یوم آزادی ہماری نظر سے!

ظہور احمد دھریجہ ..سرائیکی وسیب
یہ بات خوش آئند ہے کہ ملتان کینٹ میں پاک فوج کی طرف سے یوم آزادی پر جو بینرز آویزاں کیئے گئے ہیں ان پر سرائیکی میں ” آو¿ رل تے سجاو¿ں یار “ لکھا گیا ہے۔ گزشتہ سال بھی ” آو¿رل تے مناو¿ں یار “ لکھا گیا تھا ۔ اس سے سرائیکی وسیب کے کروڑوں افراد کو خوشی ہوئی ہے ۔ دوسری طرف آزادی ٹرین میں سرائیکی وسیب کی ثقافت کو گزشتہ سال بھی نظر انداز کیا گیا تھا تو ملتان ریلوے اسٹیشن سے کراچی کینٹ ریلوے اسٹیشن تک احتجاج ہوا تھا ۔ افسوس کہ مطالبات کے باوجود وفاقی وزیر ریلوے سعد رفیق نے توجہ نہ دی اور اس سال بھی آزادی ٹرین میں سرائیکی وسیب کو نظر انداز کیا گیا ہے ۔ امسال آزادی کا یہ مہینہ ایسے موقع پر آ یا ہے جب سبکدوش وزیراعظم میاں نواز شریف سڑکوں پر سراپا احتجاج ہیں ۔ مرکز میں بھی حکومت ان کی ہے اور صوبے میں بھی مگروہ کس کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں؟ یہ بات سمجھنے سے تعلق رکھتی ہے۔ پوری دنیا نے دیکھا کہ سرائیکی وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی کو برطرف کیا گیا تو وہ اپنی آنکھوں سے آنسو پونچھتے ہوئے گھر آ بیٹھے جبکہ میاں نواز شریف نے آسمان سر پر اٹھا لیا ہے ، یہی فرق سرائیکی پنجابی کا ہے۔ سرائیکی جماعتوںنے بھی سرائیکی صوبے کے مطالبے پر 10 اگست سے لانگ مارچ کا اعلان کیا تھا مگر یوم آزادی کے احترام میں لانگ مارچ کی تاریخ 10 اگست کی بجائے 10 ستمبر کر دی گئی ۔ میاں نواز شریف کی جماعت نے الیکشن سے پہلے سرائیکی وسیب سے بھی عہد و پیمان کئے تھے ‘ سرائیکی صوبے کا مطالبہ اپنے منشور میں شامل کیا تھا ۔ پنجاب اسمبلی سے قرارداد پاس کرائی تھی اور سینیٹ نے باقاعدہ طور پر دو تہائی اکثریت کے ساتھ سرائیکی صوبے کا بل پاس کر کے سرائیکی صوبے کو آئینی تحفظ دے دیا ہے اب حکمرانوں کو چاہئے کہ وہ سرائیکی صوبے کا قیام عمل میں لا کر وسیب کے کروڑوں افراد کو آزادی کی خوشیوں میں شریک کریں ۔
اس موقع پر ضروری ہے کہ آزادی کے حالات و واقعات کا نئے سرے سے جائزہ لیا جائے اور مقامی افراد کی قربانیوں کا تذکرہ بھی نصاب اور تاریخ کی کتب میں شامل کیا جائے ، آج نئے مکالمے اور نئے بیانےے کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے ۔ یوم آزادی کے موقع پر ہندوستان سے مہاجرین کی ہجرت کے واقعات اور ہجرت کے نتیجے میں پیش آنے والے مصائب و آلام کا تفصیل سے ذکر کیا جاتا ہے ، جو کہ اچھی بات ہے ۔ لیکن بات مصائب پر ختم کرنے کی بجائے اس سے اگلی بات بھی بتائی جائے کہ جب مسلم مہاجرین ہندوستان سے خون کے دریا جھاگ کر نوزائیدہ پاکستان پہنچے تو مقامی لوگوں نے ان سے کیسا برتاو¿ کیا، ان کے ساتھ حسن و سلوک سے پیش آئے یا اغیار والا معاملہ تھا ؟ اگر مقامی لوگوں کا رویہ ایثار و قربانی والا تھا تو پھر اس کا اعتراف مقامی آبادی کی تہذیب ،ثقافت اور زبان سے مانوسیت اور جذب پذیری کی صورت میں آنا چاہئے اور یوم آزادی کے تذکروں میں مہاجرین کی مشکلات کے ساتھ انصار کے ایثار کا تذکرہ عنقا نہیں ہونا چاہئے ، یہ کیا بات ہوئی کہ ایک طرف ہندوستانیوں کے مظالم کا ذکر ، دوسری طرف ہندوستانی ثقافت سے محبت۔ ہم سمجھتے ہیں کہ مقامی زبان و ثقافت سے دوری کسی طرح قرین انصاف نہیں ۔ ہاں ! اگر ہجرت کے بعد مقامی لوگوں سے کسی طرح ایثار و قربانی میں کسی جگہ کمی رہی تو اس کا ذکر بھی آنا چاہئے تاکہ ہجرت کی کہانی مکمل ہو سکے۔
1947ءمیں سب سے بڑا مسئلہ انتقال آبادی تھا ۔آزادی کے بعد دونوں حکومتوں نے تبادلہ آبادی کی سکیم تیار کی لیکن غیر دانشمندی کا ثبوت یہ دیا گیا کہ انتقال آبادی کا محفوظ پلان تیار نہ ہو سکا ، پھر دونوں ملکوں میں اس طرح کے حالات پیدا کر دیئے گئے کہ دونوں طرف سے لاشیں گرنے لگیں ۔ ہندوستان خصوصاً مشرقی پنجاب سے سب سے زیادہ مہاجرین آئے ،ایک اندازے کے مطابق 70 لاکھ آبادی کا ہندوستان سے انخلاءہوا ۔ پناہ گزینوں کی تاریخ کا مطالعہ کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ سپین سے تین لاکھ مسلمانوں کو وطن چھوڑنا پڑا۔ روس اور جرمنی سے 70 ہزار یہودی نکالے گئے اور فسلطین سے ڈیڑھ لاکھ مسلمان ملک بدر ہوئے ۔ پاکستان سے جانیوالے ہندو¿ں کی تعداد ہندوستان سے آنے والے مسلمانوں کے مقابلے میں کم تھی ۔ جب انتقال آبادی ہوا تو ایک بوڑھی عورت نے بڑی بات کی کہ ” بادشاہ بدلتے سب نے دیکھے ، رعیت بدلتے ہم نے پہلی مرتبہ دیکھی ۔ “
جیسا کہ میں نے پہلے عرض کیا کہ جن لوگوں نے پاکستان کے لوگوں کو سلطنت قائم کرنے کیلئے اپنی سرزمین دی اور پاکستان کے نام پر انڈیا سے آنے والے پناہ گزینوں اور لُٹے پُھٹے مہاجرین کے قافلوں کو صرف پناہ ہی نہیں بلکہ اپنی قیمتی املاک ، اراضی اور جائیدادیں بھی دیں آج وہ مجرم اور دوسرے درجے کے شہری کیوں ہیں؟ اور جن لوگوں نے یہاں آ کر عافیت حاصل کی وہ ڈنڈے کے زور پر یہ بات کیوں تسلیم کرانا چاہتے ہیں کہ قربانی تمہاری نہیں بلکہ ہماری ہے اور اسے تسلیم کرو ۔ کسی بھی مقامی شخص نے آج تک کسی طرح کا احسان نہیں جتایا حالانکہ وہ اچھائی اور احسان کرنے والے تھے۔ جب بات ہی الٹ چلا دی گئی تو پھر مقامی لوگوں میں خیال پیدا ہوا کہ ہم نے کونسا جرم کیا ہے ؟ جس کی ہمیں مسلسل ذہنی اذیت کے ذریعے سزا دی جا رہی ہے ۔ پھر یہ سوال اور بھی زیادہ شدت سے ابھر کر سامنے آیا کہ جب ہمارے مہاجر و آبادکار بھائی جہا ں سے ستم اٹھا کرآئے ان سے قربت اور ہم سے دوری اور بیزاری کیوں؟ دیکھنے میں آتا ہے کہ لاہور میں مشرقی پنجاب سے سکھوں کے قافلے آتے ہیں وہاں جشن کا سماں ہوتا ہے جبکہ سرائیکی وسیب سے کوئی ضرورت مند ” سرکاری فائل “ کی مجبوری کی وجہ سے لاہور جاتا ہے تو اسے کمی اور شودر سمجھ لیا جاتا ہے ۔یہی وجوہات تھیں جن کی بناءپر سرائیکی قومی سوال پیدا ہوا اور اگر تقسیم کے وقت پاکستان کے قومی مسئلے کا ادراک کر لیا جاتا ، بنگالیوں اور دوسری تمام قوموں کو ان کی زبان ، ثقافت اور شناخت کا حق مل جاتا تو مشرقی پاکستان الگ نہ ہوتا اور نہ مغربی پاکستان خلفشار کا شکار ہوتا۔
یہ مسلمہ حقیقت ہے کہ آج تقسیم ہند اور قیام پاکستان کے حالات و واقعات پر نئے سرے سے غیر جانبدارانہ تحقیق اور تجزےے کی ضرورت ہے ۔ یکطرفہ باتوں سے حقائق کبھی سامنے نہیں آ سکیں گے ۔ کوئی مانے یا نہ مانے یہ حقیقت ہے کہ پاکستان کے وجود کی عمارت مقامی افراد کی سر زمین پر قائم ہے، اسے کوئی گملے کی شکل میں ہندوستان سے اُٹھا کر نہیں لایا ۔ مہاجر بھائیوں کی اولادیں جو یہاں پیدا ہوئی ہیں ، ان کو فاتحانہ طرز و فکر اختیار کرنے کی بجائے حقائق کا ادراک کرنا چاہئے ۔ یوم آزادی کے تذکرے میں انصار عنقا کیوں ؟ کے سوال کے ساتھ ساتھ لفظ پاکستان کے حوالے سے بھی بہت سی باتیں ابھی تک وضاحت طلب ہیں ۔ لفظ پاکستان کے بانی چوہدری رحمت علی سے اس وقت تفصیل پوچھی گئی تو انہوں نے پ سے پنجاب ، الف سے افغانیہ ، ک سے کشمیر ، س سے سندھ اور تان سے بلوچستان بتایا ۔ اس پر مشرقی پاکستان کے بنگالیوں نے کہا کہ ہم کہاں گئے ؟ اس پر چوہدری رحمت علی تو کوئی جواب نہ دے سکے مگر حکومتی زعماءنے خود ساختہ وضاحت دی کہ پاکستان کا مطلب ” پاک لوگوں کی سر زمین “ ہے ۔ اقلیتوں نے پوچھا کہ پاک سے کیا مراد ہے تو کہا گیا کہ ” مسلم “ ۔ اس پر اقلیتوں نے کہا کہ پھر ” ناپاک غیر مسلم “ برابر کے شہری کس طرح ٹھہرے ؟ اس سے پہلے اقلیتیں پاکستانی پرچم پر اعتراض کر رہی تھیں کہ اقلیتی علامت کو ظاہر کرنے کیلئے اقلیتوں کیلئے وہ سفید حصہ مختص کیا گیا ، جس پر ڈنڈا آتا ہے ۔ 11 اگست 1947ءکو قائد اعظم نے اقلیتیوں کے مساویانہ حقوق کی بات کی ۔ 11 اگست اقلیتوں کے حقوق کا دن منایا تو جاتا ہے مگر حقوق دیئے نہیں جاتے ۔ اس معاملے میں اقلیتیں اور پاکستان میں بسنے والی اصل قدیم محکوم قومیں جن کو انصار بھی کہا جاتا ہے ، ایک صف میں کھڑی ہیں ۔
معاملات کو گڈ مڈ کر کے پناہ دینے والی سر زمین کو مفتوحہ بنا دیا گیا اور پناہ حاصل کرنے والے خود کو فاتح کے روپ میں پیش کرتے ہیں ۔، ہندوستان اور پاکستان کا فرق یہ ہے کہ پاکستان میں پہلے دن سے مہاجر وزیرعظم اور ان کی زبان قومی زبان ۔ ہندوستان میں 50 سال بعد گجرال وزیراعظم بن سکا اور پاکستان سے جانیوالوں کی زبان، تہذیب و ثقافت ختم ہو گئی اور وہ مقامی آبادیوں میں جذب ہو گئے ۔ یہ مسلمہ حقیقت ہے کہ پاکستان کی برکتوں سے مقامی لوگ آج بھی محروم ہیں ۔ وہ اپنے ہی گھروں میں مہاجر بنا دیئے گئے ، وہ صرف وسائل سے محروم نہ ہوئے ، ان کی زبان ، تہذیب و ثقافت بھی خطرات کا شکار ہے۔ جب یوم آزادی کے موقعہ پر ریڈیو ، ٹی وی پر ملی نغمے ” تو بھی پاکستان ہے ،میں بھی پاکستان ہوں۔ یہ تیرا پاکستان ہے، یہ میرا پاکستان ہے “ سنتا ہے تو منہ میں انگلی ڈال کر سوچوں میں گم ہو جاتا ہے کہ کیا واقعی ایسا ہے؟ یوم آزادی کا پیغام یہ ہے کہ وسائل اور مسائل کی برابر تقسیم اور تمام علاقوں کے ساتھ مساویانہ سلوک ہو۔ تاکہ وہ بھی ملی نغمے ” تو بھی پاکستان ہے ، میں بھی پاکستان ہوں “ کی گنگناہٹ میں شریک ہوں ۔
(سرائیکی دانشور اور صحافی ہیں)
٭….٭….٭

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں


دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved