پاکستان کیخلاف سازش‘ کن حالات میں لکھی

شفقت حسین….پیش رفت
کسی ظاہر اور باطن کے خوف سے بے نیاز ہوکر شیروں کی کچھاروں اور سانپوں کی بلوں میں ہاتھ ڈال دینا بلکہ خونخوار درندوں کی دُموں پر پاﺅں رکھنا اور زہریلے اور خطرناک اژدھوں کو اپنے جوتوں تلے چشم زدن میں مسل دینا پاکستانی صحافت کے امام سمجھے جانے والے ”خبریں“ گروپ آف نیوز پیپرز اور” چینل ۵“ کے چیف ایگزیکٹو ضیاشاہد کا شروع دن سے خاصا بلکہ طرہ ¿ امتیاز رہا ہے اور ان کا یہی دلیرانہ اور جرا¿تمندانہ طرزعمل اور انداز انہیں ملک کے دوسرے صحافیوں اور دانشوروں کے مقابلے پر ممیزو ممتاز بناتا ہے۔ ملکی صحافت کی حالیہ تاریخ پر نظر ڈالیں تو ہمیں دو ایسے دلخراش واقعات دیکھنے‘ سننے اور پڑھنے کو ملتے ہیں جس سے گھروں میں بہو بیٹیاں اور مائیں بہنیں رکھنے والوں کے دل ڈوب سے جاتے ہیں۔ جنوبی پنجاب کے ایک دور افتادہ ضلع مظفرگڑھ کی بدقسمت مختاراں مائی کے ساتھ بااثر ملزمان کی جانب سے برپا کی جانے والی قیادت صغریٰ اور اس کی عزت کا جنازہ نکالے جانے کا واقعہ ہو یا گوجرانوالہ کے ایک نواحی علاقے سے تعلق رکھنے والے مجبور مقہور اور بدنصیب بیٹی فرازنہ کا وہاں کے بشارت عرف بشارتی نامی غنڈے کے ہاتھوں پامال ہونے والے آنچل کی داستان دلخراش ہو‘ جس طرح ضیا شاہد نے جرا¿ت‘ دلیری اور بے خوفی سے ان دونوں واقعات کے مرتکبین کے ساتھ ٹکر لی اور انہیں کیفرکردار تک پہنچایا اس سے جناب ضیاشاہد غریب والدین کے شکریئے کے مستحق تو ہیں ہی مبارک باد کا استحقاق بھی یقینا رکھتے ہیں۔
زیرنظر تحریر رقم کرتے وقت یہ دو واقعات تو ضمناً ذہن میں آگئے حالانکہ جرا¿ت مندی کے ایسے واقعات ہمیں 26 ستمبر 1992ءسے لے کر تادم تحریر ”خبریں“ کے صفحات پر جابجا نظر آتے ہیں کہ جناب ضیاشاہد نے مجبوروں پر ڈھائے جانے والے ہر ظلم کا مقابلہ دیوانہ وار کیا اور ظالموں کے خلاف ہمیشہ فرنٹ فٹ پر کھیلے۔ یہاں تک کہ انہوں نے اپنے اخبار کا سلوگن اور نعرہ ہی ”جہاں ظلم وہاں خبریں“ منتخب کیا جس پر الحمدللہ آج تک وہ قدم جمائے ہوئے ہیں اور ظلم کا نوٹس لیتے ہوئے ان کے پایہ ¿ استقلال میں کبھی لغزش نہیں آئی۔ جناب ضیاشاہد نے بااثر اور مقتدر سمجھی جانے والی قوتوں کے سماج دشمن رویوں ہی کے نہیں وطن فروشوں اور پاکستان دشمن عناصر کے خلاف بھی ہمیشہ سینہ تان کر اور خم ٹھونک کر شدید سے شدید ترین ردعمل ظاہر کیا اور علیحدگی پسند طاقتوں کے خلاف ہمیشہ اپنا قلم متحرک رکھا۔
مجھے 2010ءکے بعد اپنے استاد مکرم جناب ارشاد احمد حقانی مدظلہ العالی کے دنیا سے اٹھ جانے کے بعد مختلف حیثیتوں میں جناب ضیاشاہد کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملا‘ سچی بات ہے کہ وہ سرزنش بھی کرتے ہیں تو اس سے کہیں بڑھ کر رہنمائی اور آگے بڑھنے کے مواقع بھی مرحمت فرماتے ہیں۔ کام کرنے والے ورکر سے کام لینا بھی جانتے ہیں اور اس سے کہیں بڑھ کر خود اپنے ہاتھوں سے کام کرنا بھی کوئی انہی سے سیکھے۔ ان سے بڑھ کر انتھک اور محنتی اخبارنویس شاید خال خال ہی نظر آتے ہوں۔
زیربحث تصنیف ”پاکستان کے خلاف سازش“ ایک ایسی ریفرنس کے طور پر پیش کی جانے والی کاوش اور کوشش ہے جو اپنی مثال آپ ہے۔ دفتر میں وقتاً فوقتاً جناب ضیاشاہد صاحب سے اس حوالے سے گفتگو ہوتی رہتی تھی کہ جناب آپ کے سینے میں ماضی کے بہت سے واقعات دفن ہیں‘ انہیں طشت ازبام کیجئے۔ ماضی قریب و بعید میں بہت سے اکابرین ایسے ہیں جن سے براہ راست آپ کی یاد اللہ رہی ہے ان کے ساتھ ہونے والی ملاقاتوں کا احوال قلمبند کریں۔ ضیاصاحب خود بھی اس حوالے سے کافی ایگریسیو تھے اور جلد سے جلد ”یادیں اور ملاقاتیں “لکھنے کے آرزو مند تھے۔ چنانچہ یکم جنوری 2016ءکی دوپہر 12 بجے ان کا قلم صفحہ ¿ قرطاس پر مچلنے کے لئے بے تاب ہوگیا اور یہ اعزاز خوش قسمتی سے میرے حصے میں آیا اور یوں میں ان رازہائے درونِ خانہ کو تحریری شکل دینے پر مامور کردیا گیا اور دو جنوری کو سابق صدر فیلڈ مارشل ایوب خان کے ساتھ ہونے والی ایک ملاقات کا احوال شائع ہوا جو سابق سیکرٹری الیکشن کمیشن آف پاکستان کنور محمد دلشاد کی معیت میں فیلڈ مارشل کی رہائش گاہ پر ہوئی اور جناب ضیاشاہد کا یہ دور ایک خاص مفہوم میں ابھی طالبعلمی کا تھا‘ ازاں بعد ”یادیں ملاقاتیں“ کے زیرعنوان یہ سلسلہ بڑھتا چلا گیا اور نہ صرف اس دوران سیاستدانوں اور فلم نگر کے مرکزی کرداروں پر بہت کچھ لکھا بلکہ وطن دشمن اور علیحدگی پسند عناصر کی بھی خبر لی گئی۔
سچی بات یہ ہے کہ میں اس دوران چھ چھ، سات سات بلکہ بعض اوقات آٹھ آٹھ گھنٹے تک جناب ضیاشاہد صاحب کے ساتھ مصروف رہتا بلکہ یہاںتک ہوتا کہ میں تھک جاتا مگر موصوف ہمیشہ کی طرح ہشاش بشاش اور فریش۔ وطن دشمن عناصر کے خلاف لکھتے وقت تو وہ بعض اوقات اس قدر جذباتی ہوتے کہ ان کی آنکھوں میں نمی نہیں بلکہ آنسو آجاتے۔ خود اٹھ اٹھ کر کمزور اور منحنی جسم کے باوجود اپنے دفتر میں موجود مختصر سی لائبریری سے کتابیں تلاش کرتے اور ان میں سے حوالہ جات نکالتے کہ میں حیران رہ جاتا۔ اور حوالے بھی غیرمستند نہیں بلکہ معتبر اور ٹھوس۔ اس دوران ان کے طعام پر مامور نوجوان کھانا لے کر آتا لیکن وہ اپنے کام میں اس قدر منہمک ہوتے کہ کھانا پڑا پڑا ٹھنڈا ہو جاتا اور ایک نہیں بلکہ دو دو تین تین مرتبہ اسے اوون میں گرم کرنے کی نوبت آتی اور ہم دونوں محض چائے کی پیالیوں اور بسکٹ پر گزارا کرتے۔ ان کے میڈیکل اسسٹنٹ اصغر علی شہزاد ہر گھنٹے دو گھنٹے بعد ان کے سر پر آن کر ایستادہ ہو جاتے کہ جناب! شوگر لیول کم ہونے کاخطرہ ہے۔ نیز یہ کہ بلڈ پریشر بھی مسلسل مصروف رہنے سے کم یا زیادہ ہو سکتا ہے‘ لیکن ضیا صاحب اس کی دائیں کان سے سن کر بائیں سے نکال دیتے اور سلسلہ ہائے مضامین جاری رکھتے۔
جب پاکستان کے غداروں اور علیحدگی پسندوں کے بارے میں ضیاشاہد صاحب نے لکھنا شروع کیا تو ”خبریں“ کی چاروں صوبوں میں مقبولیت کے باعث میں اکثر سوچتا کہ اس سے ہمیں خدانخواستہ کسی مزاحمت کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا ہے اور یہی چہرے ماضی کی طرح مستقبل میں بھی اقتدار میں آ سکتے ہیں لہٰذا کسی مالی نقصان کا بھی اندیشہ اور خدشہ بے معنی نہیں تھا لیکن ضیاصاحب ہر قسم کے نتائج کا سامنا کرنے کیلئے تیار رہتے۔ انہوں نے ماضی میں قوم پرست اور سندھو دیش کے قیام کے آرزومند جی ایم سید سے ایک نہیں کئی استفسارات کئے تو بار بار اصرار اور انتظار کے باوجود جی ایم سید کا کوئی ردعمل یا گرامی نامہ موصول نہ ہو سکا کہ ضیاصاحب کے پوچھے جانے والے سوالات اور کئے جانے والے استفسارات کا کوئی جواب ہی نہیں تھا۔ اس طرح انہوں نے ”ولی خان جواب دیں“ لکھی تو وہ بھی لاجواب تھے اور اپنی زنبیل سے کچھ نہ نکال سکے۔ پاکستان کو شکست و ریخت سے دوچار کرنے بلکہ خدانخواستہ (خاکم بدہن) توڑنے کی سازش تو ”پاکستان کے خلاف سازش“ کے مرکزی کردار تو قیام پاکستان سے پہلے اور بعد میں بھی کرتے کرتے قبروں میں چلے گئے مگر بدقسمتی سے ان کی اولادیں بھی اسی فکر میں غلطاں ہیں اور ان کی مذموم کوششیں بھی ہنوز جاری ہیں۔ خان عبدالغفار خان ہو یا ان کا بیٹا خان عبدالولی خان ہو یا اس کا سپوت بلکہ کپوت اسفند یار ولی خان‘ بلوچی گاندھی عبدالصمد اچکزئی کا بیٹا محمود خان اچکزئی ہو یا نواب اکبر بگٹی کے پوتے براہمداغ بگٹی یا نواب خیر بخش مری کی اولاد حربیار مری ہو‘ خان آف قلات کا بیٹا خان داﺅد ہو یا کوئی اور ان شاءاللہ العزیز اپنے مذموم مقاصد میں ہرگز کامیاب نہیں ہوں گے کیونکہ ان کے لتے لینے کیلئے جناب ضیاشاہد جیسے قلم کے مجاہد ماشاءاللہ پاکستان میں موجود ہیں۔ جب تک پاکستان کی نظریاتی وجغرافیائی سرحدوں کے محافظ ضیا صاحب اور انہی کے قبیل کے دوسرے صاحب قلم موجود ہیں‘ اس ملک کی طرف کوئی میلی آنکھ اٹھا کر نہیں دیکھ سکتا۔ لیکن ان کا یہ خدشہ بھی ہرگز بے معنی اور بے بنیاد نہیں کہ ماضی میں جس طرح مشرقی پاکستان بنگلہ دیش کے قالب میں ڈھلا اگر پاکستان کے موجودہ مخالف اور مرکزگریز قوتوں کی مذموم سازشوں کو ناکام نہ بنایا گیا تو خدانخواستہ پاکستان کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
جناب ضیاشاہد نے ”پاکستان کے خلاف سازش“ لکھ کر جس قدر جرا¿ت کا اظہار کیا ہے اس پر ”خبریں“ اور ضیاصاحب مبارکباد اور پوری قوم کے شکریئے کے مستحق ہیں۔
(معروف صحافی قومی امور پرلکھتے ہیں)
٭….٭….٭

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں


دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved