پانامہ، پانی اور پیاسی زمین

رانامحبوب ا ختر …. دستِ نمو
پندرہ جون 2017ءکو دو مقدموں کی سماعت تھی۔ ایک مقدمہ اسلام آباد اور دوسرا ڈیرہ غازی خان میں زیرسماعت تھا۔ ایک میں وزیراعظم کی پیشی تھی‘ دوسرے میں ایک رکن اسمبلی کو دہشت گردی کے مقدمے کا سامنا تھا۔ وزیراعظم کا اسم گرامی نوازشریف ہے اور زیرعتاب ایم این اے کا نام جمشید دستی ہے۔ نوازشریف کے پرستار کہتے ہیں کہ عدلیہ اور فوج‘ وزیراعظم کھانا بند کردے۔ جمشید دستی کہتے ہیں کہ وزیراعظم ارکان اسمبلی کی تذلیل کرنا بند کردیں۔ اونچا بولنے اور پانی کھولنے کے جرم پر ایم این اے کو دہشت گرد نہ سمجھیں۔ ” نون“ کے بجائے قانون کی حکمرانی قائم کریں۔جناب نوازشریف لاہور سے قومی اسمبلی کے رکن ہیں اور جمشید دستی مظفر گڑھ سے رکن قومی اسمبلی ہیں۔ لاہور پاکستان کا دل ہے اور مظفر گڑھ پاکستان کے مرکز میں ہے۔ ہم دل کو پیٹتے ہیں اور مرکز کا رونا روتے ہیں۔ جمشید دستی نوحہ گر ہے۔ وزیراعظم پر جو مقدمہ ہے‘ اس میں عدالت عالیہ نے گاڈ فادر کے حق میں قطری خط مسترد کردیا ہے۔ پانامہ لیکس کا پینڈورا باکس کھلا تو اس میں عمران خان‘ سراج الحق اور شیخ رشید ملوث نہیں تھے۔ یہ نئے زمانے کا کرشمہ تھا۔ اطلاعاتی عہد کا معجزہ تھا۔ آئس لینڈ کے وزیراعظم کا نام آیا تو انہوں نے اپریل 2016ءمیں استعفیٰ دے دیا۔ یوکرائن کے وزیراعظم بھی مستعفی ہوگئے۔ سپین کے وزیر صنعت مستعفی ہو گئے۔ برطانیہ کے وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون غالباً اپنے والد کے نام اور بریکسٹ کے نتائج کی روشنی میں چلے گئے۔ چلی میں ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کے صدر اور اے بی این ایمرو کے ایک بورڈ ممبر بھی اخلاقی دباﺅ کی وجہ سے استعفے دے کر گھر چلے گئے۔ میاں نوازشریف کے خاندان کا نام بھی ان نامور حکمرانوں میں شامل تھا اور انہوں نے اپنا مقدمہ قانون اور بالآخر عوام کی عدالت میں لڑنے کا فیصلہ کیا۔ یہ ان کا قانونی حق سہی مگر پانامہ پیپرز میں نام آنے کے بعد وہ اونچے اخلاقی مقام کے بجائے ایک پھسلن والی ڈھلوان پر کھڑے ہیں۔ اس کے برعکس جمشید دستی پر ڈنگا نالے کا پانی کھولنے کا الزام ہے۔ یہ نالہ مظفر گڑھ کینال پر ہے۔ مظفر گڑھ کینال کے لئے پانی کی مقررہ حد 8700 کیوسک ہے۔ جس دن کسانوں کے مطالبے اور محکمہ آبپاشی کی ضد کے سامنے جھکنے سے انکار پر جمشید دستی نے یہ غیرقانونی کام کیا‘ اُس دن مظفر گڑھ کینال میں مقررہ مقدار سے کم کیوسک پانی دیا جارہا تھا۔ اسی وجہ سے ڈنگا نالہ میں پانی کم تھا اور غریب کسانوں کی فصلیں سوکھ رہی تھیں۔ سرائیکی وسیب کے ان علاقوں میں کسانوں نے ڈیزل سے چلنے والے پیٹر لگارکھے ہیں جن کا پانی کافی مہنگا ہے اور کاشتکار کیلئے فصل لگانا فائدہ مند نہیں رہا۔ اس پر مستزاد بڑے فیوڈل لارڈز کی سینہ زوری ہے۔ وہ محکمہ آبپاشی سے مل کر نہروں کو کٹ لگاکر نہ صرف فصلیں سیراب کرتے ہیں بلکہ غریبوں کی بستیاں بھی ڈبودیتے ہیں مگر محکمہ آبپاشی اور گودوں پر کوئی قانون لاگو نہیں ہوتا کہ قانون مکڑی کا جالا ہے اس میںصرف مکھیاں پھنستی ہیں اور بھڑ اسے توڑ کر بھاگ جاتے ہیں۔ جمشید دستی کوئی سکالر یا فلسفی نہیں‘ اس کی سیاست سیدھی سی ہے۔ وہ کہتا ہے کہ بدعنوان افسر اور ان کے پالتو گودے( فیوڈل اور جاگیردار) انگریز کی باقیات ہیں۔ عوام کے دشمن ہیں‘ وہ چوک چوراہے پر کھڑے ہوکر افسر اور جاگیردار کی ہنڈیا پھوڑدیتا ہے۔ لوگ خوش ہوتے ہیں‘ تالیاں پیٹتے ہیں اور اس کو ووٹ دیتے ہیں۔ میاں صاحب ! آپ اگر جمشید دستی کو مات دینا چاہتے ہیں تو نوآبادیاتی ادارے ٹھیک کردیں‘ گودوں سے جان چھڑوادیں پھر لوگ جمشید دستی کو بھول جائیں گے۔ اگر آپ غریب کسانوں کے حامی ایم این اے پر دہشت گردی کا الزام لگاکر اسے پابندِ سلاسل کریں گے تو افسر شاہی کی رپورٹس آپ کو جو بتائیں‘ جمشید دستی پورے سرائیکی خطے کا ہیرو بنے گا۔ جس خطے میں ہاکڑا اور ستلج سوکھ گئے ہوں‘ جہاں کربلا والوں کی پیاس کو یاد کرکے صدیوں سے ہزاروں لوگ آنسوﺅں سے دل کی آگ بجھاتے ہوں وہاں سوکھے کھلیانوں کے لئے پانی کا بندوبست کرنے والا‘ دہشت گردی کا ملزم ہو تو نوکر شاہی کی ساری منطق اور عوام دشمن ضابطے سر کے بل کھڑے ہوجاتے ہیں۔ بس پانامہ اور پانی کے ملزم میں یہی فرق ہے:
اگر فرصت ملے‘ پانی کی تحریروں کو پڑھ لینا
ہر اِک دریا ہزاروں سال کا افسانہ لکھتا ہے
بتایا جاتا ہے جب وزیراعظم پیشی کیلئے نکلے تو پروٹوکول کا بندوبست نہیں تھا مگر پورے ملک سے اشرافیہ اور جناب نوازشریف کے چاہنے والے جوڈیشل اکیڈمی کے باہر جمع ہوکر اپنے قائد کے حق میں نعرے لگارہے تھے۔ پروٹوکول نہ تھا مگر پانامہ کے ملزم کے ساتھ زمین اور آسماں چل رہے تھے۔ جمشید دستی ستم ظریف ہے۔ جیل کی کال کوٹھڑی میں بیٹھا وہ پانامہ اور پانی کے دو ملزموں کے بارے میں سوچتا ہے اور شعر پڑھتا ہے:
جب میں چلوں تو سایہ بھی اپنا نہ ساتھ دے
جب تم چلو زمیں چلے‘ آسمان چلے
پانامہ کے ملزم نے اپنی صفائی میں سب کچھ جے آئی ٹی کے سامنے بیان کیا۔ پانی کے ملزم کے وکلائ‘ ڈیرہ غازی خان کی خصوصی عدالت میں انصاف کی دہائی دیتے رہے اور شور کرتے رہے کہ جمشید خان کو عدالت میں پیش کیا جائے مگر پولیس نے انکار کیا اور عدالت بھی ملزم کی طرح بے بسی کی تصویر بنی قانون کی کتاب پڑھتی رہی کہ ہمارے دیس میں قانون کی حکمرانی نہیں‘ حکمران کا قانون چلتا ہے۔ منیر نیازی نے کہا:
کسی کو اپنے عمل کا حساب کیا دیتے
سوال سارے غلط تھے‘ جواب کیا دیتے!
ہمیں یہ بھی بتایا گیا کہ جناب نوازشریف اور شہباز شریف جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہوئے تو قانون کی بالادستی ہوئی۔ جمہوریت اور ادارے مضبوط ہوئے۔یہ بات یوں درست ہے کہ اس بار کسی نے جے آئی ٹی پر حملہ نہیں کیا کہ یہ ماتحت افسران کی وہی کمیٹی ہے جس کے بننے پر مٹھائی بانٹی گئی تھی لیکن جب یوسف رضا گیلانی کو عدالت نے نااہل قرار دے کر چلتا کیا تو تاریخ اونگھ رہی تھی اور جمشید دستی کے مقدمے میں تاریخ اندھی ہوکر بال بکھیرے شدید گرمی میں ڈیرہ غازیخان کے کالج چوک میں سوتی تھی۔ تخت ِ لاہور کے قیدی جمشید دستی کے لئے وہ قانون لاگو ہوتا ہے جو کمزوروں کے لئے بنایا جاتا ہے۔ تھل‘ دامان اور روہی جہاں پیاس بگولہ بن کر ناچتی ہے۔ پانی روکنے والے نہیں‘ پانی کے لئے جیل جانے والے عوام کے دلوں پر راج کرتے ہیں۔ پانی چوری کے پرچے کے دو ہفتے بعد اگر پولیس ان پر دہشت گردی ایکٹ کی دفعہ لگائے تو کوئی بات نہیں کہ کمزوروں کے حق کیلئے آواز اٹھانے والوں کو عبرت کا نشانہ نہ بنایا گیا تو کروڑوں کمزور طاقتوروں کو بھی عبرت کا نشان بناسکتے ہیں۔ ان حالات میں عدلیہ اور نظام ِ انصاف ہی ریاست کی ساکھ کو بچانے کا فرض عطا کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کے عوام کی نگاہیں اسلام آباد اور ڈیرہ غازی خان کی دو عدالتوں پر لگی ہیں۔ پانامہ اور پانی کے ملزمان سے زیادہ کم وسیلہ لوگ‘ کسان اور مزدور‘ جن کا مال اور پانی چرایا جارہاہے‘ مسندِ انصاف کی طرف دیکھتے ہیں۔ فیض کہتے ہیں:
مٹ جائے گی مخلوق تو انصاف کرو گے
منصف ہو تو پھر حشر اٹھا کیوں نہیں دیتے
لیہ سے ایک شاعر جمشید ساحل نے ”ناقابلِ معافی جرم“ کے عنوان سے جمشید دستی پر نظم لکھی ہے۔ پانامہ کیس پر کوئی نظم اگر میرے پاس ہوتی تو ضرور اس تحریر کا حصہ بنتی۔اس نظم کی چند سطور حاضر ہیں۔:
اُس کا جرم ناقابلِ معافی تھا
کیونکہ وہ پسے ہوئے طبقات کی نمائندگی کرتا
اور غریبوں کی ہمنوائی کا دم بھرتا تھا
وہ خزاں رسیدہ انسانوں کی زندگیوں میں
بہاروں کے رنگ بھرنا چاہتا تھا
…………
انسان سے محبت کے جرم میں اُسے دھرلیا گیا
اور نفرت کے طمانچے اُس کے چہرے پر ابھر آئے
جیسے پیاسی زمینوں پر
بنجر خواب پڑے ہوں
(سیاسی و سماجی امور پر لکھتے ہیں)
٭….٭….٭

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں


دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved