آخری باب

اکرام سہگل ….توجہ طلب
پاکستانی تاریخ میں احتساب کی روایت کے اعتبار سے 10جولائی 2017کا دن دور رس اثرات مرتب کرے گا اور ممکن ہے کہ ملک کی منزل کے تعین میں بھی اس کی جھلک نظر آئے۔ پناماگیٹ کی تحقیق کرنے والی جے آئی ٹی نے شریف خاندان کے ظاہر کردہ اثاثوں اور ذرائع آمدن میں بڑی عدم مطابقت کی نشان دہی کردی ہے۔ دستاویزات میں ردّوبدل، جعلسازی، حلف کے باوجود دروغ گوئی اور ریکارڈ میں تحریف جیسے الزمات کے ٹھوس شواہد اس رپورٹ میں پیش کیے گئے ہیں۔ جے آئی ٹی نے وزیر اعظم اور ان کے خاندان کی ملکیت میں برطانیہ اور پاکستان کی کمپنیوں کے ذریعے ”قرض اور تحائف کی شکل میں بھاری رقوم کی خلاف ضابطہ منتقلی“ کے ثبوت فراہم کیے ہیں۔سادہ سا سوال یہ ہے کہ مسلسل خسارے میں رہنے والے کاروبار سے اتنی بیش قیمت جائیدادیں کیسے خریدی جاسکتی ہیں؟
جے آئی ٹی میاں نواز شریف، ان کی اولاد حسن، حسین اور مریم نواز کے خلاف نیب کے ذریعے تفتیش کی تجویز پیش کرچکی ہے۔ تفتیش کے نتائج کو بیان کرتے ہوئے رپورٹ کے اختتامیے میں جے آئی ٹی قطری خط کو بھی محض فسانہ قرار دیا۔ متحدہ عرب امارات میں مزید ایک آف شور کمپنی ایف زیڈ ای کا بھی انکشاف ہوا ہے، نواز شریف 2014تک جس کے چیئرمین رہے۔ جے آئی ٹی کی رپورٹ میں نشان دہی کی گئی ہے کہ اپنے کاروبار سے حاصل ہونے والے حصے اور مالی فوائد کے علاوہ نواز شریف کے ذاتی بینک اکاو¿نٹ میں ایسی رقوم کی منتقلی ہوتی رہی ہے جن کے ذرائع نامعلوم ہیں۔ وزیر اعظم اپنے اثاثوں کی تفصیل ظاہر کرنے میں غلط بیانی کے مرتکب بھی پائے گئے ہیں۔ ایف آئی اے اور نیب کی تحقیقات میں بیان کردہ تفصیلات کے برخلاف اگست 1992کے برخلاف ستمبر 1991 میں منی لانڈرنگ کا آغاز ہوا۔ دو اکاو¿نٹس میں 2.23ملین ڈالر جمع کروائے گئے۔ پہلے یہ رقم نیشنل بینک کے موجودہ صدر سعید احمد کے کھاتے میں جمع ہوئی اور بعدازاں اس رقم کے ذرائع چھپانے کے لیے اسے ”ڈالر بیرر سرٹیفکیٹ“ کی شکل میں موسیٰ غنی اور طلعت مسعود قاضی کے اکاو¿نٹس میں جمع کروادیا گیا۔
وزیراعظم اور ان کے خاندان کے خلاف پناما گیٹ کے بعد کھلنے والے پنڈورا باکس کے اثرات ”منی لانڈرنگ“ کی وجہ سے صرف پاکستان تک محدود نہیں رہیں گے۔ ممکنہ طور پر شریف خاندان کو برطانیہ، اقوام متحدہ اور سعودی عرب میں فوجداری مقدمات کا سامنے کے ساتھ ساتھ وہاں اپنے، اب تک کے پوشیدہ، اثاثوں کو بھی ظاہر کرنا پڑ سکتا ہے۔
مسلم لیگ نون کے سرکردہ راہنماو¿ں نے 20اپریل کے عدالتی فیصلے پر بنا سوچے سمجھے فتح کا جشن منایا۔ جب کہ دو معزز سینئر جج صاحبان نے وزیر اعظم کو ”صادق اور امین“ ثابت نہ ہونے کی وجہ سے نااہل قرار دیا تھا۔ اپنے دو سینئر ساتھیوں کی فیصلہ کُن رائے سے اختلاف کیے بغیر، بینچ کے دیگر جج صاحبان نے بھی وزیر اعظم کو بری نہیں کیا بلکہ جے آئی ٹی تشکیل دے کر ٹھوس شواہد جمع کرنے کے احکامات جاری کیے۔
نون لیگ کے بزرج مہر جب جے آئی ٹی میں اپنے پسندیدہ ارکان شامل کروانے میں ناکام ہوگئے تو اسے متنازع بنانے کے لیے سرگرم ہوئے۔ نون لیگ کے ارکان پارلیمنٹ نے جے آئی ٹی کے خلاف انتہائی نامناسب لب و لہجہ اختیار کیا۔ پراپیگنڈے کے لیے بشمول پی ٹی وی ریاستی مشینری کا بے دریغ استعمال کیا اور جے آئی ٹی خلاف نفرت انگیز فضا پیدا کرنے کی کوشش کی، جس کا اصل ہدف سپریم کورٹ ہی تھی۔ پریس انفارمیشن ڈویژن(پی آئی ڈی) کے پلیٹ فارم سے جے آئی ٹی رپورٹ کو مسترد کیا گیا، ردّی قرار دیا گیا لیکن ہیجان برپا کرکے بھی حکومتی پارٹی اپنی حمایت میں عوام کو سڑکوں پر نہیں لاسکی۔ ”سازشیں“ ناکام بنانے کا عہد کرتے ہوئے بیرسٹر ظفر اﷲ نے جے آئی ٹی رپورٹ کے لیے ”سیاسی بیان“ اور ”عمران نامہ“ جیسی اختراعات تراشیں۔
اعلی عدلیہ کے خلاف ہرزہ سرائی اور بہتان طرازی ریاست کو مفلوج کرنے کے مترادف ہے۔ ایسے حالات میں خانہ جنگی اور داخلی انتشار جیسی کوئی بھی صورت حال پیدا کی جاسکتی ہے۔ ان بنیادوں پر عدالت وزیر اعظم اور مسلم لیگ ن میں ان کے کئی ساتھیوں کو انصاف کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کرنے اور انصاف کے اداروں کو بدنام کرنے کی پاداش میں نااہل قرار دینے کا پورا اختیار رکھتی ہے۔
اس بات کے کافی ثبوت مہیا ہوچکے کہ وزیراعظم اور ان کے خاندان کے افراد نے غلط بیانی کی، اپنے اثاثے چھپائے اور حلفیہ کذب بیانی کی۔ تحقیقاتی عمل کو متاثر کرنے کے لیے اثر ورسوخ کے استعمال سے لے کر مالی وسائل تک ہر راستہ اختیار کیا۔ مسلم لیگ ن کے لیے اگر حکومت کا تسلسل چاہتی ہے تو نیا لیڈر منتخب کرنے کے سوا اب چارہ نہیں۔
بظاہر اپنی خاندانی سیاسی میراث کی وارث اور جگنو محسن کی ہونہار شاگرد مریم نواز نے، 5جولائی کو جے آئی کی پیشی کے موقع پر، اپنے سیاسی کیرئیر کا آغاز ایک متاثر کُن پرفارمنس سے کیا(کیا انہیں ایئر پیس سے ہدایات دی جارہی تھیں؟) جے آئی ٹی نے انکشاف کیا کہ مریم نواز کی جانب سے جمع کروائی گئیں دستاویز میں، جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ وہ ”بینفشل اونر“ نہیں بلکہ ٹرسٹی ہیں، جعل سازی کی گئی۔ جس ”کیلیبری“ فونٹ میں یہ دستاویز لکھی گئی وہ اس وقت تک عوامی استعمال کے لیے دستیاب ہی نہیں تھا، جس دور میں اس دستاویز کا وجود ثابت کرنے کی کوشش کی گئی۔ قانوناً یہ ایک جرم ہے، اس سے قطع نظر جے آئی ٹی مزید تفصیلات بتاتی ہے کہ معلوم ذرائع آمدن سے ہٹ کر مریم نواز 2009سے 2016کے دوران 73ملین سے 830ارب روپے کے بھاری تحائف وصول کرتی رہی ہیں۔
مسلم لیگ ن کے رویے سے عیاں ہے کہ قانون کی حکمرانی کا تصور ہی ان کے نزدیک بے معنی ہے۔ شریفو ں کا لشکر بلاجواز ملک میں سیاسی انتشار پیدا کرسکتا ہے اور پاکستان کے تاروپود کو مجروح کرسکتا ہے۔ شریفوں کے لشکر کا طرز بیاں نفرت انگیز ہے جو کشیدگی کو اُس سطح پر لے جاسکتا ہے، جہاں کئی ممالک داخلی انتشار کا شکار ہوچکے ہیں۔ لیکن شریفوں اور زرداریوں کو اس کی کب پروا رہی؟ ان کی بیرون ملک دولت پاکستان میں موجود (یا جن کی ملکیت یہ ظاہر کرتے ہیں) اثاثوں سے کئی گنا زیادہ ہے۔ آئین کی پاسداری، سویلین اتھارٹی کے لیے ایسے سخت اقدامات کی ضرورت پڑتی ہے جن کا مقصد شہریوں کا تحفظ کے ساتھ ساتھ جمہوریت کا تحفظ بھی ہوتا ہے۔ اپنے دور میں دنیا کے عظیم جمہوریت پسندوں میں سرفہرست صدر ابراہام لنکن نے ملک کی وحدت قائم رکھنے کے لیے 1861میں مارشل لاءنافذ کیا تھا۔
نظام انصاف کی کڑی آزمائش شروع ہوچکی۔ کیا بارہا حقائق سامنے آنے اور ان کی جانچ پڑتال ہونے کے باوجود یہ قوم اہل انصاف کی بے اعتنائی کی متحمل ہوسکتی ہے؟ جب تک مجرم ثابت ہونے والوں کو ، چاہے وہ امیر ہوں یا غریب، سزا نہیں دی جاتی، عدل قائم ہوگا؟ سچائی کے پر معاملے وزیر اعظم مفلس پائے گئے ہیں اور اب اپنی اس اخلاقی حیثیت سے کیا وہ حکمرانی کے قابل رہے ہیں؟ عدالتوں میں مزید تضحیک کا سامنا کرنے کے بجائے میاں نواز شریف کا مستعفی ہونا ہی ان کے (اور پاکستان کے) حق میں بہتر ہے۔ وزیر اعظم کے جو ساتھی سپریم کورٹ کو دھمکا رہے ہیں وہ ان کے خیر خواہ نہیں۔ بالآخر اس قصے کا آخری باب عدالت ہی میں رقم کیا جائے گا۔ دیکھنا یہ ہے ”قرعہ فال“ کس کے نام نکلتا ہے۔
(قومی اور بین الاقوامی امور پر لکھتے ہیں)
٭….٭….٭

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں


دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved