بڑھاپے میں دماغی بیماریوں سے محفوظ کیسے رہا جا سکتا ہے ، دیکھئے خبر

ٹورنٹو (نیٹ نیوز) ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر بچوں کو دوڑ اور ورزش کا عادی بنایا جائے تو کئی عشروں بعد بھی دماغی اور ذہنی صلاحیت پر اس کے مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ اس کا انکشاف چوہوں پر کئے گئے تجربات کے بعد کیا گیا جس میں کہا گیا کہ کم عمری میں کی جانے والی ورزش بڑھاپے میں یادداشت کی کمی کو ٹال سکتی ہے اور کئی دماغی امراض کو روکنے کی وجہ بھی بن سکتی ہے۔ اس کے علاوہ بچے اگر ورزش کو معمول بنا لیں تو اس سے ان کی سیکھنے اور سمجھنے کی صلاحیت یعنی ذہانت بھی بہتر ہوتی ہے جو بڑھاپے تک برقرار رہ سکتی ہے۔ یونیورسٹی آف ٹورنٹو کے سائنسدان ڈاکٹر مارٹن ووجووز کہتے ہیں کہ ورزش نہ صرف بچوں کی صحت پر اچھے اثرات مرتب کرتی ہے بلکہ پوری زندگی اس کے مفید آثار نمایاں رہتے ہیں‘ یہاں تک کہ عمررسیدگی میں بھی یہ سیکھنے کی صلاحیت کو برقرار رکھنے میں معاون ثابت ہوتی ہے۔ انسانوں میں یہ الزائمر جیسے مرض کے آثار کو دور رکھنے میں مددگار ہوتی ہے۔ تجربہ گاہ میں ماہرین نے 80چوہوں کو دو گروہوں میں تقسیم کیا۔ پہلے چوہوں کے ایک گروہ کو چھ ہفتوں تک چلتے پہیے پر دوڑایا یعنی ورزش کرائی۔ چار ماہ بعد جب چوہے درمیانی عمر کو پہنچ گئے تو تمام چوہوں کو خصوصی طور پر یادداشت کی جانچ کے مراحل سے گزارا گیا جس سے یہ نتیجہ اخذ ہوا کہ جن چوہوں نے ورزش کر رکھی تھی ان کی یادداشت دوسرے چوہوں سے بہتر تھی۔

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں


دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved