تازہ تر ین

قلم در حفاظت وطن

جاوید کاہلوں….اندازِفکر
پرنٹ میڈیا میں مختلف تعداد کے صفحات میں اخبارات چھپتے ہیں۔ ہر قاری اپنے اپنے ذوق سے ان کی ورق گردانی کرتا ہے‘ کچھ پہلے اور آخری صفحے کو غور سے پڑھتے ہیں تو کچھ کے نزدیک ادارتی صفحہ زیادہ اہم ہوتا ہے‘ کچھ اشتہارات کی طرف متوجہ ہوتے ہیں‘ تو کچھ کے نزدیک رنگین فلمی صفحات زیادہ توجہ کے لائق ہوتے ہیں۔ کچھ کرنسی اور سونے چاندی کے روزمرہ ریٹس کو بغور پڑھتے ہیں‘ تو بعض کے نزدیک نجومی باوے یا پھر شادی اشتہارات وغیرہ کی زیادہ اہمیت ہوتی ہے‘ وغیرہ وغیرہ۔
قومی اہمیت کے اخبارات میں ہمارے ہاں روزنامہ خبریں کا ایک الگ سے اپنا ہی مقام ہے۔ ”جہاں ظلم وہاں خبریں“ جیسے سلوگن کی وجہ سے یہ لاری اڈوں‘ ریلوے سٹیشنوں‘ کورٹ کچہریوں‘ گرم حماموں اور سماجی بیٹھکوں میں پڑھا جانے والا ایک مقبول ترین عوامی اخبار ہے اس کے صفحات پر نظر دوڑائیں تو اس میں خصوصی طور پر ایک عام سا قاری بھی صفحہ تین پر اٹک جائے گا۔ صفحہ نمبر تین یوں تو سب اخبارات میں ہوتا ہے مگر یہ ”روزنامہ خبریں“ میں ایک ”دل“ جیسی حیثیت رکھتا ہے۔ خبریں پڑھنے والا ہر شخص ورق گردانی کرتے وقت اپنی پسند و ناپسند کے مطابق کوئی بھی صفحہ الٹ پلٹ کرے‘ مگر وہ صفحہ نمبر3 پر بالخصوص رکے گا۔ اس کی واحد وجہ سوائے اس کے اور کوئی بھی نہیں کہ اس صفحے پر عموماً محترم ضیاشاہد صاحب اپنے تقریباً نصف صدی پر محیط صحافتی تجربے کی بہت سی جگ بیتیوں کے علاوہ صاف ستھری سچائی اور زندگی سے معمور بچپن کے ضیا محمد بہاول نگری سے لے کر اب تک کے کہنہ مشق اور نرم و گرم چشیدہ ضیاشاہد کی مختلف زاویوں سے تحریر کی گئی ہڈبیتیاں بڑے ہی خلوص سے سپرد قلم کرتے ہیں۔ ضیاشاہد کی ایسی تحاریر گو کہ سادہ اور سلیس زبان میں ایک کالم کی شکل میں چھپتی ہیں مگر ان کی روانی‘ وارفتگی‘ خلوص اور سچائی ہر قاری کے دل میں گھر کئے بغیر نہیں رہتیں۔ اس سلسلے میں یوں تو درجنوں مثالیں موجود ہیں‘ جن میں سے وطن عزیز کی محبت میں لکھے گئے مضامین اپنا مقام رکھتے ہیں۔ اس صفحے پر ہی دشمنان وطن پر بھی بھرپور قلمی جہاد کیا گیا ہے‘ تو اس میں کچھ سیاسی‘ سماجی یا پھر فلمی خواتین و حضرات کی زندگیوں کے ان دریچوں کو بھی وا کیا گیا ہے جس پر کہ ایک عام شہری کی رسائی تقریباً ناممکن ہوتی تھی۔ مگر اس کے ان حقائق میں دلچسپی ضرور ہوتی ہے۔ یہ سب ایک طرف مگر ایک خاص قاری کے حوالے سے ہمیں پچھلے دنوں لکھے گئے کوئی دو تین درجنوں پر محیط ضیاشاہد صاحب کے وہ مضامین کبھی نہیں بھولیں گے جو کہ بحیثیت ایک ”ہڈبیتی“ کے انہوں نے اپنی مرحومہ والدہ کی یاد میں تحریر کئے۔ ہمارے نزدیک ”بی بی جان“ پر ان کے قلم کی سچائی نے ہر قاری کے دل میں ان کےلئے بے حد و حساب احترام‘ محبت کا احساس پیدا کیا ہے اور باتوں کے علاوہ ان کی تحاریر کی اثر انگیزی‘ ان میں لکھی حق گوئی کے علاوہ اس بات میں بھی موجود تھی کہ انہیں پڑھ کر ہر کوئی اپنے آپ میں ضیاشاہد کو پاتا تھا اور ان کی بی بی جان یا حشمت بی بی میں اپنی ہی ماں کی شخصیت کو دیکھتا تھا۔جناب ضیاشاہد نے جس سچائی سے اپنی ماں کے منہ سے نکلے وہ جملے جو کہ وہ مسرت و شادمانی میں یا پھر بچوں کی شرارتوں پر ناراضی کی صورت میں خالصتاً پنجابی زبان ہی میں تحریر کئے تھے ان سے یہ مضامین اپنی خوبصورت تحریر کی حدوں کو بھی چھو گئے ہیں۔ ہمیں یقین ہے کہ بچوں کی شرارت کے موقع پر ماں کی پنجابی میں ڈانٹ ڈپٹ کہ اگر کسی بھی دوسری زبان میں ترجمہ کرکے لکھا جاتا ہے تو سارا مضمون اپنی رعنائی ہی کھو دیتا۔ اسی موقع کو غنیمت جانتے ہوئے ہم محترم ضیاشاہد سے بھرپور درخواست کریں گے کہ وہ ہمت کرکے اپنے آپ کو ایک دفعہ پھر جمع کریں اور اپنے بچپن کی ”ہڈبیتیوں“ کو اپنی ”والدہ مرحومہ“ کے حوالے سے مزید قسط وار تحریر میںلائیں۔ ہمیں یقین ہے کہ ان جیسے کہنہ مشق اور قادرالکلام کارکن صحافی کےلئے یہ کوئی ایسا مشکل کام بھی نہیں ہوگا اور ”خبریں“ کا صفحہ نمبرتین یقینا اس کا منتظر بھی ہوگا۔ اگرچہ دیباچہ کچھ طویل ہوگیا ہے مگر کہنا یہ مقصود تھا کہ روزنامہ خبریں کے ”صفحہ تین“ کو کس بنا پر ایک اخبار میں امتیازی حیثیت حاصل ہوچکی ہے پہلے نمبر پر تو جناب ضیاشاہد کے وہ مضامین ہیں جو عموماً اس صفحے پر ہی چھپتے ہیں مگر اس سے بھی بڑھ کر پانچ دہائیوں پر محیط ان کا وہ صحافتی تجربہ بھی ہے کہ جس میں ان کا قلم گھس گھس کر ایک مکمل کندن بن چکا ہے، الحمدللہ کہ وہ خرابی ¿ صحت کے باوجود صحت یادداشت سے ابھی تک بھرپور ہیں۔ گو کہ ابھی ان کے خود سے تحریر کرنے میں کچھ مشکلات پیش آتی ہیں‘ مگر ان کے چند رفقائے کار ان سے نہایت مہارت سے املاءلے سکتے ہیں۔ یہی وجہ کہ ان کی تحاریر میں ایسی کسی کمی کا کبھی گمان نہیں ہوتا۔
ابھی حال ہی میں ان کے ایسے ہی لکھے گئے اٹھاون کالموں کے مجموعے کو ایک کتابی شکل میں بعنوان ”پاکستان کے خلاف سازش“ میں محفوظ کرلیا گیا ہے۔ دو سو اڑتیس صفحات پر مشتمل اس کتاب میں حاسدین و ناقدین پاکستان کو ان کے اصل روپ میں ننگا کرکے دکھایا گیا ہے۔ ایسے مضامین کےلئے یقینا ”جرا¿ت اظہار“ ایک بنیادی وصف ہوا کرتا ہے کہ جس کو مصنف نے بدرجہ اُتم نبھایا ہے۔ اس میں یہ بھی مذکور ہے کہ قائداعظم محمد علی جناح کے مشہور ”دو قومی نظریہ“ کو زبان یا پھر نسل کی عصبیت کو سہارا بنا کر کسی طور پر دشمنان پاکستان نے مسخ کرنے کی کوشش کی ہے۔ اس کتاب کے مضامین پر ایک نظر دوڑائیں تو ایسے تمام حاسدین پاکستان آپ کے سامنے صاف عیاں ہوجاتے ہیں خواہ وہ آج کے یا کل کے پاکستان میں کہیں پر بھی بستے تھے یا ہیں۔ یہ کتاب یقینا ایک تاریخی اہمیت کی حامل ہے کیونکہ اس میں مورخ کو پردوں میں چھپے پاکستان کے دشمنوں کے اصل چہروں کی صاف پہچان ہوسکتی ہے۔ باقی رہی یہ بات کہ ان مضامین کی صحت اور سچائی پر کوئی کلام کرے تو پھر وہ اس کا ہی ظرف ہوگا۔ کیونکہ یہ تحریر اس قلم سے نکلی ہے جس نے کہ نہ صرف ”دو قومی نظریہ“ کو سنا اور پڑھا تھا بلکہ وہ اور اس کا خاندان بھی ان مہاجروں میں شامل تھا جو کہ 1947ءکی تقسیم میں آگ اور خون سے آلودہ پاک و ہند کی سرحد پر لگی لکیر کو عبور کرکے سرزمین پاکستان میں داخل ہوئے تھے۔ لہٰذا ”دو قومی نظریہ“ تو اس کے ذاتی وجودکا حصہ بن چکا تھا۔ سو کوئی بھی بدبخت جو اس پاک سرزمین پر زبان و نسل جیسی نفرت کے بیج بونے کی سعی کرے گا تو اس کو قدرتی طور پر جناب ضیاشاہد کے قلم کا اس کتاب کی شکل میں سامنا تو کرنا ہی ہوگا۔ ایک مناسب سی قیمت میں موجود ”خبریں پبلشرز“ کی یہ کتاب آنے والے دنوں میں اسی زبان و نسل کے زہر کو وجود پاکستان کی جڑ سے اکھاڑنے کا تریاق ثابت ہوگی۔
(کرنل ریٹائرڈ اور ضلع نارووال کے
ڈسٹرکٹ ناظم بھی رہے ہیں)
٭….٭….٭

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved