کی طرح۔ شام ہوتے ہوتے ہمارا یہ عالم ہو چکا ہوتا ہے کہ ہمیں کوئی سوجھ بوجھ نہیں رہتی کہ ہم پاکستان کے چینل دیکھ رہے ہیں یا بھارت کے، تجزیہ نگار ہمارا ہے یا امریکہ کا، زبان اپنی بول رہا ہے یا دشمنوں کی۔ اپنا کون ہے پرایا کون، وفادار کون ہے غدار کون، بے ایمان کون ہے ایماندار کون، دوست کون ہے دشمن کون؟ دوست اور دشمن سے ہمیں یاد آیا کہ ایک خان صاحب ایک ہوٹل میں اپنے ایک دوست کے ساتھ بیٹھے تھے، کہنے لگے، اس میز پر جو چار آدمی بیٹھے ہیں ان میں سے ایک ہمارا دشمن ہے، دوست نے پوچھا کون سا؟ بولے وہ جوچائے پی رہا ہے، مگر چائے تو چاروں پی رہے ہیں۔ ارے! وہی جس کی مونچھیں ہیں، لیکن خان صاحب مونچھیں تو چاروں کی ہیں، ارے وہ جس نے سفید کپڑے پہن رکھے ہیں، سفید کپڑے بھی سبھی کے ہیں۔ اب خان صاحب کی غیرت جوش میں آ گئی۔ جیب سے پستول نکالا، ڈز ڈز ڈز تین کو مار ڈالا اورکہنے لگے یہ خبیث کا بچہ جو بچا ہے یہی ہمارا دشمن ہے، اگر میڈیا والے برا نہ منائیں تو ہم یہ عرض کریں گے کہ ان میں سے اکثر ہمیں دوست اور دشمن کی ایسے ہی پہچان کراتے ہیں۔صحافت کی آزادی کی حدود کا تعین تو یہ ہے کہ جہاں دوسرے کی ناک شروع ہو، وہاں آپ کی چھڑی گھمانے کی آزادی ختم ہو جاتی ہے، میڈیا نے آزادی کے دائرے کو گھمانے کی آزادی کو شروع ہی وہاں سے کیا جہاں جہاں سے کسی نہ کسی کی ناک شروع ہوتی تھی چنانچہ اس آزادی سے فوج بچی نہ عدلیہ، حاکم بچے نہ محکوم، تاجر بچے نہ صنعتکار، سیاسی لیڈر بچے نہ سیاسی رہنما اور سو باتوں کی ایک بات کہ ملک بچا نہ ملک والے۔
(سیاسی و سماجی امور پر لکھتے ہیں)
٭….٭….٭

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں


دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved