یہ صرف ایک کتاب نہیں

سید انوار زیدی….اظہار خیال
جو ماں کے راز بیچ کر غیروں سے داد لے
ایسے وطن فروش کو مرجانا چاہیے
معروف صحافی ضیاشاہد کی تازہ تصنیف پاکستان کے خلاف سازش صرف ایک کتاب نہیں بلکہ وطن عزیز کے معروضی حالات کا وہ آئینہ ہے جسے ہم اگنور نہیں کرسکتے۔جناب ضیاشاہد نے کسی کو بھی مورد الزام ٹھہرائے بغیر ایک خاص پیرائے میں حالات و واقعات کو ایسے قلمبند کیا ہے کہ قاری بہت آسانی سے اندازہ کرسکتا ہے کہ پاکستان کےخلاف سا زش کون کرہا ہے ۔ آپ کی کتاب پاکستان کے نوجوانوں کیلئے ایک مشعل راہ ہے بلکہ وہ اپنے ان ابا واجداد کی تاریخ بھی جان سکتے ہیں جنہوں نے قیام پاکستان کیلئے لاکھوں جانیں قربان کیں۔ پاکستان کے خلاف سازش صرف آج ہی نہیں ہورہی بلکہ اس کا آغاز تو برصغیر پر انگریزوں کے دور حکومت سے ہی شروع ہوگیا۔ جب مفاد پرستوں نے انگریز سرکار کی خوشنودی کیلئے اپنوں کے خلاف خدمات کے عوض جاگیریں مراعات اور اعزازات حاصل کئے لیکن اس کے باوجود لاکھوں مسلمانوں نے قیام پاکستان کیلئے جدوجہد کی۔ اس جدوجہد کو جناب ضیاشاہد سے زیادہ کون جان سکتا ہے جب انہوں نے نوعمری میں اپنی عظیم والدہ اور اہل خانہ کے ہمراہ بھارت سے انتہائی نامساعد حالات میں پاکستان کی طرف ہجرت کی اور انتہائی مشکل حالات میں تعلیم حاصل کی۔ پاکستان بن گیا تو حکومت انہی جاگیرداروں وڈیروں اور انگریزوں کے مراعات یافتہ عناصر کے ہاتھ آگئی جنہو ں نے تقسیم ہند کے وقت قیام پاکستان کی سخت مخالفت کی تھی۔
سازشیوں نے قیام پاکستان کے وقت ہی اپنی تمامتر توانائی اس بات پر صرف کردی کہ آنے والی نسلوں کو اپنے اسلاف کی تاریخ سے متنفر کردیا جائے ۔کتاب کی تقریب رونمائی میں وزیراعظم کے مشیر برائے قومی تاریخ و ادبی ورثہ عرفان صدیقی نے اپنے خطاب میں برملا اس بات کا اظہار کیا کہ ہمیں پتہ ہونا چاہیے ہماری تاریخ کیا ہے اور اس تاریخ کے مختلف چہرے اس وقت کہاں کھڑے ہیں اس لحاظ سے ہمارا آگاہ ہونا ضروری ہے اور اسی آگہی کے ناطے ہمیں اپنے مستقبل کے راستے تلاش کرنے اور تراشنے چاہئیں۔ لیکن اب اس امر کا کیا رونا رویا جائے کہ سازشیوں کی سازشوں سے ہماری تاریخ قصہ پارینہ بن گئی۔ آج کی نوجوان نسل اس بات سے قطعی لاعلم ہے کہ ہمارے وہ کون قائدین تھے جنہوں نے قیام پاکستان کیلئے رات دن ایک کردیا کسی بھی قوم کی ترقی اور اس کے افراد میں خود اعتمادی پیدا کرنے میں اس کا ماضی اور اس بارے قوم کے جذبات بہت اہم کردار ادا کرتے ہیں اگر کوئی قوم ماضی سے متنفر ہو تو اس کا مستقبل بھی مخدوش ہوجاتا ہے اگر عوام اپنی شاندار روایات سے آگاہ ہوں تو ان کے اندر خود اعتمادی اور بلند حوصلگی بدرجہ اتم موجود ہوتی ہے اور یہی وہ جذبہ ہے جو قوم کی ترقی کا موجب بنتا ہے۔ نظریہ پاکستان کو پاکستان کی زندگی میں وہی اہمیت حاصل ہے جوانسان کی زندگی میں روح کو ہے اس روح کی بالیدگی کیلئے مسلسل اقدام کی ضرورت ہے تاکہ پاکستان کا جسم بیماریوں سے پاک رہے اور اس میں جواں ہمتی اور قوت موجود رہے اس کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ نئی نسل کو تحریک پاکستان اور نظریہ پاکستان کے تصورات سے آگاہ کیاجائے۔تصور نظریہ پاکستان سے نوجوان نسل کو متنفر کرنے کی سازش ایک سازش نہیں بلکہ یہاں تو پاکستان کو صفحہ ہستی سے مٹا دینے کیلئے قدم قدم اور ہر شعبہ زندگی میں سازشیں جاری ہیں۔ پاکستان کی مدنی‘ معاشرتی اور معاشی زندگی کا کوئی شعبہ ایسا نہیں جسے تباہ و برباد کرنے کی سازش نہ کی جا رہی ہو۔ تجارت‘ صنعت و حرفت‘ تعلیم‘ مالیاتی امور‘ صحت عامہ الغرض کوئی شعبہ ایسا نہیں جس کو تباہ کرنے کیلئے سازشی مصروف عمل نہ ہوں۔
جناب ضیاشاہد نے انہی امور کو اپنی کتاب میں موضوع بحث بنایا ہے اور انہی کی تصدیق میں کتاب کی تقریب رونمائی سے خطاب کرتے ہوئے سابق چیئرمین سینٹ وسیم سجاد نے کہا ہے کہ ضیاشاہد صاحب نے بہت تخلیقی انداز میں پاکستان کے حالات کا تجزیہ کیا ہے۔ یہ کتاب انتہائی مناسب وقت پر آئی ہے چند اس سے اختلاف اور چند اتفاق کریں گے لیکن اس کتاب سے اس بات کا اعادہ ہوتا ہے کہ ملکی استحکام‘ تعمیروترقی کیلئے کیا اقدام ضروری ہیں۔ یہ بات ذہن میں رکھنا ہو گی کہ بھارت پاکستان کا ازلی دشمن ہے اس نے شروع دن سے پاکستان کو تسلیم نہیں کیا۔ پاکستان کے خلاف سازشوں میں استعماری طاقتیں اس کی مربی و معاون ہیں اور سب مل کر ملک میں صوبائی عصبیت اور فروعی اختلافات کا زہر قوم کی رگوں میں انڈیل رہے اور ہمارے مفادپرست نا عاقبت اندیش عناصر ان کے ہاتھوں میں کھیل رہے ہیں۔ وہ یہ بات بھول رہے ہیں کہ سقوط بغداد کے بعد ہلاکو نے سب سے پہلے سازشیوں کی گردن اڑانے کا حکم دیتے ہوئے کہا تھا کہ جو اپنوں کے نہیں وہ ہمارے کیسے ہو سکتے ہیں۔ قائداعظمؒ صوبوں کے خلاف نہیں تھے بلکہ وہ اس بات کے خواہاں تھے کہ پاکستان کی قومی زبان اردو ہو گی اور معاملات ریاست اسی کے ذریعے چلیں گے۔ آج لسانی بنیادوں پر صوبوں کی نہ صرف بات ہو رہی ہے بلکہ اس کیلئے لسانی بنیادوں پر اختلافات کو ہوا دی جا رہی ہے۔
جناب ضیاشاہد نے اسی بارے انتہائی دردمندی سے کہا ہے کہ دو قومی نظریہ چھوڑ کر جب ہم زبان اور نسل کی بنیاد پر علاقے تفریق کریں گے تو یہ ملک کیلئے آگے چل کر نقصان دہ ثابت ہو گا۔ بہرحال جناب ضیاشاہد کی یہ کتاب ”پاکستان کے خلاف سازش“ استحکام پاکستان کیلئے نقطہ آغاز ہے۔ اللہ انہیں اور زورقلم و صحت عطا فرمائے تاکہ وہ ملک کے خلاف سازشوں کے بخیے ادھیڑتے رہیں۔ (آمین)
٭….٭….٭

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved