نیپال بھارت کشیدگی

علی سخن ور….فل سٹاپ کے بعد
اگر رقبے کے اعتبار سے بڑے ملکوں کی فہرست بنائی جائے تو نیپال اس فہرست میں 93نمبر پر آئے گا۔ 26.4ملین آبادی کے اس ملک کی سرحدیںشمال میں چین سے جبکہ جنوب، مشرق اور مغرب کی تین سمتوں میں بھارت سے ملتی ہیں۔نیپال اور بنگلہ دیش کا باہمی فاصلہ بمشکل 27کلومیٹر ہے لیکن ان دونوں کی سرحدیں آپس میں کہیں بھی نہیں ملتیں۔نیپال کا کچھ ایسا ہی معاملہ بھوٹان کے ساتھ بھی ہے کہ بہت کم فاصلہ ہونے کے باوجود نیپال اور بھوٹان سرحدی ہمسائے نہیں کیونکہ ان دونوں کے درمیان بھارتی ریاست سکم (SIKKIM)حائل ہوجاتی ہے۔نیپال اپنے بلندوبالا پہاڑوں،آبشاروں، جھرنوں اور ہرے بھرے درختوں کے حوالے سے دنیا بھر کے سیاحوں کی توجہ کا مرکز سمجھا جاتا ہے۔دنیا کے آٹھ بلند ترین پہاڑی سلسلے بھی نیپال ہی میں ہیں جن میں ماﺅنٹ ایورسٹ بھی شامل ہے لیکن اس سب کے باوجود یہ جنت ارضی خوشحالی اور ترقی کے حوالے سے وہ کامیابیاں کبھی بھی حاصل نہیں کر سکی جو اس طرح کی جغرافیائی اہمیت کے حامل ملک کو ملنی چاہئے تھیں۔ہیومن ڈیویلوپمنٹ انڈیکس یعنی HDI کی 2016ءمیں شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق ترقی پذیر ممالک میں نیپال کا 144واں نمبر ہے۔
اس حقیقت کے با وجود کہ نیپال کے پاس ہائیڈروپاور سیکٹر میں بے پناہ ترقی کے امکانات موجود ہیں، نیپال کبھی بھی بھوک اور غربت کی بدترین مثالوں سے خود کو آزاد نہیں کرواسکا۔تاہم نیپال کی حکومت اور عوام نے عزم کر رکھا ہے کہ2022ءتک نیپال کو غربت بھوک اور بدحالی کے شکار ممالک کی فہرست سے باہر نکال لیا جائے گا۔اگرچہ بھارت اپنی عددی قوت اور جغرافیائی صورت حال کے باعث ایک مدت سے نیپال کے سیاسی اور سماجی معاملات میں نہایت شدت کے ساتھ دخیل ہے اور نیپال کو اپنی ایک ریاست کے طور پر تصور کرتا ہے لیکن عوامی سطح پر نیپال میں بھارت کو شدید مخالفت اور ناپسندیدگی کا سامنا ہے۔ نیپالی عوام بھارت کو اپنا بدترین دشمن سمجھتے ہیں اور ان کے ذہنوں میں یہ خیال نہایت تقویت کے ساتھ موجود ہے کہ بھارت ہر معاملے میں ان کے استحصال کا باعث بنتا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان بہت سے علاقوں پر ملکیت کا معاملہ بھی اختلافات کا باعث ہے جن میں نیپال کے جنوب میںمادیش کا علاقہ بھی شامل ہے۔ نیپال ایک لینڈ لاک قسم کی سرزمین ہے کہ جو تین اطراف سے بھارت اور ایک سمت سے چین کے حصار میں ہے،نیپال کو اپنے ہاں درآمدات کے حوالے سے بھارت کا راستہ اختیار کرنا پڑتا ہے۔اس بات کو یوں بھی سمجھا جا سکتا ہے کہ بھارت کی طرف سے نیپال میں مادیش کے راستے روزانہ کی بنیاد پر 300سے زائد ایندھن کے ٹینکر داخل ہوتے ہیں۔کچھ ایسی ہی صورت حال دیگر درآمدی اشیاءکی بھی ہے۔بھارت اور نیپال کے درمیان مال و اسباب کی اکثر آمدورفت مادیش کے راستے ہوتی ہے۔ انگریزوں کی آمد سے پہلے مادیش آزاد حیثیت کا حامل علاقہ تھا لیکن بعد میں انگریزوں نے یہ علا قہ تحفتاً نیپال کو دے دیا۔ آج بھی اس علاقے میں انڈین اوریجن کے حامل لوگو ں کی اکثریت ہے۔ بھارت اسی اکثریت کا فائدہ اٹھا کر وقتاً فوقتاً اپنے ایجنٹوں کی مدد سے ما دیش میں امن و امان کی صورت حال بگاڑتا رہتا ہے۔ بھارت کی خواہش ہے کہ مادیش پر نیپال کا تسلط ختم ہوجائے اور یہ علاقہ ایک بار بھارت کے قبضے میں واپس آجائے۔ ستمبر 2015ءمیں بھارت نے یکطرفہ طور پرنیپال جانے والے سامان پرایک undeclaredیعنی غیر اعلانیہ قسم کی پابندی لگادی لیکن الزام مادیش کے مقامی لوگوں پر عائد کردیا کہ وہ بھارت سے نیپال میں سامان کو آنے نہیں دے رہے۔ لیکن بھارت کی اس الزام تراشی کو بین الاقوامی سطح پرجھوٹ کے سوا اور کچھ بھی نہیں سمجھا گیا۔تاہم یہ بات اپنی جگہ ایک حقیقت ہے کہ بھارت کی اس ساری سازش کا نیپال کو بدترین نقصان پہنچا۔ روزانہ کی بنیاد پر بھارت سے نیپال آنے والے ایندھن کے ٹینکرز کی تعداد سینکڑوں سے گھٹ کرپانچ سے دس ٹینکر روزانہ پر آگئی۔
ملک میں ایندھن اور اشیائے خوردو نوش کے ساتھ ساتھ دواﺅں کی بھی شدید قلت پیدا ہوگئی۔یہ وہ زمانہ تھا جب نیپال میں شدید زلزلہ بھی آیا تھا۔صورت حال کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے نیپال کے حکمرانوں کو بھارت کے حوالے سے اپنے رویے میں لچک پیدا کرنا پڑی لیکن نیپالی عوام کسی طور بھی بھارت کے سامنے گھٹنے ٹیکنے پر راضی نہیں تھے۔ایسے میں گریٹر نیپال نیشنلسٹ فرنٹ قسم کی تنظیموں نے بھی ایک نہایت مثبت اور طاقتور کردار ادا کیا۔نیپال کے لوگ کسی طور بھی بھارت کا غلام نہیں بننا چاہتے۔ان کو یقین ہے کہ اگر بھارت کی بجائے نیپالی حکومت چین سے اپنے مراسم بہتر کرنے کی کوشش کرے تو ایسا کرنا نیپال کے وسیع تر مفاد میں ہوگا۔ نیپال کے وزیر اعظم مسٹر پشپا کمال پر بھی الزام عائد کیا جاتا ہے کہ نیپالی عوام کی مرضی کے برعکس بھارت کی طرف غیر ضروری جھکاﺅ رکھتے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق سابق نائب وزیر اعظم مسٹر کے پی اولی کے دور میں چین اور نیپال کے مابین کچھ معاہدوں پر بھی دستخط ہوئے تھے لیکن مسٹر پشپا کمال نے ارادی طور پر بھارت کے دباﺅ میں آکر ان معاہدوں پر عملدرآمد کو التواءمیں ڈال دیا۔کچھ ایسی ہی صورت حال دیگر نیپالی سیاستدانوں کی بھی ہے، وہ اقتدار میں آنے کےلئے بھارت کےخلاف بیانات جاری کر کے نیپالی عوام سے ووٹ حاصل کر لیتے ہیں لیکن اقتدار میں آنے کے بعد وہ بھارت کی جھولی میں جا بیٹھتے ہیں۔نیپالی عوام کےلئے یہ صورتحال مسلسل اذیت کا باعث ہے۔تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ اگر نیپالی حکمرانوں نے بھارت نوازی کا یہی سلسلہ جاری رکھا تو وہ دن دور نہیں جب نیپالی حکومت اور نیپالی عوام دو الگ الگ کشتیوں کے مسافر ہوں گے، حکمرانوں کی کشتی کا رخ دہلی کی طرف ہوگا اور عوام کی کشتی بیجنگ کی سمت رواں دواں ہوگی۔ نیپال کی حکومت2022 ءتک ملک کو ترقی اور خوشحالی کی نئی منزلوں کی طرف لے جانے کا ارادہ رکھتی ہے لیکن اس ارادے کی تکمیل کےلئے نیپالی حکومت کو عوامی تعاون کی اشد ضرورت ہوگی،حکومت اور عوام اگر دو مختلف اور متضاد سمتوں میں بڑھنے لگیں تو اس سے بڑے پیمانے پر فساد کا اندیشہ ہوتا ہے۔مہذب قومیں اس طرح کی فسادی صورت حال کو ملک اور قوم دونوں کےلئے بدنصیبی شمار کرتی ہیں۔ یقینا نیپالی وزیر اعظم اپنی قوم کو اور اپنے ملک کو فساد کی اس آگ سے بچانے کی ہر ممکن کوشش کریں گے لیکن اس کوشش میں سب سے پہلے انہیں خود کو بھارت نوازی کے الزام سے پاک کرنا ہوگا۔
(قومی اور بین الاقوامی امور پر لکھتے ہیں)
٭….٭….٭

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved