تازہ تر ین

”داعش “کا بانی کون ؟ مکروہ چہرہ بے نقاب

لاہور (خصوصی رپورٹ) مشرق وسطیٰ کے اسلامی ممالک میں خونریزی کرنے والی عسکریت پسند تنظیم دولت اسلامیہ عراق و شام کی حقیقت ظاہر کرنے اور تنظیم کی پشت پر موجود ممالک کو بے نقاب کرنے کے بارے میں ابھی تک مختلف رپورٹیں شائع ہوتی ہیں۔ کینیڈا کی ایک ویب سائٹ نے حال ہی میں شائع ہونے والی اپنی رپورٹ میں دعویٰ کردیا ہے کہ داعش کے بنانے میں جن ممالک نے کلیدی کردار ادا کیا ہے ان میں اسرائیل‘ فرانس‘ برطانیہ اور امریکہ سرفہرست ہیں۔ گلوبل ریسرچ کی اس رپورٹ میں بعض ایسے دستاویزی ثبوت کا حوالہ دیا گیا ہے جس سے ثابت کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ داعش کو مذکورہ ممالک کے خفیہ منصوبوں کی تکمیل کے لئے ایک آلہ کار کی حیثیت رکھتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق اسرائیل نے 2006ءکے بعد مشرق وسطیٰ میں بڑے پیمانے پر خونریزی کرکے رعب بٹھانے والی ایک وحشی تنظیم کے قیام کی کوششیں شروع کی تھیں۔ صیہونی ایجنسیوں نے عراق اور امریکی جارحیت کے بعد وہاں مزاحمت کرنے والی تنظیموں میں سے بعض عناصر کو عراق کے شمالی کرد اکثریتی صوبہ کردستان کے راستے سے تعاون فراہم کرنا شروع کیا تھا۔ صیہونی ایجنسی نے اپنا مہرہ بننے والے عسکریت پسندوں کو کرد آرمی کے ذریعے عسکری تربیت دلوائی۔ انہی عناصر نے بعد میں جاکر مزاحمت کار تنظیموں میں شمولیت اختیار کرکے داعش کی شکل اختیار کرلی۔ اسرائیل نے کردستان کے راستے سے داعش کی شکل اختیار کرلی۔ اسرائی نے کردستان کے راستے سے داعش کے جنگجوﺅں کے علاج معالجہ اور دیگر ضروریات پوری کرنے کا سلسلہ جاری رکھا۔ یہی حال برطانیہ کا رہا۔ مشرق وسطیٰ کو کئی حصوں میں تقسیم کرنے میں ماضی میں اہم کردار کرنے والے ملک کی حیثیت سے برطانیہ نے بھی شام اور عراق میں داعش اور اس میں دیگر عسکری تنظیموں کو اپنے مقاصد کے لئے استعمال کیا۔ برطانوی انٹیلی جنس نے باقاعدہ ایسے افراد کو عراق و شام بھیجا جنہوں نے عسکریت پسندوں کا روپ اپنا کر اس وحشی گیم میں حصہ لیا۔ یہی کردار امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے اور دیگر اداروں نے ادا کیا ہے۔ ویب سائٹ کا کہنا ہے کہ داعش کے خلاف گزشتہ تین برسوں سے جنگ جاری ہے لیکن اس کے باوجود آج تک داعش کا کوئی ایک بھی سینئر عسکری کمانڈر امریکی ادارے گرفتار نہیں کرسکے جس سے داعش سے متعلق مغربی قوتوں کے پراپیگنڈے کا جھوٹ کھل کر بے نقاب ہوتاہے۔ ویب سائٹ کے دعوے کے مطابق داعش کو فنڈنگ کرنے میں کئی خلیجی ممالک بھی ملوث ہیں۔ ان ممالک میں سے بعض نے امریکہ کے ساتھ مل کر عراق میں دہشت گرد تنظیمیں بنانے میں کردار ادا کیا ہے۔ دوسری جانب عراق خبررساں ادارے نے اپنی ایک حالیہ رپورٹ میں عراقی حکومت کی جانب سے عراق میں داعش کے خاتمے کے باقاعدہ اعلان کو فریب قرار دیتے ہوئے عراق میں باقاعدہ ایسے علاقوں کی نشاندہی کی ہے جہاں اب بھی داعش کا کنٹرول قائم ہے۔ الجزیزہ کے مطابق صوبہ نینوی کاتلعفر‘ کرکوک کے علاقے الحویجہ‘ الانبار اور کئی دیگر علاقوں میں اب بھی داعش کا کنٹرول ہے تاہم عراقی حکومت نے امریکہ کے ساتھ مل کر کسی مخصوص ایجنڈے کی تکمیل کی غرض سے داعش کے خاتمے کا اعلان کیا ہے۔

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں


دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved