تازہ تر ین

تحت لاہو رکی زنجیروں میں جکڑا ہوا بہاولپور

خان خدا یار خان چنڑ ….بہاولپور سے
المیہ یہ ہے کہ صوبہ بہاولپور کی تحریک کے ساتھ ہر دور میں مذاق ہوا ہے۔ حالانکہ سابق ریاست بہاولپور کے باسیوں کی پاکستان کے ساتھ محبت تو ان کی گھٹی میں شامل ہے ۔ کوئی اچھائی ہو یا برائی، ذات پات ، حسب نسب کے علاوہ علاقہ کی مٹی کااثر بھی ہوتاہے ۔ تاریخ گواہ ہے بہاولپو رکے عوام سے لے کر امیر آف بہاول پور تک پاکستان کیلئے وفا ٹھنڈے پانی کاچشمہ ثابت ہوئی ہے ۔میں نے اپنے پچھلے کالم میں بھی ذکر کیا تھا جب پاکستان بنا تو سابق ریاست بہاولپور نے جنگی سازوسامان کے علاوہ حکومت پاکستان کو اُس دور میں کروڑوں روپے کے فنڈز دئیے جو آج اربوں روپے بنتے ہیںجس سے سرکاری ملازمین کیلئے تنخواہوں کاسلسلہ شروع ہوا ۔اس طرح حکومت کا پہلا پہیہ چلا جس میں سابق ریاست بہاولپور کا بہت اہم کردار ہے ۔خیر وقت وقت کی بات ہوتی ہے۔ سابق ریاست بہاولپور کے لوگوں کو پاکستان کے ساتھ اس محبت کا یہ صلہ ملا آج وہاں کے بچے بچے کو تخت لاہور نے یرغمال بنایا ہوا ہے پتہ نہیں کس ناکردہ گناہ کی سزا کب ختم ہوگی؟1947 میں جب پاکستان آزاد ہوا تھوڑے ہی عرصہ کے بعد بہاول پور کی عوام کو ہمیشہ ہمیشہ کیلئے غلام بنادیا جو آج تک تخت لاہو رکی زنجیروں سے جکڑی ہوئی ہے۔ حضرت علی ؑکا قول ہے جس کے ساتھ احسان کرو اُ س کے شر سے محفوظ رہو ۔ بہاولپور کے باسیوں کیلئے یہ قول سچ ثابت ہوا ہے جو کل تک سابق ریاست بہاولپور دنیا کی تمام آرائش تعلیم ، صحت ،زراعت اور کاروبار کے لحاظ سے آج سے ساٹھ برس پہلے ہی یہ سابق ریاست C پیک کی اہمیت رکھتی تھی کاروبار کے لحاظ سے بہاولپور ایشیا میں خاص اہمیت کا حامل تھا ۔ لیکن افسوس دیکھتے ہی دیکھتے وقت نے ایسا پلٹا کھایا آج سابق ریاست بہاولپور کا ہر پڑھا لکھا نوجوان گھر کا چولہا جلانے کیلئے لاہور میں مزدوری کررہاہے بہاولپور کے نوجوان کو لاہور کے کسی بھی پرائیویٹ یا سرکاری دفترمیں آفس بوائے رکھ لیا جائے تو اُس کے گھر والے اپنی ناک بچانے کیلئے کہتے ہیںکہ ہمار ابیٹا لاہور میں افسر لگا ہوا ہے ہمیں محکوم ہی بنا دیاگیا ہے کہ آفس بوائے نوکری کو بھی اپنے من کو شانتی پہنچانے کیلئے افسر کے طورپر بتایا جاتا ہے ۔
اب ہم بہاولپور صوبہ کے نام نہاد مسیحاﺅں کی بات کرتے ہیں ۔ ن لیگ نے بھی بہاولپور عوام کے ساتھ ایساڈرامہ رچایا ۔ 9 مئی 2012 کو پنجاب اسمبلی میں بحالی صوبہ بہاولپور کے حق میں قرار داد منظور کرکے بہاولپوریوں کے دل میں جگہ بنالی ۔ ن لیگ کے ذمہ دارنواز شریف، شہبازشریف نے جنرل الیکشن 2013 ءمیں سابق ریاست بہاولپور کی عوام سے ایسا ڈرامہ رچایا کہ الیکشن کے بعد جب ہم اقتدار میں ہوں گے بہاولپور صوبہ بحال کریں گے سابق ریاست بہاولپور کی عوام نے تخت لاہور سے جان چھڑوانے کیلئے پنجاب اسمبلی کا اعتبار کرتے ہوئے ایک بار پھر دھوکہ کا شکار ہوگئے سابق ریاست بہاولپور کی عوام نے بہاولپور صوبے کے نعرے کو دیکھتے ہوئے ن لیک کو بھرپور سپورٹ کیا جس کی بناءپر ن لیگ سابق ریاست بہاولپور میں کلین سویپ کرگئی ۔ اس کے پس پردہ بہت بڑی سازش تھی ۔ن لیگ کا پنجاب اسمبلی میں بہاولپور صوبے کی قرار داد منظور کرکے عوام کو اعتماد میں تو لے لیا تھا ۔الیکشن 2013 کے بعد ن لیگ نے صوبے اور مرکز میں اقتدار سنبھال لیا تو فوراًاس کی نیت میں فتور اوربھوکی نگاہوں سے سابق ریاست بہاول پورکی سرزمین پر قبضہ کرنا چاہتے تھے۔ انہوں نے خوب بہاولپور میں ڈیرے لگانے شروع کردئیے وہ اپنے طور پر سروے کر رہے تھے کل کو بہاولپور صوبہ بحال کیاجائے تو کیا اس پر راج ہمارا ہوسکتا ہے کہ نہیں ۔شروع شروع میں انہوں نے کچھ ترقیاتی پروجیکٹ بھی بہاولپور کو دئیے ۔ظاہری طور پر تویہ اچھا اقدام ہے جو اچھی بات ہو اُس کی کھلے دل سے تعریف کرنی چاہیے شایدان کو اس بات کا تو اندازہ تھا کہ سابق ریاست بہاولپور سے کوئی ایک بھی رکن اسمبلی نہیں ہے جو اپنی تعمیری سوچ رکھتا ہویاسابق ریاست بہاولپور کی عوام کیلئے کچھ کرنا چاہتا ہوسارے کے سارے غلامانہ ذہن رکھتے ہیں نہ ہی ان میں کوئی ایسی قد آور شخصیت ہے جو کل شریف برادران کے سامنے آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اپنے حقوق کی بات کر سکے ۔سارے کے سارے تو اپنی وزارت اور ٹکٹ پکی کرنے کے چکر میں ہیں موجودہ ارکان اسمبلی سے کو کوئی ڈر خوف نہ ہے ۔ بلکہ یہ تو خودتحت لاہور کو کہہ رہے ہیں کہ آﺅ صوبہ بہاولپور کو سنبھالوکیونکہ ریاست بہاولپور میں ایک ہی بندہ طارق بشیر چیمہ ہے جو ہمیشہ حکومت کے خلاف ہرمحاذ پر لڑتا ہے اورحکومت کے سامنے میدان خالی نہیں چھوڑتا ہر جگہ اپنا رول ادا کرتا ہے ۔ ن لیگ کی مقامی قیادت سے تو لاہورکو ذرابھی خوف نہیں ہے ۔ یہ بڑے مطمئن ہوکر بہاولپور صوبے کیلئے دلچسپی لے رہے تھے ۔نواز شریف کا مقامی قیادت سے سوال یہی تھا بہاولپور صوبہ بنانے میںن لیگ کو کتنا فائدہ ہوگا یا نقصان ؟ ن لیگ کی مقامی قیادت نے تخت لاہور کے شہزادوں سے ہاتھ جوڑ کر عرض کی کہ آپ صوبہ بحال کر و ہم غلام حاضر ہیں اب تک تخت لاہور کے بعد صوبہ بہاولپور کاتخت وتاج سنبھالو ۔ جب ن لیگ کے ان عزائم کا عوام کو علم ہوا توان کے دلوں میںتحت لاہور کے خلاف نفرت کی آگ بھڑک گئی کیونکہ ان کا اصل چہرہ کھل کر سامنے آگیا تھاعوام تو تخت لاہور سے جان چھڑوانا چاہتی تھی ان کو عوام کی دلچسپی سے زیادہ بہاولپور کاتخت عزیز ہے ۔ اب 2018 ءکے الیکشن میں ن لیگ کس منہ سے سابق ریاست بہاولپور کی عوام کاسامنا کرےگی ۔عوام کا ن لیگ کے خلاف اس الیکشن میں بہت بڑا ردعمل آئےگا۔
ایک واقعہ جو بہاولپور کے عوام کے ساتھ محبت کامنہ بولتا ثبوت ہے اور اس کا ذکرضروری ہے تاکہ سابق ریاست بہاولپور کے عوام کو خبر ہونی چاہیے کہ ہمارا خیر خواہ اور مسیحا کون ہے ؟وہ شخصیت خبریں کے چیف ایڈیٹر جناب ضیا شاہد ہیں جن کی زندگی کا ابتدائی دور یہاں گزار وہ سابق ریاست بہاولپور کے عوام کے ساتھ اس لئے زیادہ محبت رکھتے ہیں اُن کے بچپن کی کچھ یادیں اس کی مٹی سے وابستہ ہیں۔ یادیں اچھی ہوں یا بری اپنا احساس تو دلاتی رہتی ہیں ۔ضیا شاہد کی بہاولپور کی عوام کے ساتھ اُنسیت کی زندہ مثال یہ بھی ہے جو بہاولپور کے عوام تک پہنچاناچاہتا ہوں ۔
چودھری پرویز الٰہی صاحب نے چندہ ماہ قبل ملتان میں آکر پریس کانفرنس کی کہ وہ جنوبی پنجاب میں الگ صوبہ بنانے کے حامی ہیں لیکن لاہور میں جناب ضیا شاہد سے ملاقات کے دوران انہوں نے بتایا کہ جب پرویز مشرف صاحب صدر تھے تومیری ان سے دو طویل ملاقاتیں ہوئیں۔ میرا خیال تھا کہ اگروہ ہمت کریں تو پنجاب کے دو یا تین حصے کئے جاسکتے ہیں، میری دلیل تھی کہ پاکستان کا صرف ایک صوبہ پنجاب 62فیصد اور باقی تین صوبے 38فیصد بنتے ہیں۔ اس اعتبار سے وسائل کی تقسیم ہوتی ہے اور دوسرے صوبوں میں احساس رہتا ہے کہ پنجاب کھا گیا حالانکہ پنجاب کی آبادی کے اعتبار سے حصہ ملتا ہے۔ اس کے علاوہ ضیا صاحب کا کہنا تھا کہ میں نے صدر مشرف سے کہا کہ اگر جنوبی پنجاب میں نیا صوبہ بن جائے تو کالاباغ ڈیم چونکہ اس صوبہ میں بننا ہے لہٰذا کالا باغ ڈیم کی مخالفت سندھ اور سرحد میں بھی کم ہو جائے گی۔ پرویز مشرف نے ان کی تجویز سے اتفاق کیا اور کہا آپ چودھری شجاعت حسین صدر مسلم لیگ سے بات کریں، ضیا صاحب نے کہا کہ میرے اس خاندان سے بیس پچیس برس سے تعلقات ہیں میں کیا بات کروں ؟تو پرویز مشرف نے کہا میں انہیں فون کرتا ہوںکہ آپ ان کی تجویز غور سے سنیں اور اس پر سوچ بچار کریں۔پرویز مشرف کے کہنے پر میں آرمی ہاﺅس راولپنڈی سے سیدھا اسلام آباد میں چودھری شجاعت کے گھر پہنچا، جنرل صاحب ان سے فون پر بات کرچکے تھے،چودھری شجاعت صاحب نے مجھے کہا ” اوہ جنرل صاحب نوں کی پٹیاں پڑھا کر آئے او “۔پھر انہوں نے کہا کہ کاغذ قلم پکڑو اور میرا بیان لکھو، کل خبریں میں جلی حروف میں شائع کرنا، اگلے روز خبریں کی سپر لیڈ یہ تھی کہ ” پنجاب کے ٹکڑے کرنے والوں کو ہماری لاشوں سے گزرنا پڑے گا، چودھری شجاعت “۔
ضیا صاحب نے کہا کہ مجھے حیرت ہے کہ ہمارے سیاستدان اتنی تیزی سے بدل جاتے ہیں۔ اب ہمارے دوست چودھری پرویز الٰہی کی حکومت نہیں رہی تو انہوں نے پنجاب کی تقسیم کا مطالبہ کردیا ہے جبکہ جب دونوں بھائی اقتدار میں تھے تو وہ صوبہ پنجاب کی تقسیم کے سخت مخالف تھے۔جبکہ ایک ملاقات میںچودھری پرویز الٰہی نے ایک انگوٹھے کو ”U“بناتے ہوئے کہا ” تسی چاہندے او کہ میں اک چھوٹے جئے صوبے دا وزیراعلیٰ بن جاواں“۔
سیاستدان بہاولپور صوبہ کی بحالی کے بارے میں اپوزیشن میں ہوتے ہیں تو کیا سوچتے ہیں اور خود ن لیگ کی حکومت آئی تو وہ کس طرح سوچتی ہے، بہاولپور کے عوام کو ان حقائق پر غور کرنا چاہئے!
(کالم نگارچیئرمین تحریک عوامی اتحاد بحالی صوبہ بہاولپور ہیں)
٭….٭….٭

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں


دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved