سیٹھ رمضان اور غریب رمضانی

محمد علی سحر….اظہار خیال
رحمتوں اوربرکتوں کا مہینہ رمضان المبارک اپنے اختتام کی طرف گامزن ہے اس ماہ مبارک کو ساری دنیا کے مسلمان نیکی کمانے کا ایک بہترین موقع تصور کرتے ہیں کہ ماہ رمضان میں ہر نیکی کا اجر کئی گنا بڑھ کر ملتا ہے اس لئے دنیا کا ہر مسلمان رمضان میں زیادہ سے زیادہ نیکیاں کمانے کی کوشش کرتا ہے لیکن مملکت اسلامیہ پاکستان میں یار لوگ ماہ رمضان میں نیکی کے ساتھ ساتھ مال ودولت بھی کماتے ہیں۔ رمضان کا چاند نظر آتے ہی تاجر حضرات پھلوں، سبزی اور گوشت کے بیوپاری تمام تر اشیائے صرف کے داموں میں دگنا اضافہ کرڈالتے ہیں پھر اسی ناجائز منافع سے یہ بڑے کاروباری زکوة بھی ادا کرتے ہیں فطرانہ دیتے ہیں۔ مساجد میں افطاری کا اہتمام کرواتے ہیں غریبوں ، مسکینوں کو راشن اور کپڑا دیتے ہیں یعنی نیکی کمانے اور مال کمانے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے اور اپنے طور پر دین اور دنیا دونوں سمیٹ لیتے ہیں ۔
حالیہ رمضان میں تو عوام نے مہنگے پھلوں کے خریدنے کا تین دن بائیکاٹ بھی کیا اس سے وقتی طور پر پھلوں کی قیمت میں کمی آئی اورر بائیکاٹ ختم ہوتے ہی پھرسے پھلوں کے دام آسمان پر جاپہنچے بائیکاٹ کے حوالے سے بھی ہماری عوام دو حصوں میں تقسیم نظر آئی ایک طبقے نے اس بائیکاٹ کو درست قرار دیا تو دوسرے طبقے نے یہ کہہ کر اس کی مخالفت کی کہ اس طرح بائیکاٹ کرنے سے صرف عام غریب ریڑھی والے کا نقصان ہوا بڑے بیوپاری اس نقصان سے بالکل محفوظ رہے۔ ہمارا اپنا بھی یہی خیال ہے کہ غریب ریڑھی والے چونکہ روز پھل یا سبزی فروخت کرکے اپنی روزی کماتے ہیں لہٰذا ان سے خریداری نہ کرنے کا فیصلہ قابل قبول نہیں ہے اس سے تو بہتر یہ ہوتا ہے کہ ان ریڑھی والوں کو بھی ساتھ ملاکر انہیں بھی اس بائیکاٹ مہم کا حصہ بنانا چاہیے تھا وہ اس طرح کے یہ غریب ریڑھی اور ٹھیلے والے بڑے آڑھتیوں کا بائیکاٹ کرتے اور تین دن تک ان سے فروٹس نہ خریدتے اسی طرح سے یہ خود نقصان سے محفوظ رہتے اور قیمتوں میں اضافہ کرنے کے اصل ذمہ دار بڑے مگرمچھ تھوڑا ہی سہی مگر نقصان ضرور اٹھاتے مگر بعض حضر ات نے ہماری اس بات کی نفی کرتے ہوئے کہا کہ ریڑھی والے منڈی سے سستے داموں پھل اور سبزی لاکر مہنگے داموں بیچتے ہیں یہ ریڑھی والے سب سے زیادہ منافع کماتے ہیں لہٰذا بائیکاٹ ان ریڑھی والوں کا ہی کیا جانا چاہیے۔ کیونکہ مصنوعی مہنگائی کے اصل ذمہ دار تو یہی چھوٹے ٹھیلے اور ریڑھی والے ہیں اس کا واضح مطلب یہی ہے کہ اگر ماہ رمضان میں سیٹھ رمضان اشیائے صرف پھل اور سبزی کی قیمت میں ایک گنا اضافہ کرتا ہے لیکن ریڑھی والا غریب رمضانی یہ پھل اور سبزی کئی گنا اضافے کے ساتھ فروخت کرتاہے۔
گویا سیٹھ رمضان ہو یا غریب رمضانی سب عوام کی جیبوںپر کھلے عام ڈاکہ ڈالتے ہیں اور بے گناہ کے بے گناہ ٹھہرتے ہیں اس ماہ رمضان میں عوام کے مہنگے پھلوں کو خریدنے سے گریز کرکے بائیکاٹ کرنا بڑا خوش آئند ہے یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ اب پاکستانی عوام اپنے حقوق کیلئے متحرک اور متحد ہورہے ہیں اور عوام کی یہ کوشش یقینا مستقبل میں ان کے حقوق کی حفاظت کا ثبوت اور ضامن بن جائے گی اور اب اپنے حقوق کے لیے عوام کو متحد ہونا ہی پڑے گا۔ کیونکہ ہماری عوام کا ہر سطح پر بری طرح استحصال کیاجارہا ہے اور عوام ماضی میں سیاسی جماعتوں کی طرف دیکھتے رہے ہیں ان کو جان ومال سے بھرپور سپورٹ کرتے رہے ہیں مگر پاکستان کی تمام سیاسی جماعتوں نے عوام کوبری طرح مایوس ہی کیا ہے اب عوام کو خود ہی اپنے طور پر بیدار ہوکر ماہ رمضان اور دیگر اہم مذہبی مواقعوں پر مہنگائی کرنے اور اشیائے صرف میں قیمتوں میں ظالمانہ اضافے پر سیٹھ رمضان اور ریڑھے والے رمضانی کا بھرپور کڑا احتساب کرنا ہوگا۔ جو چیز مہنگی ہو عوام اس سے منہ موڑ لے اسے خریدنا چھوڑ دے اور اگر ایسا کرنا پڑے تو عوام تین دنوں تک کیا تیرہ دنوں تک بائیکاٹ جاری رکھے تاکہ ناجائز منافع خوروں کے منافع کمانے والے ہر چیز مہنگے داموں پر فروخت کرکے اپنی تجوریاں بھرنے والے ماہ رمضان میں بھی اللہ سے نہیں ڈرتے اسی لئے پھل ، سبزی دگنے داموں پر بیچتے ہیں۔ منڈی سے پھل ، سبزی 20روپے کلو لاکر شہر میں 100روپے کلو پر بیچتے ہیں مگر جب عوام یہ مہنگی سبزی اورفروٹ خریدنے سے انکار کردے گی تو یہ بائیکاٹ کے خوف سے ہی اشیائے صرف سستی فروخت کریں گے اب بائیکاٹ ہی سیٹھ رمضان اور رمضانی کو سدھار ے گا۔ فطرتاً جو لوگ ہیں دولت کے اسیران پر باتوں کا اثر ہوتا نہیں ان کا بائیکاٹ نہ جب تک کریں کوئی حربہ کارگر ہوتا نہیں۔
(عوامی اور سماجی امور پر لکھتے ہیں)
٭….٭….٭

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں


دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved