ہائی کمشن لندن میں کیا ہورہا ہے؟

وجاہت علی خان….مکتوب لندن
کچھ بھی تو ایسا غلط اور پاکستان کے جاری اور روایتی قانون سے ماورا نہیں ہو رہا جسے خصوصی طور پر موضوع سخن بنایاجائے!! راوی، چین ہی چین لکھ رہے ہیں لیکن معدودے چند ایک جو کہ ”ہاتھ کی چھڑی اور جیب کی گھڑی“ نہیں ہیں ان کے پیٹ میں خواہ مخواہ بے وقت کے مروڑ اٹھ رہے ہیں۔ اس قماش کے سقراطی ہمہ وقت کیس نہ کسی برائی اور کرپشن کی تلاش میں رہتے ہیں تاکہ ہائی کمشن کے نیک سیرت، ایماندار، محبان وطن، بے داغ ماضی و حال کے حاملین، صادقین اور سادگی و پرکاری کے مرقع جملہ سٹاف کو تنقید کا نشانہ بنایا اور ان پر کیچڑ اچھالا جائے، یہ لوگ گھاکھ تفتیش کاروں کی طرح ہائی کمشن کے بہترین کاموں اور خدمات کو بھی ناقدانہ موشگافیوں کے پلڑ۔ میں تولتے ہیں، ان پر وقت بے وقت، سچائی اور تعمیری صحافت کے دورے پڑتے ہیں، یہ خود تو بھوک کاٹتے ہی ہیں، دوسروں کو بھی کھاتے نہیں دیکھ سکتے ان کی سمجھ میں ذرا سی بات نہیں آتی کہ خود کو موم کی طرح نرم رکھو اور زمانہ جو بھی پیمانہ تمہیں دے اس میں خاموشی سے فٹ ہو جاﺅ، لیکن مجال ہے یہ ضدی ٹس سے مس ہو جائیں۔ دیکھا جائے تو پاکستان ہائی کمشن برطانیہ کیا نہیں کر رہا اپنے ان پاکستانیوں و کشمیریوں کیلئے برطانیہ میں آباد ہیں۔ پچھلے دو اڑھائی سال سے احترام کے قابل ہائی کمشنر صاحب نے تو بلاامتیاز حلیفوں، حریفوں ، طعنہ زنوں اور ناقدین کو بھی ایک ہی نگاہ خاص سے دیکھا اور ہمیشہ نوابی طعام کا بندوبست کیا ہے لیکن یہ شریر عقابی بچے اس انتظام کے پس پردہ بھی کوئی نہ کوئی کرپشن کی کہانی ڈھونڈ ہی لیتے ہیں یعنی درفنطنی کیا چھوڑتے ہیں کہ بھائی! یہ لوگ دانہ پانی کہیں اور سے منگواتے ہیں، الامان الامان کوئی تو حد ہوتی ہے اس ”نیلی پیلی“ صحافت کی!!
”قلم قبیلے“ سے ہمارا ایک ساتھی چودھری تو ابھی اگلے ہی روز لندن کے وسط میں جاری ایک افطار ضیافت میں الجھ ہی پڑا اور انتہائی شریف النفس ، دوستوںکے دوست، رزق حلال کو عبادت اور ٹھیکوں کمشنوں، جھوٹ اور مکروفریب کی کمائی کو اپنے اور اپنی آل اولاد کیلئے حرام و دوزخ سمجھنے والے قبلہ شاہ صاحب سے سوال کر بیٹھا اور وہ بھی شیروشکر کا مطمع لگائے بغیر بالکل ترش اور سیدھا ہی کہ جناب! چودہ اگست کو لندن میں ہونے والی پاکستان کی 70 ویں سالگرہ کی تقریبات کا ٹھیکہ آپ ہی کو کیوں دیا گیا، کیا اس پر آنے والے اخراجات آپ اپنی جیب سے خرچ کریں گے یا پھر ہائی کمشن کی طرف سے پانچ لاکھ پونڈ کا رکھا گیا فنڈ اس پر خرچ ہوگا! اب عزت مآب شاہ صاحب تو سادھے سے انسان ہیں اس قسم کے تیزوتفنگ کے نہ تو عادی ہیں اور نہ ہی ان کے حلقہ آغوش میں شامل ان کے احباب صحافیوں نے اس قسم کا سوال کرنے کی گستاخی کبھی ان کے ساتھ کی تھی، چنانچہ قبلہ شاہ صاحب نے اس بدتہذیبی کے باوجود اپنے جلال و ذہنی ابال کو قابو میں رکھا اور اس ”ناہنجار قلم قبیلے“ کے چودھری کو صرف اتنا ہی کہنے پر اکتفا کیاکہ ”میں تمہیں باہر ملوں گا” اب چودھری بڑا ٹھیٹھ پنجابی، شاہ صاحب کی اس معصونامہ ادا کھلی دھمکی سمجھ بیٹھا اور اب سمجھانے کے باوجود مصر ہے کہ ہائی کمشن سمیت شاہ صاحب کے بارے میں بے شمار پکے ثبوتوں کے ساتھ جلد ایک نیا صحافتی کھڑاک کرےگا!!
چودھری کوئی کھڑاک کرے یا نہ کرے لیکن مجھے یہ سن گن ضرور ہے اور متعلقہ افراد کو نوید ہو کر قلم قبیلے کے دیگر کئی ساتھی جو ”ناﺅنوش“ کے جھانسے میں نہیں آتے بڑی تندہی کے ساتھ ہائی کمشن کے اندرونی معاملات کی جانچ پرکھ میں مصروف اور تفتیشی صحافت کے بخار میں بری طرح مبتلا ہیں، حالانکہ اس قسم کی باتوں سے انہیں صرف نظر کرنا چاہیے، کمیونٹی کا کوئی شخص اگر کمیونٹی ہی کے نام پر کسی قسم کی جعلسازی کرتا ہے، فراڈ کمپنیاں بناتا ہے اور مال کماتا ہے تو یہ اس کی اپنی دوڑ اور مہارت ہے، قلم قبیلے والوں کو اس کی چنداں تکلیف نہیں ہونی چاہیے بلکہ ”کھاﺅ پیو پکڑائی نہ دو“کے بہترین اصولوں کے مطابق ان عیاروں کے ساتھ قدم بقدم چل کر ان کا حوصلہ بڑھانے کی ضرورت ہے کیونکہ بہرحال وہ جو مال بنا رہے ہیں وہ ہمارے کسی ہم وطن ہی کی جیب میں تو جا رہا ہے۔ ”قلم قبیلے“ کے سقراطی ذہن رکھنے والے ساتھیوں سے التماس ہے کہ بھائی! چھوڑو یہ تعمیری صحافت، آفاقی صحافت، عباداتی صحافت، مقدس پیشہ کی گردان اور معاشرے کا آئینہ وغیرہ وغیرہ جیسے الفاظ کی تقریر بلکہ میرا صائب مشورہ تو یہ ہے کہ درباریوں اور جواریوں کے ساتھ مل جاﺅ جنہوں نے غلط درست اور حلال و حرام کی تمیز کے بغیر صحافت کو ”رنڈی کی پشواز“ بنا رکھا ہے اور اسی لئے انکا ہر دن عید اور ہر رات، شب برات کی مانند ہے!!
بہتیرا سمجھایا لیکن ضد کا دھنی ہٹ دھرم چودھری اپنی بے وجہ کی تکرار سے نہیں ہٹتا، کہتا ہے
اور بازار سے لے آئے گر ٹوٹ گیا
جام جسم سے میرا جام سفال اچھا ہے
وہ اس تکرار پہ اڑا ہے کہ میں ”انھا ونڈے ریوڑیاں مڑ مڑ اپنیاں نوں“ کی جاری روایت کو توڑناچاہتا ہوں۔ چودھری کی سوئی، اٹک چکی ہے کہ معاشرے کے ان ناسوروں کو بے نقاب کرکے رہوں گا جو برطانیہ بھر کی پاکستانی و کشمیری کمیونٹی کیلئے بھی باعث ندامت ہیں اور یہاں موجود حکومت پاکستان کے ادارے جو بے کس عوام کے حق قومی خزانے کو بھی دونوں ہاتھوں سے لوٹ رہے ہیں اور وہ یہ بھی کہتا ہے جو لوگ مجھے ”باہر دیکھنا یا ملنا چاہتے ہیں“ میں انہیں ”اندر“ دیکھناچاہتا ہوں!! چودھری کی باتوں سے شائبہ ملتا ہے کہ وہ اکیلا نہیں بلکہ محترمی شاہ صاحب کا یہ انداز درست ہی لگتا ہے کہ اس کے پیچھے کوئی لابی موجود ہے۔ مجھے بھی شاہ صاحب کے خیال سے اتفاق بلکہ یقین ہے کہ چودھری کے سوال کے پس پردہ لابی کے تاروپود اسلام آباد سے لندن تک پھیلے ہوئے ہیں جو چودھری سمیت لندن میں موجود اپنے ہم خیالوں کو ہائی کمشن اور اس کے حلیفوں کے خلاف ٹپس دے رہے ہیں۔ اپنے صد احترام نیکوکار شاہ صاحب کو بھی ان حالات میں چاہیے کہ اس قسم کے ایڈونچر پسند قلم قبیلے والوں سے مزید دوری اختیار کریں اور خواہ تھوڑے وقت کیلئے سہی خود کو ہائی کمشن کی راہداریوں سے بھی لاتعلق ہی رکھیں۔ اور اس چودھری کو تو بالکل نزدیک نہ آنے دیں اور نہ ہی اسے باہر ملیں نہ اندر کیونکہ اس قسم کے جملے بسا اوقات اس محاورے کی طرح بن جاتے ہیں کہ
نانی نے خصم کیا ، برا کیا
کرکے چھوڑ دیا یہ اور بھی برا کیا
اب چودھری تو اعلانیہ زہر پیالہ پینے پر تلا بیٹھا ہے لیکن قلم قبیلے میں اس کے بعد دیگر ساتھی بھی موجود ہیں جو لندن سے اسلام آباد فون پر فون گھما رہے ہیں اور وٹس اپ پر مصروف عمل ہیں ان کا دعویٰ ہے کہ ہائی کمشن میں بڑے پیمانے پر اقربا پروری، آپا دھاپی جاری ہے، حالانکہ میرے خیال میں تو ان کی خبریں مستند نہیں کہ ہائی کمشن میں کیا ہو رہا ہے اور شاہ صاحب کے ساتھ ان کا کوئی خاص لنک ہے، بہرکیف میں چونکہ ہائی کمشن میں موجود بعض مرنجان مرنج دوستوں کا خیر خواہ ہوں اس لیے انکے کارن میں یہ بھی بتادوں کہ ہفتہ یکم جولائی کو ہونے والی ”کیئر پاکستان عید ملن گارڈن پارٹی“ جس میں متوقع طور پر مزیدار عید کے روایتی کھانے، مہندی، چوڑیاں، غبارے، میجک شو، بچوں کیلئے تھیٹر، لائیو میوزک وغیرہ وغیرہ ہوں گے کے خلاف چودھری اور اس کے ہم خیال تفتیش کار اس پروگرام کی بھی ”جے آئی ٹی“ بنانے کیلئے کمربستہ ہیں اور یہ دھن کے پکے لوگ ہیں یہ وہ نہیں کہ
شب کو مئے خوب سے پی، صبح کو توبہ کرلی
رند کے رند رہے ہاتھ سے جنت نہ گئی
چنانچہ ان کی اس شورش کا واحد اور آزمودہ حل یہی ہے پہلے تو ہائی کمشن کے تحت ہونے والے کسی بھی پروگرام میں ان کی شمولیت کو ناممکن بنادیا جائے اور اس کام کیلئے کوئی سابھی ہمچو قسم کا بہانہ ڈھونڈا جاسکتا ہے کیونکہ ہائی کمشن میں ہونے والی کسی مالی بے ضابطگی یا اس قسم کی کوئی منفی خبر دینے والے قلم قبیلے کے چند سرپھرے نہ بھی کسی پروگرام کی کوریج کریں گے تو ہائی کمشن کو کیا فرق پڑتا ہے بھلا؟ انکے میڈیا سیکشن کی لسٹ کاسہ لیس قسم کے صحافتی گھس بیٹھیوں سے بھری پڑی ہے۔ سو، میں نے تو اپنا فرض ادا کردیا ہے، لہٰذا ”بال ان یورکورٹ ناﺅ“۔
(معروف صحافی لندن میں ”خبریں“ کے بیوروچیف ہیں)
٭….٭….٭

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved