تازہ تر ین

نقص ہمارے رویوں میں ہے!

ملیحہ سید …. زینہ
میں نے محی الدین نواب صاحب کی ایک کہانی پڑھی تھی کب یہ تو یاد نہیں مگر اس کہانی کا المیہ یہ تھا کہ ایک خاتون کو بیٹی کی چاہ ہوتی ہے جس کے پہلے ہی سات بیٹے ہیں مگر اس کو پھر بیٹا ہو جاتا ہے تو وہ اپنی خواہش اس بیٹے میں پوری کرتی ہے اور اُسے لڑکی بنا کر پالنا شروع کر دیتی ہے۔گھر والے سمجھاتے ہیں مگر وہ باز نہیں آتی اسی طرح وہ لڑکا دس سال کا ہوجاتا ہے مگر ایک لڑکی کے طور پر۔ اب ماں کو احساس ہو تا ہے کہ مجھ سے غلطی سرزد ہو گئی مگر تیر کمان سے نکل چکا تھا جس کی واپسی ممکن نہیں رہی تھی۔لڑکاکسی طور پر بھی اب خود کو لڑکا سمجھنے کے لیے تیار نہیں تھا اور وقت تیزی سے گزرتا جا رہا تھا۔اس کے اندر ایک زنانہ رویہ اپنی جڑ پکڑ چکا تھا۔میں نے جب یہ کہانی پڑھی تو میں نے سوچا تھا کہ ایسا صرف کہانیوں میں ہو سکتا ہے تاہم کچھ عرصہ پہلے جب یکے بعد دیگرے مجھ سے ایسے ہی کردار ٹکرائے تو تو میری ساری حیرت دور ہو گئی۔
وہ اپنی ماں کا آٹھواں بیٹا تھا جسے اس کی ماں نے بیٹی بنا کر پالا اور اس کی شخصیت کی مکمل طور پر نفی کر دی۔تب میں نے جانا کہ محی الدین نواب صاحب نے یہ رنگ پہلے ہی دیکھ رکھے تھے میں نے تو آج دیکھے۔ اُس سے بہت ساری باتیں ہوئیں وہ اپنی اس زندگی سے مطمئن ہے کیونکہ اُسے اُس کے خاندان نے ٹھکرایا نہیں قبول کیا۔اس نے شادی کی اور اس کے تین بچے بھی ہیں تاہم اس کا زنانہ کردار آج بھی اُس کے اندرنا صرف زندہ ہے بلکہ مردوں کو گالیاں بکتا وہ زنانہ مرد اس معاشرے اور اُن ماو¿ں کے لیے ایک سوال بھی ہے جو قدرت کے ساتھ جنگ لڑتی ہیں۔
اللہ جس کو چاہیے بیٹی یا بیٹا دے۔ جب میں نے کہا تیری ماں نے اپنے شوق کے پیچھے تیرے ساتھ دشمنی کی تو اُس کی آنکھوں میں کچھ دیر کے لیے ایک اُداسی آئی مگر پھر وہ بات بدل گیا۔ وہ ماں کا لاڈلا تھا مگرلاڈلی بن کے جی رہا ہے مگر خوب جی رہا ہے اور اس بات پر شکر گزار بھی ہے کہ وہ بری صحبت کا شکار نہیں ہوا۔کہانی تومیںنے ایک مدت پہلے پڑھی تھی مگرتصویر تو اب دیکھی۔
ایسی بہت ساری ساری کہانیاں ہمیں ملیں گی قدرت نہ جبار اور قہار نہیں ہے مگر ہم نے اپنی نہ عقلی کے سبب قدرت کو تقسیم کر رکھا جس وجہ سے ہم ایسے ایسے مسائل کا شکار ہو جاتے ہیں کہ ان سے نکلنا آسان نہیں رہتا۔ اللہ سبحان و تعالیٰ کے فیصلوں سے انکار انسان کو نفع سے نکال کر نقصان کے سودوں پر مجبور کر دیتاہے۔ اسی طرح معاشرے کی تیسری جنس کے ساتھ ہم نے جو سلوک روا رکھا ہوا ہے وہ اس قدر خوفناک ہے کہ جب جب ان پر ہونے والے ظلم کی داستانیں سامنے آتی ہیں تو رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں تب مجھے لگتا ہے کہ نفسیاتی الجھنوں کا شکار وہ نہیں بلکہ ہمارا معاشرہ اور ان کو اپنی جنسی تسکین کا ذریعہ بنانے والے ہیں جو اللہ کے قوانین کی توہین کرتے ہوئے اس قبیح فعل کا ارتکاب کرتے ہیں۔ہمارا معاشرہ انہیں انسان بھی سمجھنے کے لیے تیار نہیں ہے۔
اولاد کے حوالے سے سورة ال عمران کی آیت نمبر چھ میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ ” وہی ہے وہ ذات جو تمہیں صورت دیتی ہے،رحموں میں، جیسی چاہے “۔
اس صورت کو لے کر مختلف تفاوسیر میں مختلف تا ویلات دی گئی ہے جس میں ایک یہ بھی شامل ہے کہ اللہ بہتر جانتا ہے کہ اس نے کیا بنانا ہے اور اس کی تخلیق میں نقص نہیں ہے۔ نقص کہیں ہیں تو وہ ہماری سوچوں اور رویوں میں ہے جس کی اصلاح کی ضرروت ہے۔ بچہ نور پر پیدا ہوتا ہے اس میں اگر کوئی کمی بیشی ہے تو اس کا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ والدین اسے قبول کرنے سے انکار کردیں اور اسے معاشرے کے رحم و کرم پر چھوڑ دیں، جس کو والدین نے نہیں اپنایا وہ معاشرے کے ہاتھوں کیا بن جاتا ہے یہ ہم چوراہوں، چوباروںاور چوکوں میں رنگ و بو سے سجی اس مظلوم ترین مخلوق کر دیکھ کر سمجھ جاتے ہیں مگر نو ماں پیٹ میں رکھ کر اپنا خون پلا کر پیدا کرنے والی ماں سنگدل کیسے ہو سکتی ہے کہ وہ صرف اپنا گھر بچانے کے واسطے جسمانی طور پر ادھورے بچے سے دست بردار ہو جائے۔ تاہم جہاں ایسے سنگدل ماں باپ ہیں وہیں ایسے بھی خاندان موجود ہیں جنہوں نے ایسی صورت لے کر آنے والی اولادوں کو نہ صرف قبول کیا بلکہ انہیں معاشرے کا مفید شہری بھی بنایا مگر ایسے گھرانے بہت کم ہیں مگر افسوس کہ وہ سامنے نہیں آتے وہ اس طرح کے بچوں کی پرورش تو کرتے ہیں مگر ان کو مثال بنانے اور خود مثال بننے کے لیے معاشرے کے سامنے نہیں آتے جس کی وجہ ہمارے معاشرتی رویے اور سوچ ہے جس کی اصلاح بہت ضرروی ہے۔ میرے خیال میں اب وقت آ چکا ہے کہ اس موضوع پر علمائے کرام اپنا بھر پور کردار ادا کریں تا کہ حضرت مخنث معاشرے پر تہمت بننے کی بجائے سر اٹھا کر جی سکیں۔
ان کو یہ رنگ و روپ ہم نے دیا، ان میں نقص ہم نے نکالے ان کو یہ احساس بھی معاشرے نے دیا کہ تم کیا ہو جب کہ اس حوالے سے واضح ہے کہ تیسری جنس مرد اور عورت کی جس خصوصیات کے نزدیک ہوں گے ان پر اسی جنس کے احکامات لاگو ہوں گے مگر ہم نے تو انہیں مکمل طور پر معزول کر کے ایک قبیح مخلوق کا درجہ دے دیا ہے جس کے کوئی حقوق نہیں اور نہ ہی عزت ان کا حق ہے۔ ہم یہ بھول رہے ہیں کہ مکمل صرف اللہ کی ذات ہے باقی کوئی نہیں۔ اللہ کے نبیوں کے حوالے سے توبہ اور استغفار کی آیات ہمیں یہ بتاتی ہیں کہ غلطیاں ان سے بھی ہوئیں تاہم اللہ نے انہیں راستہ بتایا اور وہی راستہ عام انسان کے لیے مشعل راہ ہے مگر ہم انسان اپنی جیسی مخلوق کو کہیں رنگ و روپ تو کہیں ذات و پات کی بنیاد پر نا صرف رد کرتے ہیں بلکہ ان کے لیے جینا بھی مشکل کر دیتے ہیں، معاشرے کی تیسری جنس اسی جنسی امتیاز کی بنیاد پر استحصال کا شکار ہے جس کا سب سے بڑا ذمہ دار ان کے خاندان سے پہلے یہ معاشرہ ہے جو جینے نہیں دیتا جس کے خوف سے لوگ اللہ کے احکامات کی نفی کرنے سے بھی باز نہیں آتے اور اپنی اولاد کو رات کے اندھیروں کا رزق بنا دیتے ہیں پھر جس کے مرضی ہاتھ لگے جو مرضی کرے کسی کو پروا نہیں۔
اے لوگوں اپنے دلوں میں اللہ کا خوف پیدا کرو نہ کہ معاشرے کا، روز محشر تمہارے اس ظلم کاجواب معاشرے نے نہیں تم نے دینا ہے جوتم نے اپنی اولاد کے ساتھ روا رکھا۔ہمیں اپنے ارد گرد رہنے والی اس مظلوم مخلوق کا خیال رکھنا چاہیے اور اپنے دامن کو اپنی حد تک تو صاف رکھنا ہمارا فرض ہے۔
(کالم نگار سماجی مسائل پر لکھتی ہیں)
٭….٭….٭

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved