چائے، پانی کے نام پر رشوت کا ناسور

ملیحہ سید …. زینہ
کرپشن کوئی ایک لفظ نہیںبلکہ معاشرے کی خوبصورتی کو لگنے والی وہ دیمک ہے جس سے شاید ہی معاشرے کا کوئی فرد محفوظ ہو۔اس کی سب سے بد ترین شکل رشوت ہے اور رشوت سے مراد ناجائز حصول دولت ،ناجائزنذرانہ اور ناجائز طریقے سے رقم حاصل کرنا ہے۔ رشوت کرپشن کی وہ صورت ہے جس کو بہت بڑی لعنت قرار دیا گیا ہے کیونکہ کسی ناجائز کام کورشوت سے جائز بنالیا جاتاہے جس سے معاشرے میں ناانصافی،حق تلفی اور خصوصاً غریبوں کا استحصال ہوتا ہے۔ امیر تو پیسے دے کر اپنے کام نکلوا لیتے ہیں اور غریب کی فائل برسوں سرخ فیتے کا شکار رہتی ہے۔
اس وقت ہمارا معاشرہ بے شمار برائیوں میں گھراہوا ہے ۔ہر طرف ظلم کی داستانیں، قتل کے واقعات، ملاوٹ،ماردھاڑ اور اس قسم کی بے شمار برائیاں دیکھنے میں آتی ہیں لیکن سر فہرست رشوت ستانی ہے اور جوباقی تمام برائیوں کی جڑ ہے اور یہ معاشرے کے اخلاقی،قانونی،سماجی اور معاشی قواعد کی خلاف ورزی ہے۔
آج معاشرے میں جو نفرت ،تضاد،انتشار اور بے چینی پائی جاتی ہے اسکا سب سے اہم سبب یہ ہے کہ لوگوں میں رزق کے حلال و حرام کی تمیز ختم ہو چکی ہے ۔کرپشن اوررشوت پورے معاشرے کو اپنی لپیٹ میں لے چکی ہے جسکی وجہ سے انسان کی پرورش وپرداخت میں حرام کا عنصر شامل ہو رہا ہے۔ایک حدیث کے مطابق”جس کا کھانا حرام‘پینا حرام ‘لباس حرام‘ اور غذاحرام ہو تو اس کی دعا قبول نہیں ہوتی “۔ (مسلم)
یہ کرپشن اور رشوت ہی ہے جس کی وجہ سے معاشرہ صالح سوچ‘نیک عمل اور اتحادواتفاق کی نعمت سے محروم ہوتا چلا جا رہا ہے۔ رزق حرام کے شدید ترین نقصانات میں سے ایک نقصان یہ بھی ہے کہ زندگی کا اطمینان و سکون ختم ہو جاتا ہے اور اتحادو اتفاق کی بجائے انتشار اضطراب اور نفرت و حقارت کے جذبات جنم لیتے ہیں۔ مادہ پرستی اور دولت کی ہوس پیدا ہو جاتی ہے جو اس شخص کو اسی فکر میں رکھتی ہے کہ زیادہ سے زیادہ دولت کیسے حاصل کی جائے ۔چاہیے یہ دولت جائز طریقے سے آئے یا ناجائز ذریعے سے پھر یہیں سے انسانی حقوق کی پامالی اور حق تلفیوں کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔ نفسانفسی اور مادہ پرستی کے اس دور میں قوم کے اتحاد کا خواب شرمندہ تعبیر ہونا قطعی ناممکن ہے۔
دوسری جانب یہ بھی سچ ہے کہ جب انسان کے پاس اختیارات آجائیں تو کرپشن درجہ کمال تک پہنچ جاتی ہے ۔ اسکی سب سے بڑی مثال کرپٹ حکومتیں ہیں جواپنے اقتدار کو مستحکم رکھنے کے لیے سیاستدانوں کو اپنے ساتھ شامل رکھنے کے لیے ان کی ہر جائز بات مانتی ہیں اور ان کوسیاسی رشوت دے کر اپنے ساتھ شامل کرتی ہیں ۔بات صرف یہیں ختم نہیں ہو جاتی سیاستدانوں اور بیورہ کریسی کے ساتھ ساتھ کرپشن کی جڑیں عوام تک بھی پھیلی ہوئی ہیں ۔یہاں جب ہر دوسرے بندے کوسرکار سے اور سرکاری دفاتر سے واسطہ رہے تو اکثر وبیشتر اپنے کسی جائز اور صحیح کام کو بر وقت کراونے کے لیے بھی رشوت کا استعمال کیا جاتا ہے۔ کیونکہ ان کی فائل یا کیس پر مختلف قسم کے اعتراضات لگادئےے جاتے ہیں اور مزید کارروائی روک دی جاتی ہے تاکہ اس کی خاطر رقم وصول کی جائے اگر رشوت نہ دی جائے تو کام کی تکمیل میں تاخیر کر دی جاتی ہے اور سائل کو دفتر کے چکروں میں رکھا جاتا ہے ۔ اگر رشوت کی بارش بر وقت ہو جائے تو ناجائز کام بھی بغیرکسی تاخیرکے ہو جائے گا۔ بعض اوقات اس موقع پر کچھ لوگ اپنے ذاتی مراسم بھی استعمال کرتے ہیں اور یوں سفارش اور اقربا پروری بھی دفاتر میں اہم کردار ادا کرتی ہے ۔ اپنے اپنے مفادات کے جلدحصول کے لیے دی جانے والی اس رشوت کو عام طور پر ”چائے پانی “یا ”تحفہ “کانام دیا جاتا ہے۔
اس کے علاوہ اب عوامی سطح پر بھی دولت اور وہ بھی کم مدت میںآسائشوں کے حصول کے لیے شارٹس کٹ راستے استعمال کیے جاتے ہیں اور اس اخلاقی کرپشن کی وجہ سے نااہل افراد آگے نکل جاتے ہیں جبکہ اہل اور مستحق افراد ترقی کی دوڑ میں بہت پیچھے رہ جاتے ہیں ۔ کرپشن کی جڑیںسرکاری اور غیر سرکاری دفاتر دونوں میں بہت گہری ہو چکی ہیں اور ایک عفریت کی شکل اختیار کرتی جا رہی ہیں۔جبکہ افسوس ناک بات تو یہ ہے کہ اس بات کا اعتراف تو سب ہی کرتے ہیں تاہم ان کے سدباب کے لیے کوئی بھی سنجیدگی سے نہیں سوچتا۔
عام طور پر یہ دیکھا گیا ہے کہ ایک معمولی سرکاری ملازم کی تنخواہ اس قدر کم ہوتی ہے کہ وہ بمشکل گزارہ ہی کر سکے لیکن معاملہ اس کے بر عکس ہو تا ہے وہ ٹھاٹھ باٹھ کی زندگی بسر کرتا ہے۔ اس طرح ایک کم آمدنی والے گھرانے کی لڑکی اور لڑکے کے پاس قیمتی موبائل فونز اور بوتیک کے ملبوسات اور جوتے بھی اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ وہ ناجائز کمائی سے اپنا معیار زندگی بلند کرتا ہے ۔مجموعی طور پر ہر شریف شہری رشوت ستانی اور بڑھتی ہوئی کرپشن سے بری طرح نالاں ہے ۔کرپشن کی اہم ترین وجہ معاشی بدحالی ہے جوایک سرکاری اہلکار کو رشوت لینے پر اکساتی ہے ۔ وجہ وہی ہے کہ انسان اپنی چادر نہیں دیکھتا اوراپنے پاو¿ں بڑھا لیتاہے اور اپنی آمدنی میں اضافہ کرنے کی خواہش اسے کرپشن کی طرف لے جاتی ہے ۔ تاہم اگر کسی ملک میں کرپشن کی بد ترین شکل رشوت عام ہو چکی ہو تو یہ وہاں کی حکومت اور انتظامیہ کی کمزوری ظاہر کرتا ہے کیونکہ اس احتساب کے عمل میں کمی کے باعث ہی معاشرے میں رشوت اور کرپشن شروع ہو جاتی ہے اور اگر احتساب کا عمل بھی اسی کرپشن کی زد میں آ جائے تو سمجھ لیں اس معاشرے نے اپنے لیے تبا ہی کا راستہ خود ہی چنا ہے اورہمارا معاشرہ اور نظام اس کی واضح مثال ہیں۔
(عوامی ، سماجی امور پرلکھتی ہیں)
٭….٭….٭

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں


دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved