بحیثیت قوم ہمارا اعتبار؟

نصیر ڈاھا …. گستاخی معاف
پاکستان کا شمار بھی ایسے ہی ممالک میں کیا جاتا ہے جہاں اگرچہ جمہوری نظامِ حکومت موجود ہے لیکن اس کے باوجود اصل قوت فوج کے پاس موجود ہے۔ اِس کی کئی ایک وجوہ ہیں۔ بدقسمتی سے یہاں جمہوری نظام کو پوری قوت اور شدت سے اِس کی اصل روح کے ساتھ پنپنے اور بڑھنے نہیں دیا گیا۔ ہر مخصوص مدت کے بعد یہ نظام لپیٹ کر ایک نئے نظام کی طرح ڈالی گئی اور یوں ہر بار ٹریک سے اتری ہوئی گاڑی کو دوبارہ چالو کرنے اور رواں ہونے میں خاصا وقت صرف ہوتا چلا گیا۔ آزادی کے دس برسوں کے بعد سے ہی اس کارِ بد کی بنیاد ڈال دی گئی اور یوں ہم دنیا کواپنے جمہوری نظام ِ حکومت پر اعتماد اور اعتبار کروانے میں کوئی نمایاں کامیابی حاصل نہیں کرپائے۔ اسی بناءپر دیگر ممالک ہمارے ساتھ معاہدے کرتے وقت اس امر کو ضرور ملحوظ رکھتے ہیں کہ منتخب جمہوری حکومت کی پوزیشن کیا ہے اور یہ کہ اس معاہدے میں فوج کی رائے اور مرضی ضرور شامل ہو تاکہ اگر کسی وقت اس منتخب جمہوری حکومت کی بساط لپیٹ دی گئی تو فوج ایک ضامن کے طور پر معاہدے اور منصوبے کو نقصان کی نذر نہ ہونے دے۔ ہمارے ہاں یہ ایک اچھی روایت ہے کہ فوج نے قومی فلاح کے منصوبوں میں ایک ضامن اور محافظ کے طور پر ہمیشہ ایک بہترین کردار ادا کیا ہے۔جمہوری عمل کے تسلسل میں اگرچہ رکاوٹیں در آتی رہی ہیں لیکن منصوبوں پر کام اپنی رفتار میں کمی و بیشی کے ساتھ جاری رہا ہے۔ پچھلے برسوں کے دوران سی پیک منصوبہ اِس کی ایک نمایاں اور واضح مثال ہے۔ چین کی جانب سے اگرچہ اِ س کا معاہدہ پاکستان کی منتخب جمہوری حکومت کے ساتھ کیا گیا ہے لیکن اس کے باوجود فوج نے قوم اور ملک کی فلاح کے اس عظیم منصوبے کی حفاظت اور اس کی تکمیل کیلئے اپنا کردار ادا کرنے کے پختہ عزم کا نہ صرف اظہار کیا ہے بلکہ اس پر عمل بھی جاری و ساری ہے۔ یہی وجہ ہے پچھلے دنوں انتہا درجے کے سیاسی بحران کے باوجود چین کی جانب سے اس منصوبے کے حوالے سے کوئی منفی رائے یا سوچ سامنے نہیں آئی۔ چین کو اس امر میں اطمینان رہا کہ پاک فوج سی پیک منصوبے کو کسی صورت سبوتاژ نہیں ہونے دے گی۔ تاہم چین کی جانب سے اس خدشے کا اظہار ضرور کیا گیا کہ ایسے عناصر جو پاکستان کی ترقی کے عمل کو سبوتاژ کرنے کی کوششوں میں مصروف عمل ہیں، وہ سی پیک منصوبے کو بھی اپنی کارروائیوں کی زد پر لے آئیں گے۔ یہ عناصر موجودہ سیاسی بحران اور ہلچل سے فائدہ اٹھاکر اپنے مزموم مقاصد کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کی کوششیں کرینگے۔ اگرچہ منصوبے کو سبوتاژ کرنے کی کوششیں روزِ اول سے ہی شروع ہوگئی تھیں۔ پہلے بھارت کی جانب سے گلگت و بلتستان کی حیثیت پر سوال اٹھائے گئے۔ پھر غیر ملکی عناصر نے دہشت گردی کی ایسی کارروائیوں کی بنیاد ڈالی جو براہ راست اس منصوبے پر منفی طور پر اثر انداز ہورہی تھیں۔ ایسے مقامی عناصر، جو غیر ملکی قوتوں کی ایما ءپر قومی مفاد کے حامل منصوبوں پر منفی رائے زنی کرتے رہتے ہیں‘ نے بھی اِس منصوبے پر ایسے سوالات کی بوچھاڑ کرڈالی جن سے واضح ہورہا تھا کہ جیسے پاکستان میں چینی منصوبوں کے ذریعے ایک اور ایسٹ انڈیا کمپنی کی بنیاد ڈالی جارہی ہے۔ سدرن کمانڈ کے کمانڈر نے بھارت کو پیش کش بھی کر ڈالی تھی کہ وہ اس منصوبے کو اپنے لیے نقصان دہ خیال کرنے کی بجائے اس کا حصہ بن کر وسطی ایشیا کے ساتھ تجارت کے ایک نئے عمل اور نئے دور کا آغاز کرے لیکن اس کی جانب سے تاحال کوئی مثبت جواب سامنے نہیں آیا۔
سی پیک ہو یا کوئی اور منصوبہ، قومی مفاد اور فلاح کا کوئی بھی کام ایک مستقل اور مسلسل عمل کی رہین ِ منت ہوتا ہے۔ ہماری سیاسی پوزیشن میں یہ ضرورت ہمارا جمہوری عمل ہی احسن انداز میں پوری کرسکتا ہے۔ تاہم یہ امر حوصلہ افزا رہا کہ 28جولائی کے بعد منتخب وزیراعظم کی نااہلی کے بعد پیدا ہونے والا سیاسی بحران کوئی خطرناک رخ اختیار کرنے سے قبل ہی اپنی موت آپ مرگیا۔ جمہوری عمل کا تسلسل ہمارے لیے ماضی کی نسبت کہیں زیادہ لازم اور ضروری ہے۔فوج کا کردار اگرچہ ایک محافظ اور ضامن کے طور پر بے انتہا اہمیت کا حامل ہے لیکن جبکہ دنیا ایک جمہوری نظام کے ذریعے تیزی سے ترقی کررہی ہے تو ہمیں بھی اس نظام کی ترقی اور ترویج اور اس کی مزید بہتری کیلئے اپنی کوششیں بروئے کار لانی چاہئیں۔ اگرچہ حزب اقتدار اور حزب اختلاف کی باہمی آویزش جمہوریت کا حُسن ہے لیکن ایسے معاملات جو ملک کو نقصان پہنچانے کی سبیل بن جائیں، ان سے پہلو تہی حزب اقتدار پر فرض تو ہے ہی لیکن حزب اختلاف بھی اس میں اِسی طرح شریک ہے۔ محض اقتدار کا حصول ہی سب کا مطمح نظر نہیں ہوناچاہیے بلکہ جمہوری عمل کی مزید افزائش و زیبائش کے عمل میں حصہ بقدرِ جثہ ڈالنا چاہیے۔
(کالم نگار سیاسی و سماجی مسائل پر لکھتے ہیں)
٭….٭….٭

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں


دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved