فراموش قومی سانحہ ….1

محمد مکرم خان….نوشتہ دیوار
17اگست 1988ءعلی الصبح چکلالہ ہوائی مستقر پر صدارتی (سی وَن تھرٹی) طیارہ بہاولپور پرواز کیلئے تیار تھا۔ صدرمملکت و چیف آف آرمی سٹاف جنرل ضیاءالحق اپنے حفاظتی دستے اور ذاتی سٹاف کے ہمراہ جہاز پر سوار ہونے کیلئے پہنچے تو ان کی نگاہ لیفٹیننٹ کرنل ڈاکٹر ارشد حسین پر پڑی جو صدرمملکت کے ذاتی معالج تھے اور اپنے سازوسامان و ضروری ادویات کے ساتھ ان کے ہمراہ جانے کیلئے موجود تھے۔ جنرل ضیاءالحق نے انہیں دیکھتے ہی کہا: ڈاکٹر، تم یہاں کیا کر رہے ہو؟ واپس جاو¿، میں شام تک لوٹ آو¿ں گا۔ ڈاکٹر نے جنرل ضیاءالحق کو سیلوٹ کیا اور مسافروں کی قطار سے پیچھے ہٹ گئے۔ انہیں نہیں معلوم تھا کہ یہ ان کا جنرل ضیاءالحق کو آخری سیلوٹ ہے اور وہ اپنے سفرآخرت سے بال بال بچ گئے، بعد ازاں آرمی میڈیکل کور میں میجر جنرل کے عہدے تک پہنچے۔ بریگیڈئیر محمد یونس خان، جنرل ضیاءالحق کے ساتھ ملٹری سیکرٹری کے فرائض انجام دے رہے تھے، جنہیں جنرل ضیاءالحق کے ساتھ روایتی طور پر ہمہ وقت موجود رہنا تھا۔ بریگیڈئیر یونس کو صدرمملکت نے بعض ضروری کاموں کیلئے واپس جانے کا حکم دیا۔ وہ بھی بدقسمت طیارے کے خوش قسمت مسافر ثابت ہوئے۔ پاک ون (سی ون تھرٹی) چکلالہ ائیربیس سے 7:45 پر بہاولپور کے لئے فضا میں بلند ہوا جہاں ہیلی کاپٹر سے 15 منٹ کی پرواز کے فاصلے پر خیرپور ٹامیوالی میں انہیں امریکی ٹینک کا مظاہرہ دیکھنا تھا۔ اس طیارے میں صدر کے علاوہ چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی جنرل اختر عبدالرحمن کے علاوہ کئی اعلیٰ فوجی افسر اور عملے کے ارکان سوار تھے۔ خیرپور ٹامیوالی میں امریکی ٹینک کی کارکردگی متاثر کن نہیں تھی لیکن صدر کی پیشانی شکن آلود نہیں ہوئی اور وہ بہاولپور چھاو¿نی لوٹ آئے، تاہم آرمی میس میں ظہرانے کے دوران صدر کے چہرے پر سنجیدگی چھائی رہی۔ 3 بج کر 46 منٹ پر صدر کے جہاز نے بہاولپور کے رن وے سے چکلالہ کیلئے اڑان بھری۔ امریکی سفیر آرنلڈ رافیل (جنہیں جنرل ضیاءالحق خصوصی طور پر اسلام آباد سے لے کر آئے تھے) اور امریکی فوجی مشن کے بریگیڈئیر رابرٹ واسم جہاز میں سوار ہو گئے۔ جنرل مرزا اسلم بیگ نے اپنے خصوصی جہاز میں واپس جانا تھا۔ موت کا لمحہ مقرر ہے جس سے مفر نہیں! جنرل ضیاءالحق بہاولپور کے ہوائی اڈے پر چیف آف جنرل سٹاف لیفٹیننٹ جنرل میاں افضال کے ساتھ ضروری گفت و شنید کر رہے تھے، اسی اثناءمیں انہوں نے جنرل میاں افضال کو کہا کہ وہ ان کے ساتھ جہاز میں راولپنڈی چلیں تاکہ اہم عسکری معاملے پر مزید بات چیت کی جا سکے۔ جنرل ضیاءالحق الوداعی رسومات سے فراغت پا کر جہاز میں داخل ہوئے تو لیفٹیننٹ جنرل رحم دِل بھٹی (انسپکٹر جنرل ٹریننگ اینڈ ایویلوایشن) جہاز میں پہلے سے بیٹھے ہوئے تھے جنہیں جنرل میاں افضال کی بجائے ملتان جانے کا کہہ کر جہاز سے اتار دیا گیا جس سے دونوں کی منزل کی نوعیت یکسر بدل گئی۔ میجر جنرل محمد سمیع بھی اس بدقسمت طیارے میں لقمہ اجل بنے جن کی منزل راولپنڈی نہیں ملتان تھی، لیکن وہ بڑے تردد سے چیف آف آرمی سٹاف سے ضروری مشورے کیلئے جہاز میں سوار ہوئے۔ یہاں ایک اور میجر جنرل کا تذکرہ کرنا بے جا نہ ہو گا جنہیں ملتان میں ایک عسکری تقریب میں جانا تھا لیکن انہیں ان کے شایان شان کمرہ نہیں مل سکا کیونکہ ان سے دیگر سینئر افسران عین اسی روز ملتان آرہے تھے۔ انہوں نے کوشش کرکے ملتان کی بجائے صدرمملکت کے ہمراہ بہاولپور جانا ضروری خیال کیا اور ایک لمحے کی لغزش میجر جنرل محمد حسین کیلئے ابدی نیند کا پیغام ثابت ہوئی۔ بہاولپور کے ہوائی اڈے سے صدرمملکت کے جہاز کے اڑان بھرنے کے لگ بھگ اڑھائی منٹ بعد بہاولپور کے ٹریفک کنٹرول نے رابطہ کرنے کی کوشش کی لیکن کوئی جواب نہ ملا۔ چند لمحے بعد فلائٹ لیفٹیننٹ ساجد چوہدری کی آواز سنائی دی ”سٹینڈ بائی“ اس کے بعد خاموشی چھا گئی۔ ٹریفک کنٹرول نے پھر رابطہ کرنے کی کوشش کی مگر بے سود۔ چند لمحوں بعد ایک نحیف سی آواز سنائی دی ”مشہود! مشہود“ شاید یہ صدر کے ملٹری سیکرٹری بریگیڈئیر نجیب احمد کی اس بدقسمت پرواز سے آخری آواز تھی۔ 3 بج کر 49 منٹ پر جہاز ہوا میں ہچکولے کھاتا دِکھائی دیا اور 2 منٹ کے اندر ناک کے بل زمین پر آرہا۔ یہ بہاولپور کے ہوائی اڈے سے 10 کلومیٹر دور دریائے ستلج کے پار بستی لعل کمال کا علاقہ تھا۔ جہاز لمحوں میں آگ کا گولہ بن گیا۔ کوئی نہیں جانتا تھا کہ اس آگ کو بجھایا جا سکتا تھا؟
جنرل اسلم بیگ کا طیارہ اس وقت بہاولپور کے ہوائی اڈے پر تھا اور انہیں پاک ون (سی ون تھرٹی) کی تباہی کا سگنل موصول ہو گیا، انہوں نے فضا میں چکر لگایا، جلے ہوئے طیارے اور بھسم شدہ نعشوں پر طائرانہ نظر ڈالی اور راولپنڈی کی طرف پرواز کر گئے جہاں انہوں نے فوراً ہی سینئر فوجی افسروں کا اجلاس بلایا اور سینٹ کے چیئرمین غلام اسحق خان سے دستور کے مطابق عہدہ صدارت سنبھالنے کےلئے کہا جنہوں نے جنرل اسلم بیگ کو چیف آف آرمی سٹاف کے منصب پر فائز کر دیا۔ 20 اگست کو ایوانِ صدر سے جنرل ضیاءالحق کا جنازہ اٹھا تو چشم فلک نے وہ مناظر دیکھے جنہوں نے ان کے بدترین ناقدین کو بھی ششدر کر دیا اور ان کی مقبولیت پر انگلیاں اٹھانے والے مبہوت ہو کر رہ گئے۔ گریہ کرنے والوں میں معذور اور مفلس لوگ کس تعداد میں شریک ہوئے، بیوہ عورتیں اور یتیم بچوں نے اپنے غم کا اظہار کس انداز میں کیا، یہ صرف عینی شاہدین ہی جانتے ہیں۔ پاکستان کی تاریخ میں اس قدر افراد کسی شخصیت کے جنازے میں شامل نہیں ہوئے، یہ اعزاز صرف جنرل ضیاءالحق کو حاصل ہوا۔ پھر تحسین کا ایک طوفان اٹھا، دنیائے اہل دانش، مدبر، ادیب، شاعر اور حکمران اس شخصیت کو روئے جسے 11 سال بدترین تنقید بلکہ دشنام طرازی کا سامنا تھا۔ تاریخ کی لوہِ ابدیت پر ان کا نام لکھا جانے والا تھا۔ میدانِ کارزار کے شہسوار جنرل ضیاءالحق اپنی شہادت کے بعد دنیا پر منکشف ہوئے۔
اس جانکاہ حادثے میں شہیدوں کے جسم راکھ بن گئے، چہرے ثابت و سالم نہیں تھے، آہوں اور سسکیوں سے سوگ میں ڈوبے رخصت کرنے والے آخری دیدار سے بھی محروم رہے لیکن یادوں میں وہ ویسے ہی توانا اور جیتے جاگتے ہیں، لاکھوں غمزدہ لوگوں نے ان کے جنازے میں شرکت کی جو جانتے تھے کہ وہ جس شخصیت کو سپرد خاک کر رہے ہیں وہ حقیقت میں کیا تھے؟ شہید صدر کی مرقد پر پھول برسائے جا رہے تھے کہ جنرل مرزا اسلم بیگ نے اعلان کیا کہ آرمی ہاو¿س کو قومی یادگار میں تبدیل کر دیا جائے گا۔ پی ٹی وی سے دستاویزی فلمیں دکھائی جانے لگیں۔ لکھنے والوں نے مصرعوں کو سسکیوں اور حسرتوں سے ترتیب دیا۔ پھر سوال اٹھنے لگے کہ وطن کے ان شہیدوں کا قاتل کون ہے؟ نعشیں پوسٹمارٹم کے بغیر ہی دفنا دی گئی تھیں لیکن یہ حادثہ نہیں تخریب کاری تھی اسی لئے ایف بی آئی کی ٹیم کو پاکستان آنے سے روک دیا گیا تاہم پاکستان فضائیہ کے سربراہ نے حادثے کے اسباب کا سراغ لگانے کےلئے ایک ٹیم تشکیل ضرور دی۔ دو ہفتوں کے بعد ہی ریڈیو اور ٹی وی سے شہید صدر کا ذِکر عنقا ہونے لگا۔ جنرل مرزا اسلم بیگ نے ممتاز سیاستدانوں سے خفیہ ملاقاتیں شروع کر دیں اور محترمہ بینظیربھٹو نے فوج کے ساتھ نامہ و پیام کی ابتدا کر ہی دی۔ اسلامی جمہوری اتحاد کی تشکیل میں عساکر پاکستان کا کردار تو طشت ازبام ہو ہی چکا ہے۔ انتخابی مہم شروع ہوئی تو بیگم نصرت بھٹو نے پاکستان کی ایٹمی تنصیبات عالمی معائنے کےلئے کھولنے کا عندیہ دے دیا، اس پر مزاحمت کا طوفان اٹھنا غیرمتوقع نہیں تھا تو بینظیربھٹو نے سیاچن گلیشیئر کے حوالے سے شہید صدر پر بہتان باندھنے شروع کر دئیے۔ صد افسوس فیصل مسجد کے سائے میں منوں مٹی اوڑھے مدفون شہید کا کوئی وکیل نہیں تھا۔ افغان جہاد کی حمایت میں شور و غوغا تو بلند ہوا لیکن پاکستان کی بقا کی جنگ لڑنے والے مجاہدوں اور پہاڑ جیسی آزمائشوں سے گزرنے والوں کی کسی کو یاد نہ آئی۔ بینظیربھٹو کے اقتدار میں آنے کے چند روز پہلے فضائیہ کے تحقیقاتی بورڈ نے اپنی رپورٹ پیش کی جس میں واضح طور پر کہا گیا کہ یہ حادثہ نہیں صریحاً تخریب کاری تھی لیکن قاتل کون تھے؟ بورڈ نے یہ سفارش بھی کی کہ مجرموں کا سراغ لگانے کےلئے الگ سے تحقیقات کی جائیں، چنانچہ صدر غلام اسحق خان کے حکم پر آئی ایس آئی اور ایف آئی اے کے افسروں پر مشتمل ایک تحقیقاتی کمیٹی بھی قائم کی گئی تھی۔ وفاقی سیکرٹری داخلہ فتح خان بندیال کو اس کا رابطہ افسر مقرر کیا گیا۔ عالمی ذرائع ابلاغ نے بعدازاں یہ بھانڈا بھی پھوڑ دیا کہ اس کمیٹی نے درحقیقت تحقیقات کی ہی نہیں۔ دنیا میں سب سے زیادہ پڑھے جانے والے جریدے ”ریڈر ڈائجسٹ“ کا یہ مضمون آج بھی پاکستان کے تحقیقاتی اداروں کا منہ چڑا رہا ہے۔ ایف کے بندیال نے جون 1989ءمیں ریڈر ڈائجسٹ کے ایڈیٹر کو معیاری انگریزی میں خط لکھ کر وضاحت کرنے کی ناکام کوشش کی کہ کمیٹی سرگرمی سے تحقیقات کر رہی ہے۔ یہ خط پاکستانی اخبارات میں لیڈ سٹوری کے طور پر شائع ہوا اور پھر سرکار خاموش ہو گئی۔ ماہ و سال گزرتے رہے، اب تک کسی کو نہیں معلوم کہ یہ تحقیقات کس زمین اور کس آسمان پر ہوتی رہیں؟
پاک فضائیہ کے تحقیقاتی بورڈ کو یہ یقین تھا کہ حادثہ سبوتاژ کی ایک مجرمانہ کارروائی تھی لیکن اس کے باوجود دوٹوک رائے دینے کی بجائے اشاروں کنایوں پر اکتفا کیا گیا۔ بظاہر اس حادثے سے پیدا ہونے والی صورتحال میں سب سے زیادہ فوائد حاصل کرنے والے امریکی پس پردہ حقائق سے پوری طرح باخبر ہیں جسے ”نیوزویک“ نے ”گہرے تاریک راز“ کا نام دیا تھا، جنہیں اصل حقائق کا علم ہو گیا تھا لیکن انہوں نے بھی مصلحتاً یہ اسرار بے نقاب نہیں کئے۔
جولائی 1989ءمیں وزیراعلیٰ میاں نوازشریف نے ایس ایس پی احمد نواز خان نیازی کو طلب کرکے احکامات دئیے کہ وہ پوری آزادی اور ذمہ داری کے ساتھ مجرموں کا سراغ لگانے کی کوشش کریں جنہیں اپنی تفتیش کو آگے بڑھانے میں صرف دانتوں پسینہ ہی نہیں بلکہ جان کو بھی خطرات لاحق ہو گئے اور پنجاب پولیس کی تفتیش سردخانے کی نذر ہو گئی جس کی تفصیلات بیان کرنے کے لئے محض ایک کالم ناکافی ہے۔ آئی ایس آئی اور ایف آئی اے کی تحقیقات کا اونٹ کس کروٹ بیٹھا یہ بھی کسی سے پوشیدہ نہیں۔ یکم دسمبر 1989ءکو ایک جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے میاں نوازشریف نے کہا تھا ”شہید جنرل محمد ضیاءالحق کے طیارے کا حادثہ ایک بہت بڑی تخریب کاری تھی جس میں ملک کا صدر اور کئی فوجی جنرل شہید ہو گئے۔ موجودہ وفاقی حکومت نے اس سلسلے میں کوئی تفتیش نہیں کی اور ایف آئی اے کو آرام سے بٹھا دیا کہ تفتیش کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ حکومت پنجاب نے ایف آئی اے سے رابطہ کیا کہ اس المناک حادثہ کے حوالے سے جو شواہد جمع کئے ہیں وہ حکومت پنجاب کے حوالے کئے جائیں لیکن انہوں نے ایسا کرنے سے انکار کر دیا۔ اس انکار سے بڑا جرم کیا ہو سکتا ہے؟“(جاری ہے)
(روزنامہ خبریں کے سینئر کالم نگار اور چینل ۵کے
تجزیہ کار ‘دفاعی و سیاسی امور پر لکھتے ہیں)
٭….٭….٭

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں


دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved