تازہ تر ین

نواز شریف لاہور روانہ!

خضر کلاسرا….ادھوری ملاقات
نوازشریف سپریم کورٹ سے نااہلی کے بعد ریلی لے کر وفاقی دارلحکومت اسلام آباد سے صوبائی دارلحکومت لاہور کی طرف عوا م میں اپنی نااہلی کیخلاف مقدمہ لڑنے کیلئے روانہ ہوچکے ہیں۔اور خوب گرج برس رہے ہیں کہ انہیں عوام نے اسلام آباد بھیجا تھا اورپانچ ججوں نے نکال دیاہے۔70سال سے قوم کی توہین ہورہی ہے۔یہ روایت تبدیل کریں گے اور اس کھیل کو ہمیشہ کیلئے ختم کریں گے۔نوازشریف جب عوام میں اپنی نااہلی کیخلاف مقدمہ لڑرہے ہیں۔ اس وقت قومی اسمبلی کی پبلک اکاونٹس کمیٹی میں خورشید شاہ کی طرف سے اٹھائے گئے ایک سوال کے جواب میں حکومت نے بتایاکہ پٹرول اورڈیزل 35روپے فی لٹر خرید کر عوام کو 80روپے فی لٹر فروخت کیاجارہاہے۔ادھر نوازحکومت کا یہ کارنامہ بھی عوام میں زیر بحث ہے کہ چینی کی قیمت بارہ روپے فی کلو بڑھ گئی ہے لیکن چاروں اطراف یوں خاموشی ہے کہ جیسے حکومت موجود ہی نہیں ہے۔ اس بات سے تو سب واقف ہیں کہ شریف خاندان سمیت دیگر شوگر مل مالکان حکومت میں اعلی عہدوں پر موجود ہیں اور وہ اپنی مرضی کے مطابق عوام کی کھال اتاررہے ہیں۔گردشی قرضوںکاپتہ چلاہے کہ وہ کہیں سے کہیں جاپہنچے ہیں لیکن حکومت سب اچھاکا راگ الاپ رہی ہے۔اس بات کا انکشاف بھی کیاجارہاہے کہ جتنے قرضے نوازشریف حکومت نے چار سالوں میں لیے ہیں اتنے تو ملکی تاریخ میں نہیں لئے گئے تھے۔رہے نام اللہ کا۔
نوازشریف نے بحیثیت وزیراعظم جتنی اہمیت پارلیمنٹ کو دی ہے،کوئی پوشیدہ راز نہیں ہے بلکہ پوری قوم جانتی ہے کہ نوازشریف پارلیمنٹ میں کبھی کبھار بھی نہیں آتے تھے بلکہ مدت گزرجاتی تھی اور ارکان اسمبلی کو ان کی زیارت نصیب ہوتی تھی۔ایوان بالا میں وزیراعظم نوازشریف کی آمد کیلئے پیپلزپارٹی اور دیگر اپوزیشن جماعتوں نے باقاعدہ احتجاج کیا تھا اور نوازشریف نے سینٹ میں آکر اپوزیشن جماعتوں پر احسان کیاتھا۔وزیراعظم نوازشریف کی قومی اسمبلی کے اجلاسوں میں عدم دلچسپی کا نتیجہ یوں نکلاکہ لیگی ارکان بالخصوص ارکان اسمبلی نے بھی آنا چھوڑ دیاتھا۔اس طرح قومی اسمبلی کا کورم ٹوٹنا معمول بن گیاجوکہ جمہوری عمل کی درازی عمر کیلئے مناسب نہیں تھالیکن کون جرات کرکے نوازشریف کوکہتاکہ آپ کا ایوان میں نہ آنا آپ اور جمہوریت کیلئے خطرناک ہے جوکہ بڑی قربانیوں کے بعد ملک میں واپس آئی ہے۔
نوازشریف نے بحیثیت وزیراعظم کارکردگی یوں سوالیہ نشان رہی ہے کہ انہوں نے قومی سلامتی کے امور پر بھی خاموش رہ کر اپنے سیاسی مخالفین کو اس بات کا جواز فراہم کیاکہ وہ بیرونی ایجنڈے پر چل رہے ہیں اور ملک وقوم کے مفاد کو ترجیح نہیں دے رہے ہیں،کلبھوشن کے معاملے پر ان کی خاموشی نے تو ان کو اور بھی ایکسپوز کردیا تھا۔ادھر نوازشریف اس حد تک طاقت کے نشہ میں چلے گئے تھے کہ خورشید شاہ جیسے اپوزیشن لیڈر جوکہ فرینڈلی اپوزیشن کا الزام لے کر قومی اسمبلی میں کورم پواکرواتے ہیں۔وہ بھی نوازشریف کیلئے ہمدرد کی حیثیت حاصل کرنے میں ناکام رہے بلکہ نوازشریف کے قریبی خواجہ آصف نے خورشید شاہ کو فلور آف دی ہاوس رنگ باز اپوزیشن لیڈر قراردیا۔اس طرح اپوزیشن اور حکومت کی ورکنگ ریلشن شپ میں دراڑ اور گہری ہوگئی جوکہ نیک شگون نہیں تھا۔نوازشریف کے دیگر معاملات جوکہ تحریک انصاف کیساتھ تلخ چل رہے تھے،وہ تو جیسے بھی تھے، چل رہے تھے لیکن صورتحال یوں مناسب نہیں تھی کہ نوازشریف فرنیڈلی اپوزیشن کو بھی جمہوری عمل میں ضرورت ہونے کے باوجود برداشت کرنے پر تیار نہیں تھے۔ان کے انداز حکمرانی سے واضع لگ رہاتھاکہ وہ جمہوری وزیراعظم کی بجائے بادشاہ کاروپ دھارچکے ہیں اور ان کی مرضی کے بغیر پتہ نہیں ہل سکتاہے،اسی روش میں انہوں نے اداروں کو دیوارکیساتھ لگایا۔پانامہ کیس میں بھی انہیں پیپلزپارٹی جیسی اپوزیشن نے معاملات کو سلجھانے کی طرف مائل کیالیکن وہ کب کوئی بات سننے پر تیارتھے۔ادھران کے کاروباری بچوں کی طرف سے بیانا ت بدلنے کا سلسلہ جاری رہاہے،پھر انہوں نے بھی قوم سے خطاب میں کچھ کہااور قومی اسمبلی کے فلورا ٓف دی ہاوس پر انہوں نے اور کہانی پکڑ لی۔ادھر ان کے ہمدردوں نے شاہ سے زیادہ شاہ کے وفادار کے روپ میں اداروں کو آڑے ہاتھوں لیا۔نوازشریف نے خود بھی اپنے آپ کو خوشامدیوںمیں گھیر لیا،چوہدری نثار جیسے جانثاروں کو دورکردیابلکہ پانچ پیاروں کی فہرست میں سے ہی ان کا نام نکال دیا۔ ساری حکمت عملی یوں ناکام ہوگئی چاروں اطراف محاذ کھول لیے۔اس بات کا دھیان نہیں رکھا کہ پانامہ کیس کے بعد وہ اور ان کا خاندان گھیرے میں آچکا ہے۔ نوازشریف کو حق ہے کہ وہ عوام میں جائیں اور ان کو مینڈیٹ کی توہین کا احساس دلائیں لیکن دھیان رہے کہ وہ سپریم کورٹ آف پاکستان کے فیصلہ سے نااہل ہوئے ہیں اور قانون کا احترام سب پر لازم ہے۔
ہمارے خیال میں نوازشریف اب بھی وقت ہے ٹکراﺅ کی پالیسی کی بجائے ملک وقوم کی خاطرسیاست کریں۔ ابھی بھی ان کے پاس حکومت ہے،شاہد خاقان عباسی انہی کا نامزد کردہ وزیراعظم ہے۔ گلگت،آزاد کشمیر، پنجاب اور بلوچستان میں بھی انہی کے نامزد لوگ حکمران ہیں۔ عوام کی توقعات پوری کرنے کیلئے حقیقی ایجنڈے پر کام کریں،قوم کے بچوں کو بھی حسین،حسن اور مریم شریف کی طرح سمجھیں اور ان کے مستقبل کو سنوارنے کیلئے میدان میں اتریں۔ وگرنہ نااہلی میں جکڑے نوازشریف اقتدار کی سیڑھی کے قریب ہونے کی بجائے دور ہوتے چلے جائینگے۔
آخری ارداس، پنجاب حکومت نوازشریف کے پروٹوکول سے فارغ ہوجائے تو لیہ کے عوام جوکہ دریائے سندھ کے شد ید کٹاﺅ کاشکارہے۔اس کا بھی پتہ کرلے تاکہ عوام کو احساس رہے کہ شہبازشریف کی حکومت اپنے بھائی کی سیکورٹی کے علاوہ بھی صوبہ میں کام کررہی ہے۔اسی طرح صوبائی وزیرقدرتی آفت اعجاز اچلانہ بھی مناسب سمجھیں تو لیہ کا چکر لگائیں تاکہ دریا کے کٹاﺅ کا شکار عوام کو احساس رہے کہ موصوف انہی کے حلقہ سے منتخب ہوئے تھے اور مشکل وقت میں ان کے ساتھ کھڑے ہیں نہ کہ پہاڑپر چڑھ گئے ہیں۔
(کالم نگار زیادہ تر سیاسی وسماجی مسائل پر لکھتے ہیں)
٭….٭….٭

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved