انجام گلستان کیا ہوگا؟

خضر کلاسرا….ادھوری ملاقات
پانامہ کیس میں سپریم کورٹ کی طرف سے قائم کردہ جوائنٹ انوسٹی گیشن کی تحقیقات کے بعد وزیراعظم نوازشریف بڑی تیزی کے ساتھ پاکستان کی سیاست میں مائنس ہوتے جارہے ہیں۔ اس بات کا احساس وزیراعظم نوازشریف کو بھی ہوچکاہے لیکن بحیثیت وزیراعظم کی الزامات کے ڈھیر کے ساتھ روانگی تکلیف دہ تو ہوگی۔ادھراپوزیشن ہے کہ کوئی لمحہ ضائع کیے بغیر اس بات پر بضد ہے کہ وزیراعظم نوازشریف استعفیٰ دیں۔ان کے پاس کوئی اخلاقی اور قانونی جواز نہیں رہاکہ وہ وزیراعظم کے طورپر ملک چلاسکیں۔ تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان شریف خاندان کی تضحیک اور تذلیل کا کوئی پہلو اپنے ہاتھ سے نہیں جانے دیتے اور باآواز بلند جلسوں میں نعرہ لگواتے ہیں کہ سارا ”ٹبرچورہے“ اس بات کے باوجود کہ عمران خان کے پہلو میں جہانگیر ترین جیساشخص کھڑاہے، جس پر بھی خاصے سنگین الزامات ہیں۔مطلب باروچی اور مالیوں کے نام پر وارداتیں ہیں لیکن انگلی دوسروں کی طرف اٹھ رہی ہے۔تحریک انصاف کے کردار پر تنقید تو اپنی جگہ پر لیکن ادھر عمران خان کی بات یوں سچ لگتی ہے کہ پانامہ کیس میں سپریم کورٹ کی طرف سے قائم کردہ جوائنٹ انوسٹی گیشن کی تحقیقات میں خاندان کی کوئی بھی ایک شخصیت الزام سے نہیں بچی جوکہ وزیراعظم نوازشریف کے بعدوزریراعظم ہاﺅس میں عزت ووقار کے ساتھ داخل ہوسکتی۔اب تو جس کا نام آتاہے،وہ ملزم ہی ٹھہرایاگیا اور وارداتوں کی گٹھڑی کے ساتھ چل رہا ہے۔ سمجھداروں کا کہنا ہے کہ وزیرخزانہ اسحاق ڈار نے تو شریف خاندان کو اس انجام سے دوچارکرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی پھر فیڈرل جوڈیشل اکیڈمی کے سامنے جوائنٹ انویسٹی گیشن میں تحقیقات کے بعد جس انداز میں لکھی ہوئی گالیاں تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کو دیںاس کے بعد تو ان کا حقیقی روپ بھی عوام کے سامنے آگیاہے کہ موصوف کتنی گھٹیا گفتگوبھی کرسکتے ہیں۔رہے نام اللہ کا۔ادھر نیشنل بنک کے صدر سعید احمد کے ساتھ مل کر جو گل کھلائے ہیں اور کلاس فیلوہونے کا حق اداکرنے کی کوشش کی ہے، ان کا تذکرہ بھی زبان زد عام ہے مطلب ہرشاخ پہ الو بیٹھا ہے،انجام گلستان کیاہوگا والا معاملہ چل رہاہے۔لیگی قیادت کے کیمپ میں جوجتنا کرپٹ تھا اتنا بڑ ا معتبر ٹھہرا۔جس کے ہاتھ جو لگا وہ لے اڑا۔وزیراعلیٰ پنجاب شہبازشریف جوکہ اپنے آپ کو خادم اعلیٰ کے لقب خود ہی دیتے تھے،وہ بھی سپریم کورٹ کی قائم کردہ تحقیقاتی کمیٹی میں معتبر نہیں ٹھہرے بلکہ یوں کہنا مناسب ہوگاکہ ایک ہی صف میں کھڑے ہوگئے۔
سپریم کورٹ کی قائم کردہ مشترکہ تحقیقاتی کمیٹی نے تو ساٹھ دن میں اپنی رپورٹ میں وزیراعظم نوازشریف اور ان کے خاندان کی وارداتوں سے پردہ اٹھایاجبکہ سپریم کورٹ آف پاکستان کے معزز ججوں کی طرف سے تو ان کو گاڈفادر اورمافیا پہلے ہی قراردیاگیاتھا،جس کی ملتان میں موجود جاوید ہاشمی صاحب کو کچھ زیادہ ہی تکلیف ہوئی۔ادھر ہاشمی صاحب خود ہی فرماتے ہیں کہ نواز شریف کی کابینہ میں موجود بعض ارکان نے انہیں فزیکلی الیسٹ کیاتھا۔اب جاوید ہاشمی خود ہی بتائیں کہ اس کے بعد شریف برادران اور ان کے ساتھیوں کو کس نام سے یادکیاجائے ؟
نوازشریف کیلئے آ ج کل تکلیف دہ صورتحال یوں چل رہی ہے کہ اپوزیشن کے ساتھ اپنی کابینہ میں موجودوفاداروں کی طرف سے بھی استعفیٰ دینے کی تجویز دی گئی ہے۔میاں صاحب تو اس بات کی توقع نہیں تھی کہ ان کے اردگرد کے اپنوں سے بھی وہی آوازیں سننے کو ملیں گی جوکہ امیر جماعت اسلامی سراج الحق اور تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کے جلسوں سے ا آرہی ہیں۔چودھری نثار اس صورتحال میں خاصے ڈسکس ہورہے ہیں۔وہ مستقبل کے وزیراعظم بتائے جارہے ہیں لیکن اطلاعات ہیں کہ وزیراعظم نوازشریف نے بھی کچی گولیاں نہیں کھیلی ہوئی۔وہ بھی مسلم لیگ کو اس قابل چھوڑ کرجانے کے موڈ میں نہیں کہ کوئی وزیراعظم ہاﺅس جاسکے مطلب میں نہیں تو کچھ بھی نہیں۔
وزیراعظم نوازشریف جن کو پاکستان کی سیاست میں ایک منفرد مقام حاصل رہاہے اور سیاست کے میدان میں چاروں اطراف سے نوازے جاتے رہے ہیں لیکن وزیراعظم نوازشریف نے اپنے بچوں کو سیاست کی بلندیوں پر پہنچانے کی بجائے انہیں کاروبار میں بلندیوں پر پہنچانے پر ساری توجہ مرکوز رکھی،اس میں اس بات کا بھی دھیان نہیں رکھاکہ کرپشن کی بنیاد پر کھڑی عمارت زیادہ دیر کھڑی نہیں ہوسکی گی۔اب ان کو اسی صورتحال کا سامنا یوں ہے کہ حسین اور حسن سے لے کر مریم نوازتک کوئی ایسا خاندان کا فرد نہیں جوکہ ان کے سیاسی سفرکو وراثت کے طورپر آگے لے جاسکتا۔اوروہ ایک بار پھر سعودی عرب یاپھر ترکی کے محل میں اپنی پائے اور دیگر لاہوری کھانوں سے لطف اندوز ہوتے۔
سپریم کورٹ کی قائم کردہ جوائنٹ انویسٹی گیشن کی ٹیم کی رپورٹ میں کوشش کے باوجود میں کوئی ایسا نام تلاش نہیں کرسکا جس کا نام احترام سے لیاجاتا،قصور جے آئی ٹی کا نہیں دراصل وجہ یہ تھی کہ سب نے ہی واردات کی ہوئی تھی۔وزیراعظم نوازشریف کے داماد کیپٹن صفدر کیلئے تو وہ القابات جے آئی ٹی کے ارکان نے لکھے ہیں کہ عام شہری کا سر تو شرم سے جھک جاتاہے لیکن پتہ نہیں کیپٹن صفدر کس طرح سراٹھاکر چلے رہے ہیں۔نوازشریف اور ان کے خاندان پر ڈھیروں الزامات ہیں اور ان میں سے جو بڑ ا توہین آمیز ہے وہ یہ بھی ہے کہ وزیراعظم نوازشریف دبئی میں ملازمت کرتے رہے جو کہ ملک وقوم کیلئے لمحہ فکریہ ہے کہ قوم کو ایسے لیڈرملے ہیںجوکہ ملک قوم کی عزت ووقار کی بجائے اپنے بچوں کیلئے پیسوں کے پیچھے بھاگ رہے ہیں۔
(کالم نگار کا تعلق جنوبی پنجاب سے ہے
اور سیاسی و سماجی مسائل پر لکھتے ہیں)
٭….٭….٭

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں


دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved