تازہ تر ین

اپنی ہی حجامت ہوگئی

توصیف احمد خان ….نگریزے
سابق وزیر داخلہ اور آصف علی زرداری کے قریبی ساتھی رحمن ملک کے ساتھ اچھی ہوئی۔ بڑے شوق سے جے آئی ٹی میں بیان دینے گئے اور کہتے ہوئے گئے اس کی ہدایت انہیں پارٹی قیادت نے کی ہے۔ جے آئی ٹی میں پیشی کیلئے انہوں نے رنگ آلود استرے قینچیاں نکال کر ان کا زنگ وغیرہ اتارا ہوگا تاکہ نوازشریف اینڈ کمپنی کی وہاں اچھی طرح سے حجامت کرسکیں۔ یہاں استرے قینچیوں سے کچھ اور مراد نہ لیں بلکہ ہمارے کہنے کا مطلب ان کاغذات سے ہے جو غالباً رحمن ملک کے پاس ردی وغیرہ میں پڑے ہوں۔ عین ممکن ہے کہ انہیں دیمک بھی لگ گئی ہو لہٰذا ان کی جھاڑ پونچھ ضروری ہوگی…. لیکن ہوا کیا…. اتنے ذوق و شوق سے جانے کا نتیجہ کیا نکلا…. وہ تو نوازشریف کی حجامت کرسکے یا نہیں مگر جے آئی ٹی نے یہ کہہ کر ان کی حجامت بنا ڈالی کہ رحمن ملک ناقابل اعتبار ہیں۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اس جے آئی ٹی میں ان سے بہتر ” حجام“ موجود تھے۔
اس حجامت پر انہوں نے یعنی رحمن ملک نے جو کچھ کہا…. وہ کچھ اور کہہ بھی کیا سکتے تھے…. لیکن ان کا پارٹی کے دوسرے رہنماﺅں سے اختلاف کا معاملہ سامنے آگیا ہے۔ ان کے سوقیانہ جملے پارٹی قیادت کی پالیسی کے مطابقت نہیں رکھتے جو بیک زبان جے آئی ٹی کی رپورٹ کو درست قرار دیتے ہوئے نوازشریف سے استعفیٰ کا مطالبہ کررہی ہے۔ رحمن ملک کا اب موقف ہے کہ جے آئی ٹی غیر جانبدار نہیںرہی۔ اسے درست مان لیا جائے تو پھر باقی معاملات میں اس کمیٹی کی کیا پوزیشن ہوگی۔ایسے میں رحمن ملک ن لیگ کے موقف کو ہی مضبوط کررہے ہیںکہ جو ادارہ یا کمیٹی ایک معاملے میں جانبداری کا مظاہرہ کررہی ہے وہ دوسرے معاملات میں ایسا کیوں نہیں کرسکتی…. اس بارے میں رحمن ملک جانیں یا جے آئی ٹی جانے کہ موصوف ان سے کریکٹر سرٹیفکیٹ لینے نہیں گئے تھے مگر انہوں نے موصوف کو سیدھا سادہ کریکٹر سرٹیفکیٹ تھمادیا اور وہ بھی ایسا کہ اب ہر کوئی انہیں شک کی نگاہ سے دیکھے گا۔
ویسے تو پہلے بھی بہت سے لوگ ان کے بارے میں اپنے شکوک وشبہات ظاہر کرچکے ہیں خصوصاً 27 دسمبر 2007ءکو لیاقت باغ راولپنڈی میں ہونے والے سانحہ پر تو لوگوں کے شکوک ابھی تک برقرار ہیں…. قارئین کو یقینا یاد ہوگا کہ یہ وہ سانحہ ہے جس میں محترمہ بے نظیر بھٹو دہشت گردی کا شکار ہوگئی تھیں۔ بعد میں انتخابات ہوئے۔ پیپلزپارٹی انتخابات میں کامیاب ہوگئی اور اس نے اپنی حکومت بھی بنالی جس میں جناب رحمن ملک کو وفاقی وزارت داخلہ کا قلمدان سونپاگیا۔ یہ قلم پانچ برس تک ان کے پاس رہا مگر مجال ہے جو بے نظیر کے قاتلوں کا بال تک بیکا ہوسکا ہو بلکہ اصل قاتلوں تک پہنچنے میں بھی کوئی ”کامیابی“ نہیں مل سکی۔
اسی سلسلے میں پیپلزپارٹی کی حکومت کے پر زور مطالبہ پر اقوام متحدہ کے اس وقت کے سیکرٹری جنرل بان کی مون نے ایک تحقیقاتی کمیشن بھی بنایا تھا جس نے پاکستان کے دورے کئے جن پر پاکستان کے لاکھوں ڈالر خرچ ہوئے۔ اس کمیشن نے تحقیقات کے بعد سیکرٹری جنرل کو رپورٹ بھی دی مگر نتیجہ صفر+صفر= صفر رہا۔ اس کمیشن کے سربراہ نے بعد میں اسی حوالے سے ایک کتاب لکھی جس میں بہت سی باتوں پر روشنی ڈالی گئی ہے…. انہی واقعات میں وزیرداخلہ رحمن ملک سے ملاقات کا احوال بھی درج ہے۔ ان کے بقول رحمن ملک نے انہیں کاغذات کا ایک پلندہ پکڑا دیا اور بتایا کہ یہ آپ کی رپورٹ ہے۔ یعنی کمیشن کے ارکان اتنی دور دور سے آئے۔ ان پر اگر انقدر اخراجات ہوئے اور وزیر دخلہ صاحب نے یہ کہتے ہوئے ان کا کام نمٹانے کی کوشش کی یہ آپ کی طرف سے رپورٹ ہے جسے آپ پیش کردیں۔ یعنی آپ کا کام اب ختم۔ آ پ لوگ آرام کریں اور یہ رپورٹ آگے تھمادیں۔
سمجھ میں نہیں آیا کہ کمیشن کو اپنی تحقیقات کرنے کی بجائے رحمن ملک صاحب کی لکھی ہوئی رپورٹ ہی سیکرٹری جنرل کو پیش کردینا تھی تو پھر انہیں یہاں بلانے کی کیا ضرورت تھی۔ سیکرٹری جنرل کو ہی یہ رپورٹ بھیج دیتے اور کہہ دیتے کہ آپ کمیشن کا اعلان کریں۔ اس کے ارکان کواس رپورٹ کی نقول دیدیں اور ہدایت کردیں کہ اپنے دستخط کرنے کے بعد اسے واپس کردیں۔ اللہ اللہ خیر سلا! کام آسان ہوجاتا اور ہینگ لگتی نہ پھٹکڑی۔وہ تو کمیشن کے ارکان ہی ” شرپسند“ تھے کہ انہوں نے رحمن ملک کی بات نہیں مانی۔ ان کی رپورٹ پیش کرنا تو ایک طرف، اس سے استفادہ تک نہیں کیا گیا اور اپنی رپورٹ لکھی اور دیدی۔ ان کو بھی شاید محنت و مشقت کا شوق تھا۔ کیا تھا جو رحمن ملک کادل رکھنے کی خاطر انہی کی رپورٹ پیش کردیتے۔اصل میں یہ سارا قصہ جے آئی ٹی سے چلا ہے جس کو ایک طرف سے تو واہ واہ مل رہی ہے مگردوسری طرف سے اس پر ٹھاہ ٹھاہ ہو رہی ہے۔ قارئین کو یقینا علم ہے کہ یہ واہ واہ کون کر رہا ہے اور ٹھاہ ٹھاہ کس طرف سے ہے…. رحمن ملک کی بات اپنی جگہ مگر ہم اس میں پڑتے ہی نہیں کہ کمیٹی جانبدار تھی یا غیرجانبدار اور پھر یہ رپورٹ حقائق پر مبنی ہے یا نہیں۔ ہم تو آواز خلق کی بات کرتے ہیں اور آواز خلق یہ ہے کہ محترم وزیراعظم کو پہلے اپنے اجلے دامن کا داغ دور کرنا ہو گا۔ یہ عہدے اور یہ کرسیاں تو آنے جانے والی شے ہیں۔ اصل معاملہ انسان کی عزت و وقار ہے…. پھر عزت نفس بھی اسی میں آتی ہے۔ ہمیں نہیں معلوم آپ دیانتدار ہیں یا نہیں۔ ہمیں تو اتنا معلوم ہے کہ جب کسی پر اس قسم کے چھینٹے پڑتے ہیں تو انہیں اختیار و اقتدار صاف نہیں کر سکتا…. اس اختیار و اقتدار کو فی الحال ایک طرف رکھیں‘ اپنے دامن پر پڑنے والے ان چھینٹوں کو صاف کریں…. اقتدار میں رہتے ہوئے انہیں دھونے کی کوشش کریں گے تو ان کے نشان پھر بھی رہ جائیں گے اور وہ نشان آپ کی اولادوں تک چلیں گے۔
کل آپ کا ایک بیان نظر سے گزرا کہ سازشی ٹولے کے کہنے پر استعفیٰ نہیں دوں گا۔ بالکل ٹھیک….! مگر پہلے یہ تو بتا دیں کہ یہ سازشی ٹولہ ہے کون…. عدلیہ‘ فوج‘ اپوزیشن جماعتیں یا کوئی اور …. عوام کو ان کے بارے میں علم تو ہونا چاہئے…. اور پھر خوب سوچ لیں کہ یہی بات آپ نے ایک بار پہلے بھی کہی تھی۔ 1993ءمیں آپ کے ٹی وی پر خطاب میں ٹیپ کا جملہ یہ تھا کہ میں ڈکٹیشن نہیں لوں گا…. میں استعفیٰ نہیں دوں گا…. اس وقت کیا ہوا تھا‘ آپ اقتدار سے ہٹائے گئے‘ آپ نے عدالتی جنگ بھی جیتی مگر آخرکار آپ کو دوتہائی اکثریت بھی نہ بچا سکی۔ آپ نے ڈکٹیشن بھی لی اور استعفیٰ بھی دیا….اپ پھر آپ یہی کچھ کہہ رہے ہیں…. اس وقت بھی آپ نے اپنے دعوے کے ساتھ انشا اللہ نہیں بولا تھا اور آج بھی نہیں بول رہے۔ اللہ تعالیٰ کو یہ بات پسند نہیں۔ انشا اللہ کہنا اس کا حکم ہے۔
کیا تاریخ اپنے آپ کو دہرائے گی؟ فی الحال کچھ کہنا محال ہے۔ اس دنوں اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ صاحب آپ پر بہت زیادہ گرج برس رہے ہیں۔ دو چار روز سے ان کا رویہ خاصا جارحانہ ہے۔ ظاہر ہے یہ پارٹی کی پالیسی ہے کیونکہ پارٹی یعنی پیپلزپارٹی کو اب نوازشریف سے کوئی غرض اور مطلب نہیں۔ اس کا ”میثاق جمہوریت“ تو پورا ہو چکا ہے۔ ایان علی چلی گئی۔ ڈاکٹر عاصم کی ضمانت ہو گئی۔ شرجیل میمن بھی دبئی میں نہیں رہے…. اس کے علاوہ بھی بہت کچھ ہو گا۔
خورشید شاہ کا فرمانا ہے کہ کیا آپ عدلیہ کے ساتھ محاذآرائی کریں گے جو ماضی میں بھی آپ نے کی تھی…. شاہ صاحب! ماضی میں یہ محاذآرائی اس لئے کی گئی تھی کہ نوازشریف کا کلہ مضبوط تھا۔ کہا جاتا ہے اس وقت کے چیف جسٹس سید سجاد علی شاہ نے فوج سے مدد مانگی تھی مگر ان کی یہ استدعا وزارت دفاع کی الماریوں میں پڑی رہ گئی۔ انجام کار سجاد علی شاہ کو جانا پڑا۔ اب فوج کا واضح اعلان ہے کہ وہ قانون اور انصاف کے ساتھ کھڑی ہے اور اسے کرپشن برداشت نہیں۔ اس میں بڑا صاف اور واضح پیغام ہے۔ اگر کوئی نہ سمجھے تو پھر اس کی قسمت۔ ویسے بھی فوج کے ساتھ کون سا اچھا سلوک کیا گیا کہ وہ ان کے ساتھ کھڑی ہو گی۔ جنرل جہانگیر کرامت کے استعفیٰ سے شروع ہو جائیں اور ڈان لیکس تک آ جائیں۔ پھر ان کے بعض حواریوں کے فوج کے بارے میں ریمارکس…. فوج ایک منظم ادارہ ہے۔ وہ یہ سب کچھ برداشت کرتی رہے تو پھر اس کی اپنی تنظیم کے بارے میں اندیشہ ہو گا۔ لہٰذا شاہ صاحب یقین رکھیں اب وہ کچھ نہیں ہو گا جو جسٹس سجاد علی شاہ کے ساتھ ہوا تھا۔
(معروف صحافی ” جہان پاکستان “ کے گروپ ایڈیٹر ہیں)
٭….٭….٭

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں


دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved