کیپٹن صفدراور قائداعظم

محمد صغیر قمر….چنار کہانی
اگر چہرے پر کالک لگی ہو تو کالک صاف کرنی چاہیے چہرے کومسخ نہیں۔ یہی عقل والوں کا شیوہ ہے یہی ابتدائے آفرینش سے انسانوں کا طریقہ رہا ہے۔دنیا بھر میں پارلیمنٹ تک پہنچنے کے لیے باکردار اور امانت دار ہونا لازمی ہے۔صرف ہمارے شہنشاہوں کو ایمان داری اور امانت داری کھٹکتی ہے۔
حد ہی ہو گئی، کیپٹن صفدر کو کون سمجھائے کہ اصل بات وہ نہیں جو ان کی سمجھ میں آئی ہے حقیقت کچھ اور ہے۔وہ فرماتے ہیں کہ قائداعظم بھی زندہ ہوتے تو دستور کی دفعہ۲ ۶، ۶۳پر پورا نہیں اتر سکتے۔ان دفعات میں ایساکیا ہے ؟وہ صاحب کردار،صاحب عزم انسان جس نے برصغیر کے انسانوں کی قسمت بدل دی۔اس جیسا انسان ہی تو ان دفعات پر پورااترسکتا ہے۔ہم جیسے اس کی گردپا کے برابر بھی نہیں۔کیا صفدر کیا صفدر کی پوری جماعت۔کیپٹن صفدر کو کون سمجھائے کہ بات وہ نہیں جو ان کی سمجھ میں آئی بات وہ ہے جو اس ملک کے دستور کا حصہ ہے۔کیا قائداعظم ا سی مسلم لیگ میں شامل تھے جن میں کیپٹن صفدر اور اس کا خاندان شامل ہے؟اس سوال کا جواب نہیں میں ملے گا۔اس مسلم لیگ اور قائداعظم کی مسلم لیگ کا آپس میں کیا تعلق ؟قائداعظم کا نواز شریف یا کیپٹن صفدر یا یوں کہہ لیں کہ پرویز رشید یا رانا ثنا اللہ کی شخصیت سے کیا جوڑہے؟ اسی لیگ میں قائد کو کھوٹے سکے نظر آئے تھے نا؟کیپٹن صفدر اس وقت غصے میںہیں۔وہ فرماتے ہیں©”اگر قائداعظم کے دور میں آرٹیکل 62/63ہوتے تو وہ نااہل ہو سکتے تھے“۔
خاکم بدہن کیا قائد اعظم اس لیے نااہل ہو جاتے کہ انہوں نے خدانخواستہ ناجائز دولت سے محلات بنائے تھے، کیا وہ اس لیے نااہل ہو جاتے کہ انہوں نے اپنی قوم سے قرض اتارنے کے لیے اربوں روپے بٹورے تھے؟کیا اس لیے نا اہل ہو جاتے کہ وہ پنی قوم سے خدانخواستہ جھوٹ بولتے تھے۔کیا قائداعظم اس لیے نا اہل ہو جاتے کہ انہوں نے خدانخواستہ لندن، پیرس، جدہ اور دبئی میں جائیدادیں بنائی تھیں؟ملیں اور فیکٹریاں لگائی تھیں؟کیا قائداعظم دستور بناتے تو انہیں بعد میں یاد آتا کہ اس میں فلاں فلاں دفعہ پر چونکہ وہ خود پورا نہیں اتر سکتے لہٰذا وہ دفعات ختم کر دی جائیں اور قائداعظم ہوتے تو خدانخواستہ وہ ”دستور توڑنے “سے متعلق دفعات بھی ختم کر دیتے چونکہ ان دفعات پر نواز شریف کے محسن جنرل ضیاءالحق، جنرل جیلانی اور جنرل پر ویز مشرف بھی پورا نہیں اترتے تھے۔حد ہی تو ہو چکی اس قوم کے لیے ایک معمہ ہے نہ سمجھنے کا نہ سمجھانے کا۔اس قوم کے مقدر میں جانے مزید کتنے ایسے شعبدے لکھے ہیں؟فرص کیا کل اس ملک میں رشوت کا چلن عام ہو جاتا ہے تو کیا رشوت کی سزا سے متعلق دفعات ہی یہ کہہ کر نکال دی جائیں گی کہ اب ممکن نہیں رہا اور آج خاکم بدہن قائد اعظم بھی ہوتے تو وہ بھی اس کو قبول کر لیتے۔اپنا چہرہ صاف کرنے کی بجائے آئینہ کیوں توڑا جائے؟اس سے پہلے جو لوگ اقتدارکے ایوانوں میں رہ کے جا چکے ان کے بارے میںکیا فرماتے ہیںعلمائے سیاست ؟
قائداعظم زندہ ہوتے توکیا اس بات کو برداشت کر لیتے کہ قومی خزانے کو لوٹ کر اپنے بچوں کا مستقبل محفوظ کر لیا جائے اور اس قوم کے بچوں کو کچرے سے روٹی کے ٹکڑے تلاش کرنے پر لگا دیا جائے ؟کیپٹن صفدر کو حیرت نہیں ہوتی جب وہ اسمبلی کے ایوانوں میں اپنی بغل میں بیٹھے اس معاشرے کے ارب پتیوں کو دیکھتے اور ان کے اثاثوں میں آئے روز ضربیں لگتی دیکھ کر چپ ہو جاتے ہیں۔ اس ملک کے پسے طبقے کو دیکھتے تو ہوںگے جن کے بچوں کے پاﺅں میں چپل بھی نہیں اور کبھی ان کے دل میں بھی یہ خیال آتا ہوگاکہ اس غریب بچے کا باپ کبھی اسمبلی میں بیٹھ سکتا ہے یا اس ملک کا وزیراعظم بن سکتا ہے۔
دستور میں اس غریب کے لیے گنجائش کیوں نہیں پیدا ہو سکتی جو ان کے جوتے اٹھاتا ہے،مالش کرتا ہے، جیوے جیوے کے نعرے لگاتاہے،آپ سے،،قدمِ بڑھاﺅ کی درخواست کرتا ہے اور آپ کے ساتھ ہونے کا عہد کرتا ہے اور مزے کی بات یہ کہ وہ باسٹھ تریسٹھ پر پورا بھی اترتا ہے۔ستر برسوں میں صرف امیر وں، وڈیروں، خانزادوں، ٹوانوں، جاگیرداروں اور سرمایہ داروں کی اولاد ہی اسمبلیوں میں کیوں آتی ہے؟باپ کے بعد بیٹا اور بیٹے کے بعد پوتا ہی اقتدار کے ایوانوں تک کیوں پہنچتا ہے؟کیا62/63پسے ہوئے طبقے اور افلا س کا شکارکٹیاﺅں میں مقیم لوگوں کو اسمبلیوں میں پہنچنے سے روکتا ہے ؟یہ کیسا دستور ہے جو 62/63جیسی دفعات کی کی وجہ سے مطعون ہے لیکن ایمان دار، باصلاحیت، باکردار اور مفلس انسان کو اس جگہ تک پہنچنے نہیں دیتا جہا ں کیپٹن صفدر اس وجہ سے پہنچ گئے کہ نوازشریف کے داماد ہیں اور نوازشریف اس لیے اقتدار کے ایوانوں تک پہنچ گئے کہ وہ سرمایہ دار تھے ورنہ مالو مصلی اور شیدے گامے کے بچے اسمبلی میں کیوں نہیں پہنچ سکتے؟
(امور کشمیر کے ماہر، مصنف اور شعبہ تعلیم سے وابستہ ہیں)
٭….٭….٭

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں


دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved