تازہ تر ین

نواب آف بہاولپور کا پاکستان سے عشق

خان خدا یار خان چنڑ ….بہاولپور سے
امیر صادق محمد خان کے بعد ان کے بیٹے امیر محمد بہاول خاں تخت نشیں ہوئے اور 1748 ءمیں بہاولپور شہرکی بنیاد رکھی۔بہاولپور میںہرطبقہ فکر کے پڑھے لکھے لوگوں کو یہاں سکونت کی دعو ت دی اور ریاست بہاولپور کو مثالی ریاست بنانے کی کوشش کی۔امیر محمد بہاول خان کی بادشاہت کا دور صرف تین سال رہا اس کے بعد ان کے بیٹے محمد مبارک خان کو ریاست کا والی مقرر کردیا گیا ان کا دورحکومت تقریباً 22 سال تک رہا۔مبارک خان کا 22 سالہ دور کافی پریشانیوں اور سازشوں کا شکار رہا اندرونی سازشوں کے ساتھ ساتھ والی کابل کی ناراضگی کا خطرہ ہروقت سرپرقائم رہتا تھا والی کابل کی خوشنودی کی خاطر اپنی ریاست کے سکے کی ایک طر ف (ہمایوں شاہ محمود )والی کابل کی سٹیمپ لگی ہوئی تھی اُسی زمانے میں پنجاب میں سکھوں کا عروج تھا اپنی بھوکی نگاہیں اور طاقت کے بل بوتے پر اپنی حدود کو وسیع وعریض کرنے کے چکر میں اُن کی نگاہیں ریاست بہاول پور پر لگی ہوئی تھیں کوئی نہ کوئی بہانہ بناکر امیر بہاولپور کو پریشان کرتے رہتے تھے امیر محمد مبارک خان جب تک حیات رہے سکھوں کی سازشوں سے بچنے کی تدبیر یں کرتے رہے ان کے بعد ان کے جانشین امیر محمد بہاول خان (ثالث )کو اکثر یہ خطرہ لاحق رہتا تھا کہ سکھ ریاست بہاولپور پر قابض نہ ہوجائیں۔ اسی خوف سے نواب بہاول خان ثالث نے انگریز حکومت سے مدد کی درخواست کی اُس وقت ہندوستان میں انگریز کی حکومت کافی مضبوط تھی ریاست بہاولپور کا معاہدہ انگریز حکومت کے ساتھ 1833 ءمیں طے ہوا۔
اس طرح یہ سابق ریاست بہاولپور سکھوں کے ناپاک عزائم سے بچ گئی ساتھ ہی ریاست بہاولپو رمیں ترقی کا عمل شروع ہوگیا۔ ریاست بہاولپور کے تمام معاملات انگریز حکومت کے اشتراک سے چلتے تھے۔1839 میں رنجیت سنگھ کے مرنے کے بعد پنجاب سکھوں کے قبضہ سے آزاد ہوگیا اس پر بھی انگریز حکومت کا قبضہ ہوگیا ریاست بہاولپور کو سکھوں سے محفوظ رکھنے پر نواب بہاولپور نے اس کی قیمت اس طرح چکائی کہ 1850 ءمیں انگریزوں کے خلاف ہندوستان میں سکھوں نے تحریک چلائی۔ریاست بہاولپور میں سکھوں کو کچلنے میں انگریز حکومت کی بھرپور مدد کی جب حالات کچھ سازگار ہوئے تو معاشی ضرورتوں نے بعض خاندانوں کو ریاست بہاولپور کا رخ کرنے پر مجبورکیا یہ ضرورت دو طرفہ تھی۔ریاست بہاولپور کو بھی انتظام اور نظم ونسق بہتر طورپر چلانے کیلئے تجربہ کار اورقابل لوگوں کی ضرورت تھی 1866 ءمیں نواب صادق محمد خان چہارم تخت نشین ہوئے۔اُن کی عمر اُس وقت ساڑھے 4 سال تھی سازشی ٹولہ نواب صادق کم سن ہونے کی وجہ سے تخت وتاج چھیننا چاہتے تھے نواب صاحب کے خیر خواہوں نے ایک بار پھر انگریز حکومت کو درخواست کی کہ نواب صاحب کے بالغ ہونے تک سابق ریاست بہاولپور کا تمام نظام چلائیں انگریز حکومت نے درخواست کو قبول کرتے ہوئے 1866 سے لے کر 1879 تک ریاست بہاولپور کا نظام سنبھالا انہوں نے ان تیرہ سالہ دور میں تمام سرکاری محکموں کو بہترکیا ریاست کی آمدنی کے وسائل بڑھائے نہری نظام کو بہتر کر کے ریاست کی زرعی معیشت کو مستحکم کیا اُس زمانے میں انڈس ویلی اسٹیٹ ریلوے کا اجراءہوا۔پنجاب کو سندھ اور بلوچستان ملانے کیلئے 150 میل لمبی ریلوے لائن حدود ریاست بہاولپور میںبچھائی گئی۔صحافتی،ادبی سرگرمیوں کا آغاز بھی اسی دورمیںہوا۔نواب صادق محمدخان چہارم اب جوان ہوچکے تھے 28 نومبر 1879 میں نواب صادق محمد کو تمام اختیارات واپس دے دیے گئے ان کا دور حکومت بیس سال1899 تک رہا۔ 12 نومبر 1903کو نواب محمدبہاول خان پنجم مسند نشین ہوئے یہ بڑے متحرک، عوامی فلاحی کاموں کا بڑا شوق تھا انہوں نے ریاست بہاولپور کے لاوارث یتیم بچوں کےلئے یتیم خانہ بنایا بہاول کلب کی بنیاد رکھی جس میں نواب صاحب خود بیٹھ کر ہرطبقہ فکر سے تعلق رکھنے والے لوگوںسے ملتے جلتے رہتے تھے مگر ان کی عمر نے وفا نہ کی 1907 میںان کا انتقال ہوگیا نواب بہاول خان پنجم کے بعد ان کے کمسن بیٹے نواب صاد ق محمدخاںپنجم کو تخت پربٹھادیا گیا 8 مارچ 1924 کو تمام اختیارات منتقل کردیے گئے ان کا 21 سال دور حکومت بڑے زبردست طریقے سے چلا اُس دور میں جنگ عظیم اﺅل اور جنگ عظیم دوم ہوئی اس کے بعد ہندوستان میں تحریک آزادی ہندوستان چلی جو آسمانوں کو چھونے لگی اور دوسری طرف مسلم لیگ کی تحریک آزادی پاکستان چلی۔آخرکار فیصلہ کا وقت آگیا 1947 ءمیں پاکستان معرض وجود میں آیا۔پاکستان کے بننے کے اعلان کے ساتھ ہی ہندوستان میں فرقہ وارانہ فساد ات شروع ہوگئے ہندواکثریت کے علاقوں سے مسلمانوں کو پاکستان کی طر ف دھکیلاجارہاتھا ان مصیبت زدہ مسلمانوں کے قافلے ہندوستان سے ہجرت کرکے ریاست بہاولپور میں آئے۔بہاولپو ر کی عوام نے ان کو کھلے دل سے قبول کرتے ہوئے بڑی عزت کے ساتھ ان کی سکونت اختیار کروائی اب ریاست بہاولپور تین طرح کے طبقوں پر مشتمل ہے ایک تو قدیمی ریاستی جو یہاں کے واسی تھے دوسرے پنجابی آبادکار تیسرے مہاجر جو بھیکا نہر،کرنال، پٹیالہ،پانی پت، جے پور،بھرت پور اور یوپی سے آکر آباد ہوئے سابق ریاست بہاولپور1955 تک امیرآف بہاولپور حکومت کرتے رہے۔
پاکستان معرض وجود آنے کے بعد ہندوستان میں نواب صاحب کو سابق ریاست بہاولپور کو ہندوستان کاحصہ بننے کی دعوت دی تو نواب آف بہاولپور نے کہا کہ میرے محل کے اگلے دروازے کی طرف پاکستان ہے اورپچھلے دروازے کی طرف ہندوستان ہے لہذا میں پچھلے دروازے کو ہمیشہ کیلئے بند کر کے اگلا دروازہ پاکستان کیلئے ہمیشہ ہمیشہ کیلئے کھول رہا ہوں سابق ریاست بہاولپور نے پاکستان کو مالی وفوجی جنگی سازوسامان سے بھی نواز ا۔نواب آف بہاولپور کو اللہ پاک کروٹ کروٹ رحمتیں عطاءکرے آج اُن کے احسانات کو گناہ سمجھ کر سابق ریاست بہاولپور کے واسیوں کے حقو ق کیلئے پاکستان کے ظالم حکمرانوں نے ہمیشہ ہمیشہ کیلئے دروازے بند کردیے۔آج ریاست بہاولپور کی عوام سے نواب صاحب کے احسانات کا بدلہ لیاجارہا ہے۔حضرت علی ؑکا فرمان ہے جن کے اوپر احسان کر واُن کے شر سے محفوظ رہو۔جس ریاست کو سو ادوسوسال تک دشمنوں سے بچاتے رہے آخر کار اپنے پاکستانی حکمرانوں نے اس آزاد ریاست بہاول پور پر مسلط ہوکرہمیں ہمیشہ کیلئے تخت لاہور کا غلام بنادیا گیا۔آج میری سابق ریاست بہاولپور کا نوجوان ڈگریاں ہاتھ میںلے کر درجہ چہارم کی نوکریاں ڈھونڈنے پر مجبور ہوگیا ہے آج سابق ریاست بہاولپور کی عزت دار گھرانوں کی اولادیں تخت لاہور میں مزدوری کررہے ہیں بہاولپور کی ایم۔ اے کوالیفائیڈ لڑکیاں گھروں میںبیٹھ کر کپڑے سلائی کر کے گھر کا چولہا چلارہی ہیں۔ظلم تو آخر ظلم ہے بڑھتا ہے تو مٹ جاتا ہے۔
( تحریک بحالی صوبہ بہاولپور کے چیئرمین ہیں)
٭….٭….٭

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved