تازہ تر ین

ٹرمپ مشرق وسطیٰ کی پیچیدگیوںسے لاعلم

فرید زکریا….مہمان کالم

صدر ٹرمپ جب اپنے پہلے غیرملکی دورے سے واپس آئے‘ انہیں یقین تھا کہ انہوں نے امریکہ اور تاریخی عرب اتحادیوں کو ایک کر دیا ہے۔
دہشت گردی کو بڑا دھچکا لگایا ہے اور مشرق وسطیٰ کے منہ زور پانیوں کو سکون بخش دیا ہے۔ مگر تب سے یورپ اور مشرق وسطیٰ میں تسلسل کے ساتھ دہشت گردی دیکھنے کو ملی اور عرب دنیا میں واضح پھوٹ پڑ گئی۔ یہ سب کیا ہو رہا ہے؟
صدر ٹرمپ کی سٹرٹیجی کی بنیاد سعودی عرب کی سپورٹ تھی۔ اس کا ایک پہلو یہ یقین ہے کہ سعودی عرب کو دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑنے کے قابل اور خطے کو مستحکم بنایا جائے۔ مگر درحقیقت ٹرمپ نے سعودیوں کو گرین سگنل دیا کہ وہ جارحانہ‘ فرقہ وارانہ خارجہ پالیسی جاری رکھتے ہوئے اس میں مزید تیزی لائیں۔ اس پالیسی کا پہلا نکتہ دیرینہ حریف قطر کو عرب برادری سے باہر کرنا‘ اس سے سفارتی روابط توڑنا اور اپنے قریبی اتحادیوں کو بھی ایسا کرنے کیلئے دباﺅ ڈالنا ہے۔ سعودیوں نے قطر کو ہمیشہ ایک مشکلات پیدا کرنے والا ہمسائے کے طور پر دیکھا۔ قطر کے علاقائی اور عالمی کردار ادا کرنے کی کوششوں پر بھی وہ سخت مضطرب تھے‘ جس کیلئے اس نے امریکہ کو فوجی اڈا دیا‘ الجزیرہ ٹی وی نیٹ ورک کی بنیاد رکھی‘ 2022ءکے ورلڈکپ کی میزبانی کی منصوبہ بندی کی اور اپنا سفارتی وزن استعمال کرنی کی کوششیں کیں۔
یہ بات درست ہے کہ قطر نے بعض انتہاپسند تحریکوں کی حمایت کی مگر ایسا سعودی عرب بھی کر چکا ہے۔ دونوں ملکوں کا تعلق ایک ہی اسلامی مکتبہ فکر سے ہے۔ دونوں ملکوں میں انتہاپسندی کی تبلیغ کرنے والے موجود ہیں۔ دونوں کے بارے میں یہ تاثر یقین کی حد تک پایا جاتا ہے کہ شام اور دیگر ملکوں میں ان کے مسلح اسلامی گروپ موجود ہیں۔ دونوں شاہی خاندان بنیادپرست قوتوں کے ساتھ روابط‘ انہیں فنڈنگ کرنے کا کھیل کھیلتے رہتے ہیں‘ حتیٰ کہ شدت پسند گروپوں کی باہمی لڑائی میں بھی ایسا کرتے ہیں۔ سادہ الفاظ میں دونوں کے اختلافات درحقیقت جغرافیائی‘ سیاسی ہیں‘ جن پر فکری رنگ چڑھا دیا گیا ہے۔
دونوں ملکوں کے درمیان واضح پھوٹ سے خطے کا عدم استحکام کہیں زیادہ بڑھ جائے گا۔ قطر ایران اور ترکی کے زیادہ قریب ہو جائے گا جس سے مسلم دنیا میں سعودی مخالف گروپ مزید مضبوط ہوں گے۔ شام‘ عراق‘ یمن اور شمالی افریقہ میں مختلف فرقہ وارانہ گروپوں کی لڑائی مزید زور پکڑے گی۔ بدھ کے روز تہران میں دہشت گرد حملے جن کی ذمہ داری داعش نے قبول کی ہے‘ ایران میں انہیں سعودی مہم کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔ ان حملوں پر ایران کی حمایت یافتہ تنظیموں کا ردعمل کسی وقت بھی سامنے آ سکتا ہے جس سے عدم استحکام میں مزید اضافہ ہو گا۔ اس سب کے درمیان امریکہ ہے جس کے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے ساتھ قریبی روابط مگر علاقائی‘ فوجی آپریشنز قطر کی ملٹری بیس سے کرتا ہے۔ صدر ٹرمپ نے قطر مخالف ٹویٹر پیغامات بھی جاری کئے ہیں‘ جبکہ امریکی فوج کو اس حقیقت کے ساتھ آگے بڑھنا ہے کہ قطر اس کا میزبان اور داعش کے خلاف جنگ میں قریبی اتحادی ہے۔
امریکہ جیسی سپرپاور کیلئے مشرق وسطیٰ میں بہترین پالیسی یہی ہے کہ سب کے ساتھ برابری کی بنیاد پر تعلقات بنائے جائیں‘ جیسا کہ ماضی میں وہ کرتا رہا ہے۔ رچرڈنکسن اور ہنری کسنجر کی ایک بڑی کامیابی یہ تھی کہ وہ مصر کو امریکہ کے دائرہ اثر میں لے آئے تھے‘ اس دوران انہوں نے شاہ ایران سے الائنس بھی برقرار رکھا تھا۔ کئی دہائیوں سے واشنگٹن نے بسمارک کی پالیسی پر عمل کرتے ہوئے تمام ملکوں سے اچھے تعلقات قائم کئے‘ جو کہ ان ملکوں کے باہمی تعلقات سے زیادہ خوشگوار تھے۔
مشرق وسطیٰ کا جغرافیائی سیاسی نقشہ دو بڑے واقعات نے تبدیل کیا‘ ایک 1979ءکا انقلاب ایران تھا جو کہ خطے میں بنیادپرستوں کو اقتدار میں لانے کا باعث بنا جس کا ردعمل سعودی عرب سمیت کئی ملکوں میں ہوا۔ ایران نے اپنی اسلامی فکر پھیلانے کا بیڑا اٹھایا جس کے جواب میں سعودی عرب نے اپنی اسلامی فکر اور اثرورسوخ بڑھانے کا سلسلہ شروع کر دیا جس کے مسلم دنیا پر زہریلے اثرات مرتب ہوئے۔ ہر مسلم ملک میں بنیادپرستی پروان چڑھنے لگی۔ دوسرا بڑا واقعہ 2003ءکا امریکی قیادت میں عراق پر حملہ تھا جس نے خطے میں طاقت کے توازن کو تہہ وبالا کر دیا۔ خطے میں ایرانی عزائم میں بڑی رکاوٹ صدام حسین تھا‘ اس کے جانے سے عراق میں ایرانی اثرورسوخ تیزی سے پھیلنے لگا۔
یہاں تک کہ آج بغداد حکومت پر بڑا بیرونی دباﺅ ایران کا ہے۔ بشارالاسد حکومت کی بقا کی مرکزی وجہ ایرانی الائنس ہے‘ اس نے ہر جگہ شیعہ کمیونٹی کے ساتھ روابط استوار کئے۔ یمن سے بحرین تک انہیں مستحکم کیا۔
اگر ٹرمپ انتظامیہ مشرق وسطیٰ میں استحکام چاہتی ہے تو اسے طاقت کا نیا توازن تشکیل دینے میں معاونت کرنی چاہئے۔ ایسا سعودی شرائط کے ساتھ ممکن نہیں ہے۔ ایران بھی خطے کی اہم طاقت ہے۔ اس کے اثرورسوخ اور کردار کو تسلیم کرنے کی ضرورت ہے۔ اس سلسلے میں امریکہ جس قدر تاخیر کرے گا خطے کا عدم استحکام بڑھتا رہے گا۔ ایرانی کردار تسلیم کرنے سے تہران کو کچھ تفویض نہیں کرنا پڑے گا۔ ایرانی دائرہ اثر کا سدباب ترکی‘ سعودی عرب‘ مصر سمیت دیگر اسلامی ملک کر لیںگے۔ ہدف مشرق وسطیٰ ہونا چاہئے جس میں تمام علاقائی طاقتوں کو لگے کہ پراکسی جنگوں‘ بغاوت اور دہشت گردی کے خاتمے کیلئے انہیں کام کرنا چاہئے تاکہ تباہی اور انسانی مصائب ختم ہو سکیں۔
صدر ٹرمپ کو حال ہی میں معلوم ہوا ہے کہ ہیلتھ کیئر کا معاملہ انتہائی پیچیدہ ہے۔ انہیں مشرق وسطیٰ کی پیچیدگیوں کے ادراک کی بھی ضرورت ہے۔
(بشکریہ: ڈیلی واشنگٹن پوسٹ)
٭….٭….٭

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved