ستلج کو بہنے دو!

رازش لیاقت پوری وسدیاں جھوکاں
یہ کوئی2007کے یہی دن ہیں چناب نیلی لکیر کی صورت بہہ رہاہے،دریا کی مشرقی سمت موجود آموں کے ایک باغ میں صوفی شاعر ولکھاری اقبال حسن بھپلا اپنی جھونپڑی میں بیٹھے ہیں،ان کی آنکھوںسے بہنے والے آنسو بھی مجھے چناب کی نیلی لکیر کی طرح لگ رہے ہیں، وہ کہہ رہے ہیں کہ اگر چناب بھی ستلج کی طرح سوکھ گیاتو یہ باغ، یہ آم بھی سوکھ جائیں گے، طوطے لالیاں گیرے بھی نہیںرہیںگے،کوئیل کے میٹھے گیت دردیلی کوک میں بدل جائیں گے پھر ہر طرف اداسی ہوگی اور لوگ اس غم کی عملی تصویر بن جائیں گے،آپ صحافی ہیں کچھ کریں ہماری آواز اوپر تک پہنچائیں، سنا ہے بھارت چناب پر بھی ڈیم بنا رہا ہے اگر یہ بات سچ ہے تو پوری وسوں مر جائے گی اگر دریا کی شادابی چلی گئی تو ہزاروں لاکھوں لوگوں کے خواب بھی بنجر ہوجائیںگے پھر ایک اور تہذیب مٹ جائے گی جیسے جیسے اقبال حسن بھپلا بولتے جا رھے تھے ان کے آنکھوں سے بہنے والی نیلی لکیر اور گہری ہوتی جارہی تھی پھر میری آنکھوں نے بھی ان کاساتھ دیناشروع کر دیا یوں ہم دونوںچناب کے پانیوں میں کھو گئے،کچھ دن بعد انہوں نے ساونی منانے کے لیے ملتان سے شاعروں ،ادیبوں ،لکھاریوں کو اپنے ہاں بلایا۔ مسی روٹی،لسی اور چونسے آموں سے مہمانوں کی تواضع کے بعد انہیں بھی چناب میں پانی کی مسلسل کمی بارے آگاہ کیااور بھارت سے انسانیت کے ناطے پانی نہ روکنے کی درخواست کی گئی پھر اگلے سال پانی کے عالمی دن کے موقع پر بستی جلال آباد کے مقام پر ملک عاشق میتلا،ملک شوکت میتلا،الطاف میتلا،شمیم عارف قریشی،رفعت عباس،شفقت میتلا،خورشید میتلا،عامر عزیز ملک ،رانا الطاف سمیت سینکڑوںدھرتی واسوں نے گلاب کے پھول چناب کی نذر کئے اور اس کی شادابی کے لیے دعائیں بھی کیں،آج اقبال حسن بھپلا خود تو چناب کی مٹی اوڑھ کر سو چکے ہیں مگر دریا کی شادابی کئی گنا بڑھ چکی ہے اور چناب کے ہمسائے انہیں دعائیں دیتے ہیں،اقبال حسن بھپلا اپنے دور کے ایک جاگیر دار سیاستدان تھے نوجوان بیٹے کی وفات کے بعد ایسے بدلے کہ فقیری میں چلے گئے،شاعری کا جوگ بھی لگ گیاپھر نثر بھی لکھنے لگے یوں لکھتے لکھاتے 17کے قریب کتابیں منظر عام پر آگئیںجن میں سے تین چار تو ایم اے سرائیکی کے نصاب میں بھی شامل ہیں،دریائے چناب کے اندر بیڑی پر مشاعرے کی دھوم تو آج بھی ہے کہ ان کے بھائی فیض حسن بیٹے زبیرحسن اور پوتے وقاص نوازش نے یہ سلسلاجاری رکھا ہوا ہے۔
ابھی ایک دن قبل بہاولپور کے خدا یار خان چنڑ سے بات ہوئی تو وہ بتا رہے تھے کہ ستلج میں پچھلے سال بھی کچھ نہ کچھ پانی آیا تھاتو ہم ایسے لوگوں کے چہروں پر بھی مسکراہٹ پھیلی تھی مگر اس سال توسیلاب سیزن میں بھی ستلج سے ریت اڑ رہی ہے ،انہوں نے ریت اڑنے کی بات کیا کی کہ میری آنکھوں کے سامنے اچ شریف کے ٹوٹے مزار گھومنے لگے ،بزرگ بتاتے تھے کہ ایک مرتبہ ستلج اپنے پورے جوبن پر تھااچانک پانی تیز ہوگیا اور سیلابی صورتحال ایسی پیدا ہوئی کہ اچ کے مزارات بھی اس کی زد میں آنے لگے پھر بزرگ بتاتے کہ جلال الدین سرخپوش بخاری کو ایسا جلال آیا کہ پانی کو ہکل ماری پانی ڈر کر پیچھے بھاگنے لگا پھر ہکل ماری کہ اپنی مچھلیاں بھی لیتے جاﺅدریا دوبارہ آیا اور اپنی مخلوق بھی ساتھ لے گیا ،بی بی جیوندی کا آدھ ٹوٹا روزہ آج بھی اس بات کی گواہی ہے کہ ستلج پر بھی کبھی عروج تھا ۔پھر یوں ہوا کہ یہ دریا بھی سندھ طاس معاہدے کی نذر ہوگیا ،ابھی بہاولپوری گھاگھرا اور ہاکڑا کو رو رہے تھے،ابھی قلعہ ڈیراور وفورٹ عباس کے لوگوںکی آنکھوں میں امید کے دیئے جل رہے تھے کہ ستلج نیلی لکیر کی صورت بہتے بہتے آج ریت اڑا رہا ہے،احمد پور شرقیہ سانحہ پر لکھا جناب ضیاءشاہد کا مضمون آج بھی یاد کرتا ہوں تو ستلج کی اڑتی ریت آنکھوں کے سامنے گھومنے لگتی ہے کہ کس طرح یہاں کے لوگوں کو غربت کی نیلی لکیر سے بھی نیچے دھکیل دیاگیا کہ پھر لوگ ٹینکرز سے نکلنے والے تیل کو بھی نہیں چھوڑتے اور لقمہءاجل بن جاتے ہیں۔معروف تجزیہ کار مکرم خان بتا رہے تھے کہ میری انڈیا میں بات ہوئی ہے وہ بتا رہے تھے کی ستلج پر بنائے گئے ڈیم میں سلٹ کی وجہ سے کچھ عرصہ پانی پاکستان آتا رہا لیکن بہت جلد یہ تھوڑا بہت پانی بھی بند ہوگیا ،یہ پانی کیا بند ہوا کہ لوگوں کی سانسیں بھی بند ہونے لگیں،نیچے کا پانی کھارا ہوگیااور جہاں کہیں پینے کا میٹھا پانی موجود ہے وہ بھی انتھائی نچلے لیول پر پہنچ گیا ہے،صادقیہ کینال ،فورڈ واہ ،بہاول واہ سمیت وہ تمام نہریں اور ان کی وسوں سوکھ گئی جو ستلج سے شاداب تھی،اگرچہ سدھنائی میلسی سیفن سے یہاں کے لوگوں کو پانی پہنچانے کی کوشش کی گئی مگر جتنا پانی دریا سے ملتا تھا اتنا نہروں سے کب ملتا ہے دوسرا جہاں دریا سوکھ جائے وہاں کی نہ صرف وسوںمرتی ہے بلکہ پوری تہذیب ہی مر جاتی ہے جس طرح روہی چولستان کی وسوں مر گئی کہ روہی میں شہر کے شہر ٹھیڑھ بن چکے ہیں۔
ستلج کی دوبارہ شادابی بارے جب آبپاشی کے ماہرین احسان خان ودیگرسے بات کی جائے تو وہ کہتے ہیں کہ اب سندھ طاس معاہدے کو ختم کرنے والی باتیںالٹا پاکستان کے نقصان میں ہوں گی کہ اس سے بھارت اپنی مکاری سے دوسرے دریاﺅں کا پانی بھی روک سکتا ہے۔یہاں جدید کاشتکارمیاں نورالحق جھنڈیر یہ تجویز دیتے ہیں کہ ہیڈ تریموں سے ہیڈ اسلام تک یاہیڈ بلوکی سے سلیمانکی تک ایک نئی نہر فوری کھودی جائے جس کا پانی ستلج میں ڈال کر اسے سرسبز وشاداب کیا جاسکتا ہے جیسے ٹی پی لنک کینال کے ذریعے چناب میں پانی کی کمی کو پورا کیا جاتا ہے ،انہوں نے کہا کہ میاں محمد نواز شریف نے بہاولپور کے نزدیک جو جھیل بنانے کا منصوبہ دیا ہے وہ بھی ٹھیک ہے مگر جھیل بنانے کے بجائے نئی نہر کھودی جائے تو زیادہ اچھا ہوگا،یہاں یہ بات بھی بتاتا چلوں کو سندھ کو اس کے حصے کا پانی تونسہ بیراج سے دیا جاتا ہے جس سے ہیڈ پنجند کے مقام سے چناب کا وافر پانی بھی سرکی پتن سے سندھ دریا میں چلا جاتا ہے اگر یہ پانی پیچھے سے نہروں کے ذریعے راوی اور ستلج میں پہنچا دیا جائے تو جہاںبنجر علاقے سرسبز وشاداب ہوں گے وہاں سیلاب کے خطرات بھی کم سے کم ہوجائیں گے اور یہی طریقہ دوسرسے دریاﺅں پر بھی اپنایا جاسکتا ہے کہ وافر پانی کو نہروں میں ادھر ادھر کر دیا جائے تو کئی بنجر علاقے سیراب ہوسکتے ہیں اور ملک ہمیشہ ہمیشہ کے لیے سیلابوں سے بھی بچا رہے گا اور فوڈ سکیورٹی کا مسئلہ بھی پیدا نہیں ہوگا دوسرا سندھ والوںکو بھی اعتراض نہیں ہوگا اور ستلج سوکھنے سے لوگوں کا جونقصان ہورہا ہے اس کی کمی بھی کسی حد تک پوری ہوسکتی ہے اگرچہ یہ باتیں کچھ مشکل ہیں مگر بہتراور روشن مستقبل کے لیے مشکل کام بھی کرنے پڑتے ہیں،یہاں ستلج کی دوبارہ شادابی کے لیے خبریں اور جناب ضیاءشاہد کے کردار کو بھی نہیں بھلایا جاسکتا کہ انہوں نے اپنے صفحات اس اہم ایشو کے لیے وقف کر رکھے ہیں اور کئی مرتبہ سیمینارز اور تقاریب بھی منعقد کرواچکے ہیںتو دوسرے لوگوں کوبھی اس اہم مسئلہ پر جاگنا چاہیے ورنہ تھلوچی اور روہیلوں کی طرح آپ کے آنسو پونچھنے والا بھی کوئی نہیں ہوگا، یہاں پالیسی ساز اداروں کا بھی فرض بنتا ہے کہ وہ بھی اس اہم ایشو پر اپنا رول پلے کریںکیونکہ اگر ستلج شاداب ہوگیا تو چنن پیر میں بھی آموں کے باغوں کی گارنٹی میں دیتا ہوں پھر بہاولپور کو انگوروں کی وادی بننے سے بھی کوئی نہیں روک سکے گا۔
(معروف شاعر اور صحافی ہیں)
٭….٭….٭

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں


دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved