مولانا نذیر الحق دشتی کی گل فشانیاں

ظہور احمد دھریجہ …سرائیکی وسیب
روزنامہ خبریں گندی باتیں لکھتا ہے اورظہور دھریجہ نے علامہ اقبال کو گالیاں دی ہیں ‘ یہ الزام اس شخص کی طرف سے لگایا گیا ہے جو خود کو عالم دین کہتا ہے، وہ خود کو ایک دینی مدرسے کا مہتمم بھی لکھتا ہے اور اس کا نام مولانا نذیر الحق دشتی اور تعلق بھونگ ضلع رحیم یارخان سے ہے۔ الزام بارے بات کرنے سے پہلے میں بتانا چاہتا ہوں کہ مولوی نذیر الحق دشتی کی زندگی کا مقصد سرائیکی کے خلاف لکھنا اور سرائیکی کےخلاف بولناہے۔وہ خود کو بلوچی دانشور کہلاتے ہیں اور ان کا دعویٰ ہے کہ میری غیر مطبوعہ کتابوں میں قرآن مجید کا بلوچی ترجمہ بھی شامل ہے۔ سرائیکی کےخلاف لکھی گئی ان کی کتابوں میں ”سرائیکی پنجابی اور سرائیکستان، سرائیکیوں، ظہور دھریجہ کی گلفشانیاں “ اور اب نئی کتاب ” مراسلہ “ کے نام سے بھی آئی ہے۔ مولوی نذیر الحق دشتی خود کو صادق آباد کے پنجابی لکھاری بشیر احمد بےتاب کا دوست کہتے ہیں۔ بشیر احمد بیتاب زمیندار اور صاحبِ حیثیت آدمی ہیں۔ وہ مولوی نذیر الحق دشتی کی قلمی، فکری اور مالی معاونت کرتے رہتے ہیں۔ مولوی صاحب کے خیالات، نظریات اور گفتگو کبھی بھی کسی لطیفے سے کم نہیں۔ لیکن مولوی صاحب کا کمال یہ ہے کہ ” تحریری جھوٹ “ میں بھی اپنا ثانی نہیں رکھتے۔ مولوی نذیر الحق دشتی کا مراسلہ تو سرائیکی لکھاری راہی گبول کے نام ہے لیکن اس نے تحریری غصہ روزنامہ خبریں اور مجھ ناچیزپر نکالاہے۔ راہی گبول کو صرف اتنا کہا کہ تم بلوچ ہو اور خود کو جٹ (سرائیکی) کیوں کہلاتے ہو؟ مولوی نذیر الحق دشتی نے سرائیکی بولنے والے تمام بلوچوں کو دوش دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ پنجابیوں کو دیکھو ‘ وہ جٹستان ( سرائیکی وسیب) میں خود کو فخر سے پنجابی کہتے ہیں۔اپنے کتابچے ’ ’مراسلہ “ میں مولوی نذیر الحق دشتی کہتے ہیں کہ مجھے تو عورتوں کے بارے میں گندی باتیں لکھنے سے روکا جاتا ہے لیکن ظہور دھریجہ صاحب جو کہ روزنامہ خبریں کے کالم نگار بھی ہیں ‘ کیا انہوں نے کبھی اخبار کے ایڈیٹر صاحب سے کہا کہ گندی اور فحش خبریں نہ دیا کریں یا انہوں نے اس بارے میں اپنے کالم میں کبھی کچھ لکھا؟ یہ بے سروپا بات مولوی نذیر الحق دشتی دوسری، تیسری مرتبہ دہرا رہے ہیں۔ میں نے ہر مرتبہ ان سے کہا کہ آپ کوئی بھی بات کریں تو اس کا حوالہ دیں کہ کب خبریں اخبار میں گندی اور فحش باتیں لکھیں ؟ مولوی صاحب نے آج تک اس کا جواب نہیں دیا اور مسلسل ہوائی فائرنگ کئے جا رہے ہیں۔ اب میں پھر کہہ رہا ہوں کہ وہ اپنی بات حوالے سے کریں ‘ بصورت دیگر ان کا کوئی نفسیاتی مسئلہ ہے تو رحیم یارخان میں اچھے ہسپتال موجود ہیں اور حیدر آباد میں بھی زمانہ قدیم سے یہ سہولت موجود ہے، اپنا علاج کرائیں۔
ایک اور کتاب ” ظہور احمد دھریجہ صاحب کی گل فشانیاں “ میں بھی مولوی نذیر الحق دشتی صاحب نے ایک سے ایک ہوائی چھوڑی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ میں نے اپنی گزشتہ کتاب ” سرائیکیوں “ میں 51 سوالات کئے تھے اور اعلان کیا تھا کہ کوئی سرائیکی مجھے ان کے جواب دے گا ‘ تو میں سرائیکی تحریک میں شمولیت کر لوں گا۔ لیکن سرائیکی ماں دھرتی کے حلالی بیٹے ظہور دھریجہ نے بدحواسی اور گھبراہٹ کے عالم میں اُلٹا مجھ پر سوالات کر ڈالے۔ مولوی نذیر الحق دشتی کو نہ صرف سوالات کے جواب دیئے گئے بلکہ ان جوابات میں سوالات بھی پیدا کئے گئے کہ اگر ان میں جرا¿ت ہے تو وہ ان کے جوابات دیں۔ مگر مولوی صاحب نے کوئی جواب نہیں دیا۔ مولوی صاحب اپنے دل میں یہ چاہتے ہیں کہ اب مجھے سرائیکی تحریک میں شمولیت کی دعوت دی جائے گی تو یہ ان کی بھول ہے کہ سرائیکی تحریک کو کسی ایسے مریض کی ضرورت نہیں کہ وہ سرائیکی تو کیا اپنے بلوچ قوم کے بارے میں ان کے جو نظریات ہیں، وہ بھی احمقانہ ہیں، ” سرائیکیوں “ کے صفحہ نمبر 30 پر خود لکھتے ہیں کہ
” اس سے قبل بلوچوں کے بارے میں میرا نظریہ کچھ اور تھا۔ مگر کتب تواریخ میں بلوچ مورخین کا نظریہ دیکھ کر میں نے پہلے نظریے سے رجوع کر کے بلوچوں کے نمرود بادشاہ کی اولاد ہونے کا نظریہ اپنا لیا ہے۔ بلوچ واقعی نمرود کی اولاد ہیں۔ “ مولوی نذیر الحق دشتی کی اس بات پر بلوچ قوم کا بچہ بچہ اس سے ناراض ہے اور اس سے کہہ رہا ہے کہ وہ کیسا بلوچ ہے جو عظیم بلوچ قوم کو نمرود کی اولاد کہہ رہا ہے۔
مولوی نذیر الحق دشتی کی ایک عادت یہ ہے کہ وہ کبھی بھی بات پوری نہیں کرتے ‘ اپنی بے وقوفانہ چالاکی اور مکاری کے ساتھ ادھوری بات کر کے غلط فہمیاں پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور پھر باتوں کی وضاحت اپنی مخصوص ذہنیت کے مطابق کرتے ہیں۔ جیسا کہ انہوں نے سرائیکی اجرک کی کتاب 153 پر چھپی ہوئی حضرت سید عطا اللہ شاہ بخاری ؒ کی ایک فارسی نظم کے شعر ” چناں فرزند ناہموار زاید، کہ از خر قیمتش بر تر نیاید“ کا خود یہ ترجمہ فرما رہے ہیں کہ اس شعر کا مطلب مرزا غلام احمد قادیانی ہے۔ مجھے مرزا غلام احمد قادیانی سے کوئی ہمدردی نہیں۔ نہ ہی میں اسے اچھا سمجھتا ہوں۔ لیکن مولوی نذیر الحق دشتی سے پوچھتاہوں کہ شعر میں مرزا غلام احمد قادیانی کہاں لکھا ہوا ہے۔ عجب بات ہے کہ نظم سید عطا اللہ شاہ بخاری ؒ کی ہے اور یہ نظم سید عطا اللہ شاہ بخاری کی کتاب ” ساطعہ “ کے صفحہ نمبر 13 پر چھپی ہوئی ہے۔ مولوی نذیر الحق دشتی سید عطا اللہ شاہ بخاریؒ کو کچھ نہیں کہہ رہے اور غصہ مجھ پر نکالنے کی کوشش کر رہے ہیں اور پھر اپنی چالاکی کے ذریعے قارئین کے لئے غلط فہمی بھی پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ایسا ہی کوئی شخص سامنے آئے تو لا حول پڑھنا چاہئے۔
آگے چل کر مولوی نذیر الحق دشتی ” گلفشانیاں “ کے صفحہ نمبر 60 پر کہہ رہے ہیں کہ ( معاذ اللہ ) میں نے علامہ اقبال کو بےہودہ، بازاری اور بھونڈے پن کا بادشاہ لکھا ہے۔ جبکہ یہ سراسر جھوٹ ہے۔ جیسا کہ میں نے پہلے لکھا کہ مولوی صاحب اپنی چالاکی اور مکاری کے ذریعے ہمیشہ ادھوری بات کرتے ہیں۔ جو حقیقت ہے وہ کتاب پر لکھی ہوئی ہے کہ سابق وفاقی وزیر تعلیم غلام مرتضیٰ شاہ کا مضمون ان کے رسالے ” سندھ کوارٹرلی “ میں شائع ہوا جسے پنجاب حقوق کے ترجمان رسالے آوازِ پنجاب نے مورخہ 30 جولائی 1989ءکو شائع کیا۔ حوالے کے طور پر رسالے کی جلد نمبر 1اور شمارہ نمبر 4 بھی لکھا ہوا ہے۔ مولوی نذیر الحق دشتی کو سندھ کوارٹرلی پر بھی اعتراض نہیں ‘ سابق وفاقی وزیر تعلیم غلام مصطفی شاہ پر بھی اعتراض نہیں اور آوازِ پنجاب پر اعتراض نہیں مگر سارا غصہ مجھ ناچیز پر نکالنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ میں مولوی نذیر الحق دشتی کو بتانا چاہتا ہوں کہ دوسروں کی بات مجھ پر تھونپنے کی کوشش نہ کرو، میں علامہ اقبال کو مفکر اسلام کہتا ہوں اور میری کتاب ” علامہ اقبال اور سرائیکی وسیب “ چھپی ہوئی ہے۔ مولوی صاحب کو اپنی مخصوص شیطانی ذہنیت سے تائب ہو کر حقیقت بیانی سے کام لینا چاہئے اور سرائیکی دھرتی، سرائیکی زبان اور سرائیکی قوم سے اتنا ہی عناد ہے تو پھر وہاں رہائش رکھ لیں جہاں سرائیکی نہ بستے ہوں۔ جہاں تک یہ بات ہے کہ میں سرائیکی کو نہیں مانتا جو زبان یونیورسٹی میں پڑھائی جا رہی ہے ‘ جس میں پی ایچ ڈی ہو رہی ہے تو کسی کے ماننے نہ ماننے سے سرائیکی قوم اور سرائیکی زبان کو کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ البتہ جو بھی شخص آسمان پر تھوکتا ہے، اس کا جواب اسی وقت اس کے منہ پر آتاہے۔
(سرائیکی اخبار روزنامہ جھوک کے ایڈیٹر اور
زیادہ تر سرائیکی مسائل پر لکھتے ہیں)
٭….٭….٭

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں


دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved