تازہ تر ین

کمردرد

ڈاکٹر نوشین عمران
ریڑھ کی ہڈی 33 چھوٹے مہروں سے مل کر بنتی ہے۔مہرے ایک دوسرے سے کرکری ہڈی یا ڈسک کے ذریعے اس طرح جڑے ہوتے ہیں کہ ان میں ایک لچک قائم رہتی ہے۔ تاکہ کمر آگے پیچھے دائیں بائیں مڑ سکے۔ مہروں کے درمیان ڈسک بالکل ایک گول ٹکیا کی طرح ہوتی ہے جو ہڈیوں کو جوڑنے اور ان کے درمیان کشن کا کام کرتی ہے تاکہ مہرے ایک دوسرے سے رگڑ نہ کھائیں۔ پہلے سے آخری مہرے کے درمیانی حصے میں ایک نالی ہوتی ہے جس میں حرام مغز”سپائنل کارڈ“موجود ہے جو دماغ کے ساتھ براہ راست تعلق قائم رکھتی ہے۔ حرام مغز سے دونوں اطراف میں باہر کی جانب نسیں نکلتی ہیں جو دماغ کے احکامات کے ذریعے جسم کو کنٹرول رکھتی ہیں۔
کمردرد کی کئی وجوہات ہوسکتی ہیں۔ مہروں کی ساخت میں تبدیلی یا کمزوری ہوجائے۔ مہروں کے درمیان ڈسک میں خرابی ہوجائے۔ ڈسک پتلی ہوجائے۔ اپنی جگہ سے کھسک جائے‘ ڈسک میں ہرنیا ہوجائے۔ ڈسک خراب ہونے سے مہرے ایک دوسرے پر رگڑ کھائیں۔ مہروں کے درمیان نسیں دب جائیں ‘ کمر کے بڑے پٹھے مسلز دب جائیں یا ان میں اکڑاﺅ آجائے‘ پٹھے زخمی ہوں‘ چوٹ لگ جائے یا کھنچاﺅ آجائے‘ مہروں کو باندھ کر رکھنے والے بینڈ لیگامنٹ میں خرابی ہوجائے‘ مہروں میں ہونے والی کوئی بھی خرابی ان مہروں کی جگہ‘ اس کے گرد درد پیدا کرتی ہیں۔ ان کے درمیان نسوں کے دباﺅ کے باعث جسم پر جس جگہ نسں کنٹرول کرتی ہیں وہی حصہ درد کرنے لگتا ہے۔
کمر کے 5 مہروں کا سائز باقی مہروں کی نسبت تھوڑا بڑا ہوتا ہے اور خم فرق ہوتا ہے کیونکہ یہ حصہ پورے انسانی ڈھانچے کا سب سے زیادہ بوجھ برداشت کرتا ہے۔ کمر کو بری طرح استعمال کرنے‘ بے تحاشا ورزش‘ غلط طرح جھکاﺅ‘ چوٹ سے انہی مہروں میں سب سے زیادہ درد ہوتا ہے۔
کمر کے پٹھوں کے کھنچاﺅ اور چوٹ لگنے پر پٹھوں میں لیکٹک ایسڈ کی مقدار بڑھ جاتی ہے جس سے اس جگہ جلن‘ سوئیاں چبھنے جیسی علامات پیدا ہوتی ہیں۔ ایسے اکڑاﺅ یا کھنچاﺅ کے باعث مہروں سے نکلنے والی نسیں دباﺅ میں آجاتی ہیں جس سے نہ صرف کمر بلکہ ٹانگوں کی جانب بھی درد ‘سوئیاں چبھنا اور سن ہونے جیسی علامات ہوتی ہیں۔ اٹھنے‘ بیٹھنے ‘ چلنے پھرنے میں دشواری ہوتی ہے۔ ضروری نہیں کہ زیادہ سخت کام کرنے پر ہی کمردرد ہو بلکہ اکثر افراد میں زیادہ وقت کرسی پر بیٹھے رہنے سے بھی کمر میں درد شروع ہوجاتا ہے۔ وٹامن ڈی لیول کم ہونے پر بھی ٹانگیں اور ریڑھ کی ہڈی میں درد رہنے لگتا ہے۔ عمر کے ساتھ ہڈیوں کی ساخت اس کے ساتھ لگے کارٹیلیج میں کمزوری آجاتی ہے جسے ڈیجینریشن کہا جاتا ہے۔ 60 سال کی عمر کے بعد کئی ہڈیوں میں ایک اضافی ہڈی بون سپر بن جاتا ہے جو مستقل درد کا باعث بنتا ہے۔
کمردرد کے علاج کے لئے گرم پانی یا ہیٹنگ پیڈ سے سینک دیں۔ کمر پر بیلٹ باندھ لیں جسے لمبوسیکرل بیلٹ کہا جاتا ہے۔ چند دن درد کم کرنے والی ادویات کھائیں‘ السر یا معدے میں تیزابیت کے مریض درد کی دواﺅں کے ساتھ روزانہ ایک دفعہ اینٹی السر دوا بھی ضرور لیں۔ کمر پر مالش کے لئے زیتون کا تیل یا کوئی بھی تیل نیم گرم کرکے مالش کریں یا کمر درد ختم کرنے والی مالش کی کریموں میں کوئی استعمال کریں۔اگر پٹھوں پر سوجن ہو تو گرم کے بجائے برف کی پٹی رکھیں تاکہ سوجن( سوج) کم ہو۔ اگر پٹھوں میں سختی‘ اکڑاﺅ ہو تو گرم سینک کریں۔ درد مسلسل رہے تو مہروں کے درمیان ایپی ڈپورل انجکشن بھی لگوا سکتے ہیں۔ لیکن یہ انجکشن صرف انستھیزیا یا آرتھوپیڈک ڈاکٹر ہی لگاتے ہیں۔ کمر درد سے بچاﺅ کے لئے مستقل ہلکی پھلکی ورزش کرنا بہترین ہے۔
٭٭٭


اہم خبریں





دلچسپ و عجیب
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2021 All Rights Reserved Dailykhabrain