وفا شاہد!

محمد اقبال سیال ….اظہار خیال
”مجاہد صحافت“ جناب ضیاشاہد جب ”جہاں ظلم وہاں خبریں“ کا صبر آزمامشن لیکر اپنی سربکف ٹیم کے ساتھ میدان افروز ہوئے تب اپنی عمر”نوعمری“ کے پیٹے میں تھی اور اخبارات کے ساتھ مطالعاتی تعلق بالکل سرسری تھا یہی کہ صفحہ اول پر جمی کسی سرخی کو طائرانہ نگاہ سے دیکھ لیا یا کبھی کسی حیران کن خبر کی تفصیلات سے دل بہلا لیا لیکن ”خبریں“ پڑھنے کا اتفاق ہوا تو دل کچھ اس قدر ”جکڑ“ اور ”پکڑ“ میں آیاکہ جس دن ”خبریں“ نہ ملتا اس دن کھانے اور نیند کا مزا کرکرا ہو کر رہ جاتا۔میرے واقف کار اور ہم مکتب اس بات کے گواہ ہیں کہ جب چھٹیاں گزارنے گھر آتا تو چونکہ دیہی ماحول میں اخبار میسر نہیں ہوتا جبکہ ہمارے گاﺅں تو ایسا بالکل ہی ممکن نہ تھا پھر یہ مشکل یوں سر ہوئی کہ میں اورمیرا چھوٹا بھائی غلام مرتضیٰ تین میل ”جانے“ اور تین میل ”آنے“ یعنی چھ میل کا سفر محض اپنے اس شوق و جنوں کی تسکین کے لیے پیدل طے کرتے آخر وجہ کیا تھی جو اخبار کی عدم دستیابی کی صورت میں ہمیں پیادہ پائی پر مجبور کرتی؟ حتیٰ کہ اس دلی مراد کو پانے میں سردی و گرمی کے مسائل بھی سرراہ نہ ہو سکتے تھے؟ میرے احساسات اس بارے کچھ یوں ہیں اس امر میں رتی بھر کلام نہیں کہ ”خبریں“ نے جب صحافت کی گود میں جنم لیا تو قبل ازیں نیشنل لیول کے کئی اخبارات منصہ شہود پرموجود تھے اور سبھی اپنی اپنی جگہ صحافیانہ اور پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کو نباہنے میں مصروف عمل تھے لیکن ”خبریں“ نے ان ذمہ داریوں کو ثمر بار آور کرنے کی خاطر ان ذمہ داریوں کے جسد ناتواں میں جدت اور تازگی کی روح پھونکی دلدوز سماجی رویوں اور جاں آفریں معاشرتی ناہمواریوں کی بابت پردہ کشائی کا عمل پہلے بھی جاری تھا مگر ظلم و ستم پر مشتمل روح فرساداستانوں کو طشت ازبام کرکے برائی کو منطقی انجام تک پہنچنے تک چین سے نہ بیٹھنے کی باقاعدہ ”طرح“ خبریں نے ڈالی جناب ضیاشاہد کی سرپرستی میں جرا¿ت مندی اور پامردی کی نئی مثالیں قائم ہوئیں۔
نام نہاد مگر تگڑے سیاستدانوں اور ظلم و جبر کے دلدادہ وڈیروں کی اکڑی گردنوں کے سریے ”خبریں“ کی بدولت خمدار ہونے پر مجبور ہوئے یہ محض میرا ذاتی خیال ہی نہیں بلکہ روز روشن کی مانند چمکتی دمکتی حقیقت بھی ہے کہ جناب ضیاشاہد کے میدان آراء ہونے سے قبل جہاں دیگر ان گنت مسائل نے عوام کا جینا دوبھر کر رکھا تھا وہاں عطائی ڈاکٹروں، جعلی پیروںاور طاقت کے نشے میں مخمور ”اشرافیہ“ کا زور و تسلط آخری حدوں کو چھو رہا تھا، شیطان کی شیطانیت کے جام لنڈھاتے ان سماج دشمنوں کے کرتوتوں کو بے نقاب کرنا آسان نہیں بلکہ جان جوکھوں کا کام تھا۔ اس ضمن میں آگے قدم بڑھانے کی صورت میں جان و مال کے ضیاع ایسے خطرات منہ کھولے کھڑے تھے ان خطرات سے ٹکر لینے کا صاف مطلب ”تن آسانی کی قربانی“ اور دل و جان پر ممکنہ طور پر ٹوٹنے والے مصائب کو پورے جوش و جذبے سے ”سہہ“ لینے اور جملہ مفادات کی ارزانی تھا لیکن دیکھتی آنکھوں نے دیکھا اور سنتے کانوں نے سنا کہ اوپر مذکورہ ”مجاہد صحافت“ نے تمام تر خطرات کو پوری خندہ پیشانی سے قبول کیا اور سہالیکن ”جہاں ظلم وہاں خبریں “ ایسے مقدس مشن سے دستبردار نہیں ہوا ایک طرف وہ ان کی ٹیم عطائی ڈاکٹروں ،جعلی پیروں اور خونخوار اشرافیہ پر قافیہ زیست تنگ کر رہی تھی تو دوسری طرف ان کے قلمی معاونین جن میں حسن نثار، عباس اطہر ،ڈاکٹر انور سدید، ارشاد احمد خان، خالد سلطان، نسیم شاہد، ہارون رشید، خوشنود علی خان اور عدنان شاہد کے نام قابل ذکر ہیں، اشرافیہ اور ہیت مقتدرہ کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر آساقیا ہنرآزما ہم جگر آزمائیں تو تیر آزما کا نعرہ بلند کیے ہوئے تھے خصوصاً حسن نثار کی تحریریں ظالمان وقت کی ناک میںدم کرنے میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کر رہی تھیں، البتہ یہ بات الگ ہے کہ حسن نثار صاحب کی وہ تحریریں جنہیں طبع اور شائع کرنا آسان کام نہیں تھاان تحریروں کے بل بوتے جب انہوں نے شہرت کی مرادپا لی تو وہ کسی اور کے ہو کے رہ گئے اور ”خبریں“ کے قارئین آجتک انہیں ڈھونڈ رہے ہیں چراغ رخ زیبا لیکر۔
خیر یہ بات تو برسبیل تذکرہ کے طور پر درمیان میں آ ٹپکی اس بحث کو یہیں چھوڑ کر اس طرف آئیے۔ آج ہم یہ دیکھ اور محسوس کر رہے ہیں کہ پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا پر دشمنان انسانیت کے خلاف گھمسان کا رن پڑا ہوا ہے۔ سیکنڈلز طشت ازبام ہو رہے ہیں۔ موروثی اور زور آور سیاست دانوں کی جان پر بنی ہوئی ہے۔ عطائی ڈاکٹرز منہ چھپانے بلکہ متعدد بھاگ جانے پر مجبور ہوئے ہیں۔ جعلی پیروں کا دام ہم رنگ زمیں پاش پاش ہواہے۔
غریبوں کی سنی جا رہی ہے۔ ظالم کو ظلم ڈھانے سے پہلے سو بار سوچنا پڑتا ہے پہلے یہاں قانون ”عام“ آدمی کے خاص تھا جبکہ اب ایسا نہیں ہے بلکہ اب ”خواص“ دہائی اور نوحہ کنائی پر مجبور ہیں، وڈیروں کے گرد گھیرا تنگ ہو رہا ہے ظلم چاہے سرراہ ہو چاہے کہیں کونے کھدرے میں وہ بے نقاب ہو جاتا ہے، ماحول اور معاشرے میں اب وہ پہلے سا جمود نہیں رہا بے حسی کی طنابیں کافی حصہ تک کسی جا چکی ہیں۔ اب اگر غریب کی عزت لٹتی ہے، مزدور کا ہاتھ کٹتاہے، ماتحت پر ظلم ہوتا ہے، بنت حوا کے خواب بکھرتے ہیں، دلوں پر پتھر ٹوٹتے ہیں، تو بازار ستم گرم کرنے والے میٹھی نیند نہیں سو سکتے بلکہ اگلے ہی لمحے جرم فاش ہونے کی گونج سنائی دینے لگتی ہے اور درندوں کی جان پر بن آتی ہے تسلیم کہ اس تبدیلی کے پیچھے جہاں اور بہت سے عوامل کارفرما ہیں۔
وہاں میڈیا کا بھی بڑی حد تک دامے درمے سخنے عمل دخل ہے اور بہت سے زندہ ضمیر لوگ حصہ بقدر جثہ اس جہادمیں حصہ ڈالرہے ہیں لیکن مجھے یہ کہنے میں چنداں باک نہیں کہ ظلم کے خلاف اٹھنے والی آواز میں توانائی، ہمت، طاقت، بے باکی، کمال و وفور اوردلوں کو گرما کر روحوں کو سرشار اور جبروغرور کو شرمسار کرنے کا جو عنصر شامل ہوا ہے”مجاہد صحافت“ جناب ضیاشاہد کی مجاہدانہ اور انتھک کوششوں کا ایک وافر حصہ اس میں شامل ہے کئی دن ہوئے ایک کرمافرما کے ساتھ اس موضوع پر مکالمہ ہوا ضیاصاحب کے انسانیت دوست اقدامات اور بیش قیمتی کاوشوں پر تفصیلی روشنی ڈالنے کے دوران ہمارے دوست نے اچانک یہ سوال داغ دیا ”جس آدمی نے ایسے کارہائے نمایاں سرانجام دیئے اور جس کی جرا¿ت و ہمت کی بدولت حقیقت بیانی کی چکاچوند میں خاطر خواہ اضافہ ہوا جس نے میدان صحافت میں قدم رنجا ہوتے وقت اہلیان وطن کے کندھے سے کندھا ملاکر جرم کا غرور خاک میں ملانے کا نہ صرف وعدہ کیا بلکہ وعدہ کے مطابق عمل بھی کر دکھایا آپ اگر اس مرد آہن کو اس کے معروف نام کی بجائے کسی اور نام سے پکاریں تو وہ نام کیا ہو سکتا ہے”وفا شاہد“ میں نے برجستہ جواب دیا۔
(صاحب تحریر معلم ہیں اور جھنگ سے تعلق ہے)
٭….٭….٭

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved