تازہ تر ین

اسکائی لیب

ازھر منیر….فرینکلی سپیکنگ
یہ1979ءکی بات ہے امریکی خلائی ادارے ناسا نے گزشتہ چھے( 6)سال سے ایک اسپیس سٹیشن قائم کررکھا تھا جسے اسکائی لیب یعنی فلکیائی تجربہ گاہ کا نام دیا گیا تھا۔اس میں بے وزنی کی حالت میں تجربات کرنے کے لیے ورکشاپ ، سورج کا مشاہدہ کی خاطر رصدگاہ اور زمین کی خاطر تصاویر اتارنے کے لیے کیمرے نصب تھے۔ اس نوع کے خلائی سٹیشنوں سے جو نتائج اور ڈیٹا حاصل کیا جاتا وہ مختلف مقاصد کی خاطر کام آتا ہے۔ یہ سٹیشن کچھ عرصہ تک خلا میں موجود رہتے ہیں اور پھر ایک خاص مدت کے بعد انہیں زمین پر اتارلیا جاتا ہے۔ زمین پر آتارنے کا یہ عمل بہت نپا تلا اور محفوظ ہوتا ہے اوریاتو انہیں اس جگہ اتارا جاتا ہے جہاں سے انہیںخلا میں بھیجاگیا تھا یا کسی اور مقام پر جس کے نتیجے میں کسی قسم کا کوئی خطرہ نہیں ہوتا۔
لیکن کبھی کبھی کوئی گڑبڑ ہوجاتی ہے ۔گڑبڑ یوں کہ اس خلائی سٹیشن کے میکنزم میں کوئی خرابی پیدا ہوجاتی ہے جس کی بناءپہ اسے اسی طرح محفوظ طریقے سے زمین پر اتارا نہیں جاسکتا اور چونکہ یہ بے قابو ہوچکا ہوتا ہے تو یہ اندازہ نہیں لگایا جاسکتا کہ یہ کب ، کس طرح اور کہاں گرے گا۔ ظاہر ہے کہ یہ بہت تشویش ناک صورتحال ہوتی ہے ا س لیے کہ اس کے اس طور گرنے کے نتیجے میں زبردست تباہی پھیلنے کا اندیشہ ہوتا ہے۔ 1979ءمیں ناسا کی اس اسکائی لیب کے میکنزم میں بھی کوئی خرابی پیدا ہوگئی جسے دور کرنے کی خاطر خلابازوں کی ایک ٹیم بھیجی گئی تاہم خرابی دور نہ ہوسکی۔ اب اسے نہ تو خلا میں رکھا جاسکتاتھا اور نہ محفوظ طریقے سے اپنی مرضی کے مقام پہ زمین پر اتارا جاسکتا تھا۔
یہ بہت خوف ناک صورتحال تھی اس لیے کہ کسی کو علم نہیں تھا کہ یہ کب، کس جگہ، کس عمارت یا بستی پہ گرتی ہے، اس کی زد میں کیا کیا آتا ہے اور نتیجے میں کس قسم کی اور کتنے بڑے پیمانے پر تباہی ہوتی ہے۔ یہ تمام باتیں ایسی تھیں کہ ان کے نتیجے میں خوف وہراس کی فضا قائم ہوگئی ۔ بین الاقوامی میڈیا نے لوگوں کو خبردار کرنا شروع کردیا۔ چنانچہ اس بارے میں ایک سے بڑھ کر ایک خوف ناک خبر شائع اور نشر ہوتی رہی۔ طرح طرح کی قیاس آرائیاں کی جاتی رہیں اور لوگوں کو ڈرایا جاتا رہا۔ غرض ہر طرف خوف اور دہشت کی فضا تھی۔ کئی روز تک یہ صورتحال برقرار رہی بالآخر جولائی کی ایک صبح اس کا ملبہ مغربی آسٹریلیا میں ایک ایسی جگہ گرا جہاں نہ کوئی انسان تھا نہ کوئی عمارت سو اس کے گرنے کے نتیجے میں کسی قسم کا کوئی نقصان بھی نہ ہوا۔ یوں وہ جو اتنے روز سے خوف اور دہشت کی فضا تھی وہ ختم ہوگئی اور لوگوں نے سکون کا سانس لیا تب سے انگریزی میں ایک محارہ بنا ہے:
It turned out just Skylab
(یعنی یہ محض اسکائی لیب ہی ثابت ہوا)
مطلب یہ کہ کسی چیز ، واقعے یا شخص کے بارے میں یہ خیال کیا جائے اور تواتر سے بیان کیا جائے کہ وہ یہ کردے گا اور وہ کردے گا اور اس کے ذریعے یہ تباہی آئے گی اور وہ آفت آئے گی،وغیرہ۔ لیکن پھر سب قیاس آرائیاں دم توڑ جائیں اور آخر پر کچھ بھی نہ ہو۔ پتہ چلے کہ اس کا تو بس شور ہی شور تھا، عملاً کچھ بھی نہیں تھا۔ یعنی ٹائیں ٹائیں فش۔
تو جس طرح واقع سے اسکائی لیب والا محارہ بنا اب پانامہ لیکس کا ہائی پروفائل معاملہ جس طرح معمولی واقع پر آکر ختم ہوا ہے اس کے بعد اسی طرح انگریزی کا ایک اور محارہ بن سکتا ہے کہ
It turned out just Panama Leaks
(یعنی یہ محض پانامہ لیکس ہی ثابت ہوا)
بقول شاعر:
بہت شور سنتے تھے پہلو میں دل کا
جو چیرا تو اک قطرہ خون نکلا
دوشعر:
کیس تے خیر پنامہ سی
نکلیا پر اقامہ سی
پے نے کیوں نہ لیتی پے؟
ایہیوبس الا ہمہ سی
پے(پنجابی):باپ
پے (Pay):تنخواہ
الاہمہ:الزام
(کالم نگار سینئر صحافی ‘شاعر اور ادیب ہیں
اور سیاسی و سماجی مسائل پر لکھتے ہیں)
٭….٭….٭

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں


دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved