افغانستان میں ملافضل اﷲ کا اجلاس ”را“ ایجنٹ بھی شریک, لاہور میں کیا کرنیوالے ہیں؟ خوفناک انکشاف

لاہور (کرائم رپورٹر) صوبائی دارالحکومت ایک مرتبہ پھر دہشتگردوں کے نشانے پر ، افغانستان میں ملافضل اللہ کی زیر صدارت تحریک طالبان شوری کا اجلاس ، حاجی ودُود،ملک ابراہیم اور (را)ایجنٹ دیدان سنگھ سمیت دیگرکی شرکت،دیدان سنگھ نے افغانستان میں طالبان پر حملوں کا ذمہ دار پاکستان کو قرار دیدیا،(را) کے اکسانے پر تحریک طالبان پاکستان کی جانب سے لاہور میں دہشگردانہ کاروائیوں کی تیاریاں،سرکاری افسران ،بھیکی اور حویلی بہادر شاہ پر پاک چائنہ انرجی پراجیکٹس ،چائنیز کونسلیٹ ،قانون نافذ کر نے والے اور حساس اداروں کے دفاتر ،بازار اور شاپنگ مالز،جیلیں اور پیشی کیلئے لائے جانے والے قیدیوں کو نشانہ بنانے کا فیصلہ۔ باوثوق ذرائع کے مطابق حساس اداروں کی جانب سے مراسلہ جاری کیا گیا ہے جس کے تھریٹ نمبر 376کے مطابق تحریک طالبان لاہور اور نواحی علاقوں میں بڑی کاروائیوں کا ارادہ رکھتے ہیں جن میں سرکاری افسران ،بھیکی اور حویلی بہادر شاہ پر پاک چائنہ انرجی پراجیکٹس ،چائنیز کونسلیٹ ،قانون نافذ کر نے والے اور حساس اداروں کے دفاتر ،بازار اور شاپنگ مالز،جیلیں اور پیشی کیلئے لائے جانے والے قیدی بھی شامل ہیں ۔ذرائع کے کہنا ہے کہ یہ تھریٹ حساس اداروں کی جانب سے تیسری مرتبہ جاری کیئے گئے ہیں کیونکہ صوبائی دارالحکومت کی سکیورٹی انتہائی سخت ہونے کی وجہ سے دہشتگرد اپنے مذموم مقاصد میں کامیاب نہیں ہو پا رہے ہیں ۔تھریٹ نمبر 377میں واضح طور پر حساس اداروں کی جانب سے لکھا گیا ہے کہ 3مئی 2017کو افغانستان کے صوبہ نورستان میں تحریک طالبان پاکستان شورا کا اجلاس طلب کیا گیا تھا جس کی صدارت ملا فضل اللہ نے خود کی تھی جبکہ اجلاس میں ڈسٹرکٹ سپن بولڈک کے حاجی ودُود،کابل کے ملک ابراہیم اور (را)کے ایجنٹ دیدان سنگھ سمیت دیگرنے شرکت کی ۔ تحریک طالبان پاکستان شورا کے اجلاس کو (را) کے ایجنٹ دیدان سنگھ نے بتایا کہ تحریک طالبان پر افغانستان میں ہونے والے حملوں میں پاکستانی انٹیلی جنس ادارے ملوث ہیں جبکہ کابل حملہ بھی پاکستان کی جانب سے کیا گیا تھا ۔ (را) کے ایجنٹ دیدان سنگھ کے اکسانے کے بعد تحریک طالبان پاکستان کی جانب سے لاہور میں اہم عمارتوں ، شخصیات اور ترقیاتی پراجیکٹس پر حملوں کی منصوبہ بندی کی گئی ہے تاہم حساس اداروں کی جانب سے یہ تھریٹ لیٹرآئی جی پنجاب ،اے آئی جی سی ٹی ڈی ،سی سی پی او لاہور ،تمام کمشنرز ، آر پی اوز ،سی پی اوز،ڈی پی اوز اور ڈی سیز سمیت تمام انٹیلی جنس اداروں کو ارسال کر دیا گیا ہے تاکہ صوبائی دارالحکومت سمیت پنجاب بھر میں دہشتگردانہ کاروائیوں کا سد باب کیا جاسکے۔

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved