اپنی معدنی دولت امریکہ سے بچائیں

سلمیٰ اعوان …. لمحہ فکریہ
عصر حاضر کی سُپر پاورکے اےک اہم فرد کارل روKaral Rove نے چند سال قبل تکبّر اور نخوت سے بھرے پرے لہجے مےں دنےاکو اُس کی گھٹےا اوقات کا احساس دلاتے ہوئے کہاتھا۔
”ہم اےک اےمپائر ہےں۔جب ہم کوئی کام کرتے ہےںہم اس کے ہونے کا جواز پےدا کرلےتے ہےں۔ جب دنےا ہمارے اِس جواز پر غوروغوض کررہی ہوتی ہے۔ہماری ترجےحات کا رُخ بدل جاتا ہے۔ہم تارےخ کے اداکار ہےںاور تم سب لوگ(ےعنی باقی دنےا)صرف ےہی جاننے مےں لگے رہتے ہےںکہ ہم کر کےا رہے ہےں؟“
اب آپ جلے دل کے پھپھولے پھوڑتے ہوئے جو مرضی رائے زنی کرےں کہ ارے کتنا زعم ہے،کتنا گھمنڈ ہے۔خدا تو کہےں ےاد ہی نہےں۔
سچ ےہی ہے جو کہا گےا۔ اب ذرا اس نئی صورت کو دےکھئےے دُنیا خصوصاً افغانستان کے ہمسایہ ملک تو اسی ادھیڑ بن میں اُلجھے ہوئے تھے کہ اس بدمعاش تھاےندار کی فوجیں اِس تباہ شدہ مُلک سے دےکھو کب نکلتی ہےں؟قےاس آرائےوں کے ڈانڈے کہیں دس اور کہیں سولہ کے قریب قریب متوقع تھے۔مگر اب2017کا وسط ہو چکا ہے اور دنیا حیران تھی کہ اب کونسی مہم جوئی باقی ہے؟لےجئے ترجےحات کا رخ بدل گےا ہے۔خےر سے صدر ٹرمپ اور اُن کے متعدد مشےران کی کی کاروباری ذہنیت سامنے آگئی ہے۔افغانستان میں وسیع معدنی ذخائر کی موجودگی نے اس قوم کے رجّے بچے لےڈر اور عالی دماغوں کے منہ لالچ کے پانیوں سے بھر دئےے ہےں۔ افغانستان میں معدنیات کے ذخائر ہیں۔ چھوٹے موٹے نہےں اتنے بڑے ذخائرکہ ان مالیت کا اندازہ ایک ٹریلین ڈالر کے لگ بھگ مالیت کا ہے۔ہائے وےران بنجر پہاڑوں اور تورا بورا کے غاروں والے ملک کے لئے ےہ کتنی بڑی خوش آئند بات تھی۔ٹرمپ نے بھی آﺅ دیکھا نہ تاﺅ فی الفور اشرف غنی سے بات کرلی۔
اب گلوبل ولیج کے وڈے سایئں کے سامنے بیچارے گاﺅں کے چھوٹے موٹے کمّی کمینوں کی کیا مجال۔بیچارے اشرف غنی نے یہی کہا ہو گا حضور والا۔ می لارڈ آپ کے سایہ عاطفت میں تو ہم پہلے ہی ہیں آپ کا کس منہ سے شکریہ اداکریں کہ آپ ہر دم ہمارے بارے میں سوچتے ہیں۔یہ کان کنی اگر مغربی کمپنیوں کو نہال کر سکتی ہے تو ہم غریبڑوں
کو بھی اس کا پور چور ملے گا۔ظاہر ہے تابنے اور لوہے کی خام دھاتیں جو تھوڑی بہت نکلتی ہیں وہ بہت ارزاں قیمت پر بکتی ہیں۔حضور ہمارے ہاں تو ایسی ایسی نایاب دھاتیں ہیں کہ کچھ کا تو آپ کے ماہرین کو بھی علم نہیں۔سو بسم اللہ۔چشم ماروشن دل ماشاد۔ ہماری تو خوش نصیبی ہوگی۔
یہاں تک تو سب کچھ درست اور بڑا ہی خوش آئند تھا۔ٹرمپ جیسا تاجر سوداگر بھی نہال اور اس کے تین ٹاپ کے کاروباری یار بھی سرشار ایک کی تو فرم باقاعدہ کان کنی کے شعبے میں خصوصی مہارت رکھتی ہے۔لےجےے وائٹ ہاﺅس مےںہونے والی تندو تےز بحث و مباحثے پر افغانستان کی معدنےات سے فائدہ اٹھانا ہے جےسی حتمی بات نے مٹی ڈال دی۔فوج کے مزید دستے اور کان کنی کے ماہرین کا بھیجنا بھی لازم ٹہرگیا تھا۔ مگر ہوا ےہ کہ ان خوش کن خیالوں اور خوابوں کے منہ میں روڑ آگئے۔اس عظیم الشان سلطنت یعنی ایمپائر کے سٹےٹ ڈپارٹمنٹ کے اراکےن کومعلوم ہواکہ معدنیات کے زیادہ ذخائر تواُن علاقوں میں ہیں جہاں طالبان کا کنٹرول ہے۔اور فی الوقع یہ تو بڑی ہی تشویش ناک بات ہے۔
میں بے اختیار ہنس پڑی ہوں۔ 15 جولائی 2008کی اس دوپہر نے میری یادوں میں کسی برقی کوندے کی مانند لشکارا مارا ہے جب میں صدر سٹی بغداد میں صدام کی خفیہ ایجنسی کے کرنل بصیر الحانی کے گھر کے ایک کمرے میں بیٹھی تھی۔مجھے یہاں لانے والا میرا ٹیکسی ڈرائیورتھا۔ افلاق کےمےکل انجینئر جوامرےکی حملے کے وقت زکوZakhuشمالی عراق مےں پےٹرولےم کمپنی مےں اپنی جاب پر تھا۔بغداد مےں گھر تباہ اور والدےن اور بہن سب شہےد۔دوبار خودکشی کی کوشش کی۔کاظمےہ کے علاقے الحرےت مےں رہنے والے چچا چچی نے بانہوں مےں سمےٹ لےا۔وقت لگا زندگی کی طرف لوٹنے مےں۔ کمپنی ختم،جاب ختم۔اب ٹےکسی چلاتا تھا۔مےری بغداد کے اتنی جلدی ڈھے جانے کے متعلق کچھ جاننے کی خواہش پر ےہاں لاےا تھا۔ےہاں فارس مہدی سے بھی ملاقات ہوگئی۔امرےکہ سے اےروناٹےکل انجنےرنگ مےں تربےت ےافتہ۔پہلے جماعت الفاتحےن مےں شامل مزاحمت کی تارےخ مرتب کررہا تھا۔بعد مےں القاعدہ مےں شامل ہوگےا۔روس،پاکستان،امرےکہ جنگ مےں جہاد کے جذبوں سے لدا پھندا پاکستان پہنچا تھا۔پشاور حےات آباد مےں تےن ماہ کے تربےتی کورس مےں شامل ہوا۔آئی اےس آئی کے چند افسروں کے نام بھی اُس نے لئے جن سے اُس کی دوستی تھی۔
بغداد کے اتنی جلدی ڈھے جانے اور بہت سی دےگر باتوں کے بعد مےں نے فارس مہدی سے افغانستان کے بارے میں اُن کے تاثرات جاننے کی خواہش ظاہر کی۔ دو ٹوک لہجے مےں وہ بولے تھے۔ ”دُنیا انہیں اُجڈ، گنوار،جاہل اور جانے کن کن خطابات سے نوازتی ہے۔ پر وہ بڑی تیز اور جی دار قوم ہے۔ٹوٹی چپلوں کے ساتھ چھلانگیں مار کر جہازوں میں بےٹھتی اور اُنہیں اڑاتی ہے۔ امریکہ کو بیوقوف بنانے کا فن جانتی ہے۔ کیا فوج، کیا پولیس، کیاایجنٹ۔ جدید ہتھیاروں کی سپلائی طالبان کی سرکوبی کیلئے حاصل کرتی ہے۔طالبان سے سودے بازی کرکے باقاعدہ منصوبہ بندی سے نوراکشتی کا اہتمام کرتے ہوئے امریکیوں کو پیغام دیتی ہے کہ طالبان لُوٹ کر لے گئے ہیں سامان۔مزید دو۔
مگر اس کے ساتھ ساتھ گروہوں اور قبائل مےں بٹی قوم جس کا بہت بڑا مسئلہ اُس کی معاشرتی ےک جہتی کا ہے۔خالصتاً اےک قبائلی ملک جس مےں پشتون، ازبک، تاجک، ہزارہ اور کچھ دےگر قومےتےں ہےں۔ قبائلی خوانےن اور سردار جو بے حد طاقتور اور اہم ہےں ےہی لوگ جنگ کے زمانے مےں وارلارڈز بن کر امرےکہ سے ڈالروںکے بورے سمےٹتے رہے اور بجائے اپنے مفلوک الحال لوگوں کی بہتری پر خرچ کرنے کے اپنی جےبےں بھرتے اور خود کو مظبوط کرتے رہے۔غربت اور پس ماندگی اِن لوگوں کا مقدر بنادی گئی ہے۔”کاش اُسامہ بن لادن اُن کو ہستانی لوگوں کیلئے علم اور ٹیکنالوجی کے راستے کھولتے۔ کالج اور یونیورسٹیاں بناتے تو کیا یہ بہتر نہ ہوتا۔مےری اندر کی پرانی خواہش مےرے ہونٹوں پر آگئی تھی۔
”بات علم اور ٹیکنالوجی کی نہیں۔بڑی طاقتوں کے غلبوں اور حرص کی ہے۔آپ اور آپ جیسے ترقی پسندوں کو یہ فدائی مجاہدین دہشت گرد نظر آتے ہیں۔آپ کا کہنا ہے کہ ہمیں مغرب کا مقابلہ علم اور ٹیکنالوجی کے زور پر کرنا چاہئے۔ مجھے اتفاق ہے اس سے۔علم مومن کی میراث ہے۔ کوئی شک نہیں مگر وہ جو صاحب علم ہیں متمدن ہیں۔کلچرلڈ اور انسانیت کے علمبردار ہیں۔کیا کر رہے ہیںوہ ؟کُتے بلےوں کےلئے ان کی ممتا پھٹی جاتی ہے مگر عراق کے معصوم بچے،عورتےں اور بوڑھے جس بربرےت کا شکارہوئے ہےںاس کے لئے کےا کہےں گی۔
تومجھے اس وقت عراقی فوج کا کرنل بصیر الحانی کیوں یاد آیا۔ فارس مہدی بھی یادوں میں اُبھر ا۔ کوئی واقعہ تبھی یادوں میں کسی برقی کو ندے کی طرح کپکتا ہے کہ جب کہیں مماثلت کے سرے جڑتے ہوں۔
تو اب معدنےات کے ذخائر پر نگاہےں جم گئی ہےں۔اور مستقبل کی سُپر پاور آپ مےرا مطلب بہت اچھی طرح سمجھ گئے ہونگے کے بارے بھی پتہ چل گےا ہے کہ وہ بھی خےر سے کابل سے کوئی پچےس مےل جنوب مشرق مےں تانبے کی کان کنی کے لئے تےن بلےن ڈالر کا معاہدہ کربےٹھی ہے۔اب وڈے سائےں کے کلےجے پر چھرےاں سی چل گئی ہےں کہ لو ےہ تو وہ بات ہوئی کہ کشٹ ہم کاٹےں اور پھل ےہ اےرے غےرے کھائےں۔خود سے پہلے کے امرےکی حکمرانوں بارے نرم سے لفظوں مےں لعن طعن کرتے ہوئے ٹرمپ کا لہجہ ذرا سا ترش تھا۔
اِن احمقوں کو عقل ہی نہےں تھی۔سوچتے تو سہی کہ عراق سے تےل نکالے بغےر فوجےں نکالنے کی کےا تک تھی بھلا۔مجھے تو ےہ بھی معلو م ہوا ہے کہ بہت سے بےوقوف اپنی ٹےنکےاں ڈالر دے کر بھرواتے تھے۔خواہ ےہ دو تےن ڈالر ہی ہوتے۔فاتح قوم کو حق ہوتا ہے کہ وہ مفتوح ملک کی ہر قےمتی چےز پر قبضہ کرلےں۔اُن کی جانےں، مال، ہےرے جواہرات سب فاتح قوم کی ملکےت ہوتے ہےں۔ کزن کے پاس کوہ نور ہےرا بھی شاےد ترغےب دےتا ہو۔
مجھے فارس مہدی پھر ےاد آئے تھے۔ اس کے الفاظ ےاد آئے تھے۔المےے دراصل ہم لوگوں کے ساتھ ہےں۔ہمارے صحرائی کنوئےں،ہماری خام معدنےات بڑی کشش کی حامل چےزےں ہےں۔انہےں ےورپ کی فاحشاﺅں اور طوائفوں سے سمجھداری اور دانائی سے بچانے کی ضرورت تھی اور ابھی بھی ہے۔مگر ےہ دانائی ہمارے ناعاقبت اندےش حکمرانوں مےں سرے سے نہےں ہے۔ وگرنہ کسی امرےکی ےا اتحادی کی کےا مجال کہ وہ ہمارے پےٹرول پمپوں سے اپنی گاڑی کی اےک سو ستر (170)لٹر کی ٹےنکی صرف تےن ڈالر مےں بھروائے۔
( کالم نگار صحافی اور سفر نگار ہیں)
٭….٭….٭

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں


دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved