تازہ تر ین

خواب زندہ ہیں

محمد جمیل …. منزل
14 اگست کا دن آزادی کی نعمت سے ہمکنار ہونے کے حوالے سے مسرت و شادمانی کا دن ہے، مگر ساتھ ہی خود احتسابی اور غور و خوض کرنے کا دن بھی ہے کہ ہم کس حد تک بانیان پاکستان کے آئیڈیازپر قائم رہے۔ قائداعظم کے وژن کے مطابق پاکستان کو ایک جدید اسلامی فلاحی ریاست کے قالب مےں ڈھالنا تھا، جہاں تمام شہری قطع نظر مذہب، رنگ اور نسل کے قانون کے سامنے برابر ہوں گے اور بلاامتیاز سب کے مساوی حقوق ہوں گے۔ چونکہ اسلام امن و سلامتی کا مذہب ہے، اعتدال اور میانہ روی کی تلقین کرتا ہے اور قرآنِ مجید فرقانِ حمید مےں مسلمانوں کو اُمت وسط کہا گیا ہے، لہٰذا اس مےں اندھی تقلید، دوسرے مذاہب کے ماننے والوں سے نفرت اور انتہا پسندی کی کوئی گنجائش نہےں۔ ےہ حقیقت کوئی زیادہ خوشگوار نہےں کہ 70 برس گزرنے کے باوجود اہل پاکستان مسائل کا شکار اور مصائب مےں گھرے ہوئے نظر آتے ہےں۔
درحقیقت 14 اگست 1947ءکو ہم آزاد تو ہوگئے، مگر حکمران اشرافیہ نے آزادی کے مطلب اور مفہوم کو نہ سمجھا۔ قومی آزادی کا مطلب ےہ ہوتا ہے کہ قوم انفرادی اور اجتماعی توانائیوں کو بروئے کار لانے اور زندگی کو آگے بڑھانے مےں آزاد اور خود مختار ہو، مگر 1950ءکی دہائی مےں وطن عزیز کو سامراجی معاہدوں مےں جکڑدیا گیا، اور ہم نے اپنی آزادی کا ایک حصہ گروی رکھ دیا۔ اگر دیانتداری سے سابقہ تاریخ کا جائزہ لیا جائے تو اس نتیجے تک پہنچنے مےں دشواری نہےں ہونی چاہیے کہ جدید نو آبادیاتی نظام کی جو زنجیریں نصف صدی قبل پہنائی گئی تھیں، وہ بدستور قائم ہےں، کیونکہ ہم جاگیرداری اور نہ ہی اس کی فرسودہ فکر سے رہائی حاصل کرسکے اور اس نظام کی موجودگی مےں نہ جمہوریت آسکتی ہے اور نہ مساوات پر مبنی منصفانہ نظام قائم ہوسکتا ہے۔ آج نئی نسل پرانی نسل سے ےہ پوچھنے مےں حق بجانب ہے کہ مادی و انسانی وسائل سے مالا مال ہونے کے باوجود ملک نے ترقی کیوں نہےں کی، قوموں کی برادری مےں وہ مقام حاصل کیوں نہےں کیا جس کا ےہ مستحق تھا؟ قیامِ پاکستان کا بنیادی مقصد عوام کے لیے ایک بہتر زندگی کو یقینی بنانا تھا، معاشرے مےں ایک منصفانہ سماجی و معاشی نظام کا نفاذ کرنا تھا، مگر ایسا کیوں نہ ہوسکا؟
ےہ سچ ہے کہ قیامِ پاکستان سے مسلمانوں کو ہندو اکثریت کے استحصال اور ظلم و جبر سے تو نجات مل گئی، مگر انھیں ملک کے سرمایہ داروں، جاگیرداروں، وڈیروں اور سرداروں کے ظلم و جبر سے نجات نہ مل سکی، حالاں کہ قیامِ پاکستان کا مقصد مسلمانوں کی مادی اور روحانی ضروریات کو پورا کرنا تھا۔ لہٰذا اس امتزاج سے صرف نظر کرتے ہوئے کسی ایک پہلو کو لائق توجہ سمجھنا بنیادی مقصد سے انحراف کے مترادف ہے۔ اسی طرح قائداعظم کا فرمان کہ تمام شہری قانون کے سامنے برابر ہوں گے، صرف کتابوں مےں ہی درج ہے اور طاقتور طبقات خواہ وہ سیاستدان ہوں یا نوکر شاہی کے کل پرزے، خود کو قانون سے بالاتر سمجھتے ہےں۔
پاکستان کے قیام کو 70 برس ہوچکے ہےں، اس عرصہ مےں پاکستان نے ترقی کی منازل بھی طے کیں اور ایٹمی طاقت بھی بن چکا ہے اور ےہ بات بلامبالغہ کہی جاسکتی ہے کہ اگر ماضی مےں چند ایک سیاسی لغزشیں نہ ہوتیں تو پاکستان کا شمار دنیا کے ترقی یافتہ ممالک مےں ہوتا۔ ہماری ےہ بدقسمتی رہی ہے کہ سیاست اور جمہوریت کو جمہوری طور پر منتخب ہونے والوں نے اتنا ہی نقصان پہنچایا جتنا نوکر شاہی نے پچھلے میلینیئم کی پچاس کی دہائی مےں پہنچایا تھا اور انہی کی حماقتوں اور محاذ آرائی نے فوج کو مداخلت کا موقع فراہم کیا تھا۔ 70ءکی دہائی سے 90ءکی دہائی کے اواخر تک بھی وہ آپس کی محاذ آرائی مےں مصروف رہے اور ایک دوسرے کو چاروں شانے چت کرنے کے لیے فوج کو دعوت دیتے رہے۔ آزادی کے بعد اصولی طور پر ہونا ےہ چاہیے تھا کہ جمہوری روایات کو مستحکم کیا جاتا مگر سیاستدان اپنی ذات کو مستحکم کرنے مےں لگے رہے۔
پاکستان آج بھی کثیر الجہت بحران کا شکار ہے۔ قائدین خود کہتے ہےں کہ پاکستان ایک دوارہے پر ہے، نیز اسے باہر سے نہےں اندر کے تضادات اور دہشت گردی سے خطرہ ہے۔ درحقیقت ہمہ اقسام کی سیاسی اور مذہبی جماعتیں سیاست اور مذہب کے بارے مےں مختلف مو¿قف اور سوچ رکھتی ہےں۔ قیامِ پاکستان سے لے کر آج تک ےہ بحث و تکرار جاری ہے کہ پاکستان کیوں بنا تھا، اس کے مقاصد کیا تھے؟ ایک کہتا ہے کہ ےہ اسلامی نظام بشکل نفاذِ شریعت کے لیے وجود پذیر ہوا تھا جبکہ دوسرا گروہ کہتا ہے کہ مسلمانوں کو ہندو اکثریت کے استحصال اور مظالم سے بچانے اور بہتر معیارِ زندگی کی ضمانت دینے کے لیے بنایا گیا تھا۔ اس بارے دو آراءنہےں کہ قائداعظم جمہوریت مےں یقین رکھتے تھے۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ پاکستان کے آئین کے خدوخال کیسے ہوں گے؟ انھوں نے جواب مےں کہا تھا کہ رہنماءاصولوں کے لیے ہمارے پاس اللہ کی کتاب موجود ہے اور آئین عوام کے نمائندے ہی بنائیں گے۔ بہرکیف آج بھی عوام کے خواب زندہ ہےں اور وہ قائداعظم کے افکار کو عملی جامہ ضرور پہنائیں گے۔ ےہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ پاکستان وسائل سے مالا مال ملک ہے، اس کے وسیع و عریض کھیت کھلیان، سونا اگلتی زمینیں، معدنیات، کراچی بندرگاہ کے علاوہ گوادر پورٹ سے خطے کی اہمیت مےں اضافہ کرتے ہےں، اور سب سے بڑھ کر محنت کش عوام وہ اثاثہ ہےں جو کسی ملک کو عظیم بناسکتے ہےں۔ سوال ےہ پیدا ہوتا ہے کہ ان تمام اجزاءکے ہوتے ہوئے ملک نے ترقی کیوں نہےں کی اور عوام کی حالت بد سے بدتر کیوں ہوتی چلی گئی؟ درحقیقت معاشرے کا انحطاط 1950ءکی دہائی ہی مےں شروع ہوگیا تھا اور سیاستدانوں و نوکرشاہی کے گٹھ جوڑ سے محلاتی سازشیں شروع ہوگئی تھیں، جنھوں نے ہوس اقتدار کی خاطر آپس کی محاذ آرائی جاری رکھی،نیز انھوں نے ذاتی مفادات کو قومی مفاد پر ترجیح دی۔ بہرکیف ےہ کہنا کچھ غلط نہ ہوگا کہ اس وقت اور اب بھی ملک کی تقریباً سبھی سیاسی اور مذہبی جماعتیں ” سٹیٹس کو “ کی حمایتی ہےں، جنھوں نے عوام کو بنیادی سہولتیں فراہم کرنے، ان کے مسائل حل کرنے یا محنت کشوں اور اقلیتوں کے حقوق کے لیے کبھی آواز بلند نہےں کی اور نہ ہی ان جماعتوں مےں جمہوری کلچر کو فروغ دینے کی کوشش کی۔
ہمےں آج ےہ سوچنا ہے کہ معاشرے سے بدعنوانی اور دیگر عوارض کا خاتمہ کرکے پاکستان کو ایک مہذب معاشرہ کیسے بنایا جائے؟ اس ضمن مےں پاکستان کے عوام کو جدوجہد کے لیے ذہنی طور پر تیار کرنا ہوگا کہ انھیں ملک مےں سماجی اور معاشی انصاف کی بنیاد پر نظام نافذ کرکے ملک مےں یکجہتی پیدا کرنا ہے، جس سے پاکستان مضبوط ہوگا۔ مسئلہ ےہ ہے کہ اتنی مختلف الخیال جماعتوں، متضاد نظریات اور متصادم مفادات کی موجودگی مےں عوام کو کون متحرک کرے گا؟ ےہ کام ایک ایسا لیڈر کرسکتا ہے جس کا ماضی بے داغ ہو، وہ دیانتدار ہو، اس کے قول و فعل مےں تضاد نہ ہو، وہ جو کہے اس پر خود عمل کرے اور دوسروں کے لیے ایک مثال بن جائے۔ عوام ایسے لیڈر کی کال پر لبیک کہےں گے، اس طرح ملک کو درپیش مسائل اور ایشوز پر اتفاق رائے پیدا ہوگا۔ ہم جب ایک لیڈر کی بات کرتے ہےں تو اس سے مراد کوئی آمر نہےں ہے، بلکہ اس لیڈر کے گرد پہلی اور دوسری سطح کے لیڈر بھی موجود ہوں جو عوام کو اپنے گرد ریلی کریں۔
ہم ےہ نہےں کہتے کہ آج تک جتنے سیاستدان سیاسی منظر پر آئے وہ بددیانت تھے یا سب کے سب نااہل تھے، مگر فرسودہ نظام کی موجودگی مےں وہ اپنا کردار، کماحقہ¾ ادا نہ کرسکے۔ آج جتنی سیاسی جماعتیںسیاسی عمل مےں حصہ لے رہی ہےں، ان مےں بھی باصلاحیت اور ایماندار لیڈر اور کارکن موجود ہےں، مگر چونکہ ان جماعتوں کی قیادت یا سربراہی ایک گھرانے کے افراد کے پاس رہتی ہے، لہٰذا باصلاحیت افراد کو آگے بڑھنے کے مواقع نہےں ملتے۔ بہرکیف کسی بھی بڑی سے بڑی سیاسی جماعت کے پاس نظریاتی طور پر مضبوط اور باصلاحیت قائدین کے معتدبہ کھیپ موجود نہےں جو ملک کو قیادت فراہم کرکے اسے بحران سے نکال سکے اور قوموں کی برادری مےں ایک باوقار مقام دلاسکے۔ اس لیے ہمےں کوئی راستہ تلاش کرنا ہوگا تاکہ ان مقاصد کا حصول ممکن ہوسکے۔ ہم سمجھتے ہےں کہ اجتماعی ذہانت کارگر ثابت ہوسکتی ہے اور اس کے لیے ایک راستہ قومی حکومت کا قیام ہوسکتا ہے۔ ہماری سیاسی اور مذہبی جماعتوں کو سمجھنا چاہیے کہ مسلمان اور اسلام اس وقت مغربی دنیا کا ہدف بنا ہوا ہے۔ ویسے بھی ہم زندگی کی دوڑ مےں دوسری قوموں سے پیچھے ہےں۔ ےہ امر بھی پیش نظر رہنا چاہیے کہ ہم اپنی ذہنی، سماجی اور معاشی پسماندگی دور کیے بغیر آگے نہےں بڑھ سکتے۔ اگر ہم نے اپنی روح مےں جھانک کر ذہنی پستی کو دُور نہ کیا تو ہم پسماندگی اور مفلسی کے دائرے مےں گردش کرتے رہےں گے۔
(کالم نگار قومی امور پرلکھتے ہیں)
٭….٭….٭

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved