تازہ تر ین

”کٹی کٹا نکالو“اور جناب لائلپوری

وجاہت علی خان….مکتوب لندن
تہذیب و اخلاق کی انگشت اور اردو کے علاوہ بھی دیگر کئی زبانوں کی لغات چھان ماریں لیکن حکیم الحکما جناب لائلپوری کے ”کٹی کٹانکالو“ جیسے نایاب الفاظ کے معنی میسر نہ آ سکے، اسی تذبذب میں اپنے ایک دیہاتی دوست سے بات ہوئی تو میری حیرانی میں مزید اضافہ ہوا کیونکہ ان تین لفظوں کا مجھے جو مطلب باریکی سے بتایا گیا وہ اردو میں کہیں تو معیوب، سوقیانہ اور بازاری ہے اور انگریزی میں Indecence, Rudness, Valgarity اور Indelicacy کے زمرے میں آتا ہے۔ اس لیے میں اسے یہاں تحریر نہیں کرسکتا، لیکن جناب تو ایسے یہ الفاظ ادا کرتے ہیں جیسے ان کے یہ لفظ کسی مشجر قالین کی مانند ہیں جن میں تہذیب و ثقافت کے ہیرے جڑے ہوں اور ان ہیروں سے اسی وقت رنگارنگ شعائیں پھوٹ پڑتی ہیں جب وہ ٹیلی ویژن چینل پر بیٹھ کر بڑے کروفر سے انہیں ادا کرتے ہیں۔ غالب آج حیات ہوتے تو یہی کہتے ہیں
ہر ایک بات پہ کہتے ہو تم کہ تم کیا ہے
تمہی کہو کہ یہ انداز گفتگو کیا ہے
یعنی ہمہ وقت دوسروں پر رکیک حملے، تیروتفنگ لے کر ہر کسی پر چڑھائی، ہر کوئی چور، اچکا، ڈاکو، بدمعاش اور رسہ گیر ہے۔ لہٰذا پاکستان میں اگر کوئی 62 اور63 پر پورا اترتا ہے تو وہ جناب لائلپوری کے سوا دوسرا کوئی نہیں ہوسکتا ہے وہ اس قسم کا انداز تخاطب اور کند رویہ اپنے ذہنی تعیش کیلئے کرتے ہوں لیکن انہیں کم از کم یہ احساس تو ضرور کرنا چاہیے کہ وہ نجی محفل میں نہیں مختلف ٹیلی ویژن چینلز پر بیٹھے گفتگو کر رہے ہیں جنہیں بیرون ملک اور پاکستان کے اندر کروڑوں لوگ دیکھ سن رہے ہوتے ہیں، تو کیا وہ آنے والی نسل کی یہ تربیت کر رہے ہیں کہ جس قسم کی بے ادب گفتگو میں کرتا ہوں وہی آپ عزت و توقیر اور آپ کے شہرہ آفاق ہونے کی ضمانت ہے؟ جس معاشرے میں آپ رہائش رکھتے ہیں کیا اس کی کوئی معاشرتی، ثقافتی و ادبی روایات نہیں ہیں، گفتگو کے کوئی آداب نہیں ہیں، محفل میں بیٹھ کر اپنی بات کہنے اور دوسرے کی رائے کا احترام کرنے کی کوئی روایت ماضی و حال میں ہمارے سامنے نہیں ہے، کیا کوئی ایسی مثال ہمیں میسر نہیں جو بتائے کہ پاکستان میں بھی ادب و آداب کو ملحوظ رکھا جاتا ہے اور ہمیں یہ بھی بتایا اور سکھایا جاتا ہے کہ محفل میں بیٹھ کر ہماری باڈی لینگوئج کیسی ہونی چاہیے اور یہ تربیت بھی ہمیں دی جاتی ہے کہ بدتہذیبی کے علاوہ بذلہ سبخی ہو تو بحث و مباحثہ کشت و زعفران بھی بن سکتا ہے۔ ہم جیسے طالب علموں کیلئے تو جناب لائلپوری، جیسے صحافتی دانشوروں کی گفتگو ایک نعمت اور حوصلہ افزائی کی نوید ہونا چاہیے تھی لیکن آپ تو صاحب کمال ہی کرتے ہیں کہ ٹیلی ویژن پر بیٹھ کر جو گفتگو، جس طریقے سے بحث اور جو باڈی لینگوئج آپ اس استعمال کرتے ہیں اسے دیکھ اور سن کر تو بڑے بڑے اکھڑ مزاج اور منہ پھٹ افراد بھی حیرت و استعجاب کی دنیا میں پہنچ جاتے ہیں!!
سوچتا ہوں یہ فقط پاکستانی صحافت ہی کا کمال ہے کہ جناب لائلپوری ایسے گوہرنایاب کو متعارف کرایا اور انہیں عزت و توقیر کے شہ نشینوں پر بٹھا کر پاکستان جیسی بے جادہ و منزل قوم کی منزل کو مزید دھندلی کرنے کے کام پر لگا دیا ہے۔ حیرت ہے کہ قدرت بھی اسی قسم کے بے راہ راہبروں کو ذوق جمال بخشتی ہے؟ شاید اکثر انداز ہونے والے صحافتی باسز کا یہ اٹل فیصلہ ہے کہ بدتہذیبی کے یہی وہ نانگا پربت ہیں جن کے قد پر ان کے ادارے کی اونچائی مضمر ہے کیونکہ بااینہمہ زیدپا بکر سے تو شکوہ عبث ہے ہ وہ تو ہرحال میں خود کو یکتا، باکمال اور حق بجانب سمجھتا ہے اور ہر قسم کا قصور دوسروں کا ہی بتاتے ہیں۔
میں تو حساب یوں لگاتا ہوں کہ جو انداز گفتگو مجھ ایسے لگی لپٹی کے بغیر سیدھی بات کرنے والے انسان کو معیوب لگتا ہو اس کی سنگینی کس قدر ہوگی، اندازہ کریں کہ جناب لائلپوری کسی سے بھی خوش نہیں ہیں۔ وہ بھی بدمعاش یہ بھی چور، تم بھی رسہ گیر اور فلاں تو ہے ہی ان پڑھ جاہل اور گنوار، چنانچہ ان کی نگاہ عارفانہ، میں تو پاکستان کی صحافت ہو یا سیاست ان دونوں شعبوں میں ان کے سوا تمام کے تمام گدھے اور خچر ہی یہاں وہاں بھرے پڑے ہیں اور اگر کچھ ہے تو اگر کم از کم پاکستان میں کوئی بندئہ عقل و دانش اور عقل و خرد کا کوئی ہمالیہ تو وہ سو فیصد یہی صاحب جمال و کمال جناب لائلپوری ہیں جن کی تنومند اور جاندار شخصیت سے ارض و سما کے راز ابدی منسلک اور ان کی زبان و بیان سے علم و حکمت کے باپاں موتی پھوٹ پھوٹ کر پاکستان کے علمی و ادبی اندھیروں کو ضوفشاں کرنے میں اہم ترین کردار ادا کر رہے ہیں!!
انداز تکلم ایسا کہ بڑے بڑے صحافتی دہشت گرد الاماں الاماں کہتے ہوئے انگشت بدنداں رہ جائیں، طعن و تشنیع اورشائستگی سے بے پروا لہجہ بات بات پہ کٹا کٹی نکالنے پر تلا ہوتا ہے، موصوف ایک ہی وقت میں قرآن مجید کے عظیم شارح، کبھی رومی کے مرید، کبھی سعدی اور محی الدین ابن عربی کے حافظ اور ابن رشد کے علم، کبھی یوں لگے کہ حسین بن منصور حلاج کے پیرو اور کبھی یکدم یوں لگے کہ باقی تمام فلسفوں سے بیزار ہیں اور ان کے اندر کارل مارکس، اینگز اور ولاڈیمرینن کی روح در آئی ہے، بڑے بڑے علماءفضلا ان کا پانی بھرتے نظر آتے ہیں۔ بھانت بھانت کی بولیاں بولنے اور فلسفے بکھارنے والے بھی عزت سادات بچاتے دکھائی دیتے ہیں۔ الاماشاءاللہ شخصیت کے اتنے لوچ و رنگ ہیں کہ ایک ہی نشست وخطاب میں حجر اسود کو بوسہ اور چارلس ڈارون کو تھپکی دیتے ہوئے صاف نکل جاتے ہیں اور یہ کمال صرف جناب لائلپوری کو ہی حاصل ہے۔
پاکستان کے ایک ممتاز صحافی مجھے بتا رہے تھے کہ موصوف لائلپوری نے مفلسی سے امارت تک کا سفر اس تیزی سے کیا ہے کہ اب وہ کسی کو خاطر میں نہیں لاتے، ایک معروف محاورہ ہے کہ اپنی عزت اپنے ہاتھ میں ہوتی ہے لیکن انہوں نے اس محاورے کو تبدیل کر دیا ہے اب یوں ہے کہ پاکستان کی سیاست و صحافت میں ہر ایک کی عزت جناب لائلپوری کے ہاتھ میں ہے۔ طعنہ زنی اور غلاظت کے چھینٹے کسی پر بھی اچھال دیں کسی کو اف کی جرات نہیں ہوئی، موصوف اللہ میاں اور چند دیگر محترم ہستیوں کے بعد خود کو مقام دیتے ہیں۔ نائی، قصائی، حلوائی، بڑھئی، مزدور، کسان اور محنت کش کی بات تو کرتے ہیں لیکن خود بیش قیمت لباس فاخرہ اور پرتعیش شاہانہ انداز زندگی کے عادی ہیں!! جس طرح ہر قوم کی ایک تہذیب ہوتی ہے اور وہ قوم کی پہچان بھی ہوتی ہے لیکن پاکستان کے وجود سے لیکر اب تک اس ملک کے دانشور پاکستانی تہذیب اور اس کے عناصر ترکیبی کی تشخیص میں مصروف ہیں تو کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ ہمارے ہاں تہذیب و ادب نام کی کوئی چیز ہے ہی نہیں۔ کسی بھی معاشرے کی بامقصد تخلیقات اور سماجی اقدار کے نظام کو ہی تہذیب کہا جاتا ہے اور یہی وہ اقدار ہیں جو معاشرے کی طرز فکر و احساس کا جوہر ہوتی ہے۔ انسان کو باشعور حیوان بھی اسی لیے کہا جاتا ہے کیونکہ شعور صرف انسانی خصلت ہے جو دیگر جانوروں میں نہیں پائی جاتی۔ لہٰذا ہمارے شعور کا منبع و مخزن ہمارا ذہن ہوتا ہے اور اگر ذہن ہی بدتہذیبی پہ آمادہ رہے تو پھر پوری قوم کا ذہن آلودہ ہونا معمولی بات ہے۔ معاشرے میں توازن اور شائستہ رویئے قائم رکھنے کی ذمہ داری سیاستدانوں، دانشوروں اور صحافیوں پر عائد ہوتی ہے جسے مدنظر رکھے بغیر معاشرتی تطہیر کا عمل ادھورا رہتا ہے۔ صرف اتنی سی بات سمجھنے کی ضرورت ہے۔ میں اپنے سینئرز کا ازحد احترام کرتا ہوں جناب لائلپوری بھی میرے لیے قابل عزت ہیں چنانچہ جو کچھ میں نے گزشتہ کئی سالوں سے محسوس کیا اسے شفافیت کے ساتھ ان کے سامنے رکھ دیا، اب بال ان کی کورٹ میں ہے، اگر وہ کبھی لندن تشریف لائیں اور ”منیا“ سے شغف چاہیں تو بھی ساتھ دینے کو تیار ہوں پھرجو بھی کٹا کٹی نکالے جیت اسی کی!!
(معروف صحافی ،روزنامہ خبریں کے
لندن میں بیوروچیف ہیں)
٭….٭….٭

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں


دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved