اداس لوگوں سے پیار کرنا….

عامر بن علی….مکتوب جاپان
مشا عر ہ بر صغیر پا ک و ہند کی ادبی اور ثقا فتی روایت کا ایک خو بصور ت پہلو ہے ۔ شا عری تو ہزاروں سا ل سے دنیا کے ہر کو نے میں ہو تی آرہی ہے مگر ہما ری شاعری کا اہم امتیا ز جو اسے ”پر فا رمنگ آرٹ“ بنا تا ہے و ہ مشا عرہ ہے ۔ تین صدیو ں پر محیط مغلیہ دو رکے ہما ری سر زمین پر یو ں تو بے شمار اثرات نظر آتے ہیں مگر فن ِتعمیر، اردو زبا ن اور مشا عرے کی روایت ایسی خوبصورت چیزیں ہیں جن سے مغلو ں کے بد ترین نقا د بھی انکا ر نہیں کر سکتے ۔ مغل با دشا ہ اور ان کے در با ر سے منسلک لو گ خو د بھی شعر کہتے اور محفلِ مشا عرہ کا با قا عدگی سے اہتما م کر تے۔ مغلو ں کی حکومت ختم ہو نے کے بعد بھی ان کی چہیتی اردو زبا ن اور مشا عرے کی روایت پا کستا ن میں آج بھی اپنی تمام تر خو بصور تی کے سا تھ قا ئم اور دائم ہے ۔بڑے بڑے شہروں میں منعقدہ مشا عروں کا احوال تو آپ پڑھتے ہی رہتے ہیں ، مگر پاکستان میں ایک چھو ٹا سا شہر ایسا بھی ہے جہا ں مشا عرے بہت بڑے ہو تے ہیں ۔ میری مراد میاں چنو ں سے ہے ۔ اہلِ ذوق میاں چنو ں کو پنجا ب کا لکھنﺅ بھی کہتے ہیں ۔ جنو بی پنجا ب کی ملتا ن ڈویژن میں واقع اس تحصیل میں شعر اور مشا عرے کی روایت بہت توانا ہے ۔
مشا عرے کی اسی درخشندہ روایت کو آگے بڑھا تے ہو ئے بلدیہ میاں چنوں نے ادبی و سماجی تنظیم راوی فا ﺅنڈیشن کے تعاون سے ایک عظیم الشان عالمی مشا عرے کاا ہتمام کیا۔
اگر کیلنڈر پر نظر دوڑائیں تو گزشتہ چند برسوں میں ایسا اعلیٰ پا ئے کا مشا عرہ شاید پا کستان میں اور کہیں بھی نہیں ہوا۔ یہ مبالغہ آرائی نہیں ہے ، مہمان شعراءکرام کے نام دیکھیں تو آپ کو خو د ہی یقین ہو جا ئے گا ۔ مشا عرے کی صدارت ہما رے عہد کے عظیم شا عر ظفر اقبال نے کی۔ محفلِ مشا عرہ کے مہمانا نِ خصو صی انور مسعود ، عطا ءالحق قا سمی اور امجد اسلام امجد تھے۔ جبکہ نظامت کے فرائض وصی شا ہ اور ڈاکٹر صغر یٰ صدف نے انجام دئیے ۔ مہمان اعزاز پا رلیمانی سیکر ٹری برا ئے خزانہ رانا با بر حسین ایم پی اے تھے۔ منو ّبھا ئی نے اس محفل میں شریک ہو نے کا وعدہ کیا تھا اور ان کا ارادہ بھی یہی تھا مگر شدید علالت کے با عث وہ ہسپتا ل کے انتہا ئی نگہداشت وارڈ میں تھے،پھر بھی انہو ں نے ہما رے دو ست شو کت فہمی کو بتا یا کہ میاں چنو ں مشا عرے میں ضرور جا نا ہے ۔ مگر یہ ممکن نہیں تھا۔
مشا عرے کے منتظمین کا خیال تھا ، جن میں چیئر مین بلدیہ چو ہدری ندیم اختر ایڈوکیٹ کے علا وہ راقم الحروف بھی شا مل تھا کہ مقامی شعراءکرام کو بھی مشا عرہ پڑھنے کا مو قع فراہم کیا جا ئے ۔حسن اتفاق سے میاں چنوں کی سرزمین شعروادب کے حوالے سے اس قدر زرخیزہے کہ مقامی شعراءکرام کی تعدادپچیس تک پہنچ گئی۔لہٰذاتمام شعراءکرام نے مشترکہ طور پر یہ فیصلہ کیا کہ مہما ن شعراءکے اعزاز وا کرام میں کو ئی بھی مقامی شاعر مشا عرہ نہیں پڑھے گا ۔ اچھی با ت یہ ہو ئی کہ چھ گھنٹے طویل اس پروگرام میں تمام مقامی شعراءآخر تک اپنی نشستوں پر نہ صرف براجمان رہے بلکہ دادوتحسین کے ڈونگر ے بر سا تے رہے ۔ ہزاروں کی تعداد میں سبزہ زار بلدیہ میں کر سیا ں لگا ئی گئی تھیں مگر پھر کثیر تعداد میں لو گ مشا عرے کے اختتا م تک کھڑے رہے چونکہ انہیں بیٹھنے کے لیے نشست دستیاب نہ ہو سکی تھی ۔ یہ تعداد ان لو گو ں کے علا وہ تھی جو اپنے گھروں میں بیٹھ کر کیبل ٹی وی پر مشا عرہ براہ ِراست دیکھ رہے تھے۔ دنیا بھر میں فیس بک پر یہ پروگرام لائیو دیکھنے والوں کی تعداد ہزاروں میں تھی ، ان کا ذکر بھی ضروری ہے ۔
مشا عرے سے قبل راقم کی رہا ئش گاہ پر عشا ئیے کا اہتمام کیا گیا تھا، اس کے بعد تما م شعراءکرام جلو س کی شکل میں مشا عرہ گاہ روانہ ہو ئے ۔ ڈھول ، تا شوں اور میو زک بینڈکے علا وہ آتش با زی کا مظا ہر ہ کیا گیا ۔ تمام شہر اور باا لخصو ص بلدیہ کی عما رت کو دلہن کی طرح سجا یا گیا تھا ۔جیسے ہی شعراءکرام سبزہ زار بلدیہ میں داخل ہو ئے ان کو پھولوں کے ہا ر پہنا ئے گئے اور گل پا شی کی گئی۔
مشا عرے کا آغا ز حمد باری تعالیٰ سے کیا گیا جس کے بعد پاکستان کے نامور نعت خواں شاعر علی رضا نے ہد یہ نعت پیش کیا ۔ خطبہ استقبالیہ چیئر مین بلدیہ چو ہدری ندیم اختر ایڈوکیٹ نے پیش کیا ،شرکا ءکا شکریہ ادا کر نے کے علاوہ شہر کے لیے ترقیا تی منصو بو ں کے متعلق اپنا لا ئحہ عمل پیش کیا۔ اس کے بعد مشا عرے کا با قا عدہ آغا ز کیا گیا اور مظہر بخا ری نے نظامت کے لیے ڈاکٹر صغرا صدف کو مدعو کیا۔ خو بصورت لب و لہجے کے شاعر ابرا ر ندیم نے سب سے پہلے اپنا پنجا بی کلا م پیش کیا ۔ ان کے بعد مقبول رومانو ی شاعر حسن عبا سی نے سامعین سے داد سمیٹی ۔ نبیل نجم کے بعد معروف مزاحیہ شاعر خالد مسعود خاں نے اپنی نا سا زی طبع کے با عث جلد ی پڑھنے کی خواہش کا اظہا ر کیا ، وہ طبیعت خراب ہو نے کے با وجو دبڑی محبت سے ملتا ن سے تشریف لا ئے تھے۔ ان کے بعد قمر رضا شہزاد اور رضی الدین رضی نے اپنا کلا م پیش کیا اور بھر پور داد پائی ۔ فاخرہ انجم کی شاعری کو سامعین نے بہت پسند کیا اور ان کو مشا عرے کے لیے شا دی بیا ہ جیسا ما حول بہت پسند آیا ۔ بسمل صا بری نے اپنی معروف غزل پیش کی وہ اشک بن کے میری چشم تر میں رہتا ہے ، عجیب شخص ہے پا نی کے گھر میں رہتا ہے ۔ تا زہ کا ر شا عر ندیم بھا بھہ کے گھر میں کچھ اہم نجی مصروفیت تھی مگر پھر بھی وہ ملا قا ت کے لیے خصو صی طور پر میلسی سے تشریف لائے۔
قطر سے آنے والے معروف شاعر فرتا ش سید جب غزل سنا کر جا نے لگے تو لو گو ں نے شور اٹھا دیا کہ اور پڑھا جائے اور اگلی غزل پر بھی انہیں پہلی سے بڑھ کر داد ملی ۔ منفرد لب و لہجے کی شاعرہ لبنیٰ صفدر نے بھر پو ر داد سمیٹی ۔ گزشتہ دنو ں ٹریفک حا دثے کا شکا ر ہو نے والی مقبول شاعرہ صحتیا بی کے بعد تشریف لائیں تو طا ہرہ سراکا لو گو ں نے بھر پور استقبال کیا ، ان کی چھو ٹی بہن سعدیہ صفدر سعدی بھی بڑی توانا شا عرہ ہیں وہ بھی مشا عرے میں تشریف لا ئیں اور خو ب داد سمیٹ کر گئیں۔فیصل آبا د سے علی زریو ن نے اپنے مخصو ص انداز میں شا عری سنا ئی تو لو گو ں نے دل کھو ل کر داد دی ۔ مسقط عمان میںتدریس کے شعبے سے وابستہ شاعر فہیم ضیاءبھی خصوصی طور پر اس محفل میں شریک ہوئے۔ نا روے سے جواد شیخ اور آفتاب وڑائچ اس عالمی مشا عرے کی زینت بنے اور فرانس سے تشریف لا ئے ہو ئے شا عر ایا ز محمو د ایا ز بھی شریکِ محفل تھے۔ بیرونِ ملک سے آنے والے شعراءنے محفل کو اور بھی خو بصورت بنا دیا ۔ ہندوستا ن سے علینا عترت اور اظہر عنا ئیتی کو مدعو کیا گیا تھا مگران کو پاکستا ن کا ویزہ با وجو د کو شش نہیں مل سکا ۔
بصا ر ت سے محروم شا عر تیمور حسن تیمور نے اپنی غزل سنا ئی تو محفل کا رنگ دیدنی تھا۔ گلِ نو خیز اختر اور ڈاکٹر صغرا صدف کی نو ک جھونک کو سامعین نے بہت پسند کیا۔ صو فیہ بیدار اور ڈاکٹر شا ہدہ دلا ور شاہ بھی شریکِ محفل تھیں ۔ نیلما نا ہید درانی سے فر ما ئش کی گئی جس پر انہوں نے غزل سنا ئی ۔
اداس لو گوں سے پیا ر کر نا کوئی تو سیکھے
سفید لمحو ں میں رنگ بھر نا کو ئی تو سیکھے
راجا نئیر ، عا فر شہزاد اور سعو د عثمانی نے بھی اپنا کلا م پیش کیا اور خو ب دا دسمیٹی ۔ کراچی کی نما ئندگی زیب النسا ءزیبی نے کی ۔ عبا س تا بش کو بے حد پسند کیا گیا ۔ حکیم ارشد شہزاد اور بابا نجمی نے اپنا پنجا بی کلا م پیش کیا۔ اختر شمار کو بہت زیا دہ سراہا گیا ۔ اقبال راہی ، شکیل راﺅ ، عزیر احمد، زاہد شمس اور سہیل عا بدی نے بھی اپنی شا عری سا معین کی سما عتوں کی نذر کی ۔ ڈاکٹر انعام الحق جا وید نے اپنے مزاحیہ کلام سے محفل کو کشتِ زعفران بنا دیا ۔ خا لد شریف نے جب یہ غزل پیش کی تو محفل کا رنگ دیدنی تھا بچھڑا کچھ اس ادا سے کہ رُت ہی بدل گئی ، اک شخص سا رے شہر کو ویران کر گیا ۔ عطا ءالحق قا سمی مشا عر وں میں شرکت سے ان دنو ں پر ہیز کر تے ہیں مگر اس محفل میں خصو صی شرکت کے لیے تشریف لا ئے اور سا معین سے خو ب داد سمیٹی۔امجد اسلا م امجد نے جب اپنا کلا م پیش کیا تو رات کا آخری پہر تھا مگر مشا عرہ گا ہ کھچا کھچ بھر ئی ہو ئی تھی اور محفل گو یا پو رے جو بن پر تھی ۔ انور مسعود نے مزاحیہ کے سا تھ سا تھ اپنا سنجیدہ کلا م بھی پیش کیا جس پر انہیں ان کے معروف مزاحیہ کلا م کے برابر داد ملی ۔ رات کے تین بجے کا وقت تھا جب ظفر اقبا ل نے پڑھنا شروع کیا ۔ مگر یو ں گمان ہو تا تھا کہ جیسے ابھی تو محفل جوان ہے ۔ مشا عرے کے اختتام پر بھی اتنا زیا دہ رش تھا کہ مہما نوں کو نکلتے نکلتے آدھا گھنٹہ لگ گیا۔ فجر کی اذانیں شروع ہو چکی تھیں جب مہما ن شعراءاور سا معین اس یا د گا ر عالمی مشا عرے کے بعد میا ں چنوں سے رخصت ہو رہے تھے۔
(معروف صحافی ، جاپان میں خبریں کے بیوروچیف ہیں)
٭….٭….٭

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں


دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved