ڈومور – نومور

توصیف احمد خان ….مہمان کالم
امریکی صدر بھی خوب ہیں۔ ایک ہاتھ میں گاجر اور دوسرے میں چھڑی پکڑ رکھی ہے…. صدر ٹرمپ ہی کیا ہر امریکی صدر کا پاکستان کے بارے میں یہی رویہ ہے۔ …. یہ گاجر تو ان کے بائیں مگر چھڑی دائیں ہاتھ میں ہوتی ہے کہ گاجر تو محض دکھانے کیلئے ہے استعمال چھڑی ہوگی…. امریکی صدر کا گزشتہ روز کا بیان اسی امر کی عکاسی کرتا ہے۔ مطالبہ وہی ہے کہ پاکستان دہشت گردوں کی پناہ گاہوں کو ختم کرے ورنہ امریکہ خاموش نہیں رہے گا۔ یعنی امریکہ جس جانور کی آواز میں چلائے گا اس کا ذکر یہاں نہ ہی کیا جائے تو مناسب ہوگا …. یہ وہ مطالبہ ہے جو امریکہ 9/11 کے بعد سے مسلسل کرتا رہا ہے۔ غالباً اس قسم کا مطالبہ بند آنکھوں سے کیاجارہا ہے کہ اس کو کچھ نظر نہ آجائے اور وہ جو منہ میں آئے کہتا رہے۔
گاجر بائیں ہاتھ میں پکڑنے کا مقصد محض اسے دکھانا ہے کہ تمہیں یہ بھی مل سکتی ہے اگر …. اور اگر یہ ہے کہ چھڑی دائیں ہاتھ میں ہے۔ تم نے ڈومور کا مطالبہ پورا نہ کیا تو یہ چھڑی استعمال ہوگی۔ افغان مسئلے اور خصوصاً 9/11 کے بعد آنے والے تمام امریکی صدور کا یہی وطیرہ رہا ہے…. کہا جاتا ہے کہ کوئی بھی امریکی ہو وہ امریکہ سے باہر کے معاملات میں بہت زیادہ بدلحاظ ہوتا ہے۔اس کیلئے اوّل و آخر امریکہ ہے۔ باہر کی دنیا جائے بھاڑ میں۔ جہاں امریکہ کا مفاد ہوگا وہ ہر حربہ استعمال کرلیں گے حتیٰ کہ گدھے کو بھی باپ بنانے میں عار محسوس نہیں کریں گے…. ٹرمپ کی مخالف پارٹی کا تو انتخابی نشان ہی گدھا ہے۔ یہ کہاوت عام ہے کہ امریکی بچہ اپنے والدین کا وفادار ہو نہ ہو امریکہ کا وفادار ضرور ہوتا ہے …. ویسے عموماً امریکی بچے والدین کے وفادار نہیں ہوتے جس میں ان سے زیادہ قصور وار والدین ہوتے ہیں…. ایسی ہی صورتحال میں انسانی حقوق، دوستی اور تعلقات محض اس وقت تک پائیدار ہیں جب تک امریکہ کا مفاد وابستہ ہے۔ جونہی یہ مفاد ختم ہوگا وہ اس پائیدار شاخ کو خود ہی کاٹ ڈالتے ہیں۔
اس وقت تو ذکر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پاکستان کے حوالے سے ریمارکس کا ہے۔ وہ پاکستان کی قربانیوں کا اعتراف کرتے ہیں مگر ساتھ ہی چھڑی کی نوک سینے میں چبھو کر لال لال آنکھیں بھی دکھاتے ہیں کہ کہیں تعریف سن کر بچہ اکڑ میں نہ آجائے۔ اب مصیبت یہ ہے کہ امریکہ کا مطالبہ پاکستان کس طرح سے پورا کرے اور کیسے یقین دلائے کہ یہ معاملہ تو کب کا ختم ہوچکا۔ امریکہ کہتا ہے کہ پاکستان میں دہشت گردوں کی پناہ گاہیں ہیں انہیں ختم کیا جائے…. یہ پناہ گاہیں کہاں ہیں….؟ امریکہ تو سیٹلائٹ سے زمین پر پڑی سوئی تک دیکھ لیتا ہے پھر یہ بھی بتادے کہ پاکستان میں کس جگہ کس کی پناہ گاہ موجود ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ پاکستان تو خود دہشت گردی کا شکار ہے۔ پاکستان کے عوام اور افواج مسلسل جانی و مالی قربانیاں دیتے آرہے ہیں۔ فوج کے جوان برسوں سے ان دہشت گردوں کے پیچھے ہیں اور انہیں چن چن کر ختم کیا جارہا ہے۔ کیا پاک فوج محض چنے بھوننے کیلئے سوات، وزیرستان اور دوسرے علاقوں میں آپریشن کرتی رہی ہے اور تاحال کررہی ہے۔ صدر ٹرمپ کی نظر شاید کافی کمزور ہے کہ انہیں نظر نہیں آ رہا پاکستان دہشت گردی کے خلاف کیا کچھ نہیں کررہا۔ ساری دنیا اس کی معترف ہے لیکن نہیں ہے تو امریکہ جسے کروڑوں پاکستانیوں اور افغانیوں کی کوئی پروا نہیں۔ اگر پروا ہے تو چند ہزار امریکی فوجیوں کی…. اچھی بات ہے اپنے فوجیوں کی پروا ہونی چاہیے مگر ہر انسان کا خون اتنا ہی قیمتی ہے جتنا ایک امریکی فوجی کا…. امریکی فوجی کے مرنے پر اس کے لواحقین کو جتنا دکھ ہوتا ہے شاید اس سے زیادہ دکھ کسی پاکستانی یا افغانی کے لواحقین کو ہوتا ہوگا کہ امریکی معاشرہ تو بے حسی کی انتہا کو پہنچ چکا ہے۔ دوسرے عزیزوں کو تو چھوڑیں وہاں ماں باپ اور آل اولاد کو ایک دوسرے سے کوئی خاص دلچسپی نہیں اور کسی کے مرنے پر بھی وہ محض رسم نبھاتے ہیں۔
جس وقت یہ تحریر لکھی جارہی تھی اس وقت تک پاکستان کی طرف سے سرکاری طور پر کوئی ردعمل نہیں آیا تھا۔ پاکستان کا دفتر خارجہ سوچ بچار میں ہی مصروف تھا۔ شام کے بعد کوئی جواب آجائے تو آجائے۔ لیکن چین خاموش نہیں رہا۔ وہ پاکستان کے دفاع میں پاکستان سے بھی پہلے میدان میں آگیا۔ چین نے امریکی صدر کے بیان کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بھرپور کردار ادا کیا عالمی برادری پاکستان کے اس کردار کااعتراف کرے۔ اس میں اور بھی بہت کچھ ہے جسے آپ یقینا خبروں میں پڑھ اور سن چکے ہونگے…. مخلص دوست ایسے ہی ہوتے ہیں۔ وہ کسی مشکل صورتحال اور مشکل وقت میں دوستوں کو تنہا نہیں چھوڑتے بلکہ ان سے بھی پہلے ان کی مدد اور دفاع کیلئے موجود ہوتے ہیں۔ امریکہ اگر پاکستان کو آنکھیں دکھا رہا ہے اور بھارت کی تعریف میں زمین و آسمان ایک کررہا ہے تو چین کس طرح پیچھے رہ سکتا ہے اور پاکستان کو کس طرح تنہا چھوڑ سکتا ہے کہ وہ اکیلا امریکی وار برداشت کرتا رہے۔
اس حقیقت کا اعتراف افسوس کے ساتھ کرنا پڑرہا ہے کہ ہمارا کردار ایک خود دار قوم کا سا نہیں۔ ہم زور بازو پر انحصار کرنے کی بجائے دوسروں کی تابعداری میں فخر محسوس کرتے ہیں۔ ”فخر“ کی اسی ذلت کی وجہ سے ہم دوسروں کی ٹھوکروں پر ہیں۔ ہم پہلے بھی لکھ چکے ہیں کہ گزشتہ صدی میں ساٹھ کی دہائی تک ہمارے ملک کے سربراہ امریکہ جاتے تو وہاں کا صدر استقبال کیلئے خود آتا تھا۔ سرخ قالین بچھائے جاتے اور ہوائی اڈے پر باقاعدہ استقبالیہ تقریب ہوتی مگر بعد میں ہم اتنے گرتے گئے کہ اب ایک معمولی سا افسر ہمارے صدر یا وزیراعظم کے استقبال کیلئے آتا ہے اور ہم اسے اپنا اعزاز سمجھتے ہیں جبکہ وہ افسر بھی ہاتھ وغیرہ ملاکر نو دو گیارہ ہوجاتا ہے۔ ہمارے بارے میں دوسروں کا رویہ توہین آمیز یا تضحیک آمیز ہے تو اس کے ذمہ دار ہم خود ہیں۔ ہم واقعی ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ ہم ایک باوقار اور ذمہ دار قوم ہیں تو امریکہ کی طرف سے Do More کا ایک ہی جواب ہوسکتا ہے اور وہ جواب ہے No More…. کیا ہم ایسا جواب دے سکتے ہیں….؟ اگر نہیں پھر ہمیں دوسروں کے غلاموں کا بھی غلام بننا پڑے گا …. اللہ کرے ایسا نہ ہو اور ہم میں خوئے مسلمانی جاگ اٹھے وگرنہ تو ”ہماری داستان تک نہ ہوگی داستانوں میں….“
اور آج کل ہمارے ہاں جو محاذ گرم ہے…. یعنی داخلی محاذ بلکہ محاذ آرائی تو اس کی خبر یہ بتائی گئی ہے کہ میاں نواز شریف اور میاں شہباز شریف کی والدہ نے دونوں بھائیوں کو اپنے پاس بٹھایا اور ان کے ایک دوسرے سے گلے شکوے دور کراتے ہوئے صلح کرادی…. بہت اچھا کیا ان کی والدہ محترمہ نے کہ دونوں بیٹوں کو پھر سے یکجا کردیا مگر خبر تو یہ تھی…. جس کا ذکر ہم ان کالموں میں بھی کرتے رہے ہیں کہ ان کے خاندان میں سب اچھا نہیں ہے اور دبے ہوئے اختلافات اب منظر عام پر آرہے ہیں۔ یہی وجہ تھی کہ تین روز قبل نواز شریف نے خاندان کے افراد کو کھانے کی جس دعوت میں بلایا تھا انتظار کے باجود ان کے چھوٹے بھائی شہباز شریف اس میں نہیں آئے۔ اور بھی بہت سے معاملات کا ذکر ہوتا رہا ہے جن سے پتہ چلتا تھا کہ دونوں بھائیوں کے درمیان سب اچھا نہیں۔ نواز شریف صاحب کا وزیرآباد کا دورہ بھی اسی قسم کے معاملے کا شکار ہوا تھا حالانکہ جاں بحق ہونے والے بچے کے گھر جانا ان کیلئے بہت ضروری تھا۔ اب والدہ نے صلح کرادی ہے تو بہت اچھا ہوا کہ ماں اپنے دو بیٹوں کے درمیان دوریاں نہیں دیکھ سکتی۔ ان کی ماں کیا کوئی بھی ماں نہیں دیکھ سکتی۔ہمارے نزدیک صلح کے اس عمل کو پائیدار رکھنے کیلئے شہباز شریف سے زیادہ نواز شریف کو اپنے رویے اور طرز عمل پر نظرثانی کی ضرورت ہے۔ ورنہ معاملہ دوبارہ سابقہ صورتحال پر آجائے گا…. ہماری ناقص عقل جو کچھ بتاتی ہے اس کے مطابق شہباز شریف نے اپنے بھائی کے احترام میں کمی نہیں آنے دی۔ غالباً یہ وصف انہیں ورثے میں ملا ہے مگر وہ خود بھی عزت و وقار کے حامل ہیں۔ یہ نہیں ہوسکتا کہ انہیں بہت سے معاملات میں پسِ پشت ڈال دیا جائے اور ایسے مشیروں پر بھروسہ کیا جائے جن کا کام ہی چاپلوسی ہے…. مخلص بھائی چاپلوس نہیں ہمدرد اور غمگسار ہوتا ہے اور یہی محترمہ تہمینہ درانی کا کہنا ہے۔مسئلہ صرف مشیر ہی نہیں…. سابق وزیراعظم کی صاحبزادی بھی ہیں جو ہر معاملے میں پیش پیش اور اپنے والد کی مشیر اعلیٰ ہیں۔ انہیں ایک طرح سے باپ کی سیاسی جانشین بھی کہا جاسکتا ہے کہ ہر معاملے میں انہی کو پروموٹ کیا جارہا ہے۔ اس سے پہلے ایک موقعہ پر نواز شریف صاحب اپنے بھتیجے یعنی حمزہ شہباز کو اپنا سیاسی وارث قرار دے چکے تھے اور وراثت میں تبدیلی کو دوسرے فریق کیلئے ہضم کرنا بہت مشکل ہوتا ہے۔
دونوں بھائیوں میں صلح ہو بھی گئی ہے تو ہمارے خیال میں ابھی بدگمانی کے بادل پوری طرح چھٹے نہیں۔ یہ بادل چھٹ گئے ہوتے تو حمزہ شہباز اپنی تائی کی انتخابی مہم چھوڑ کر لندن نہ چلے جاتے۔ ظاہر ہے وہ لندن میں تو انتخابی مہم نہیں چلاسکتے اور وہاں تائی سے ملاقات اور انتخابی صورتحال پر تبادلہ خیال ہو بھی گیا تو یہ کچھ زیادہ سود مند نہیں ہوسکتا…. جو بھی صورتحال ہو اسے سنبھالنا خاندان کے بزرگوں کا کام ہے۔ والدہ کے بعد خود دونوں بھائی خاندان کے بزرگ ہیں اور بزرگی کا بھرم رکھنے کیلئے بہت کچھ اپنی خواہشات کے برعکس بھی کرنا پڑتا ہے۔ بلکہ قربانیاں تک دینے کی ضرورت آسکتی ہے…. اس خاندان کو اتحاد و اتفاق کی اس وقت جو ضرورت ہے، اس سے پہلے کبھی نہ تھی کہ اب یہ باقاعدہ بحران کا شکار ہے…. فی الحال نواز شریف بھنور میں پھنسے ہیں۔ اس بھنور سے نکلنے کیلئے ان کے بھائی سے زیادہ ممدو معاون کوئی نہیں ہوسکتا…. انجام کار نقصان دونوں کا ہے مگر بڑا بھائی بڑے گھاٹے میں رہے گا۔
(معروف صحافی ” جہان پاکستان“ کے گروپ ایڈیٹر ہیں)
٭….٭….٭

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں


دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved