جدید تعلیم کے بغیر ترقی کیسے؟


ڈاکٹر اویس فاروقی…فوکس پاکستان
آج ہم بحیثیت مجموعی جن پستیوں کا شکار ہیں اس کی بنیادی وجہ دور حاضر کے تقاضوں کے مطابق میعاری تعلیم کا نہ ہو نا ہے جب آپ بچوں کو نمبر حاصل کرنے کے لئے صرف” رٹو طوطا“ بنائیں گے اور وہ بےچارے دن رات رٹے میں لگے رہیں گے تو ان کی ذہنی و جسمانی حالت کیا ہو گی اس پر کوئی غور کرنے کے لئے تیار نہیں آج کے بچے اپنی عمر کے مطابق قد میں چھوٹے رہ رہے ہیں ان کی ذہنی حالت حواس باختگی کی نظیر پیش کر رہی ہے لیکن ہمارئے محکمہ تعلیم اور مقتدرہ کو اس بات کی ہوش ہی نہیں کہ وہ کس طرح کی قوم پروان چڑھا رہے ہیں۔بچوں کے تمام شوق جو ان کی ذہنی و جسمانی نشو و نما کے لئے ضروری ہیں اور جو ان کا بنیادی حق بھی ہے نبمر گیم کی دوڑ میں دفن کر دئے ہیں۔ ہمیں اس بات کی سمجھ نہیں آتی محکمہ تعلیم میں وہ کون سے” نابغے“ ہیں جنہوں نے نمبر گیمز کو پروان چڑھایا ہے۔ اس وقت سرکاری کالجوں میں میٹرک کے بعد داخلہ لینے کے لئے جو سفاکی پر مبنی میرٹ رکھا گیا ہے اسے حاصل نہ کرنے والے لاکھوں بچوں کا مستقبل کون تاریک کر رہا ہے اس سوال کا جوب کون دے گا ؟کیا حکومت خود یہ چاہتی ہے کہ بچے صرف میٹرک تک تعلیم حاصل کریں یا پرائیویٹ تعلیمی اداروں کی ملی بھگت سے ایسا کیا جارہا ہے۔ اخبارات میں میٹرک میں کم نمبر حاصل کرنے والے بچوں کی خود کشی کے واقعات کی تواتر سے شائع ہونے والی خبروں کے بعد بھی کسی کے کانوں پر جوں تک رینگتی دکھائی نہیں دے رہی۔ حکومت کا کام شہریوں کے لئے آسانیاں فراہم کرناہوتا ہے لیکن دیکھا گیا ہے حکومت شہریوں کے لئے دن بدن مشکلات پیدا کر رہی ہے اس کی پالیسیوں نے عام شہری کی زندگی اجیرن کر دی ہے اگر حکومت عوام دوست ہوتی تو آج میاں صاحب کو تیس سال بعد سڑکوں پر نکل کے اپنے حقوق نا مانگنے پڑتے، نمبرز گیمز نے شہروں میں کھلی نجی اکیڈمیوں کے وارئے نیارے کر دئے ہیں پرائیوئٹ سکولوں کی چین جو ”کوزی حلیم“ اور ”گوگا نقیبہ چنے “ والے کی طرح فرنچائز کی جارہی ہیں وہاں کا معیار اور نصاب کیا ہے؟ سرکاری سکولوں میں تعلیم کی پستی وہاں کے اساتذہ کا بچوں کے ساتھ ناروا سلوک سکول میں توجہ نہ دینا جبکہ انہیں اپنے ٹیوشن سنٹرز اور اکیڈیمیز میں پڑھنے پر مجبور کرنا ہے جو بچے ان کے ٹیوشن سنٹر یا اکیڈیمی میں نہیں پڑھتے انہیں نت نئے حربوں کے ساتھ تنگ کرنا اور سکول میں نظر انداز کرنے جیسے عوام بھی شامل ہیں۔
یہ درست ہے کہ تعلیم کے بغیر ترقی کا حصول نا ممکن ہے قوموں کی ترقی میں تعلیم نے اہم کردار ادا کیا ہے، اعلیٰ بالخصوص عصر حاضر کے تقاضوں سے ہم آہنگ تعلیم وقت کی اہم ضرورت ہے ترقی پذیر ممالک کی بدحالی کی اصل وجہ بھی تعلیمی میدان میں عدم توجہ ہی ہے۔ پاکستان میں عصرحاضر کے تقاضو ں سے ہم آہنگ تعلیمی معیار بہتر کرنے کے لئے کو ششوں کا فقدان ہے ہم ابھی تک اپنے قومی نصاب کو ہی جدید دنیا کے ساتھ ہم آہنگ نہیں کر سکے یہی وجہ ہے کہ ہم ابھی تک کوئی بین الاقومی طور پر تسلیم شدہ سائنس دان یا دیگر علوم میں کوئی ماہر پیدا نہیںکر سکے اگر کوئی اکا دکا کہیں نظر آتا ہے تو اس میں اس ”اکا دکا“ کی ذاتی کاوشیں شامل ہیں ہمارا نظام تعلیم نہیں۔
ماہرین کے مطابق تعلیم کا دارومدار چارعناصر پرہے طلبا،والدین،اساتذہ حکومت کا کام ہے کہ وہ اسے جدید دور کے تقاضوں کے مطابق نئی قوم کو مستقبل کیلئے تیار کرئے نصاب کے تقاضوں کا خیال رکھے، سنجیدہ ممالک ملکی ترقی کےلئے اعلیٰ تعلیم کی درسگاہوں کا بندوبست کرتے ہیں تاکہ ملک ترقی کی راہ پر گامزن ہوسکے لیکن ہمارے ہاں الٹی گنگا بہتی ہے۔ہماری تمام کاوشیں رائیگاں جارہی ہیں تعلیم کامعیارآئے روز گرتاجارہاہے اساتذہ کی بے توجہی لائبریریوں کی عدم دستیابی وراساتذہ کی سیاست نے تعلیم کا بیڑا غرق کر کے رکھ دیا ہے ایک طرف ان ٹرینڈ کم تعلیم کے حامل اساتذہ قوم کےلئے وبال جان ہیں دوسرا تعلیم کے گرتے ہوئے معیار کی اہم وجہ اس پر میٹرو ٹرین،بس یا سڑکوں سے بھی کم توجہ اور بجٹ بتائی جاتی ہے حالانکہ اگر شہری پڑھے لکھے اور باشعور ہوں گے تو سڑکوں،میٹرو بسوں اور اورینج ٹرین کا استعمال بہتر طریقے سے کر سکیں گے جبکہ ٹریفک کے قوانین کے جاننے سے ان پر عملدآمد سے حادثات میں بھی کمی واقع ہو سکتی ہے، لیکن شائد ہمارئے نزدیک سڑکیں پل اورنج ٹرین اہم ہیں تعلیم نہیں۔ جہاں سے حکومت کی ذمہ داریاں شروع ہوتی ہیں وہاں ابتدائی تعلیم کے لئے ناتجربہ کاری منفی سوچ اورگریڈ ڈی اور سی میں پاس ہونے والے میرٹ کےخلاف بھرتی ہونیوالے ٹیچرز قوم کی تباہی کاباعث بنتے ہیں تعلیم میں میرٹ کا قتل عام اورناجائز ذرائع سے بھرتی ہونیوالے اساتذہ قوم کے مستقبل کوتاریک کرنے کاسبب بنتے ہیں دیہاتوں میں اکثر ابتدائی تعلیم ناتجربہ کار معلمین کے ذمہ لگادی جاتی ہے۔جس کانتیجہ سال کے بعد صفرملتاہے اکثراساتذہ غیرحاضر ہوتے ہیں جن کی عوامی شکایات پرمعطل کے بجائے متعلقہ سیاسی لیڈراسے سپورٹ کرتے ہیں اور کوئی ایکشن نہیں لیاجاتا اس کے علاوہ سرکاری سکولوں کالجز کی حالت کہیں بلڈنگ نہیں ہے کہیں فرنیچر نہیں ڈیسک ،کرسیوں کے بجائے طلبہ کو پتھروں پر بٹھایاجاتاہے۔دیہاتوں میں توسکولوں کی عمارتیں ابھی تک تعمیر نہیں ہوسکیں طلبہ وطالبات کھلے آسمان تلے بیٹھ کر تعلیم حاصل کرنے پرمجبور ہیں ہماری انتظامیہ اپنا فرض بھول چکی ہے وزیرتعلیم،سیکرٹری تعلیم اپنے اپنے فرض کو بھول چکے ہیں آنیوالی نسل کامستقبل تاریک کرنے میں اہم کردار ادا کررہے ہیں۔
ہمیں تو یہ رپورٹس بھی پریشان نہیں کرتیں جن میں بتایا جاتا ہے کہ دو کروڑ سے زائد پاکستانی بچے سکولوں سے باہر ہیںرپورٹ بتاتی ہے کہ پاکستان میں پانچ سے 16 سال کی عمر کے تقریباً نصف بچے سکول میں نہیں پڑھتے اور سکول سے باہر بچوں میں لڑکوں کے مقابلے میں لڑکیوں کی تعداد زیادہ (جسکی ایک وجہ سکولوں کو دوراور مناسب ماحول کا نہ ہونا بھی ) ہے تاہم گزشتہ دو برسوں میں سکولوں سے باہر بچوں کی تعداد ڈھائی کروڑ سے کم ہو کر دو کروڑ 40 لاکھ ہوگئی ہے۔پاکستان میں 47 فیصد بچے سکول میں نہیں پڑھتے۔ جبکہ کچھ بہتری کے اشارئے بھی ملتے ہیں جس میں بتایا گیا ہے کہ تعلیم مکمل کرنے والے بچوں کی شرح 25 فیصد سے بڑھ کر 28 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔ اندازاً بتایا جاتا ہے کہ پاکستان میں پانچ سے 16 سال کی عمر کے بچوں کی تعداد پانچ کروڑ سے زائد ہے۔رپورٹ کے مطابق صوبوں اور علاقوں میں بھی واضح فرق ہے۔ بلوچستان میں 70 فیصد بچے سکول میں نہیں پڑھتے، سندھ میں 56 فیصد، فاٹا میں 60 فیصد اور گلگت بلتستان میں 50 فیصد۔ صوبہ خیبر پختونخوا اور پنجاب کی صورت ہال کچھ بہتر بتائی جاتی ہے رپورٹ میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ 80 فیصد سرکاری سکول پرائمری سطح کے ہیں اور صرف ایک فیصد ہائر سیکنڈری۔ اس کے علاوہ 29 فیصد سرکاری سکولوں میں صرف ایک استاد تعینات ہے۔’زیادہ تر بچے پانچویں جماعت کے بعد سکول چھوڑ دیتے ہیں۔
حکومت کے کرنے کا کام یہ ہے کہ وہ ایک طرف پیشہ ورانہ تربیتی اداروں کا زیادہ سے زیادہ قیام عمل میں لائے نصاب کو جدید دور کے تقاضوں کے مطابق ڈھالے اور ٹیچرز کی ذہن سازی کے ساتھ سکولوں کی حالت زر کو بہتر کرئے تب جا کر شائد کوئی بہتری کی توقع کی جاسکتی ہے ورنہ ڈراپ ریٹ حکومتی پالیسوں کا منہ چڑھاتا رہے گا،گو کہ تمام صوبوں نے فری اینڈ کمپلسری ایجوکیشن کا بل منظور کر لیا ہے لیکن اس بل کے ثمرات بچوں کو سکول میں پہنچانے سے ہی حاصل ہوں گے جدید دور کے مطابق تعلیم ہی سے ملک ترقی کرئے گا اور معاشرے سے جہالت ختم ہو گی۔
(کالم نگار سیاسی و سماجی مسائل پر لکھتے ہیں)
٭….٭….٭

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں


دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved