سچل سرمستؒ کا عشق

اعجاز منگی….مہمان کالم
میڈیا کے موجودہ جنگل میں ایک مور تین دنوں تک ناچتا رہا‘ کسی نے اسے آنکھ اٹھا کر دیکھا تک نہیں۔ کیا یہ ایک عظیم المیہ نہیں کہ ”ہمہ اوست“ کی صدائیں زمین سے پھٹ کر آسمان سے ٹکراتی رہیں‘ مگر کسی نے انہیں سنا نہیں۔ ایک محبت میلہ شروع ہو کر ختم بھی ہو گیا مگر کسی نے نوٹس تک نہیں لیا۔ وادی سندھ کے وہ ویرانے جو تین دنوں تک آباد رہے‘ وہ پھر سے ویران ہو گئے ہیں۔ وہ بیاباں جہاںبازار سجے تھے‘ پھر سے بربادی کے منظر پیش کر رہے ہیں۔ کہاں ہیں وہ دکانیں جہاں آس پاس کے دیہاتوں سے آنے والے پردیسی کچھ دیر ٹھہرے تھے‘جہاں سے انہوں نے ریشمی گلوبند خریدے تھے اور پسینے سے بھیگے ہوئے سینے پر سجائے تھے۔ جہاں سے انہوں نے رنگین دھاگے لئے تھے اور اپنی کلائیوں میں کسی وعدے کو یاد کرتے ہوئے باندھے تھے۔ جہاں سے انہوں نے صرف پرکشش اور پراسرار پتھروں والی انگوٹھیاں خریدی تھیں‘ مگر انہوں نے وہاں سے اپنی معصوم اور مخفی محبتوں کے کھانے کیلئے مٹھائیاں اور پہننے کیلئے پراندے لئے تھے۔ اب وہ میدان پھر سے ویران ہو گیا ہے‘ جو تین دنوں تک ایک چھوٹا سا شہر محسوس ہو رہا تھا۔
سیاست کی آگ میں سلگتے ہوئے اس ملک کے مظلوم انسانوں کو اس حقیقت سے آگاہ کرنے کا فرض ادا نہیں کیا گیا‘ جس حقیقت کے بارے میں نکوس کازانت زاکس نے لکھا تھا ”حقیقت کو تبدیل کر پاﺅ یا نہیں مگر وہ آنکھیں مت بدلنا جو حقیقت کو دیکھتی ہیں۔“ یہ سیاستدان جو حکمران بننے کی حسرت میں حیران و پریشان پھرتے ہیں‘ میڈیا ان کے وہ بیانات کس قدر فخر سے پیش کرتا ہے‘ وہ بیانات جو شام سے پہلے باسی بن جاتے ہیں۔ ایک دن کے بیان سے دوسرے دن مکرنے والے سیاستدانوں کو تو میڈیا فخر سے پیش کرتا ہے‘ مگر الیکٹرانک میڈیا کے امپورٹڈ کیمروں کی آنکھیں ان مزاروں کو کیوں نہیں دیکھتیں‘ جن مزاروں پر جنگلی کبوتر اڑتے ہیں‘ جن مزاروں کے سائلے تلے سادہ انسان صبح سے شام تک بیٹھے رہتے ہیں۔ وہ لوگ وہاں پر وہ کچھ مانگنے آتے ہیں‘ جو کچھ انہیں حکومتوں سے مانگنا چاہئے۔ مگر علم سے دور بے خبری کے اندھیرے میں رکھے گئے ان انسانوں کو مذکورہ ماڈرن میڈیا اس شعور سے منور نہیں کرتا کہ عظیم صوفیاءکے مزارات پر مطالبات کیلئے آنا ان بزرگوں کی تعلیم کے خلاف ہے‘ جنہوں نے عوامی زبان میں لوگوں کو آگاہی دی۔ یہ سارے مزارات جہاں مخصوص ماحول میں چمٹے بجتے ہیں اور ایجنٹ چندے کیلئے لپکتے ہیں۔ ان مزاروں کے مشہور ناموں والے صوفیائے کرام نے کبھی لوگوں کو تعویذ یا دعا دھاگے کی ترغیب نہیں دی۔ مولانا روم سے لے کر قلندر لال شہبازؒ اور بلھے شاہؒ سے لے کر شاہ لطیفؒ تک کبھی کسی صوفی شاعر نے اپنے کلام میں عقیدت مندوں کو یہ نہیں کہا کہ ”ہمارے پاس آﺅ اور اپنے مسائل کروانے کیلئے تعویذ لے جاﺅ‘ یہ دھاگہ لے جاﺅ اور روٹھے ہوئے محبوب کو مناﺅ۔ کسی صوفی شاعر کے کلام میں ایسی کوئی بات نہیں۔ کسی بزرگ نے کسی بھی زبان میں ایسی کوئی بات نہیں کہی۔ نہ عربی میں‘ نہ فارسی میں‘ نہ ہندی میں‘ نہ سندھی میں‘ نہ سرائیکی میں‘ نہ اردو میں اور نہ پشتو‘ بلوچی میں!
میڈیا کو اپنا فرض ادا کرنے کیلئے آگے آنا چاہئے اور بتانا چاہئے کہ ان صوفیاءاکرام کا پیغام محض محبت نہیں‘ بلکہ انسانیت سوز سیاست کے خلاف بغاوت بھی تھا۔ یہ صوفی شعراءہی تھے جنہوں نے سازو آواز کے سنگم سے اس پیغام کو دور دور تک پہنچایا کہ ”وہ محبت ہی نہیں جس میں بغاوت نہ ہو اور وہ بغاوت ہی نہیں جس میں محبت نہ ہو۔“ خیرپور کی غمگین فضاﺅں سے لے کر گوانتاناموبے کے خاموش ساحلوں تک سچائی کی صدا گونج رہی ہے‘ مگر میڈیا خاموش ہے۔ میڈیا اس بارے میں کچھ نہیں کہتا۔ وہ تو یہ بھی نہیں بتاتا کہ دور درازا کی دھرتی پر جو مستوں کامیلہ منعقد ہوا‘ اس کا مرکزی پیغام کیا تھا؟ ان نام نہاد روشنیوں کے شہریوں کو لوڈشیڈنگ کے دوران بھی معلوم نہیں ہو پاتا کہ یہاں سے دور کس جگہ محبت کی قندیل روشن ہوئی؟
کاش ہمارا میڈیا اس دھرتی کے لوگوں کو اپنے بھولے بسرے عشق اور عقیدت کی یاد دلاتے ہوئے یہی بتاتا کہ وادی سندھ کے اس صوفی شاعر کا عرس اب اختتام کو پہنچا‘ جن کا مزار وہاں ہے‘ جہاں حد نظر کھجوروں کے درخت ہیں‘ وہ کھجوروں کے درخت دن کی گرم دھوپ اور رات کی نرم چاندنی میں اس طرح جھومتے ہیں جس طرح دھمال دیکھتے وقت شرمیلے عقیدت مند جھومتے ہیں۔
مگر سچل سرمستؒ کے عقیدت مند گرم مزاج والے وہ فقیر ہیں جو جون کے مہینے میں جلتے ہوئے سندھ سے سفر کر کے خیرپور کے علاقے درازا میں پہنچتے ہیں۔ نارنجی کرتوں میں ملبوس سانولے رنگ کے وہ فقیر جن کے ہاتھوں میں اک تارے ہوتے ہیں‘ جو مزار میں اپنے مرشد کا کلام گاتے ہوئے داخل ہوتے ہیں:
”مجھ کو تیرا جادو لگا
صبر نہ آرام ہے
تیری طرف سے اے صنم
تیری طرف سے اے صنم
نہ خط نہ پیغام ہے“
سچل سرمستؒ کے مزار پر یہ بول اس طرح نہیں گونجتے جس طرح وینا کے سر گونجتے ہیں۔ جس طرح اجرک کی پگڑی پہننے والے موسیقار کے ہونٹوں پر الغوزہ بجتا ہے۔ جس طرح موسم بہار کی صبح خزاں کے ٹوٹے ہوئے پتوںکی پازیب پر اپنی آنکھیں کھولتی ہے۔ جس طرح بیول کے درخت پر بیٹھی ہوئی مینا بولتی ہے۔ سچل سرمستؒ کے کلام میں موسیقی تو ہے‘ مگر اس موسیقی میں مستی ہے‘ اس موسیقی میں دیوانگی ہے۔ اس موسیقی میں درد کا نغمہ نہیں‘ اس موسیقی میں ہمت اور حوصلے کی صدائیںہیں۔ وہ نعرئہ مستانہ جو سچلؒ کے مزار پر گونجتا ہے وہ صوفیاءکی سرزمین پر کہیں اور سنائی نہیں دیتا۔ اس لئے جب سچلؒ کے فقیر گاتے ہیں تو اس طرح گاتے ہیں جس طرح بادل گرجتے ہیں۔ اس لمحے ان کی انگلیاں اکتاروں کے تاروں کو اس طرح چھیڑتی ہیں‘ جس طرح میگھ کوندتی ہوئی بجلیوں کو چھیڑتا ہو!
یہ سچ ہے کہ سچل سرمستؒ کے بارے میں جتنا لکھا گیا‘ وہ بہت تھوڑا محسوس ہوتا ہے۔ اس کا سبب یہ نہیں کہ سچلؒ کا کلام بہت زیادہ ہے۔ سچل سرمستؒ کا کلام سات زبانوں میں ہے۔ انہوں نے سات زبانوں میں شاعری کی‘ مگر سات زبانوں میں شاعری کرنے کا مقصد یہ نہیں تھا کہ ان کا نام ”گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ“ میں لکھا جائے گا۔ سچل سرمستؒ برائے نام اور بے مقصد تاریخ بنانے میں دلچسپی لینے والے انسان نہیں تھے۔ وہ عالم تھے‘ عاشق تھے‘ وہ صرف مذہبی اور معاشرتی ہی نہیں‘ بلکہ سیاسی شعور سے بھی منور تھے۔ وہ صوفی شاعر جو سندھ میں تالپور دور کا غروب ہوتا ہوا سورج دیکھ رہے تھے‘ ان کو معلوم تھا کہ تالپور حکمرانوںکی نااہلی انگریز حکومت کاراستہ صاف کر رہی ہے۔ اس لئے انہوں نے فتح سندھ سے کئی برس پہلے لکھا تھا کہ ”تالپور قلعے کے برج گورے توڑیںگے۔“
یہ پیش گوئی نہیں بلکہ انتباہ تھا مگر تالپور حکمرانی کے نشے میں چور رہے‘ جنہوں نے اپنی حکمرانی کی حفاظت نہیں کی۔ وہ اپنی دھرتی کے لوگوں کی خدمت کیا کرتے؟ اس لئے سچل سرمستؒ نے ان سب زبانوں میں سمجھ اور سچائی کا پیغام پھیلایا‘ جو زبانیں اس وقت سندھ کی دھرتی پر بولی جاتی تھیں۔ سچل سرمستؒ کے اس عمل سے یہ بات بھی واضح ہے کہ وہ زبان کے بارے میں تعصب نہیں رکھتے تھے۔ وہ سمجھتے تھے کہ زبان ایک ذریعہ ہے۔ اصل بات اس میں پنہاں پیغام ہے۔ اس لئے سچل سرمستؒ کی بلندی اس میں نہیں کہ انہوں نے سات زبانوں میں شاعری کی‘ مگر ان کی عظمت اس میں ہے کہ انہوں نے ساتوں زبانوں میں وہی سچائی بیان کی‘ جو سچائی انسان کو تاریخ میں بلند کرتی ہے۔ سچل سرمستؒ کی نظر میں اصل بلندی کلام کی نہیں‘ بلکہ کردار کی ہے۔ سچل سرمستؒ نے اپنے کلام کو اس درجے تک پہنچایا‘ جس درجے پر پہنچ کر کلام بذات خود کردار بن جاتا ہے۔ اگر سچل سرمستؒ کا کلام کردار نہ ہوتا‘ وہ بلند صدا بن کر کیوں کہتے کہ:
جس دل نے پیا عشق کا جام
وہ دل مست و مست مدام
سچل سرمستؒ عربی کے بھی عالم تھے اور فارسی کے بھی عاشق تھے اور سندھی تو ان کی مادری زبان تھی اور سرائیکی ان کی محبت کی زبان تھی مگر وہ انگریزی زبان سے آشنا نہ تھے۔ ان کو معلوم نہ تھا کہ وہ صدیاں قبل شیکسپیئر کے پیارے کردار جولیٹ سے رومیو سے کہا تھا کہ ”چاند کی قسم مت کھاﺅ‘ یہ مستقل نہیں رہتا“ اور رومیو خاموش ہو گیا‘ لیکن سچل سرمستؒ کی محبت اس چاند کے مانند تھی جو کبھی کم نہیں ہوتا‘ جو مستقل بڑھتا رہتا ہے‘ اس لئے یہ بات سچل ہی کہہ سکتے ہیں کہ:
”آ کر دیکھو عشق سچل کا
کل سے آج زیادہ ہے“
زمان اور مکان میں نہ سمانے والی محبت سچل سرمستؒ کی ہے۔ وہ محبت روایت نہیں‘ بغاوت ہے۔ اس محبت کے شعلے جب سینے میں دہکتے ہیں تو پھر جون کا جلتا ہوا سورج بھی آسمان میں اڑتا ہوا غبارہ محسوس ہوتا ہے۔ اگر ہسپانوی مصور سیلویڈور ڈالی کا گزر اس سرزمین سے ہوتا‘ جہاں حدنگاہ تلسی کے پیار جیسے کھجور کے درخت ہیں تو وہ جون کے مہینے میں محبت کا ایک منظر یہ بھی پینٹ کرتا کہ ایک بزرگ سورج کے غبارے کو دل کے دھاگے میں باندھ کر اپنے مرشد کی طرف بچے کی طرح بھاگتا جا رہا ہے!
اس تصویر کا عنوان سچل سرمستؒ کے یہ الفاظ ہوتے:
”سچل عاشق بوڑھا نہیں ہوتا
بھلے داڑھی کے سارے بال
سفید ہو جائیں!!!“
(تصوف اور روحانی امور پرلکھتے ہیں)
٭….٭….٭

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں


دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved